ڈاکٹر مریم فاروقی

انوکھے حکمران سیّدناحضرت ابوبکرصدیقؓ ۔ مریم فاروقی

سیدنا ابو بکر ؓ ان خلفاء کے سرخیل ہیں جن کی پیروی کا رسول پاکؐ نے حکم دیا ہے ۔آپ ؐنے فرمایا ہے’’ میری سنت اور خلفائے راشدین کے طریقے کو تھامے رکھو ‘‘۔
حضرت ابو بکر ؓ صدیقین کے سردار انبیاء کرام کے بعد افضل ترین فرد ہیں ۔ رسول پاک ؐ نے فرمایا’’ اگرمیں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر ؓ کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور ساتھی ہیں۔ اور ایک جگہ یہ بھی فرمایامیرے بعد ان دو شخصیات کی پیروی کرنا عمر ؓ اور ابو بکر ؓ۔ حضرت عمر ؓ کہتے تھے آپؐ ہمارے سردار ، ہم میں سے بہتر اوررسول پاک ؐ کو سب سے زیادہ عزیز ہیں۔ حضرت علی ؓ سے ان کے بیٹے محمد حنیفہ نے پوچھا ’’رسول اللہ ؐ کے بعد سب سے افضل کون ہے ؟‘‘
سیدناعلی ؓ نے جواب دیا ’’ ابو بکرؓ‘‘۔
کافروں کے سردار ابن الاغنہ کا بیان ہے کہ ’’ آپ محتاج لوگوں کی ضرورت پوری کرتے ہیں ۔ صلہ رحمی کرتے ہیں، درماندہ اور غریب لوگوں کے قرض اوردوسرے بوجھ اپنے سر لے لیتے ہیں اور حق کی راہ میں پیش آئے مصائب میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں‘‘۔
یہ تھے حضرت ابو بکرؓ جو ہمارے…

مزید پڑھیں

معیار – مریم فاروقی

ہماری بہت اچھی دوست نوید ہ باجی ہیں ۔ ان سے13،14 سال پرانا تعلق ہو گیا ہے ۔ قرآن کے درس کے حوالے سے دوستی بنی تھی ابھی تک چلی آتی ہے۔پہلے تو پڑوسی تھے ہمارے گھر سے کچھ گھر چھوڑ کے ، اب دو ر چلے گئے ہیں ۔ لیکن اتنے دور ہی گئے ہیں کہ ہفتے چار ہفتے بعد ملاقات ہوجاتی ہے۔
انہوں نے اپنی بیٹیوں کو درمیانہ ماحول دیا ہے ۔نہ بہت دینی نا زیا دہ دنیاوی ۔میاں زبان کے تیز ہیں ویسے مزاج کے درمیانہ ہیںنہ غصیل نہ نرم مزاج!
پہلے انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی کی شادی کی اٹھارہ سال کی عمر میں کیونکہ پھپھو کی طرف سے رشتہ آیا اورجلدی کا تقاضا بھی۔ میںنے دیکھا ہے کہ چھوٹی بیٹیوں کی پہلے شادی سے یہ ہوتا ہے کہ ان کو راہنمائی کے حوالے سے سمجھ نہیں آتی، کون ان کی دوست بن کر ہم دردی سے سسرالی معاملات سمجھائے ، ان کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں کو سلجھائے اور شادی کے بعد وہی پیار کرنے والی پھپھو اوران کی اولاد کسی اور ہی نظر سے دیکھتے ہیں اور محبت کی بجائے تنقیدی نظر بھی ہو جاتی ہے ۔ تو پھر سمجھ نہیں آتی کہ کیسے اپنی بات بتائی…

مزید پڑھیں

مجھے یاد ہے سب ذرا – نور مارچ ۲۰۲۱

ہم اپنے بڑے نانا جان کو ملنے گئے ان کا نام ڈاکٹر محمد احمد ہے ۔ باتیں کرتے کرتے کہنے لگے ہم امرتسر رہتے تھے وہاں ہمارے تین گھر تھے ایک مہمان خانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا ایک رہائش کے طور پر اور ایک جانوروں کے باڑے کے طور پر ۔ اپنے علاقے کے بارے میں قیام پاکستان کے دنوں میں ہم یہی سن رہے تھے کہ یہ علاقے پاکستان میں شامل ہو ں گے لیکن بعد میں حالات ایسے بن گئے کہ پتہ چلا کہ پاکستان کو یہ علاقے نہیں ملنے ۔ میں نے ان دنوں میٹرک کیا تھا ۔ لڑکوں سے اور دوسرے لوگوں سے ملتا جلتا تھا چناں چہ حالات سے آگاہ تھا۔ ابا جان کی سوچ تھی کہ ہم پاکستان نہیں جائیں گے ۔ مگر میں ادھر اُدھر کی خبریںسن سن کر پاکستان جانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو رہا تھا اور ابا جان سے چوری چوری قیمتی سامان کی گٹھڑیاں بنا رہا تھا اور چاہتا تھا کہ امی جان اور بہن بھائی کم از کم ضروری سامان تو ساتھ لے جانے کے لیے تیار کر لیں ، ابا جان کو بعد میں منا لیں گے ۔ لیکن ابا جان کسی کام…

مزید پڑھیں