رخشندہ کوکب مرحومہ کی یادیں زہرہ عبد الوحید صاحبہ کے قلم سے
ڪمنورمیری ہم راز تھیں ، میری اور ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں تھی۔ وہ آسمان کاستارہ تھیں آسمان کے ستارے بننا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ستارے وہی بنتے ہیں جو سنت نبویؐ پر عمل پیرا ہوں۔
انہوں نے اپنی مختصر سی زندگی میں وہ کچھ چھوڑا جوایک نوجوان لڑکی کبھی نہیں چھوڑتی انہوں نے وہ کام کیے جو اس عمر کی لڑکیاں کم ہی کرتی ہیں ۔
منور سے میری پہلی ملاقات مولانا مودودیؒ صاحب کے گھر پر ہوئی۔1948ء سے1959تک ہم سائے کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہے یہ 1948ء کی بات ہے میںان دنوں مولانا مودودی صاحب کے ہاںقرآن پڑھنے جایا کرتی تھی۔ میں اور باجی منور آمنے سامنے بیٹھے تھے ( وہ عمر میں مجھ سے کچھ بڑی تھیں اس لیے میں انہیں باجی کہا کرتی تھی) انہیںدیکھتے ہی میرے دل نے کہا یہ کسی بہت اچھے خاندان کی اعلیٰ مزاج والی لڑکی ہے ۔ ان کے چہرے سے اس بات کی شناخت ہو رہی تھی کہ یہ کسی بہت اچھے خاندان کی روح رواں ہیں ۔ درس کے دوران ایک آیت ایسی آئی جب مولانا مودودی صاحب نے اس آیت کی تشریح کی تو میںاور منور آمنے سامنے تھیں۔ انہوںنے مجھے دیکھا اورمیں نے انہیںدیکھا تو ایسے لگا جیسے ہم دونوں نے ایک ہی مطلب سمجھا ہے ۔ درس کے بعد ہم نے آپس میںڈسکس کیا تو بات وہی نکلی جو آنکھوںنے سمجھی یعنی پہلی ملاقات میں انہوں نے مجھے اور میں نے ان کو جان لیا اور پھر رفتہ رفتہ یہ پسندیدگی محبت اوراپنائیت میںتبدیل ہو گئی۔
انہوںنے پوچھا کیا نام ہے ، کہاں سے آئی ہو ، ابا جی کیا کام کرتے ہیںمیں نے بتایا تو بولیں آپ کی والدہ وہ ہیںجنہیں ریاض صاحب کی والدہ کہتے ہیں ۔ یوںہمارا پہلا تعارف ہؤا۔میںنے بتایا کہ میرے ابا جی جماعت کے پہلے 75 لوگوں میں سے تھے۔
وہ اپنے حلقے میں بہت محبوب تھیں ۔ محبت کا بے مثال نمونہ تھیں ان کے بعد محبت ختم ہو گئی ۔ ہر کوئی سمجھتا تھا مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہیں۔ ہم دونوںکے ایک ہی استاد تھے ۔ ہمارے استادوںمیں جسٹس ملک غلام علی صاحب اورمولانا عبد الجبار غازی لٹریچر پڑھاتے ۔ مولانا مودودی صاحب فہم قرآن کی کلاس لیتے ۔عبد الغفار حسن صاحب حدیث پڑھاتے تھے ۔ہماری کلاس میںآٹھ یا نو لوگ ہوتے تھے جن میںمولانا مودودی صاحب کی بیگم ،فاطمہ آپا فیصل آباد سے ہوتیں ۔بیگم غلام علی ، آپا سردار بیگم نصر اللہ خاں عزیز ایڈیٹر ایشیا، آپا ام زبیر بھی کبھی کبھار آجاتیں ۔ان کے علاوہ میںاور باجی منور ہوتی تھیں۔
مولانا امین احسن اصلاحی صاحب سیاسیات میں اجتماعی زندگی پر لیکچر دیتے ۔ اسلام کامعاشرتی نظام پر لیکچر ہوتا ۔ یہ سب لیکچر بعدمیں کتابی شکل میںآئے ۔’’ اسلامی تہذیب کے اصول ومبادی اس وقت کے لیکچر تھے ’’ پردہ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ مولانا مودودی صاحب کی آئین کی کتاب ’’ حقوق الزوجین ‘‘بھی لیکچر ہیںجوہم نے خود اٹینڈ کیے ہوئے تھے ۔5۔اے ذیلدار پارک میںروزانہ درس قرآن مولانا مودودی صاحبؒ دیا کرتے جس میں ہم روزانہ شریک ہوتے تھے۔
تفہیمات، تنقیحات کے لیکچر بھی ہم نے سنے ہیں۔ بعد میں یہ سب کتابی شکل میں آئے۔
اکثر ایسا ہوتا ہم کھانابھی آپا جان کے گھر کھاتے تھے کبھی ناغے ہو جاتے تھے تو منورمجھ سے نوٹس لے لیتیں یا میں ان سے ۔ ہم دونوںمیں اس قدر پیار اورذہنی ہم آہنگی تھی کہ ہم ہر روز اپنی اپنی مخصوص جگہوں پربیٹھتے اور ایک دوسرے کی جگہ روک کر رکھتے لیکن ہم دونوںنےکبھی ایک دوسرے پر اپنی محبت ظاہر نہیں کی تھی ۔ مولانا کے گھر ہم جھولا جھولتے وہ مجھے جھولا دیتیںاور میں انہیں دیتی ۔ اخلاقی حدودکے اندر رہ کر ہم ایک دوسرے سے شوخوشنگ مذاق کرتے۔
سیرت النبیؐ پر ہم جو کچھ پڑھتے یا لیکچراٹینڈ کرتے اس پر پوری طرح سے عمل کرنے کی کوشش کرتے ۔ وہ بے حد شگفتہ مزاج تھیں۔ تقویٰ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہؤا تھا ۔ہنسی خوشی رہناکسی کو دکھ نہ دینا ان کی خاص خوبیاں تھیں۔ وہ محبت، رحمت اورایثار کامجسمہ تھیں ۔ ہماری تیسری ساتھی سلیمہ تھیں ۔ سلیمہ تھوڑی سی سنجیدہ تھیں لیکن منورنے اپنے اوپر سنجیدگی طاری نہیںکی تھی ۔ متوازن طبیعت کی مالک تھیں ۔ ان میں اعتدال اورمیانہ روی پائی جاتی تھی۔
جب میری منگنی ہوئی تو انہوںنے مجھ سے پوچھاکہ کیا تم نے اسے دیکھا ہؤا ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں ۔’’ آتے جاتے ایک نظر دیکھ لینا ‘‘۔ انہوں نےمیری رہنمائی کی کہ اسلامی نقطہ نظر سے اس میں کوئی قباحت نہیں۔
میں نے ہونے والے سسرال پر تنقید کی کہ وہ لوگ بڑا گوشت کھاتے ہیں تو انہوں نے مجھے سمجھایاکہ ’’ اتنے تشدد والا رویہ اختیارنہ کرو۔ سیدھا راستہ اختیار کرو تم نے اپنی والدہ کے سامنے یہ اعتراض کیا ہے کہ وہ لوگ بڑا گوشت کھاتے ہیں، یہ تم نے حلال کو حرام کیا ہؤا ہے ‘‘۔
جب میں نے اپنے عروسی جوڑے اوربرقعے کے بارے میںاعتراضات کیے تو انہوں نے مجھے سمجھایا ’’پھر تم نے کہا میں نے غرارہ نہیں پہننا ۔ لٹھے کا یا کھدر کا برقع پہننا ہے ، ایسی باتیںکر کے کیوںاپنے ماں باپ کو مشکلات میں ڈال رہی ہو ۔تمہاری چھوٹی سی عمر ہے ۔ اس عمر میں غرارہ پہننے یا ریشمی برقع پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ انسان کواعتدال پسند ہونا چاہیے۔ اپنی شخصیت کو ایسابنائو کہ وہ آسانی سے مولڈ ہو جائے ۔ ایسی باتیں کر کے تم اپنے ماںباپ کو پریشانیوںمیںمبتلا کر رہی ہو۔ مجھے دیکھو انسان کو کتنے مشکل حالات میں گزارہ کرنا پڑتا ہے ۔ اب ایسی کوئی ضد نہ کرنا جس سے رشتہ پر اثر پڑے ۔ چراغ لے کرڈھونڈنے سے بھی ایسا لڑکانہیںملے گا ‘‘۔انہوں نے میری بہت تربیت کی۔ میری غلط باتوں کی نشاندہی کرنا مجھے ٹو کتے رہنا یہ سب ان کا خلوص تھا جو میری اصلاح کےلیے وہ کہتی رہتی تھیں۔
میںسمجھتی ہوںمیری تربیت انہوں نے کی ہے ۔ جب میری شادی ہوئی تو میںنے شادی میں بھی ہر طرح کی سادگی کے اصول پر کاربند رہنے کا فیصلہ کیا ۔ میں پھر ویسی ہی تشدد پسند تھی ، وہ میرے رویے کونرم کرنے میں میرے پاس آ پہنچیں۔میںضد میں تھی کہ میں نے نہ تو زیور پہننا ہے اورنہ ہی میک اپ کرنا ہے ۔ میں نے ہر طرح کی رسم کے خلاف چلنے کا فیصلہ کیا ہؤا تھا۔ میں ایک ایسی دلہن بننا چاہتی تھی جو سراپا سادگی ہو۔ میں سادگی کا عملی نمونہ بن کر دکھانا چاہتی تھی۔منورمیک اپ کا سامان لے کر میرے گھر آگئیںمگر میں نے انکار کردیا ۔ منور نے میرے بال بنائے تو میںنے پنیں اتاردیں ،انہوںنے میری بات مان لی او ر مجھے کاجل اورپائوڈر لگایا۔ وہ ساتھ ساتھ مجھے سنوارتی جاتیںاورساتھ ساتھ آپا جان ( بیگم مودودی)سے کہتی جاتیں دیکھیں آپا جان یہ کیا کر رہی ہے اسے سمجھائیں لیکن میں نے زیورپھر بھی نہیںپہنا۔
ان کا ادب کی طرف گہرا میلان تھا وہ بے حد اچھی رائٹر تھیں ۔آپا حمیدہ بیگم اور انہوں نے مل کر عفت رسالہ نکالا ۔ بعد میںیہ رسالہ بند ہو گیا۔منور نے بتول رسالہ نکالنے کے لیے بہت کوششیں کیں اورایک سکیم بنائی کہ سب لوگ سو سو روپیہ اکٹھا کریں۔ایک ادارہ بنایا جائے اوررسالہ از سر نو شروع کیا جائے ۔اس کے لیے انہوںنے بہت سا چندہ اکٹھاکیا۔ رسالہ نکالا ۔ ادارہ بنایا اورآپا جی حمیدہ بیگم کی سر پرستی میں بتول کی ادارت سنبھالی۔
ان کی صابر صاحب سے شادی کے بعدصابر صاحب نے ادارے کانظم ونسق چلایا اورمنورنے رسالے کا انتظام سنبھالا۔
صابر صاحب اورمنورکا رشتہ مولانا مودودی اورآپا حمیدہ بیگم کے توسط سے ہؤا۔ اسلام، اللہ رسولؐ کی محبت اور آخرت کی خریداری میں انہوںنے صابر صاحب سے شادی کی جو محبت میاں بیوی میںتھی ، اس کی مثال نہیں ملتی۔
منور میںخدا پرستانہ اخلاق تھا ۔ اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہو سکتی اپنی کمیوںکو ظاہر کرنا اورصابر صاحب کی خوبیوںکو اجاگر کرنا ان کی خاص صفت تھی ۔ منور تین سالہ ازدواجی زندگی میں گھریلو نظام کاایک پورا کرداردکھا گئیں ۔ خوش لباس، خوش کردار و خوش گفتار تھیں ۔ ہینڈ رائٹنگ بہت عمدہ تھی ۔ طبیعت میں خشکی وریزرو پن نہیںتھا۔ کام کی دھنی تھیں ۔ کبھی تھکاوٹ نہیںہوئی تھی ۔ شادی کے بعد انہوں نے گھر کو انتہائی سلیقے سے سجایا تھا ۔ ان کا گھر سادگی کا نمونہ تھا ۔ مولانا کے گھر ہماری تربیت ہوئی تھی دین کو سمجھ کر شعور کی سیڑھیوں پرہم نے قدم رکھے تھے وہ حدود و قیود میں رہ کر تمام فیشن کرتی تھیں ۔ انہیں جامنی رنگ بہت پسند تھا ۔ جامنی رنگ بہت پہنتی تھیں۔ شادی کے بعد خاوند کی خوشی کاخیال رکھ کر اپنے تمام ناپسندیدہ رنگ پہنتی رہیں ۔ شادی سے پہلے انہیں سرخ رنگ نا پسند تھا ۔ ان کی شادی کے بعد جب میں ان کے گھر گئی تو گھر کی ہر چیز میںسرخ رنگ جھلکتا دکھائی دے رہاتھا ۔ ان کے کپڑوںمیںپردوںمیںبیڈ کورز ،میز پوش تکیوں میں سرخ رنگ زیادہ نظر آتا تھا۔گھر میں کھانا شوہر کی پسند کا ہوتا تھا ۔ صابر صاحب ان کو اتنے محبوب تھے کہ ہر لمحےان کی خوشی کا خیال رکھتیں حتیٰ کہ دوپہر کا کھانا بھی اکٹھے کھاتے ۔ صابر صاحب بھی ان کا بے حد خیال رکھتے ۔وہ ان کی محبوب بیوی تھیں۔
بے حد نفاست پسند تھیں ۔ان کے گھر کی سجاوٹ قابل دید تھی۔ ان کا قلمدان اپنی جگہ رائٹنگ ٹیبل پر قرینے سے سجا ہوتا ۔ میںنے ان کے گھر میںکوئی بے ترتیبی نہیںدیکھی ۔ شوہر کی ضروریات کا خیال شاید ہی ان سے بڑھ کر کوئی رکھ سکتا ہو۔ انفرادی خوبیوںمیںاپنی مثال آپ تھیں۔ان کی شخصی خوبیوں کی میں بچشم خود گواہ تھی ۔ نماز کا خصوصی اہتمام کرتیں ۔ اپنے رب سے ملنے اور گفتگو کا سلیقہ ہم نے منور سے سیکھا ۔ نماز سے پہلے خاص طور پرکپڑے بدلتیں ۔تیار ہوتیں پھر نماز پڑھتیں ۔ان کا نظریہ یہ تھاکہ انسانوںسے ملاقات کے لیے ہم کس قدر اہتمام سے تیار ہوتے ہیں ۔ اسی طرح اللہ کے سامنے حاضری دینے کے لیے بھی خاص تیاری ہونی چاہیے ۔ ان کا یہ انداز ان سے ان کی اپنے رب سے بے تحاشا محبت کا عکاس ہے ۔ نماز کا یہ خاص اہتمام میںنے انہی سے سیکھا ہے ۔ قرآن پڑھنے کے لیے بھی خصوصی تیاری کرتیں ۔ پہلے تکیے رکھنا ، پھر دوزانو ہو کر اہتمام سے قرآن پڑھنا ۔ تاکہ معلوم ہو کہ قرآن پڑھ رہی ہیں۔
’’مناجات مقبول‘‘ میں ’’ حزب البحر‘‘ باقاعدگی سے پڑھتی تھیں روزے سے خاص تعلق تھا۔ روزے کاباقاعدہ اہتمام کرتیں ۔ افطاری کرواکر خوشی محسوس کرتیں ۔نمودو نمائش سے مبراہو کر سادگی سے سارا اہتمام کرتیں۔
ان میں بلند پایہ خوبی ان کا ایثار تھا ۔ یہ ان میں بدرجہ اتم موجود تھا۔
مجھ سے بے انتہا محبت کرتی تھیں ۔ سینے پرونے میں بے حد ماہر تھیں ۔ تحفےدینے دلانے میںان کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ ایک بار برقع پہن کرآئیںوہ برقع انہوںنے خود سیا تھا سیاہ لیس لگا کر بے حد خوبصورت ڈیزائن کیا تھا میںتعریف کیے بغیر نہ رہ سکی۔ اگلی بار جب آئیں تو وہ برقع مجھے تحفے کے طور پر دے دیا ۔ بعد میںیہ برقع میرے ساتھ میرے جہیز میںگیا۔
ایک بار ہم کسی اجتماع میں گئے تھے ۔ مجھے سردی لگ رہی تھی ۔ انہوں نے اپنا سوئیٹر مجھے پہنا دیا اور پھر واپس نہیں لیا۔ اسی طرح گرم شال میں نے اوڑھ لی تو وہ بھی مجھے تحفتاً دے دی۔
عرفان صدیقی نقش خیال میںلکھتے ہیں ’’ بازی لے جانے والے باتیں کرنے والوں سے مختلف ہوتے ہیں ۔ان کی دنیا ،ان کی سائیکی ان کی ویولینتھ، ان کی فریکوینسی ان کاسب کچھ مختلف ہوتا ہے ۔ ان کا جنون آفاق میںنہیں سما سکتا ۔ ان کے ہاتھ میںنیکیاںشمار کرنے والاکیلکولیٹر ہوتا ہے نہ عذاب و ثواب کا کوئی پیمانہ‘‘۔ منوربھی بازی لے جانے والی خاتون تھیں ۔ وہ خوبیوں کی مرقع تھیں ۔ جماعت اسلامی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کوتیار رہتی تھیں۔ جماعت کے لیے انہوں نے جتنا کام کیا ۔ جوقربانیاںدیں ، ان کا شمار ممکن نہیں۔ بند گان خدا کی خدمت کا جذبہ ان میںکوٹ کوٹ کر بھرا ہؤا تھا ۔ کوئی ڈیوٹی جو جانبازی کی ہوتی ،وہ ہم دونوں کے سپرد ہوتی تھی ۔ الیکشن آئے ہیں توہم ساتھ ساتھ کوئی جلسہ ہوتا تو انتظام ہمارے سپرد ۔ سیلاب آیا تو تب بھی ہم دونوں آگے آگے ہوتیں ۔ ایک بار بہت زبردست سیلاب آیا۔ سیلاب سے بہت تباہی ہوئی۔ گردو نواح کے بےشمار گائوں تباہ ہو گئے ۔متاثرین لاہور کو کھانا دوائیاں اورکپڑے پہنچانے کا کام ہم نے اپنے ذمہ لے لیا۔ کشتی میں دیگیںرکھی ہوئی تھیں ۔ میرے ساتھ منورمیری امی اوربھائی تھے ۔ میںدیگ میں سے چاول ڈال کر دینے لگی تو بڑے پیار سے مجھے پیچھے کردیا ’’ ہٹ جائو تم تھک جائو گی ، میں چاول ڈال ڈال کردیتی ہوں‘‘۔ اسی طرح دوائیاںبانٹتی رہیں جتنے بھی محنت طلب کام تھے ، وہ سب انہوں نے اپنے ذمے لیے ہوئے تھے۔
1948ء کی جنگ میں فوجی بھائیوں کی امداد کے بے شمار کام انہوں نے اپنے ذمہ لیے ہوئے تھے ۔ نہ جانے کہاں سے بے شمار فنڈ اکٹھے کر کے لے آتیں۔جہاںبھی جانا ہؤا مجھے آرام کروایا اورخود تکلیف اٹھائی۔1950ء کے الیکشن تھے مسلم لیگ کے مقابلے میں جماعت اسلامی کھڑی تھی۔ ہم دونوں کی ڈیوٹی پولنگ اسٹیشن پر لگی تھی ۔ ایک خاتون جسے ہم جانتے تھے مسلم لیگ کا جعلی ووٹ ڈالنے آگئی۔ انہوںنے اسے پہچان لیا اورجعلی ووٹ ڈالنے سے منع کر دیا۔ پھر ایک اور خاتون جماعت اسلامی کے لیے جعلی ووٹ ڈالنے آگئی۔ اس وقت ایک ایک ووٹ کی بہت ضرورت تھی۔ یہ بہت آزمائش کی گھڑی تھی ۔ اس عورت کےبارے میںیقین تھا کہ وہ جماعت کو ہی ووٹ ڈالے گی۔ یہ سوچ کرکہ ایک قطرہ سارے جل کو گندا کردیتا ہے ،منورنے اسے جعلی ووٹ ڈالنے سے منع کر دیا۔
جو خاتون مسلم لیگ کی طرف سے جعلی ووٹ ڈالنے آئی تھی ، وہ منور کی رشتہ دار تھی ۔ اس نے بہت فساد کھڑا کیا ۔ خاندان والوں نے منور کوبرا بھلا کہا مگر وہ سچائی پر ڈٹ جانے والی تھیں۔ جس روز منور کاانتقال ہؤا، وہ جمعرات کا دن تھا ۔ رمضان کا مہینہ تھا ۔ کسی نے بتایا کہ منورشدید بیمار ہیں ، ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں ۔میں فوراً تیار ہوئی، بچوں کو امی کے پاس چھوڑا ۔ ان کے گھر پہنچی تو معلوم ہؤا کہ منورفوت ہوگئی ہیں۔
وہ صبح قیامت تھی۔ ہم سارا دن ان کے لیے روتے رہے چاروں طرف خواتین کا ہجوم تھا جنازہ عصر کے بعد اٹھا ایسے لگتا تھا جیسے فرشتے آئے ہیں اتنی خوشبو آرہی تھی جیسے کعبے میںطواف کرتے ہوئے آتی ہے یوں لگتا تھا فرشتوںکے پروںکے پرآرہے ہیںجیسے کوئی جشن ہو رہا ہونہ معلوم کہاںسے خوشبوئوںکے ڈھیر اُمڈے چلے آتے تھے سارا کمرہ خواتین سے کھچا کھچ بھرا ہؤا تھا سب کلمہ طیبہ کا ورد کر رہی تھیں۔
ایک حور تھی جو دنیا سے رخصت ہوگئی جس دن منور کا انتقال ہؤا ہم لوگ صابر صاحب سے افسوس کے لیے آئے ۔ سیڑھیوںکے ساتھ ایک کمرہ تھا ۔ جس میںصابر صاحب بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا رخشندہ ایک چمکدار ستارہ تھاجو ہمیشہ چمکنے کے لیے آسمان پر چلاگیا۔
میں نے کسی شوہر کو اس قدر غمزدہ نہیں دیکھا تھا ۔ سلیمہ نے کہا اس کا جنازہ ایسا تھا جیسے محبت کا جنازہ جا رہا ہے ۔ کسی حور کا جنازہ جا رہا ہے ۔
رخشندہ کو کب کی وفات کے فوراً بعد آپا حمیدہ بیگم بتول کی اشاعت و نگرانی کے لیے متفکر رہنے لگیں کہ اب فوری طور پررسالے کا منتظم کون ہوگا؟ اگر جلد ہی کوئی انتظام نہ ہؤا تو اتنی جدوجہد کے بعد جاری ہونے والا رسالہ بند ہو جائے گا اس لیے ان کے ذہن میں یہ تجویز آئی کہ رخشندہ کو کب جیسی صفات کی حامل کسی لڑکی سے صابر صاحب کی شادی کروادی جائے جو اللہ کے خوف والی ہو رسالے کاانتظام بھی سنبھالے اور بچیوں کو بھی پالے ۔
جب مجھے معلوم ہؤا تو مجھ پر گویا غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا میں نے سلیمہ سے کہا چلو مولانا کے پاس چلیں اور احتجاج کریں ۔ میں زور زور سے چیخیں مارتی ہوئی آپا جان کے پاس آئی ۔میں نے کہا ابھی دیگیں نہ چڑھائیں ، ابھی تو موت کی دیگیں چڑھی ہوئی ہیں ۔ مولانا نے کہا ان کے جذبات کااحترام کریں ، چالیس دن ہو لینے دیں، پھرشادی کی بات کریں۔
بیگم مولانا مجھ پر ناراض ہوئیں اور بولیں ’’ تمہاری تربیت صحیح نہیں ہوئی ہے ۔ تم پھٹ پڑتی ہو ، سب کو منور سے محبت تھی ۔ تمہیں کوئی خاص محبت تو نہیں تھی ۔ پیغمبروں کے راستے پر چلناسیکھو ۔غم تین دن کا ہوتا ہے ۔ ہندوانہ رسم و رواج کو چھوڑ دو ۔ ہم نے اپنی زندگیوں کو اس طرح گزارنا ہے جس طرح ہمارے نبی ؐ نے ہمیں بتایا ہے ۔ ہمارے نبیؐ نے اپنے آخری خطبے میںکیا کہا تھامیرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ، اس کی بندگی جس کی بندگی کا اللہ کے رسولؐ نے حکم دیا تھا ۔ منورکا ایک نصب العین تھا۔ وہ ایک مشن پر کام کر رہی تھیں۔ اس کا نصب العین اللہ کے دین کی اشاعت تھا جس کےلیےاس نے بتول رسالہ شروع کیا ادارہ قائم کیا ۔ اس رسالے کو چلانے کے لیے اس کا وارث چاہیے‘‘۔
منورکی موت کے بعد مجھے اپنا آپ سنبھالنے میں بہت وقت لگا منور آسمان کاستارہ تھی۔ جو غروب ہوگیا اس کی موت کے بعد مجھے ایسا لگا شاید میں اب زندہ نہ رہ سکوں گی۔
منور دنیا سے رخصت ہو گئی مگر مجھےخواب میں بہت دفعہ ملیں جیسے وہ کسی بہت اونچی جگہ پر ہیں کوئی پہاڑ ہے۔ میں اس پر آلتی پالتی مارے بیٹھی ہوں اورمیں ان تک نہیں پہنچ سکتی۔
دوسری بار خواب میںدیکھا ،کوئی پیڑ ہے ۔ اس کے نیچے بیٹھی ہیں جیسے پھیلے ہوئے پیڑ میں پتیوں کی چھتری سی ہے ۔ اس کے ساتھ ٹیک لگائےکھڑی ہیںاورمجھے کہہ رہی ہیں کہ تم بھی آجائو میںکہتی ہوں ۔ میں ابھی کام کر کے آتی ہوں۔
منور کہتی تھیں یا تو میںکسی سے والہانہ محبت کرتی نہیں ہوں، اگر کرتی ہوںتو اسے اپنے دل سے نکال نہیںسکتی۔ وہ اپنی محبت ہمارے دلوں میں ایسےڈال گئیں کہ ہم بھولنا بھی چاہیںتو اسے بھلا نہیں سکتے؎
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہےگویا کوئی دن اور
٭٭٭