زہرہ آپا ایک عہد ساز شخصیت اورمجاہدہ خاتون تھیں ۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی مسلسل جدوجہد میں گزاری اور ہمیشہ مشکل راستے کا انتخاب کیا۔زلزلوں، سیلابوں کے پانیوں میں جب سبز جیپ کا ڈرائیور پانی میں جانے سے انکار کر دیتا تو نڈر اور بہادر ایسی کہ اپنے چند ساتھیوں سمیت پانی میں اتر جاتیں اور کہتیں کہ ہم اللہ کے راستے پر جا رہے ہیں ، سانپ ہمیں اللہ کے حکم سے کچھ نہیںکہیں گے ۔ یہ اُن کا اللہ کی ذات پر کامل یقین تھا جو وہ بخیریت اپنی منزل مقصود پر پہنچ جاتیں ۔پھر ضروریاتِ زندگی کا سامان وہ گائوں گائوںاور گھر گھرمتاثرہ لوگوں تک پہنچا کرآتیں۔
زکوٰۃکے معاملے میںوہ حد درجہ محتاط تھیں ۔ کہتی ہیںکہ ایک دفعہ میں نے ایک عورت کو زکوٰۃ کی رقم دے دی لیکن جیسے ہی میںنے اس کے کانوں میں سونے کی بالیاں دیکھیں تو فوراً زکوٰۃکی رقم واپس لے کر خیرات کی مد سے اس کی مدد کردی۔
13 سال کی عمرمیں مولانا مودودی کی شاگردی میں جانے کے بعد زندگی کے آخری لمحوں تک اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہوئے اپنی اولاد کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعداد میں روحانی اولاد کو بھی قرآن و حدیث سے جوڑ گئیں۔
قرآن پڑھاتے وقت وہ گہرائی میں اتر جاتیں اور کہتیں کہ یہ قرآن اتھاہ سمندر ہے ۔اس کو سمجھ کر پڑھنا ہوتا ہے ، جلدی کر کے نہیں پڑھنا چاہیے۔
زندگی کیسے گزارنی ہے اس کے سارے گُر طور طریقے زندگی کی اونچ نیچ ایسے سکھاتیں ، خاص طور پرخاندانی نظام پر بھرپورتوجہ دیتے ہوئے اور معاشرت پر پُر زور لہجے میں بات کرتیں ، ایسے لگتا جیسے وہ ہمیںبھٹی میں ڈال کرکندن بنا دیں گی ۔ کہتیں رشتے محبتوں کے محتاج ہوتے ہیںمحبتیںرشتوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔چہرہ شناس ایسی کہ ہمارے چہرے دیکھ کردل کی بات سمجھ جاتیں ۔ کبھی استاد کی طر ح ڈانٹ کر سمجھاتیں اورکبھی ماں کی طرح جب اپنے سینے سے لگاتیں سکون سا محسوس ہوتا ایسے لگتا کہ وہ ہم سب کے لیے ٹھنڈی چھائوں ہیں ۔
22 سال تک زاہدہ کے گھر فیصل ٹائون میںکلاس ہوتی رہی جس میں 150 کے قریب خواتین ہؤا کرتی تھیں ۔ انہوں نے ہمیں کچی پنسل سے پورا قرآن پاک ہمارے ہاتھوں سے رجسٹروں پر لکھوایا تاکہ غلطی کی صورت میں ہم ربڑ سے مٹا سکیں ۔ زاہدہ کے ڈیفنس چلے جانے کے بعد کلاس شبانہ کی طرف منتقل ہوگئی جو 11 سال تک جاری رہی ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو کلاس میری طرف رکھوائی ۔فیصل ٹائون کی کلاس اُن کی پسندیدہ کلاس تھی ۔ ہمیں اپنی روحانی اولاد کہتیں اورکہتیں کہ آپ لوگوں نے میرا صدقہ جاریہ بنناہے ورنہ میں قیامت کے دن آپ سے گلہ کروں گی۔
کلاس کا سلسلہ اُن کے بیٹے کی طرف جانے تک جاری رہا ۔ گو اُن کی صحت اب بہت اچھی نہیںتھی لیکن پھر بھی وہ دو عورتوں کے سہارے اندر تک آتیں ،بغیر ناغہ کیے وہ ہمیشہ کلاس میں وقت پر پہنچتیں ، چاہے کتنی ہی مشقت کرنی پڑے ۔ صحت کی خرابی کے باعث آخر کار وہ بیٹے کی طرف چلی گئیں ۔ علالت کے دوران جب میںاور زاہدہ اُن کوملنے گئیں تو بڑے افسردہ لہجے میںزاہدہ سے کہنے لگیں کہ اگر تم فیصل ٹائون نہ چھوڑتیں تو آج کلاس بھی بند نہ ہوتی ۔ مجھے دیکھ کرخوش ہو کر حیرانی سے دیکھنے لگیں جیسے کہہ رہی ہوں کہ تم کہاں سے آگئی ہو ۔بات چیت کرتے وقت بہت کمزوری محسوس کرتیں ۔اپنے شاگردوں سے ماںجیسی محبت کرتیں اور کہتیں کہ میں تمہیں نیکی کے کاموںمیں سبقت کرتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں۔دین کے معاملے میں فکر مند اتنی تھیں کہ کہا کرتیں ، اگر گھر گھر ٹی وی ہو سکتا ہے تو گھر گھر درس قرآن ہونا چاہیے۔
1992سے آپا جی کے ساتھ شروع ہونے والا قرآن کا یہ سفر جون2023ء تک قائم رہا ۔ جولائی 2023ء میںوہ اپنے بیٹے کے گھر چلی گئیں اور وہیں 18 جنوری بروز جمعرات 2024ء ان کا یہ ساتھ اختتام کو پہنچا ۔ فیصل ٹائون میں وہ ہمیشہ جمعرات کو کلاس لیتی تھیں اور جمعرات کو ہی وہ ہمیں ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر اپنے خالقِ حقیقی کے پاس چلی گئیں۔
ایسی ممتا بھری اور شفیق ہستی کے ساتھ بیتے ہوئے 33 سالوں پر محیط یادوں کو لکھنا دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش ہے ۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری پیاری آپا کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطافرمائے اور انہیں اپنی جوارِ رحمت میں لے لے ۔ آمین ثم آمین سورہ الفجر کی آخری آیات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
ترجمہ: اے نفسِ مطمئنہ! لوٹ جا اپنے رب کی طرف ، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ۔ داخل ہو جا میرے بندوں میںاورداخل ہو جا میری جنت میں ۔
ہمارا حسنِ ظن ہے اللہ تعالیٰ سے کہ اللہ غفور الرحیم نے آپا کو اس حال ہی میں اپنے پاس بلایا ہوگا اور وہ اپنے رب سے ملاقات کر کے خوش و خرم ہوں گی۔ انشاء اللہ۔
٭٭٭