’’ چمن بتول‘‘شمارہ مارچ 2024ء ماہ رمضان المبارک میں ملا ہے ، ٹائٹل پہ درختوں کی خوبصورت بہار دل و نگاہ کو بھارہی ہے ۔
’’ ابتدا تیرے نام سے ‘‘ (مدیرہ محترمہ ڈاکٹر صائمہ اسما کا فکر انگیز اداریہ ) اب کے ہمارا خیال تھا کہ ڈاکٹر صاحبہ کا انتخابات پر تبصرہ نہایت تندو تیز ہوگا لیکن آپ نے نہایت تحمل کے ساتھ ایک مدبرانہ تجزیہ پیش کیا ہے ۔ آپ کے یہ جملے زبردست ہیں ’’ بہر حال اس بار ووٹروں کا جوش و خروش دیدنی تھا ۔ یہ جمہوریت کے لیے لوگوں کی خواہش اور جمہوری عمل کے ذریعے اپنی پسند کے اظہار کا ثبوت ہے ۔ اس شعور کو کام میں لاتے ہوئے سیاسی طور پر بہتری کی نوید لائیں آمین‘‘۔ آپ نے فلسطین کے مسلمانوں پر اسرائیل کے وحشیانہ ظلم و ستم پر بھی صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔ پھر آپ نے سوشل میڈیا پر فحش مواد کی بھرمار کے خلاف بھی آواز اٹھائی ہے اوراسے ایک سنگین مسئلہ قرار دیا ہے جس کا بر وقت تدارک ضروری ہے ۔
’’ بتول کی دیرینہ لکھاری اور خوبصورت شاعرہ نجمہ یاسمین یوسف صاحبہ کی رحلت کا پڑھ کے بے حد افسوس ہؤا۔ وہ اپنی خوبصورت شاعری کی بدولت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت کے بہترین گوشہ میں جگہ عطا فرمائے (آمین)۔
’’ شیطان کی صفات‘‘ بنت الاسلام صاحبہ نے بجا لکھا ہے کہ شیطان بڑا حلیہ جُو ہے انسان کو چکر دے کر اور فریب میں مبتلا کر کے یہ یاد کراتا ہے کہ وہ جس راہ پر انہیں لے جا رہا ہے وہ برائی کی راہ ہے ہی نہیں بلکہ عین بھلائی ہے ۔
’’ اعتکاف‘‘ (ڈاکٹر میمونہ حمزہ ) رمضان المبارک کی مناسبت سے آپ نے اعتکاف کی وضاحت کی ہے ۔
’’اسلام کی خاتونِ اوّل حضرت خدیجہ ؓ‘‘ ڈاکٹر سلیس سلطانہ صاحبہ نے نہایت تفصیل کے ساتھ حضرت خدیجہ ؓ کی سیرت کا احاطہ کیا ہے جو بچپن سے ہی طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں ۔ صحیح بخاری اور مسلم میں ہے ، عالم میں افضل ترین اور برتر مریم ؑ اور خدیجہ ؓ ہیں ۔
’’ نعیم صدیقی کی زندانی شاعری ‘‘ ( زوبیہ لطیف) آپ نے نعیم صدیقی کی شاعری پر بہترین تبصرہ تحریر کیا ہے ۔ نعیم صدیقی نے بھی زنداں میں آزمائش اور مصائب کے شب و روز گزارے اور وہاں ان کی پر اثر زندانی شاعری کو جلا ملی ، ان کا شعلہ عزم زندان میں اور بھڑکا اور انہوں نے بہترین غزلیں اورنظمیں تخلیق کیں۔
تم انقلاب کی لہروں کو روکتے ہی رہو
اسی طرح تو یہاں انقلاب ابھریں گے
گر اک چراغ حقیقت کو گل کیا تم نے
تو موجِ دود سے صد آفتاب ابھریں گے
آپ نے آخر میں یہ خوبصورت جملے لکھے ہیں ’’ نعیم صدیقی کی زندانی شاعری ایک ایسی انقلابی شاعری ہے جس میں نغمہ بھی ملتا ہے نکھار بھی ۔ سوزِ یقیں بھی ہے غم زنداں بھی ۔ جدوجہد اور انقلاب کی گھن گرج بھی ہے اور محبت کی تلخ و شیریں توانائی بھی ‘‘ ۔
حبیب الرحمٰن صاحب کی طویل غزل سے دو منتخب اشعار۔
نئی بہاریں نئے رنگ زندگی کے لیے
اذیتیں جو سہیں وہ محبتیں ہی تو ہیں
چلو اک اور سہی میرے دل پہ تیرے بنا
گزر رہے ہیں جو لمحے قیامتیں ہی تو ہیں
’’ نہ جانے کیا ہؤا ایسا ‘‘ کرن وسیم نے اپنی نظم میں فلسطین کے مسلمانوں کی حالت زار کی تصویر کشی کی ہے ۔
انہیں موسم کی سختی اور یخ بستہ ہوائوں میں
سکڑتے دیکھتے میں اپنی چادر بھینچ لیتی ہوں
نظر کو پھیر ان منظروں سے
کرب کی چند ایک سانسیں کھینچ لیتی ہوں
’’گواہی‘‘( آسیہ راشد ) جیل کہانی ۔ آسیہ راشد صاحبہ کے پاس جیلوں کے بارے میں اتنا معلومات کا ذخیرہ ہے کہ آپ کو تو ایک جیل آفیسر ہونا چاہیے تھا ۔ یہ بھی آپ نے دلوں پہ تاثر چھوڑتی ہوئی ایک کہانی لکھی ہے جو جیل سے ہی جنم لیتی ہے ۔ ایک غریب عورت کو قرآن پاک کی بے حرمتی کا الزام لگا کر ( حالانکہ وہ اس سے انکار کرتی ہے ) پھانسی کی سزا دے کر جیل میں رکھا گیا ہے حالانکہ دیکھا جائے تو ہم مسلمان خود قرآن پاک کے احکامات کی نا فرمانی کر کے قرآن پاک کی بے حرمتی کے مرکتب ہوتے رہتے ہیں ۔ آپ نے منظر کشی بڑی زبردست کی ہے ۔ یہ جملے شروع میں بڑے خوبصورت ہیں ’’ صبح کا آسمان بے حدا جلا تھا ۔ آسمان کے وسیع سمندر میں بادلوں کے ہلکے ہلکے ٹکڑے کسی باد بانی کشتی کی مانند ادھر سے اُدھر بھٹک رہے تھے ۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی جو طبیعت میں خوشگوار یت کا احساس بھر دیتی تھی ۔ ہر سو اللہ کی قدرتوں کی بڑائی اور شکرانے کے گیت سنائی دے رہے تھے زمین ، آسمان درخت پرندے ہوا پانی سبھی سبحانہ‘ کا ورد کر رہے تھے ‘‘ ۔ زبردست منظر کشی ہے ۔
’’ بھری گود ‘‘ ( قانتہ رابعہ صاحبہ کے قلم سے ) یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اگر شادی کے ایک دو سال کے اندر دلہن کے ہاں بچے کی خوشخبری نہ ملے تو اپنے اور غیر باتیں بنانا اور طعنے دینا شروع کر دیتے ہیں یہ جملے زبردست ہیں ’’ بہت حد تک لفظ بانجھ تیز دھاری تلوار کی طرح شازیہ کے پرخچے اڑاتا رہا ۔ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھرتی رہی آنسو پیتی رہی ‘‘ اور ’’ گھپ اندھیروں میں سے ہی سورج نکلتا ہے ۔ جب بندہ مایوسی کے گھپ اندھیرے بادلوں میں ہوتا ہے تو یہ امید کی کرن تھما دیتا ہے ‘‘۔
’’ جھنڈ کے پار‘‘ تحریک آزادی اور تقسیم ہند کے پس منظر میںلکھی گئی عالیہ حمید کی ایک زبردست کہانی ہندوئوں اور سکھوں کی مکارانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہوئی کہ کس طرح ان کے دلوں میں تقسیم ہند کے وقت مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتقام کے جذبات پیدا ہوگئے ۔ حالانکہ اس سے پیشتر ہندو مسلمان سب بہن بھائیوں کی طرح رہ رہے تھے ۔ آپس میں پیار محبت کا رشتہ تھا۔
’’ ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ‘‘ ( اسما صدیقہ ) یہ سبق سکھاتی ہوئی کہانی کہ شادی بیاہ کے سلسلے میں بزرگوں سے ضرور مشورہ کر لینا چاہیے یہ نہ ہو صرف گلیمردیکھ کر کسی غلط جگہ شادی کر لیں اور پھر ساری عمر پچھتانا پڑے۔
’’ اترن‘‘ ( فریدہ عظیم ) یتیم بہن اوربھائی کی کہانی جنہیں کوئی اہمیت نہ دیتا تھا یہ جملے دل پہ اثر کرتے ہیں ’’ روح اور جسم گھائو گھائو تھا ۔ دماغ میں جو لفظ اکثر گونجا کرتا وہ تھا اترن اور وہ سوچتی ساری زندگی اترن، کبھی تو کچھ نیا ہوتا ‘‘۔
’’ گڈھا نہیںبھرتا‘‘( سید رفیق حسین)۔ رشوت کھانے والے افسران اور کلرکوںکی کہانی کہ گڈھا ( گڑھا) تو شاید بھرجاتا ہے لیکن ان کا لالچی پیٹ نہیں بھرتا۔
’’ نٹ کھٹ زندگی‘‘(عینی عرفان کاقسط وار ناول) کہانی آگے بڑھ رہی ہے ۔ شازمہ اور شاہ ذر شادی میں شرکت کے لیے کراچی آئے ہیں ۔ خوب ہلہ گلہ رونق سب انجوائے کرتے ہیں ۔ اس ناول کو پڑھ کر رضیہ بٹ نادرہ خاتون وغیرہ کے گھریلو ناول یاد آجاتے ہیں۔
’’ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے ‘‘( ربیعہ ندرت) بہت خوب صورت مضمون ہے۔اس میں بیان کی چاشنی ہے ۔ بر محل شعروں سے مضمون کو سجایا گیا ہے ۔ تحریر میں بے ساختگی ماں بیٹوں اورمیاںبیوی کی محبتوںمیں گندھا ایک مضمون ۔پڑھ کے لطف آگیا ۔ جذبات اورخو بصو ر ت الفاظ سے سجا مضمون ۔ ایسا خوبصورت لکھنے پر ربیعہ ندرت مبارک باد کی مستحق ہیں۔ واقعی ایک شاہکار ہے ۔
’’ ناز کی تیرے ڈنک کی کیا کہیے‘‘(نادیہ سیف)۔ مچھروں کے کاٹنے اوربجلی جانے کے اذیت ناک لمحوں کی کہانی پر مبنی ایک دلچسپ روداد۔
’’ صنف نازک کمزور نہیں‘‘ ( ندا اسلام)اس مضمون میں بڑے اچھے طریقے سے سمجھایا گیا کہ اسلام میںخواتین کے اور خاص طور پہ بیویوں کے بہت حقوق ہیں ۔ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی بہت تلقین کی گئی ہے ۔ اسلام نےعورت کو اعلیٰ مقام دیا ہے ۔
’’ عرف اور دین ‘‘( ڈاکٹر محمد غیاث) آپ نے خوب واضح کیا ہے کہ عرف کو دین پر کبھی سبقت نہیں دی جا سکتی۔ شرعی احکام کے خلاف نہ کوئی فیصلہ دیا جا سکتا ہے اور نہ فتویٰ۔
’’ ہےجرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘ یہ میرا تحریر کردہ مضمون ہے ۔ علامہ اقبال کے ایک مشہور زمانہ شعرکی تشریح کر کے بتایا ہے کہ کمزور قوموں کو بڑی قومیںہمیشہ زیرِ دست رکھنا چاہتی ہیں ، بڑی مچھلی چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہے۔
’’غنچہ و گل کی آبیاری‘‘( کوثر خاں) بچوں کی تربیت کے بارے میںبہترین مشورے دیے ہیں یہ جملہ خوبصورت ہے ’’ بچہ ایک پودا ہے جس کو سینچنااور پروان چڑھانا والدین کی ذمہ داری ہےتاکہ کل کویہ والدین کی آنکھوںکی ٹھنڈک اور دل کا سکون بن سکیں ‘‘بچوں کوموبائل کے غلط استعمال اور بری صحبت سے بھی محفوظ رکھیں۔
معیار ( مریم فاروقی) بیٹیوں کی شادی بڑا نازک مسئلہ ہوتا ہے بعض اوقات قریبی رشتہ داروںمیں بھی مسئلےکھڑے ہو جاتے ہیں۔
گوشہِ تسنیم:’’ ماہ تربیت‘‘( ڈاکٹر بشریٰ تسنیم صاحبہ کا کالم) ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے روزہ کے بارے میں مفید معلومات ہمیں دی ہیںکہ روزہ ہمیں صبر و برداشت ، تحمل اور تزکیہ نفس کا درس دیتا ہے روزہ باطنی بیماریوں کا خاتمہ کرتا ہے ، تقویٰ پیدا کرتاہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ایک تحفہ ہے ایک انعام ہے ۔
٭٭٭