شہلا خضر

خراج – شہلاخضر

شام ڈھلنے کو تھی۔نوری کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔بات ہی پریشانی کی تھی۔ بالا سویرے سے نکلا اب تک نہ لوٹا تھا۔وہ کبھی اتنی

مزید پڑھیں