امی کے بارے میں لکھنے بیٹھا ہوں اور سوچ رہا ہوں کیا اور کیسے لکھوں ۔پچھلےتیس بتیس سالوں سے میرا قلم محض امراض کی تشخیص ، نسخے، ادویات یا تحقیقی طبی مقالے لکھتا آیا ہےجس میں ذاتی جذبات کے بجائے صرف پیشہ ورانہ حقائق مد نظر ہوتے ہیں لیکن اس تلخ حقیقت کا ادراک پہلے کہاں ہوتا ہے حتیٰ کہ کوئی عزیز از جان ہستی رخصت ہو جائے اور جذبات کا ایک امڈتا سمندر آنکھوں سے رواں ہو اور یہ قلم ان کی یادوں میں ڈوب کر ان کی شفقتوں اور محبتوں کے بے بہا خزینہ سے انمول موتی چن کر پیش کر سکے۔
پلٹ کر دیکھوں تو ایک لا متناہی سلسلہ ان تمام یادوں اور احساسات کا نظروں میں آن موجود ہوتا ہے۔ ایک بھرا پرا ہنستا کھیلتا گھرانہ امی ،ابا جی اور بہن بھائیوں کی خوبصورت محفلیں اٹھکیلیاں کرتے ہم شرارتی بچے بڑاسا صحن،باورچی خانہ میں بیٹھ کر اکٹھے ناشتہ کرتے ہم چھوٹے بہن بھائی اور کھل کھلا تے لہلہاتے شب و روز،جیسے پلک جھپکتے میں گزر گئے۔
بس خواب کی طرح یاد ہے ہمارے گھر کے باہر ایک ہجوم نعرے لگا رہا تھا اور کوہستان اخبار کے ملازمین جن کی تنخواہیں نہیں ملی تھیں احتجاج کر رہے تھے۔ ہم بچے سہمے ہوئے اوپر چھت سے دیکھ رہے تھے۔ سب ملازمین کی طرح ابا جی کو بھی ایک عرصے سے تنخواہ کے نام پر کوئی پیسے نہیں ملے تھے۔ سب کے منع کرنے کے باوجود ابا جی باہر نکلے، سب کو تسلی دی اور ان سب کے طعن و تشنیع برداشت کیے اور بتایا کہ ہمارے گھر میں بھی ایک عرصے سے یہی عالم ہے۔ خدا خدا کر کے یہ معاملہ ٹلا۔
کوہستان اخبارکے بند ہونے سے ابا جان بے روزگار ہو گئے تھے۔ امی اور آپا نے گھر میں کپڑے سی کر اور سویٹر بن بن کر باورچی کھانا چلایا تھا۔ ابا جان کتابوں کی پروف ریڈنگ کر کے پیسے کمانے کے جتن کر رہے تھے جو خود 24 کتابوں کے مصنف تھے۔ کوئی کوئی دن ایسا بھی ہوتا تھا کہ سارا دن سویٹر بن کر اتنے پیسے جمع ہوپا تے تھے کہ ایک وقت کا کھانا بنے۔ بڑے بھائی پرنٹنگ اور گرافک آرٹس میں ڈپلومہ کر رہے تھے ، حالات کی وجہ سے انہیں کام تلاش کرنا پڑا۔ آپا اور بھائیوں کی وجہ سے ہماری تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہ آئی اور یہ وہ وقت تھا جب میں نے سکول جانا شروع کیا۔
گھر میں سلائی سکول سویٹر بنائی اور پڑھائی کا سکول چل رہا تھا جب سکولوں کی نیشنلائزیشن کے نام پر ہمارے گھر کو بھی نیشنلائز کرنے کی خبریں چلنے لگیں ۔امی نے سکول کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا کام ماموں جان کو سونپا اور یوں ہمارا گھر اس عذاب سے بچا۔ گھر میں سکول امی نے اپنی اور خاندان کی بچیوں کے لیے شروع کیا تھا ۔مشکل دنوں میں یہ ذریعہ روزگار بھی تھا حالانکہ اس کی فیس انتہائی معمولی تھی۔ گھر میں ابا جی کی بے روزگاری کے عالم میں بعض اوقات پورا ماہ شام میں صرف دلیہ بنتا اور پورے گھر کے لیے کافی ہوتا۔ اس سب کے باوجود ہم بچوں میں کبھی کوئی احساس محرومی پیدا نہ ہؤا کیونکہ سب مل کر کام کرتے مل کر کھاتے خوش باش کھیلتے اور کبھی بھی یہ محسوس نہ ہوتا کہ رہن سہن یا غذا کسی بھی طرح کم تر ہے۔ یہ تھا امی اور ابا جی کا کمال ،کہ وہ ہر حال میں مطمئن اور پرامید رہتے تھے اور بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی منفی تاثر شامل نہ ہونے دیتے ۔ میرے ہائی سکول پہنچنے تک راشد بھائی پی آئی اے میں ملازم ہو کر کچھ عرصہ بعد کراچی چلے گئے ۔ابا جان کی ملازمت اسلامک پبلیکیشنز میں شروع ہو گئی اور کچھ عرصہ بعد ناصر بھائی اورعامر بھائی بھی برسر روزگار ہو گئے۔ گھر کے حالات بہتر ہو گئے۔
جولائی 1985 میں امی ابا جان حج پر گئے۔یہ وہ سال تھا جب میں نے ایف ایس سی پری میڈیکل کا امتحان دیا تھا۔ امی نے میرے میڈیکل کالج میں داخلے کےلیے بہت دعائیں کیں۔جس دن میرا رزلٹ آنا تھا وہ امی ابا جان کے طوافِ وداع کا دن تھا۔ عین جس وقت میں اپنا رزلٹ پتہ کر کے گھرداخل ہؤا تو امی کا فون آیا اور انہیں میری کامیابی اور ممکنہ داخلےکا اندازہ ہؤا تو انہوں نے کہا:
’’ منے میں تیرے واسطے بڑی دعاواں منگیاں نیں ۔مینوں پورا یقین سی میں تیری داخلے دی خبر سن کے ایتھوں نکلا ں گی‘‘۔
میرے پڑھا ئی کے سارے سالوں میں وہ میرا اور میرے سارے دوستوں کا بہت زیادہ خیال رکھتیں۔ میری خوش نصیبی تھی کہ مجھے امی ابا جی کے علاوہ سب بڑےبہن بھائیوں کی لا متناہی شفقت اور تربیت بھی میسر رہی ۔
جولائی 1998میں ،میں پی۔ آئی۔ سی کارڈیک سرجری میں کام کررہاتھا۔ میرے فرائض میں مریضوں کو آپریشن کا وقت دینا ان کے آپریشن کے وقت مقرر کرنا اور بعد از آپریشن ان کی دیکھ بھال شامل تھی ۔ دور دراز سے مریض ا ٓکر انتظار میں بیٹھے رہتے، میری کوشش ہوتی کہ جو اکیلی خواتین یا عمر رسید ہ خاتون یا چھوٹے بچوں والے لوگ ہوں انہیں پہلے اور جلد وقت دیا جائے ۔ایک دن ایک بزرگ خاتون آخر تک بیٹھی رہیں جب سب چلے گئے تو میں نے پوچھا آپ کیوں بیٹھی ہیں ۔انہوں نے کہا : پتر مینوں نال لے کے چل میں ویکھنا چاہنی آں کیہڑی ماں نے ایہہ پتر جمیا اےتے کنے ایہنوں تربیت دتی اے ،اور جب تک میں نے انہیں واقعی گھر لا کر امی سے ملایا نہیں ،وہ نہیں گئیں۔ اس دن امی بہت خوش تھیں۔
میرے امریکہ جانے پر امی بہت راضی نہیں تھیں۔ ان کا خیال تھا یہ خراب ہو جائے گا یا وہیں رہ جائے گا۔ راشد بھائی کے بہت منانے پر امی مان گئیں۔ میرا تیسرا سال تھا اور میو کلینک کے بعد کلیو لینڈ کلینک میں کام کر رہا تھا جب عید پر میں نے گھر فون کیا ،امی نے مجھ سے کہا:
’’جے میں اَج تک تینوں کج وی کہیا اے تے او ساریاں گلاں ایک پاسے نیں ،تے ایہہ گل اک پاسے وےکہ ہن تو آجا ،ہو ر میں کجھ نئیں کہنا‘‘۔
میں نے امی کو علامہ اقبال کی نظم جو آپا ہمیں شوق سے سناتی تھی ’’ماں کا خواب‘‘اس کا ایک شعر سنایا۔
سمجھتی ہے تُو ہو گیا کیا اسے
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے
اور حدیث کا کہا کہ علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے۔ امی نے مجھ سے کہا ،’’ میں جو کہنا سی کہہ دتا اے ،تیری مرضی اے‘‘۔ایک مہینے کے اندر اندر میں واپس پاکستان میں تھا۔
جب میں نےکلیو لینڈ والا گھر وقت سے پہلے چھوڑ دیا تو میری مالک مکان نے کہا، تم یوں اچانک کیوں ایسی بہترین جگہ اور کام چھوڑ کر جا رہے ہو ؟میں نے کہا میری ماں نے بلایا ہے،تووہ حیرت زدہ سی کھڑی ہو گئی۔ وہ تقریباًستّر سالہ خاتون تھی، کہنے لگی میرے تین بچے ہیں ،میرا بڑی آنت کا آپریشن ہونا تھا ،میں نے تینوں سے بہت التجا کی ہے لیکن ان میں سے کوئی ایک رات بھی میرے ساتھ رکنے کو تیار نہیں اور ملازمت سے ایک دن کی چھٹی نہیں کرتے۔ اور تم یہ سب چھوڑ کر جا رہے ہو جس کی ساری دنیا سے لوگ تمنا کرتے ہیں ۔
میں نے کہا جن جتنوں سے میری ماں نے مجھے پالا ہے، جس گھر کا میں بیٹا ہوں ایسی بہت سی ملازمتیں اس پر قربان ہیں۔ اس نے آنسوؤں بھرے چہرے سے میرا ماتھا چوما اور کہا کہ کوئی بہت عظیم ماں ہے جس کے ایک بلاوے پر تم بھاگے جا رہے ہو ،مجھےپانچ سال بعد بتانا تمہارا کیا بنا۔
پاکستان میں میں نے میو ہسپتال اور پی۔آ ئی ۔سی میں کام کیا۔پی۔آئی۔سی میں تیسرے آپریشن تھیٹر کی تکمیل کے لیےاور میو ہسپتال میں کارڈیک سر جری ا ٓئی سی یوکی تعمیر نو کے لیے محترمہ تسنیم نعیم اور نعیم صاحب کے ذریعے ایک خطیر رقم ان اداروں کے سر براہان کو عطیہ کی۔امی ضرورت مند مریضوں کو علاج کے لیےپورے لاہور کے ہسپتالوں میں اپنی واقف کار ڈاکٹرز کے ذریعے مدد کرتیں اور ہمیشہ کہتیں کہ اوہناں دا خیال کریں جنہاں دا کو ئی نئیں، نرم رہویں۔
امی مہمان نوازی میں لاثانی اور بے مثال تھیں ہر روز ان کا وسیع دستر خوان لاتعداد بلا ئے اور بن بلا ئے مہمانوں کی خوش دلی سے خاطر مدارات کو تیار رہتا ۔پوری کوشش کرتیں کہ مہمان کھا ئے بغیر نہ جا ئے۔کئی مرتبہ ہمارا گھر مہمان سر ا ئے کا انداز اختیار کر لیتا اور ان کی جماعت اوردرس و تدریس سے متعلق خواتین اکثر و بیشتر چند دن قیام کرتیں۔ اپنی جماعتی زندگی میں اپنی ذمہ داریاں انتہا ئی لگن اور دل جمعی سے سر انجام دیں ۔وہ بہت با ہمت اور پر عزم خاتون تھیں ،جس بات کو درست سمجھتیں اس پر ڈٹ جاتیں اور کسی دبا ؤ کو خاطر میں نہ لاتیں ۔ٹرسٹ کی خواتین کے ساتھ مل کر قرآن اور عمومی تعلیم و تربیت کے مراکز قا ئم کیے اور کم سہولت یافتہ طبقے کی لڑکیوں کے لیے تعلیمی اور مالی امداد مہیا کی ۔
امی اور اباجان دونوں کے خاندان کثیر العیال تھے ۔امی خود بھی گھر میں سب کی مہمان داری کرتیں اور ہم بھی تایا ،ماموں اور خالہ کی طرف مہمان بنتے ۔بچوں سے امی کو خصوصی لگاؤتھا۔ سب بچوں کی پسند ناپسند کا الگ الگ پتہ ہوتا۔ ان کے ساتھ ٹی وی دیکھتیں،لُڈو کھیلتیں اور کرکٹ میچ میں پوری دلچسپی لیتیں۔وقت کے ساتھ ساتھ ہم سب بہن بھائی شادی یا ملازمت کی وجہ سے مختلف شہروں میں آباد ہو ئے لیکن ہر عید پر سب اکٹھے ہوتے۔امی خود شیر خورما یاگجریلہ بناتیں اور رمضان میں افطاری میں ان کی پسندیدہ چیز سبزیوں کی چاٹ ہوتی ۔
2011میں ابا جی کے انتقال کے بعد امی نے اچھرے والے گھر میں ہی قیام کا ارادہ کیا اور ہم سب بہن بھائی باری باری ان کے پاس رکتے ۔قرآن کی درس و تدریس کا معمول جاری رکھا جب تک رکھ سکیں۔چند ماہ پہلے جب بستر سے باتھ روم جانا زیادہ مشکل ہو گیا تو سب بہن بھائیوں کے اصرار پر امی عامر بھائی کے گھر منتقل ہو گئیں۔ صحت بتدریج کم ہو رہی تھی گو کہ کو ئی واضح بیماری نہیں تھی ۔جب ان کے سارے بنیادی ٹیسٹ ٹھیک آگئے تو انہوں نے ہسپتال جانے اور کوئی بھی ٹیسٹ مزید کروانے سے انکار کر دیا ۔سب بہن بھائیوں اور ان کے بچوں سے ملتیں اور خوش رہتیں۔ جو بہنیں اور بھتیجی پاکستان میں نہیں تھیں انہیں بھی ملنے کے لیے خود بلوایا اورآخر دم تک ان کی مہما ن داری میں متوجہ رہیں۔انتقال کی رات عشاء کے بعد رات گئےدوبارہ وضو کرنے پر اسرار کیا اور فجر کی اذانوں کے وقت خاموشی سے خالق حقیقی کے پاس پہنچ گئیں ۔
ماں ایک عظیم نام، قدرت کا ایک بے مثال تحفہ!قربانی ، ایثار ، مروت، صبر و رضا، پیار و محبت،خلوص اور وفا کی روشن مثال ۔ایک ایسا منفرد اور انمول رشتہ جس کی محبت، شفقت،قربانی ، ایثار اور تقدس کا کو ئی مول نہیں۔ ایک مشکل مگر مطمئن وقفہ زندگی گزار کر سبکدوش ہوگئیں۔ چاروں بیٹوں نے ان کاجنازہ اٹھایا جو ساری عمر کسی پر بوجھ نہ بنیں۔ ان کے شاگردوں دیرینہ دوستوں ہمسا ئیوں اور ان سے فیض یاب ہونے والوں کی بڑی تعداد نے اس سفر آخرت میں ان کی ثابت قدمی ،نرم دلی،اولوالعزمی اور جذبہ خدمت کی گواہی دی ۔ امی کی شخصیت کثیر الجہت تھی لیکن وہ ایک عام اور سادہ لیکن پر خلوص خاتون تھیں ۔ یقیناًاتنی بھر پور زندگی میں ایسے لمحات رہے ہوں گے جن سے ان کے قریبی ملنے والوں نے دل آزاری محسوس کی ہو۔ میں ان کا بیٹا ہونے کی وجہ سےان کا یہ حق سمجھتا ہوں کہ ان کی طرف سے معافی کا خواہشگار ہوں اور اس تحریر کے ذریعے تمام قار ئین سے درخواست کرتا ہو ں کہ ان کی لغزشوں کو معاف کر دیں یا ہمیں ان کی تلافی کا موقع دے دیں۔اللہ تعالیٰ امی کے لیے قبر کو جنت کا ایک باغ بنا دے۔آمین!
٭٭٭