قید ِتنہائی ۔ آسیہ راشد

کوئی تبصرہ نہیں

میری عزیزہ باجی سلمیٰ کی کہانی شروع سے ہی دردناک تھی، اور ان کے ساتھ گزارے ہر لمحے نے میرے دل میں مزید دکھ اور مایوسی کو جنم دیا۔ وہ ایک مہذب، خوش لباس اور خوش شکل خاتون تھیں، جن کی شخصیت میں ہمیشہ ایک نفاست اور سلیقہ تھا۔ مگر اندرونی طور پر وہ شدید تنہائی کا شکار تھیں۔ وہ ان والدین میں سے تھیں جو اپنی ساری زندگی اپنی اولاد کے لیے قربان کر دیتے ہیں، مگر بڑھاپے میں وہی اولاد انہیں بھول جاتی ہے، ان کے ساتھ وہ محبت اور ہمدردی نہیں کرتی جس کا وہ حق رکھتے ہیں۔
جب میں نے انہیں اولڈ ایج ہوم لے جانے کا فیصلہ کیا تو میرے دل میں ایک اضطراب تھا، مگر میں نے سوچا کہ شاید یہ جگہ ان کے لیے بہتر ہوگی، جہاں وہ محفوظ ہوں گی اور کسی نہ کسی طرح ان کا دل بہلے گا۔ سوشل ویلفیئر آفیسر خالدہ بٹ صاحبہ نے ہماری راہنمائی کی جو ایک حساس اور مددگار خاتون تھیں۔انہوں نے ہمارے لیے یہ جگہ منتخب کرنے میں مدد کی، اور ہمیں اس جگہ کے بارے میں اعتماد دلایا کہ یہاں بزرگوں کی دیکھ بھال بہترین انداز میں کی جاتی ہے۔یہاں خواتین ایک خاندان کی طرح مل جل کر رہتی ہیں، اولڈ ہوم والے انہیں ہر سال عمرہ کرواتے ہیں ۔نیز پکنک پارٹیاں بھی ہوتی ہیں۔مگر اولڈ ہوم سے باہر جانے پہ پابندی ہے ۔آپ اپنی مرضی سے کہیں آ جا نہیں سکتے۔ہر ایک ماہ بعد چند گھنٹوں کے لیے کسی قریبی عزیز کے ساتھ آپ باہر جا سکتے ہیں۔
جب ہم اولڈ ایج ہوم پہنچے، تو میں نے فوراً ایک عجیب سی خاموشی اور سرد مہری کو محسوس کیا۔ بظاہر یہ ایک خوبصورت جگہ تھی جس میں میوہ جات کے درخت، ایک سرسبز لان، ایک چھوٹا سینما، اور یہاں تک کہ ایک اسکول بھی موجود تھا، لیکن وہاں رہنے والوں کی آنکھوں میں ایک بے جان سی چمک تھی، جیسے ان کی زندگی میں کوئی خوشی باقی نہ ہو۔ ہمیں ہوم کی ایک افسر نے خوش آمدید کہا، اور ان کا پہلا سوال ہی میرے دل میں چبھن اور درد پیدا کر گیا: میں اندر ہی اندر لرز گئی۔
’’آپ دونوں میں سے کس نے یہاں داخل ہونا ہے؟‘‘
یہ سوال میرے لیے شرمندگی کا باعث تھا، کیونکہ میں اپنی عزیزہ کو یہاں داخل کرنے کا ارادہ رکھتی تھی، لیکن اس سوال نے مجھے اس حقیقت کا احساس دلایا کہ اولڈ ایج ہوم ایک پناہ گاہ سے زیادہ ایک قید خانے کی طرح لگتا ہے، جہاں لوگ اپنے باقی ماندہ دن تنہائی اور انتظار میں گزار دیتے ہیں۔
جب ہم ہوم کے مختلف حصوں کا دورہ کر رہے تھے، تو ہمیں ایک بڑے سے ہال میں لے جایا گیا جہاں بوڑھے مرد بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ جیسے ہی ہم وہاں پہنچے، سبھی بزرگ افراد اٹھ کر ہماری طرف دیکھنے لگے۔ ان کی آنکھوں میں ایک چمک تھی، جیسے وہ سوچ رہے ہوں کہ شاید کوئی ان کا اپنا ان سے ملنے آیا ہو۔ مگر جب انہیں اندازہ ہؤا کہ ہم ان کے رشتہ دار نہیں ہیں، تو ان کی آنکھوں کی وہ چمک بجھ گئی اور وہ دکھی چہروں کے ساتھ ایک ایک کر کے دوبارہ اپنے اپنے بستروں پہ لیٹ گئے۔ یہ لمحہ میرے لیے دل کو چیر دینے والا تھا۔ وہ لوگ جو کبھی اپنے بچوں کے ساتھ ہنستے بولتے تھے، آج بے یار و مددگار اس ہال میں قید تھے، اور ان کے دلوں میں صرف ایک ہی خواہش تھی…. کوئی اپنا انہیں ملنے آئے۔
وہاں ہماری ایک اور خاتون سے بھی ملاقات ہوئی، جو بظاہر ایک خوشحال اور مالدار زندگی گزار چکی تھیں۔ ان کے بارے میں پتا چلا کہ ان کی ماڈل ٹاؤن میں دو کنال کی کوٹھی تھی، اور ان کے چار بیٹے اور بہوئیں تھیں۔ وہ خاتون بتا رہی تھیں کہ ان کے بیٹے آج بھی ان کی منّتیں کرتے ہیں کہ وہ واپس گھر آئیں، لیکن ان کا دل ٹوٹ چکا ہے۔ ان کے لیے اب اپنے بچوں کے ساتھ واپس جانے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا، کیونکہ وہ انہیں بھول چکی تھیں۔ جب انہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی اس وقت انہوں نے ان کی پروانہیں کی۔ اس کہانی نے میرے دل میں ایک گہرا درد پیدا کیا، کیونکہ وہ عورت بظاہر خوشحال تھی، لیکن اندر سے تنہائی اور مایوسی کا شکار تھی۔
اس دورے کے دوران میں نے اپنی عزیزہ کی آنکھوں میں بھی وہی درد دیکھا۔ میں سوچ رہی تھی شاید وہ یہاں رہنے پر راضی ہو جاتیں، لیکن میرا دل اس کےلیے راضی نہ ہؤا۔ میں نے ان کی حالت دیکھ کر فیصلہ کیا کہ میں انہیں یہاں نہیں چھوڑ سکتی۔ ان کی آنکھوں میں تنہائی اور دکھ کی چمک تھی، جو میں نے ان بزرگ لوگوں کی آنکھوں میں دیکھی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ انہیں اس جگہ سے دور لے جانا ہوگا۔
ہم وہاں سے لوٹ آئے اور میں نے اپنے شوہر کے ساتھ مشورہ کیا۔ ہمیں احساس ہؤا کہ باجی سلمیٰ کو تنہائی سے بچانے کے لیے ہمیں انہیں اپنے قریب رکھنا ہوگا۔ لہٰذا ہم نے ان کے لیے اپنے گھر کے قریب ایک چھوٹا سا مکان تلاش کیا، جہاں وہ اپنی زندگی کا باقی وقت گزار سکیں۔ یہ مکان ان کے لیے ایک نئی امید کا باعث تھا، اور ہمارے لیے یہ اطمینان تھا کہ وہ ہمارے قریب ہوں گی اور ہم ان کا خیال رکھ سکیں گے۔
جب وہ ہمارے ساتھ واپس آئیں تو ان کے چہرے پر ایک نرم سی مسکراہٹ تھی، جیسے کہ انہیں کسی حد تک سکون ملا ہو۔ وہ اب ایک محلے میں رہتی ہیں، جہاں کے ہمسائے ان کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ محلے کے لوگ ان سے ملنے آتے ہیں، ان کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، اور ان کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ ان کے لیے ایک نئی زندگی کی طرح تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنے لوگوں کا دکھ اور تنہائی کا احساس کسی طور ختم نہیں ہوتا۔
اگرچہ اب وہ اولڈ ایج ہوم کی قید سے باہر ہیں، لیکن ان کے دل میں وہ دکھ اور خلا ابھی بھی موجود ہے جو ان کی اولاد نے پیدا کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی محبت اپنے بچوں کی محبت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ وہ ہر دن اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو یاد کرتی ہیں، اور اگرچہ ان کے آس پاس محبت کرنے والے لوگ موجود ہیں، لیکن ان کا دل ابھی بھی ٹوٹا ہؤا ہے۔
ان کی یہ کیفیت میرے لیے بھی دردناک ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ہم انہیں اولڈ ایج ہوم کی قید سے نکال لائے ہیں، لیکن ان کے دل کی قید، ان کی مایوسی اور تنہائی کا علاج اتنا آسان نہیں ہے۔ وہ روزانہ اپنی اولاد کو یاد کرتی ہیں، اور کبھی کبھی ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں جب وہ اپنے ماضی کے خوشگوار لمحات کو یاد کرتی ہیں۔
یہ کہانی صرف باجی سلمیٰ کی نہیں، بلکہ ان تمام والدین کی ہے جو اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اپنے بچوں کی محبت کے لیے ترس رہے ہیں۔ ان کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی ان سے ملنے آئے، کوئی ان کا حال پوچھے، کوئی ان کے لیے وقت نکالے، لیکن وہ لمحہ کبھی نہیں آتا۔
یہ کہانی ان بوڑھے والدین کے لیے ایک خراج تحسین ہے جو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اپنی اولاد کے لیے قربان کر دیتے ہیں، مگر بڑھاپے میں وہی اولاد انہیں بھول جاتی ہے۔ ان کا ہر دن انتظار میں گزرتا ہے، مگر ان کا یہ انتظار کبھی ختم نہیں ہوتا۔یہ کہانی ایک سبق ہے کہ ہمیں اپنے والدین کی محبت اور ان کی قربانیوں کی قدر کرنی چاہیے۔ انہیں تنہا چھوڑنا یا نظر انداز کرنا ایک ایسی غلطی ہے جو مکافات عمل کو جنم دیتی ہے اور انسان گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو کر اپنی دنیا اور آخرت دونوں برباد کر لیتا ہے۔
٭ ٭ ٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp