غزل ۔ حبیب الرحمٰن
کوئی تو بات ہے جب میرا تن چلا دیا تھا
ہوا میں راکھ کو پھر کیوں نہیں اڑا دیا تھا
مری کہانی نے، جو ہنس رہے تھے اور ہنسے
جو رو رہے تھے انھیں اور بھی رلا دیا تھا
اسے تو خوف خداؤں کا تھا خدا کا کہاں
سو اس کو اس کا تراشا ہؤا خدا دیا تھا
گو ظلمتیں تھیں ہر اک سو اگرچہ، ڈٹ کے کوئی
اکیلا صبح تلک جو کھڑا رہا دیا تھا
کہی جو دل کی رہا خود بھی اتنا ہوش کہ بس
سوال سن کے مرا اس نے سر جھکا دیا تھا
ہر ایک لفظ شرارہ سا بن کے دل پہ گرا
جب اس نے خط کو مرے آگ میں جلا دیا تھا
میں خواب میں بھی اسی خواب کی تلاش میں ہوں
وہی جو جاگتی آنکھوں مجھے دکھا دیا تھا
سب اس کا اندر و باہر تھا میرا دیکھا ہؤا
سو اس کا مدعا سن کر میں مسکرا دیا تھا
اکیلے تو ہی نبھاتا رہا کہ اس نے ترا
بتا کہ ساتھ برے وقت پر دیا، دیا تھا؟
جو دل میں کھوٹ نہیں تھا پیامبر کے اگر
تو میرا خط ترے ہاتھوں میں کیوں کھلا دیا تھا
حبیبؔ آج بھی کل کی طرح ہے یاد مجھے
وہ ایک چہرہ کہ جس نے مجھے بھلا دیا تھا

