حنظلہ سلیم

قندیل اک امید کی! ۔ حنظلہ سلیم

اجڑی ہوئی سی عمر رواں کاٹتا ہؤا
اِک روز بے ارادہ کسی راہ گزار میں
بیٹھا ہؤا تھا اوڑھ کر اُس بے بسی کو میں
جس کا تھا بوجھ یوں کہ مہ و سال کا سفر
دشوار ہی رہا کبھی آساں نہیں ہؤا
قندیل اک امید کی اس روز ایک دم
اِس شان سے جلی مری تاریک راہ میں
صدیوں کے دھندلکوں کا انجام ہوگیا
اب شامِ غم سے روشنیِ صبح کا سفر
گویا بہت مرے لیے آسان ہوگیا

مزید پڑھیں