بتول مئی ۲۰۲۵

قرآن شاه کلید عبادات قرآن کی نظر میں ۔ عالیہ شمیم

عبادت روح کی غذا ہے۔ سب سے اچھی غذا وہی ہوتی ہے جو بدن میں جذب ہوجائے یعنی بدن کے لیے صحت مند ثابت ہو، اسی طرح بہترین عبادت وہ ہے جو روح میں جذب ہوجائے یعنی خوشی اور حضور قلب کے ساتھ انجام پائے۔شریعت اسلامی میں عبادت کا مفہوم دین و دنیا کی ہر اچھائی پر دلالت کرتا ہے۔عبادت ایک ایسا جامع لفظ ہے جو ان تمام اقوال و اعمال کی کفالت کرتا ہے جن کو اللہ پسند کرتا ہے اور ان سے خوش ہوتا ہے ۔
عبادت کا لفظ عبد سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی بندگی، اطاعت و پرستش کے ہیں ۔سچے مسلمان اس دنیا میں یقینی طور سے چاہتے ہیں کہ صحیح معنوں میں اﷲ کے بندے بنیں ،اس لیے وہ عبودیت کی انجام دہی میں کو شاں رہتے ہیں ،تاکہ اپنے دین و دنیا کے جملہ معاملات میں اﷲ کے اوامر کو بجا لائیں اور اس کے نواہی سے بچیں۔قرآن مسلمانوں کے لیے شاہ کلید ہےاور مسلمانوں کے لیے صحیفہ ہدایت ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔’’لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالق ہے، تمہارے بچنے کی توقع اسی صورت ہو…

مزید پڑھیں

حج کا مہینہ اہمیت وفضیلت ۔ شگفتہ عمر ٳ؎۱

ماہ ذی الحجہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن الفرقان میں ہمیشہ سے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ- ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً- وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ۔
ترجمہ:’حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے اور ان میں سے چار ماہ حرام ہیں، یہی ٹھیک ضابطہ ہے، لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو‘۔ (یہ چار ماہ ذوالقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب ہیں)(التوبہ ۹: ۳۶)ابوبکرہ ثقفیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے حجۃ الوداع میں 10 ذوالحجہ کو خطبہ دیا جس میں فرمایا، ’زمانہ گھوم پھر کر اپنی اس اصلی ہیئت پر آ گیا ہے جس پر وہ زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت تھا۔ سال پورے بارہ مہینے ہی کا ہوتا ہے، اس میں سے چار مہینے خاص طور پر قابل احترام ہیں۔ (تین مہینے تو مسلسل ہیں ذی القعدہ، ذی الحجہ، محرم اور چوتھا رجب) (بخاری 4406، مسلم)
حضرت ابو سعید الخدریؓ سے…

مزید پڑھیں

سوشل میڈیا کے مفید استعمال کا چیلنج پاکستان کے تناظر میں ۔ ڈاکٹر صائمہ اسما

انفرمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں سوشل میڈیانےگزشتہ دودہائیوں میں غیر معمولی فروغ حاصل کیا ہے۔اس کے استعمال کے بہت سے پہلو ہیں جنہیں زیر بحث لانے کی ضرورت ہے، خصوصاً ہمارے ملک میں اس کےفروغ کےسیاسی، سماجی،معاشی پہلوؤں پر وسیع پیمانے پرغورہونا چاہیے۔یہ مضمون اسی نقطہِ نظر سے لکھا گیا ہے۔
سوشل میڈیا کیا ہے
سوشل میڈیا الیکٹرونک ابلاغ کی ایسی صورت ہے جس میں صارفین معلومات،ذاتی پیغامات اور دیگر موادجیسے ویڈیو وغیرہ ایک دوسرے کو بھیجنے کے لیےآن لائن کمیونٹیز بناتے ہیں۔جس طرح حقیقی سماجی رابطوں میں ایک فرد دوسرے افراد اور گروہوں سے مربوط ہوتا ہے، اسی طرح اس مجازی دنیا (ورچوئل ورلڈ) میں ایک پروفائل کو دوسرے افراد یا گروہوں کے پروفائلز سے جوڑا جاتا ہے،جس سے آن لائن سوشل نیٹ ورکس بنتےاور ترقی پاتے ہیں۔یہ کام سوشل میڈیا سروسز کرتی ہیں۔سوشل میڈیا سروسز ویب 2.0 انٹرنیٹ پر مبنی ایپلی کیشنز ہیں جس کا مطلب انٹرنیٹ کے ذریعے ایسے پروگراموں کی فراہمی ہے جن کو صارفین صرف دیکھتے سنتے نہیں بلکہ ان پر خود بھی جواب یاردعمل دے سکتے ہیں، یعنی یہ دوطرفہ ابلاغ ہے۔ایک ویب سائٹ یا ایپ بنانے والے،اپنے صارفین کے مخصوص پروفائلز بناتے ہیں، جسے سوشل میڈیا سروس تیار اور برقرار رکھتی ہے۔
سوشل میڈیا کیسے وجود…

مزید پڑھیں

راکھ میں لپٹی ممتا ۔ آسیہ راشد

کال کوٹھڑی کا دروازہ لوہے کی زنجیروں سے بند تھا، اور اندر شمائلہ زمین پر بیٹھی اپنی انگلیوں سے مٹی پر لکیریں کھینچ رہی تھی۔
ہر لکیر جیسے اُس کی زندگی کا وہ موڑ ہو، جو غلط سمت مڑ گیا۔حسرت اور پچھتاوے میں جلتے کردارکی کہانیدھوپ چھن چھن کر جیل کے زنگ آلود جنگلے سے اندر آ رہی تھی۔ کوٹ لکھپت جیل کی دیواریں سرمئی پتھروں کی خاموش داستان تھیں۔ ہر اینٹ جیسے کسی قیدی کا راز اپنے سینے میں لیے بیٹھی ہو۔ دیواروں پر وقت کے ناخنوں سے کندہ کیے گئے نام، تاریخیں، اور دل ٹوٹنے کی صدائیں، ہر گوشہ اداسی اور پچھتاوے کا ماتم کر رہا تھا۔
صبح کے وقت جب جیل کے لان میں قیدیوں کو باہر نکالا جاتا، تو کچھ چہروں پر سکون کی جھلک ہوتی، جیسے وہ دنیا کے ہنگاموں سے دور اپنی بخشش کی تلاش میں ہوں، اور کچھ چہرے ان گنت سوالوں میں گم، جو شاید اب کسی کے پاس جواب نہیں رکھتے تھے۔
اسی خاموشی میں، ایک دن جب ہم اپنے میڈیکل کیمپ کے ساتھ جیل کے دورے پر تھے، میری نگاہ ایک عورت پر پڑی۔ سر پر سفید چادر، آنکھوں میں نیند کی تھکن اور دل میں جیسے کوئی گہرا راز۔ اُس کا نام…

مزید پڑھیں

کتنا کچھ ہے! ۔ قانتہ رابعہ

یہ سعیدالزماں زبیری کا گھر تھا۔
گھر کے افراد اور طور طریقے وہی جو دوسرے لوگوں کے ہوتے ہیں ۔بس ایک فرق تھا۔چھٹی کے دن سب لوگوں کا صبح ناشتے کے لیے کھانے کی میز پر دکھائی دینا ضروری تھا۔
گو ناشتہ میں وہ سب کچھ موجود ہوتا جو گھر والوں کو دوپہر کے کھانے میں بھی چاہیےہوتا اور اس ناشتہ بمع ظہرانہ جسے آج کل کی بگڑی زبان میں برنچ کہا جاتا ہے ،میں ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے تمام لوازمات موجود ہوتے۔ساڑھے گیارہ سے ساڑھے بارہ بجے تک میز پر کھانے ناشتے اور باتوں کی مجلس منعقد ہوتی۔کھانے والے کرسیوں سے اتر کر صوفوں پر نیم دراز ہوجاتے اور گفتگو کا بہتا دریا کم از کم دو تین گھنٹے تک بہتا رہتا۔
بچوں بڑوں سب کا اس میں شامل ہونا لازم تھا۔ ذاتی اور گھریلو حالات سے ہوتے ہوئے خاندانی مسائل ملکی مقامی اور بین الاقوامی سیاست تک گفتگو کا موضوع بنتی ۔
زنانہ مسائل ہوں یا مردانہ سب ایک سی دلچسپی لیتے، مشورے دیتے اور جب مجلس برخواست ہوتی تو پورے ہفتے کے واقعات کا خلاصہ اور اگلے ہفتے کے معاملات کی بھرپور منصوبہ بندی ہوچکی ہوتی ۔
بظاہر یہ ایک ہی مجلس ہوتی لیکن اس کے کچھ شعوری اور کچھ…

مزید پڑھیں

آغوش ۔ اوّاب شاکر

باورچی خانے میں چولہے پر ہانڈی چڑھاتے ہوئے کچھ خیال آنے پر ثمینہ نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔
ہائیں !مُنا کہاں گیا؟
دل میں یک دم کسی انجانے سے وسوسے نے سر اٹھایا۔ ابھی تو ادھر ہی تھا ، جو گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے باورچی خانے کے دروازے پر آکر کچھ دیر پہلے اماں ، اماں پکارنے لگا تھا ۔ محبت سے پسیجے دل کے ساتھ ثمینہ نے سب کام چھوڑ کر اسے سینے سے لگا کر بہت پیار کیا ، پھر اسی دم فون کی گھنٹی بجنے پر وہ منے کو گود میں لیے اپنی بہن رافعہ کی کال سننے لگی تھی ۔ وہاں سے فارغ ہو کر پھر نہ جانے منے کو اس نے کہاں بٹھایا تھا؟
اور اب ….دل سخت فکر مند ہو گیا ۔ چولہے کی آنچ ہلکی کر کے وہ باورچی خانے سے نکل کر برآمدے میں آئی کہ شاید وہیں منے میاں اپنے لاڈلے کھلونے لیے کھیلنے میں مگن ہوں ، مگر منایہاں بھی نہیں تھا ۔ سارے بدن میں پریشانی کی سرد سی لہر دوڑ گئی ۔ اس نے سر پہ دوپٹے کو سیدھا کیا اور تیز قدموں سے سونے والے کمرے میں آئی۔
’’ منا! میری جان منا !‘‘
ممتا کی محبت میں ڈوبی ہوئی آواز…

مزید پڑھیں

ناسمجھ ۔ شہلا خضر

’’کتنے بورنگ ہیں آپ ۔پورا چھٹی کا دن سو کر برباد کر دیتے ہیں ۔ دوپہر کے کھانے پرسب انتظار کر رہے ہیں اورمسٹر جان عالم کی تو ابھی صبح ہی نہیں ہوئی ‘‘۔
مہک گھر کے سب کام نمٹا کر کمرے میں داخل ہوئی اور اپنے شوہر جان عالم کو بے فکری سے سوتا دیکھا تو اسے بہت جھنجھلاہٹ ہوئی۔ انہیں جگاتے ہوئے اس کا لہجہ شکوہ بھرا تھا۔
’’مجھے ایک ہی دن چھٹی کا ملتا ہے میڈم کبھی میرے بارے میں بھی سوچ لیا کریں‘‘۔
جان عالم کو خواب خرگوش کے درمیان اپنی بیگم کی یوں اچانک در اندازی بالکل پسند نہ آئی ۔انہوں نے چادر کھینچ کر منہ پر تان لی ۔
’’ واہ بھئی کیا بات ہے …..آپ کو تو ایک چھٹی کا دن مل ہی جاتا ہے آرام کے لیے ہمیں تووہ بھی نصیب نہیں ۔صبح سے باورچی خانے میں کھڑی آپ کی پسند کے پکوان پکا رہی ہوںاورآپ کو احساس ہی نہیں‘‘۔
مہک کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو چھلک گئے۔
’’اوفوہ اب رونا دھونا مت شروع کردینا…..تم جانتی ہو کہ مجھے یہ فلمی ادائیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں‘‘جان عالم نے چادر منہ سے ہٹا کر رکھائی سے کہا ۔
’’یہی بات طریقےسے بھی توکی جاسکتی تھی کہ بیگم میں تمہاری…

مزید پڑھیں

کلوننگ کی پیداوار ۔ محمد حامد سراج

اس کے گھر میں آٹا ختم ہو گیا تھا۔
ماں کے کہنے پر وہ دس روپے کا ایک کلو آٹا خرید لایا ۔
یہ کوئی نئی بات نہیں تھی ۔ مہینے کا منیاری کی دکان سے ادھار سودا سلف لانا گھر کے معمولات میں شامل تھا۔
کبھی کبھار اس کے باپ کی دکاندار سے چخ چخ ہو جاتی تو اس کا خون کھولنے لگتا۔ اسے لگتا تھا اس گھر سے عزتِ نفس کا جنازہ نکل گیا ہے ۔ بیروز گار ی نے سب کے مزاج چڑ چڑے کر دیے تھے ۔ بیروز گاری جو پورے ملک میں بال بکھرائے آوارہ گھوم رہی تھی اور کوئی پر سانِ حال نہیں تھا۔
اب تواس نے تنگ آکر اخبار میں آسامیوں کے اشتہار پڑھنے بھی ترک کر دیے تھے ۔ماں جس کے قدموں میں جنت تھی ایک دن اس کے اسرار پر اس نے پھر درخواست دے ڈالی ۔ حالانکہ اسے معلوم تھا کہ نتیجہ کیا نکلنا ہے ۔
ایک لمبی قطار تھی۔
آٹا خریدنے والوں کی نہیں بلکہ نوکری کی تلاش میں سرگرد ا ںایسے امیدواروں کی جن کے چہروں پر یرقان نے بسیرا کیا تھا ۔ ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے میٹرک کا امتحان سائنس کے ساتھ پاس کرنے کے بعد ستر روپے دہاڑی پر…

مزید پڑھیں

دل وہیں رہ گیا ۔ قانتہ رابع

حرم میں مسائل اور طوفان برق و باراں
کچھ نہ پوچھیں ! حرم میں طواف سے فراغت کے بعد کسی اچھی سی جگہ پر بیٹھنا….ایسی جگہ جہاں سے رب کعبہ کا گھر ہر مومن کے دل کی دھڑکن سامنے نظر آئے۔وہاں بیٹھ کر نوافل اور تلاوت قرآن کی سعادت حاصل کرنے سے بڑی عیاشی کوئی نہیں ہوسکتی۔ڈھونڈ ڈھانڈ کر جب ایسی جگہ ملتی قبضہ گروپ بن کر وہاں پر جائے نماز بچھا کر پائوں پسارے جاتے۔ کچھ نوافل اور تلاوت کے بعد کمر سیدھی کرنے کی نیت باندھ رہے ہوتے تو۔
’’ حجے….حجے‘‘ کی صدا شروع ہو جاتی ۔
خدائی فوجدار بن کر شرطے آتے اور وہ جگہ خالی کروا لیتے۔ جب جگہ خالی کروالی جاتی تودوسری جگہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے کافی وقت گزرتا۔ کسی کونے کھدرے میں گھس کر جگہ بنتی اپنے آپ کو یکسو کیا جاتاپھر وہی پکار۔
’’یلا حجا….حجا….طریق طریق….‘‘
’’حجے….حجے…. قم حجے….‘‘
چلو جی حرم میں تو مہاجرت ہی جاری رہتی۔
ہاں مقامی عرب عورتیں بہت سیانی تھیں۔ وہ داخل ہوتے ہی ناک کی سیدھ میں سب سے اوپر والے پورشن میں جاتیں۔نرم قالین ٹھنڈا زمزم اور اے سی کی یخ ہوا میں آرام سے تشریف فرما ہوتیں۔اپنے ساتھ لائے خوردونوش کے سامان میں سے وہ قہوے کا تھرماس نکالتیں، خود بھی پیتیں اور…

مزید پڑھیں

پانیوں پہ دوسرا سفر ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

آج ستمبر کی سترہ تاریخ اور جمعۃ المبارک تھا۔ طلوع آفتاب آٹھ بج کر دو منٹ پہ ہوا۔کوسٹا پیسیفیکا کا پڑاؤ سپین کے ساحلی شہر مالاگا پہ تھا۔ گزشتہ سفر قرطبہ میں مالہ گا کا نام بہت سنا تھا اور یہ کہ وہ بہت خوبصورت شہر ہے۔
عربی میں اس کا نام مالقہ ہے۔ اسپین میں ناموں کے تلفظ، ہجے بدلنے سے انسان کی درست سمت رسائی مشکل ہو جاتی ہے ،جیسے مالقہ اور مالہ گا میں فرق ہے۔ عرب اندلس کے اس علاقے کو جنت نظیر کہتے تھے۔غرناطہ بھی یہاں سے قریب ہے جہاں مسلم حکمرانوں نے الحمراتعمیر کیا۔ اس کی تعمیر اور گرد و نواح کا ماحول جنت کی یاد دلاتا ہے جس کی تفصیل پہلے سفرنامے میں آچکی ہے۔
پرانے شہروں کے عربی ناموں کی جگہ مختلف ہجوں اور آوازوں والے ناموں مثلاً قرطبہ کو Cordoba، غرناطہ کو Granada اور اشبیلیہ کو سیوِیئل Seville یا سیویّہ پڑھنا اور بولنا کوئی آسان کام نہیں۔
بس کے ذریعے ہم مالہ گا پہنچے۔ مسافروں کے ساتھ ایک گائیڈ بھی تھا جو ہمیں Alcazaba (القصبہ) قلعہ پہ لے گیا۔ القصبہ ایسی مضافاتی جگہ کو کہتے تھے جہاں حاکم کی ذاتی دلچسپی کا سامان اور محفوظ مقام سمجھا جاتا تھا جیسے ہمارے ہاں hill station…

مزید پڑھیں

حضرت تمیمؓ الداری کی زمین ۔ سیدہ ثمینہ گل

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معجزاتی زندگی کو پڑھ کر ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ کہیں سراقہ بن جعثم کو بے سروسامانی کی حالت میں کسریٰ کے کنگن پہنانے کی خوشخبری دی جاتی ہے ۔ عرب وعجم کی فتوحات کی اس وقت خوشخبری دی جاتی جب مسلمان مکہ میں بے وقعت سمجھے جاتے تھے ۔ جب میں نے ڈاکٹر تصور اسلم صاحب کی کتاب ’اہل وفا کی بستی‘سے یہ ایمان افروز واقعہ پڑھا تو ایمان اور تازہ ہوگیا ۔ کیا بات میرے نبی ؐمہربان کی ۔ آپ بھی پڑھیں ، لاکھوں درود اور لاکھوں سلام میرے نبیؐ مہربان پر۔
واقعہ یوں ہے کہ 631ء میں ایک دن جب سب صحابہؓ کرام رسول اکرم ؐ کی مجلس میں شریک تھے تو حضرت تمیم الداریؓ نے اٹھ کر گزارش کی کہ انہیں فلسطین کے اس حصے کی عملداری دے دی جائے جہاں ان کا قبیلہ آباد تھا۔ حالانکہ اس وقت سارا فلسطین رومیوں کے قبضے میں تھا اور رومی اس وقت دنیا کی سب بڑی طاقت تھے۔عرب کے اس دور دراز علاقے میں صحرا نشین بدؤں کی اس محفل میں کوئی دیوانہ ہی ایسی خواہش کر سکتا تھااور نہ ہی کوئی فرزانہ یہ تصور کر سکتا تھا کہ رومیوں کی…

مزید پڑھیں

سنجیدہ لوگوں کی ظرافت ۔ حبیب الرحمٰن

ہر شخصیت اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔عام لوگ کوئی شگفتہ بات کریں ، ان کی بات پر بے اختیار ہنسی نہ بھی آئے تو لبوں پر مسکراہٹ کا بکھر جانا فطری سی بات ہے۔ لیکن علمائے کرام یا فقہائے دین کی محفل میں کوئی لطیف بات سننے کو ملے تو ان کی باتوں پر حیرت تو ضرور ہوتی ہے کہ اتنی متانت والے بھی ایسی بات کہہ کر محفل کو کشتِ زعفران بنا سکتے ہیں اور نہایت شستگی و شائستگی کے ساتھ لوگوں کےلیے خندہ لبی کا سامان مہیا کر سکتے ہیں۔سنجیدگی بے شک ایک بہت اچھی حکمت ہے لیکن کسی انسان کو اتنا سنجیدہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ سننے والے مسکرابھی نہ سکیں۔
ایک زمانہ تھا کہ گلی گلی محلوں محلوں عید میلادالنبی ؐکے جلسوں کا انعقاد ہؤا کرتا تھا۔ مجھے احتشام الحق تھانوی کے جلسوں میں ان کا خطاب سننا بہت بھلا لگا کرتا تھا۔ ایک جلسے میں کوئی نکتے کی بات سمجھانے کےلیے انھوں نے ایک واقعہ کچھ اس طرح سنایا کہ حاضرینِ جلسہ بہت محظوظ ہوئے۔ فرمانے لگے کہ ایک رنگروٹ کو چھٹی ملی تو وہ اپنے گھر کی جانب روانہ ہؤا۔ بس سے اتر کر جہاں سے گھر کی جانب سفر کا آغاز کیا وہاں…

مزید پڑھیں

نمل کتاب میلہ ۔ ڈاکٹر میمونہ حمزہ

موسمِ بہار کے ساتھ ہی رنگا رنگ میلوں کا آغاز ہو گیا۔ کہیں جشنِ بہاراں تو کہیں پھولوںکی نمائش، کہیں میلہ مویشیاں اور کہیں ثقافتی جشن اور میلے۔ ہم میلوں ٹھیلوں سے دور پر امن دنیا کے مسافر ہیں مگر ’’نمل کتاب میلہ‘‘ نے ہمیں نہ صرف متوجہ کیا بلکہ اس میں شرکت کی خواہش بھی دلِ ناتواں میں انگڑائیاں لینے لگی۔ ’’پریس فار پیس ‘‘نے ہمیں اس کی اطلاع دی تو ہم نے جھٹ ’’ادارہ بتول‘‘ کے بورڈ کے گروپ میں بھیج دی۔ کچھ عرصہ قبل ہی ہمیں ادارہ بتول کا ممبر بنایا گیا ہے، اگر چہ قلم اور بتول کا رشتہ تقریباً ایک دہائی پرانا ہے۔اور اس رشتے کے بعد بتول کچھ اور بھی اپنا لگنے لگا ہے۔
نمل کتاب میلہ ۲۱ تا ۲۴ اپریل تھا۔ ہماری خواہش تھی کہ پہلے ہی دن وہاں پہنچیں اور ہر روز حاضر ہوں لیکن ہماری ذمہ داریوں اور مسائل نے پہلے دو روز ہمیں مفلوج رکھا۔ ۲۲ اپریل کو پریس فار پیس نے مدعو کیا اور کتب اجراء کی محفل کا حصّہ بنانا چاہا ، تو ہم وہاں بھی نہ جا سکے۔ کتاب میلے تک پہنچنا ایک دشوار عمل محسوس ہو رہا تھا کہ ہم نے بورڈ کی دوسری اسلام آبادی ممبر…

مزید پڑھیں

خوش رہنا ایک فن ۔ شائستہ علی

ہر انسان کسی نہ کسی وقت اداسی اور پریشانی کا شکار ہو سکتا ہے ڈپریشن دماغ میں ہونے والے کیمیائی ردو بدل سے ہوتا ہے ، اس لیے اس حالت سے نجات پانے کے لیے دماغ کا استعمال ضروری ہے خوشی دماغ کی ایک حالت ہی کا نام ہے اور اپنے دماغ کو اداسی سے نجات دلوا کر خوشی کی حالت میں لے آنا ایک فن ہے ۔ ہر ایک انسان کوشش کر کے یہ فن سیکھ سکتا ہے اور ایک خوشگوار اور مکمل زندگی گزار سکتا ہے۔ میرے بڑے اکثر کہا کرتے تھے ’’ لوگوں کو خوشی دے کر ہی حقیقی خوشی مل سکتی ہے ‘‘۔
میں نے اپنی روز مرہ کی زندگی میں ان کو یہ عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے اور اس کی وجہ سے ماشاء اللہ وہ بہت پر سکون اور بہت خوش رہتے ہیں۔
ہم لوگوں کو کیسے خوشی دے سکتے ہیں ؟
دو بول تسلی کے اور پیارکے کسی ضرورت مند کی مدد ، کسی حقدار کو اس کا حق دلوانا ، دوستوں کے ساتھ ایک خوشگوار لمحہ ، یہ سب عمل لوگوں کو خوشی دینے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی خوشی دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز جو کہ بہت ضروری ہے وہ دل…

مزید پڑھیں

چنری گاؤں ۔ مہ جبیں عابد

بہاولپور کے نزدیک عباس نگر گاؤں ’چنری گاؤں‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں کی بنی ہوئی رنگ برنگی چنریاں نہ صرف بہاولپور بلکہ پوری دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔
چولستان میں چنری کا خاص مقام ہے اور شادی بیاہ میں جہیز اس کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
امیر مائی بچپن سے ہی خوبصورت چنریاں بناتی آئی ہیں جو اس کے علاقے کی خواتین خاص مواقعوں پر خریدتی اور اوڑھتی ہیں۔ انہوں نے 11 سال کی عمر میں اپنی نانی اور والدہ سے اس فن کو سیکھا اور پھر اپنی اولاد کو سکھایا۔وہ بتاتی ہیں کہ ان کی نانی اور والدہ چنریاں بنا کر بھارت تک لے کر جاتی تھیں بیچنے کے لیے۔انہوں نے کہا:’پہلے صرف چولستان کی خواتین ہی اس کو پہنتی تھیں لیکن اب بہاولپور کی چنریوں کی پوری دنیا میں مانگ ہے۔‘
55 سالہ امیر مائی کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان صدیوں سے اس فن سے منسلک ہے اور انہوں نے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ پورے عباس نگر کو یہ فن سیکھایا ہے اور اب تقریباً پورا گاؤں اس کام سے منسلک ہے۔
امیر مائی کا کہنا تھا: ’یہ کام مشکل اور محنت طلب ہے۔ سب سے پہلے ہم کپڑا لیتے ہیں، اگر…

مزید پڑھیں

بتول میگزین ۔ رخسانہ شکیل

قربانی مادی اشیا میں اہم چیزیں وقت دولت مال ومتاع جسمانی صلاحیتیں اور زندگی شامل ہیں ۔مجرد اشیا میں اہم چیزیں رشتے ناطے خاندانی تعلقات ذاتی پسند نا پسند خیالات ترجیحات نقطہ نظر آرزوئیں تمنائیں آرام و راحت انا اور خود پسندی شامل ہیں۔
ہم اپنی محبوب اور قابل قدر اشیاء سے صرف انہی چیزوں کے لیے دستبردار ہو سکتے ہیں جو ہمیں ان سے زیادہ محبوب ہو ں،ان کی ہماری نظر میں قدر و قیمت بھی زیادہ ہو۔ وقت دولت زندگی اور اس طرح کی دوسری دیگر چیزیں قربان کرنا کوئی شک نہیں بڑا دشوار گزار کام ہے۔ ایسی قربانیوں کی ضرورت بالعموم کسی بحران یا آزمائش کے وقت پیش آتی ہے۔ مصیبت اور آزمائش کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جو انسان کے جذبات کو تحریک دے کر اس کی بہترین چیزیں باہر نکلواتی ہیں۔ ایسی قربانیاں ذاتی نوعیت کی قربانیاں ہوتی ہیں اپنی مرضی سے دی جاتی ہیں، ان قربانیوں سے باہمی تعلقات کا پیچیدہ جال نہیں الجھتا۔
اس کے برعکس مادی چیزوں کے مقابلے میں مجرد اشیا کی قربانی دینا زیادہ دشوار ہے۔ اکثر اوقات ان قربانیوں کو قربانی سمجھا ہی نہیں جاتا۔ ان قربانیوں کو صرف نظر کرنے اور نظر انداز کرنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔…

مزید پڑھیں

محشرِ خیال ۔ پروفیسر خواجہ مسعود

’’ چمن بتول‘‘ شمارہ اپریل 2025 گلاب کے حسین پھولوں سے مزین ٹائٹل موسم بہار کی نوید سنا رہا ہے ۔
’’ ابتدا تیرے نام سے ‘‘ اپنے اداریہ کے آغاز میں مدیرہ محترمہ ڈاکٹر صائمہ اسما نے بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر بے لاگ تبصرہ کیا ہے اور زوردیا ہے کہ اس صوبے کے عوام کے احساسِ محرومی کودور کرکے اور بلوچستان کو خوشحالی سے ہمکنار کر کے ہی اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے ۔ دشمن ممالک اس صورتِ حال کو بگاڑنے میں پیش پیش ہیں ۔
آگے چل کے آپ نے غزہ کی صورتِ حال پر تبصرہ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور جارحیت فلسطینیوں کے جذبہ حریت کو نہیں کچل سکی بلکہ اس میں اب اور جان پڑ گئی ہے ۔فلسطینی اپنی سرزمین کی آزادی اور ناموس کے لیے کٹ مرنے کو تیار ہیں۔
’’ اہمیت اور مقاصد لباس‘‘( شگفتہ عمر صاحبہ کا مضمون ) آپ نے واضح کیا ہے کہ لباس انسان کی سماجی اور معاشی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انسان کا طرز لباس اس کے رویوں اور طرزِ زندگی کا بھی غماز ہوتا ہے لباس ستر پوشی ، موسمی اثرات سے بچائو اور زینت…

مزید پڑھیں

شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا ۔ حامد میر

بہت کم پاکستانیوں کو یاد رہ گیا ہے کہ 1964ء میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی گئی تھی اور مشرقی و مغربی پاکستان سے جماعت کی مجلس شوریٰ و عاملہ کے پچاس ارکان کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ جنرل ایوب خان کی حکومت نے گرفتار ارکان کے خلاف ایک چھ نکاتی چارج شیٹ تیار کی جس میں کہاگیا کہ جماعت اسلامی قیام پاکستان کے خلاف تھی، یہ کہ جماعت ِ اسلامی سرکاری ملازمین اور مزدوروں کی حمایت سے حکومت پر قبضہ کرکے پاکستان میں فسطائی نظام قائم کرنا چاہتی ہے، یہ کہ جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم تعلیمی اداروں میں بدامنی اور فسادات پھیلا رہی ہے، یہ کہ ماہنامہ ترجمان القرآن اکتوبر 1963ء میں ایران کے شاہی خاندان پر حملہ کرکے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کی اور یہ کہ جماعت اسلامی مسلح افواج میں بے اطمینانی پھیلا رہی ہے۔
مولانا مودودی سمیت جن ارکان نے بہت تفصیل سے اس چارج شیٹ کا عدالت میں جواب دیا ان میں پروفیسر خورشید احمد بھی شامل تھے۔ انہوںنے اپنی کتاب ’’تذکرۂِ زنداں‘‘ میں اس کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ مولانا گلزار احمد مظاہری کی جیل کہانی میں بھی پروفیسر خورشیداحمد کے بیان کا تفصیلی ذکر ہے کیونکہ…

مزید پڑھیں

کامیاب ہونا سیکھیے ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

مطلوبہ دنیاوی معیار تک پہنچ جانے والے آخر کار خود کو کامیاب کیوں نہیں گردانتے؟ خود کشی کرنے
والوں میں کامیاب، خوشحال اوردنیاوی ہدف پورا کر لینے والے لوگ کیوں شامل ہوتے ہیں؟

زندگی کا حقیقی حسن اپنے مقرر کردہ نصب العین میں کامیاب ہونا ہے۔ اپنے مقصد میں کامیابی کا احساس انسانی عقل کو بہتر سے بہترین کے راستے پہ گامزن رکھنے کے لیے کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ سچی خوشی کا راز بھی مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں مضمر ہے۔
نصب العین، ہدف یا مطلوبہ معیار انسان کی شخصیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اور یہ شخصیت موروثی اثرات کے تحت بھی ہوتی ہے اور اس میں دنیا میں آنے کے بعد معاشرتی ماحول، معاشی حالات و واقعات کے تغیروتبدل کے بھی اثرات ہوتے ہیں۔ تعلیم و تربیت بھی نصب العین متعین کرنے میں خصوصی کردار ادا کرتی ہے۔
دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کی تگ ودو میں لامحالہ مصروف ہوتا ہے۔ یہ چند منٹ سے لے کر سالوں بلکہ پوری زندگی پہ محیط وہ سفر ہے جو دائرہ در دائرہ جاری رہتا ہے۔ پچھلا دائرہ ختم ہوتا ہے تو اک نیا دائرہ بن چکا ہوتا ہے۔
چند منٹ ہوں یا برسوں کی دہائیاں انسان کو کسی بھی صورت…

مزید پڑھیں

قندیل اک امید کی!

اجڑی ہوئی سی عمر رواں کاٹتا ہؤا
اِک روز بے ارادہ کسی راہ گزار میں
بیٹھا ہؤا تھا اوڑھ کر اُس بے بسی کو میں
جس کا تھا بوجھ یوں کہ مہ و سال کا سفر
دشوار ہی رہا کبھی آساں نہیں ہؤا
قندیل اک امید کی اس روز ایک دم
اِس شان سے جلی مری تاریک راہ میں
صدیوں کے دھندلکوں کا انجام ہوگیا
اب شامِ غم سے روشنیِ صبح کا سفر
گویا بہت مرے لیے آسان ہوگیا

مزید پڑھیں