’’گڑیا بیٹے جاؤ ذرا سلمیٰ کے پاس جا کر میری رپورٹ بناکر لےآؤ ‘‘ امی نے مجھے اعدادوشمار سے متعلق کاغذات کا پلندہ تھماتے ہوئے کہا ۔
’’جی امی لیکن اس وقت تو دوپہر کا ایک بج رہا ہے اور شادباغ جاتے گھنٹہ اور لگ جائے گا تو دوپہر کے دو بجے میں ان کے پاس پہنچوں گی ۔ ان کے آرام کا وقت ہو جائے گا‘‘۔
’’نہیں بیٹے وہ اس وقت بچوں کو کھانا کھلاکرسلاکر فارغ ہوتی ہے تم چلی جاؤ‘‘۔
جی امی کہہ کر کاغذات کا پلندہ اُٹھایاورمیں ڈرائیور کے ساتھ سلمٰی حمید باجی کے پاس چل دی۔
امی جب لاہور کی ناظمہ تھیں تب سے ان کی رپورٹس اور لکھنے لکھانے کی ذمہ داری میری تھی۔ اور اسی وجہ مجھے امی کی پرنسپل سیکریٹری ہونے کا لقب بھی مل چکا تھا۔ کیونکہ اس کے ساتھ ایک اضافی خوبی یہ تھی جو امی کے لیےبہت سہولت کا سبب تھی کہ مجھے امی کے تمام فون نمبرز زبانی یاد تھے اور اس وجہ سے انہیں اپنی ڈائری دیکھنے یا کھنگالنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی، اسی وجہ سے میں امی کی ڈائریکٹری بھی کہلاتی تھی۔ کچھ امی کی اور ابا جی کی لاڈلی بھی زیادہ ہی رہی (خوش فہمی!) اس کا فائدہ میں بھی بھرپور طریقے سے اٹھاتی تھی ۔اکثر امی تحریکی کاموں کے دوران بہت تھوڑے وقفے کے لیے گھر آتی تھیں اور اس دوران اگر میں کچن میں مصروف ہوتی تھی تو امی کا حکم صادر ہوتا تھا۔
’’گڑیا سارے کام چھوڑ دو میرے پاس وقت کم ہے مجھے فلاں فلاں کے نمبر دو‘‘( تب موبائل وجود میں نہیں آئے تھے) اور میں کام دوسری بہنوں کے سپردکرکے حاضر ہوجاتی۔
مجھے اپنے گھر کا ماحول عام گھروں سے ہمیشہ الگ اور مختلف لگا۔ عام طور پر ماؤں کو اپنے بچوں سے فرصت نہیں ملتی ان کے کام، ان کا کھانا پینا ان کی فکروں میں شامل ہوتا ہے جبکہ ہم نے اپنے ابا جی کو جماعت اسلامی کے ساتھ اس طرح وقف دیکھا کہ جس کی خاطر انہوں نے اپنے گھر بار بچےسب تج دیےبلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگاکہ اپنے بچوں کو بھی حتی الوسع اپنے کاموں میں اپنے ساتھ مصروف کر لیا تھا۔
میں نے امی کو مردوں کی طرح کام کرتے دیکھا۔ صبح نو بجے سے رات نو بجے تک یوں مصروف ہوتی تھیں کہ کیا ہی کوئی مرد اس طرح ڈیوٹی کرتا ہوگا۔ اباجی بھی اسی طرح آفس کے بعد جماعت کے کاموں میں مصروف ہو جاتے تھے۔ مگر یہاں جو بات قابل ذکر ہےوہ یہ ہے کہ ان سب مصروفیات کے باوجود وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت سے قطعاً غافل نہیں تھے۔ الحمدللّہ سب بہن بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیااور تربیت میں بھی کوئی کمی نہ آنے دی۔
جماعت کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ امی سماجی کاموں میں مصروف رہتی تھیں۔ اللہ جانے ان میں اتنی ہمت اور جراَت کہاں سے آتی تھی۔ مجھے امی کی دوبنیادی باتوں نے ہمیشہ بہت متاثر کیا، ایک تو ان کی قوتِ فیصلہ، جو فیصلہ کر لیتی تھی اس پر ڈٹ جاتی تھیں۔ اور دوسری ان کی قو ت ارادی بہت مضبوط تھی جس کے بَل پر انہوں نے ایسے ایسے کام کیے کہ مردوں کو بھی مات دے گئیں۔
فی سبیل اللہ ٹرسٹ کے نام سے ٹرسٹ قائم کیا۔
اس ادارے کی بدولت امی کے ساتھ بہت وقت گزارنے کا موقع میسر آیا ۔ اپنی زندگی کے پندرہ سال میں نے بھی اس ادارے کے ساتھ کام میں صرف کیے کیونکہ امی اس ادارے کی نگران تھیں۔میں روز کی ہدایات ان سے لیتی اور واپسی پر روزانہ کی رپورٹ ان کےسامنے پیش کرتی۔ اس روٹین کے میں اور امی اس قدر عادی ہو چکے تھے کہ جب اتوار کی چھٹی ہوتی تو امی کئی بہانوں سے مجھے بلاتیں۔
میرے ساتھ ساتھ میرے دونوں بیٹوں نے بھی نانا نانی کا بھرپور مزہ لیا۔ یہ دونوں بھی امی ابا جی کے بہت لاڈلے تھے کیونکہ ان کی لاڈلی بیٹی گڑیا کے بچے تھے۔ سکول سے واپسی پر دونوں بچے سکول سے میرے ساتھ آتے اور تین چار بجے تک ہم امی کے ساتھ وقت گزارتے۔
عید ،رمضان اور بہت سے ایسے خصوصی مواقع مثًلا شادی بیاہ وغیرہ پر امی کو پہلے سے فکر لاحق ہوتی تھی کہ ان کے پاس سب کے لیے تحائف موجود ہوں اور یہ بھی میری ذمہ داری تھی ۔رمضان شروع ہونے سے ہفتہ دو ہفتہ پہلے امی کی تاکید ہوتی کہ گڑیا میرے کچھ کام کر دو تاکہ تمھیں روزہ کی حالت میں بازار نہ جانا پڑے-مختلف بیڈ شیٹس ، دوپٹے،سوٹ موسم کی مناسبت سے منگوا کر اپنے مخصوص ڈبے میں جو انہوں نے تحائف کےلیے ہی وقف کر رکھا تھا رکھوا دیتی تھیں اورمطمئن ہو جاتی تھیں۔
یادیں ہیں کہ امڈتی چلی آرہی ہیں، قلم ہے کہ رُکنے کو تیار نہیں، ذہن میں سب کچھ ایک فلم کی طرح چلنے لگا ہے۔ بچپن سے لےکر جوانی، اور اب جوانی سے آگے ایک ریلاہے جو بہہ نکلاہے۔میں جو بچپن سے ہی تھائرائیڈ کا شکار ھو گئی تھی، جب اس بیماری کو شاذونادرہی کوئی جانتا تھا۔ اباجی کس طرح مجھے لیےلیے ڈاکٹرز کے پاس، کبھی حکیم کے پاس اور کبھی ہومیو پیتھک میں علاج کی تلاش میں سرگرداں رہتے۔ امی کی پریشانی اپنے عروج پر ہوتی۔ با لآخر محترم ڈاکٹر مقبول شاہد کے ہاتھوں اللہ نے شفا بخشی، ابا جی اور امی کے پرانے تعلقات تھے وہ میرے مسیحا بن کر سامنے آئے اور آج تک جب کبھی ضرورت پیش آئے وہ میری رہنمائی کرتے ہیں ۔اللہ انہیں بے پناہ اجر سے نوازے۔
میں امی کی سیکرٹری شادی سےپہلے تو تھی ہی اور ابا جی کی بھی سیکرٹری تھی ،لیکن جب ابا جی کا انتقال ہؤا اس کے بعد ایک دن امی نے مجھے اپنے پاس بلاکر کہا’’ گڑیا ابھی تک توتم ابا جی کے تمام کام کرتی آئی ہو ان کے جانے کے بعد یہ مت سمجھنا کہ تمہاری ڈیوٹی ختم ہو گئی۔ آج سے میرے تمام کام بھی تمہارے سپرد ہیں اور جس طرح تم ابا جی کے تمام کام کرتی تھی بالکل اسی طرح میرے کام کروگی‘‘۔
ابا جی کے انتقال کے بعد امی نے دورانِ عدت آسمان تک نہیں دیکھا، وہ بالکل کمرے کی ہی ہو کر رہ گئی تھیں۔ اور میں نے دیکھا کہ اس کے بعد آہستہ آہستہ امی کی سر گرمیاں محدود ہوتی چلی گئی تھیں اورصحت میں بھی غیر محسوس طریقے سے کمی آنے لگی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا انہوں نے اپنا آپ چھوڑ دیا ہو۔ مگر انہوں نے کبھی بچوں کے سامنے اپنے آپ کو کمزور پڑنے نہیں دیا۔ بہت مضبوط اعصاب کی مالک تھیں انہیں اپنے جذبات و احساسات پر مکمل کنٹرول تھا۔
میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میں نے عمر کاایک بڑا حصہ ماں باپ کی شفقت تلے گزارا۔ امی ہمیشہ میری صحت کے حوالے سے فکر مند رہتی تھیں۔ شادی کے بعد بھی وہ میرا اسی طرح خیال رکھتی رہیں جس طرح شادی سے پہلے انہیں میری فکر رہتی تھی۔ وہ ہماری اس دنیا سےضرور چلی گئی ہیں مگر دل بہت مطمئن ہے اللہ انہیں ضرور جنت میں اعلیٰ مقام دے گا۔ جس طرح انہوں نے اپنی نو بیٹیوں کو پالا پوسا تعلیم و تربیت کی اللہ میرے والدین کی قبروں کو نور سے بھرے ان کی بہترین میزبانی کرے۔
آہ! اب کس کو وطن میں ہو گا میرا انتظار
کون میرا خط نہ آنے پر رہے گا بے قرار
کچھ لکھ دیا اور بہت کچھ رہ گیا۔ کیا کبھی ماں اور اولاد کی یا دیں بھی ختم ہو سکتی ہیں۔ جن کے ساتھ زندگی کا ایک ایک لمحہ گزارا ہوان کو کہا ں تک بیان کیا جا سکتا ہےبھلا۔۔۔!
آئندہ نسل مجھ کو پڑھے گی غزل غزل
میں صرف صرف اپنا ہنر چھوڑ جاؤں گا
لشکر کریں گے میری دلیری پہ تبصرے
مر کر بھی زندگی کی خبر چھوڑ جاؤں گا
محسن نقویؔ
٭ ٭ ٭