بتول اپریل ۲۰۲۱

امیر بریانی ، غریب بریانی-بتول اپریل ۲۰۲۱

ہم لوگ گورنمنٹ کے جی او آر ون کے گھر میں رہتے تھے۔ عمارت تو اندر سے اتنی ہی تھی جتنی ایک کنال گھر کی ہوتی ہے مگر آگے پیچھے بہت بڑے بڑے باغ تھے پھر دیوار اورگیٹ ۔گھنٹی بجتی تو گھر کے اندر سے نکل کر کافی چل کر گیٹ تک جانا پڑتا ۔ پچھلے پہر تو بچے اور بڑے گھر آجاتے تو گھنٹی سن کر کوئی نہ کوئی باہر چلا جاتا مگر صبح کے وقت مشکل ہو جاتا کیونکہ سب چلے گئے ہوتے ۔ میں نے ڈرائیور سے کہا کہ اب جب آزاد کشمیر چھٹی پر جائو گے تو کوئی چھوٹا لڑکا لے آنا جو گھنٹیاں سننے باہر جائے ۔
ڈرائیور جب چھٹی گزار کر واپس آیا تو اُس کے ساتھ ایک گیارہ بارہ سال کا لڑکا تھا ۔
’’ یہ لڑکا میںلایا ہوں یتیم بچہ ہے نام جاوید ہے حادثہ میں ماں باپ دونوں فوت ہو گئے تھے ۔ پہلے تو چچا نے اس کو اور اس کی تین بہنوں کو رکھا پھر بیوی نے جھگڑا شروع کر دیا کہ میں اپنوں کو پالوں یا ان چار کو ‘‘۔ اس کے چچا نے مجھے دیا کہ اس کو لاہور لے جائو کہیں نوکر کرا دو جب یہ پیسے بھیجے…

مزید پڑھیں

دولے شاہ کے چوہے -بتول اپریل ۲۰۲۱

’’سچ سچ بتائو ایمن کیا واقعی تمہاری ساس، نندیں اچھی ہیں ؟‘‘ سارہ امتیاز نے اپنی دوست اور کزن ایمن سے سوال کیا۔
’’ہاں بہت سوں سے تو اچھی ہی ہیں ‘‘۔ایمن نے جواب دیا ۔
’’ تمہیں تنگ تو نہیں کرتیں ؟اصل میں تمہاری شادی میں تمہاری ساس راضی نہیں تھیں اپنی بھانجی کو لانا چاہتی تھیں ، اس لیے پوچھا ہے‘‘۔ سارہ نے اپنی کزن کو وضاحت کی۔
’’ تنگ تو ہم میں سے ہر کوئی ہر کسی کو اپنے اپنے ظرف کے مطابق کرتا ہے ۔ پتہ نہیں میں انہیں کتنا تنگ کرتی ہوں گی ۔ دو مختلف مزاج کے لوگ ایک جگہ پر رہنا شروع کردیں تو ایک دوسرے کو سمجھنے میں دیر تو لگتی ہے ‘‘۔ ایمن نے بہت جلد پریشان ہو جانے والی چچا زاد بہن سارہ کوتسلی دی جس کی شادی کومحض دو ماہ تین دن ہوئے تھے ۔ اب بھی اس کے چہرے پر بہت سی داستانیں تحریر تھیں اور ایمن اسے بخوبی سمجھ رہی تھی۔
’’ اصل میں میری شادی ہوئی تو اپنوں میں ہی ہے مگر دورپار کی رشتہ داری ہے نا تو مجھے بہت سے مسائل ہیں کیا تمہاری ساس تمہیں کھانا پکانے میں بھی تنگ کرتی ہیں جیسے مجھے … سر پر…

مزید پڑھیں

دعا عبادت ہے-بتول اپریل ۲۰۲۱

نبی ﷺ نے فرمایااللہ کے ہاں دعا سے بڑھ کر با عزت کوئی چیز نہیں (ترمذی)۔
ہر نیکی اپنی جگہ اہم ہے ، ہر نیک کام اور اچھا عمل اللہ کی نگاہ میں مقبول ہے وہ اس کا اجردے گا ۔ لیکن سب سے زیادہ با عزت اور قابل احترام عمل صرف ’’ دعا ‘‘ ہے دعا کے معنی ہیں پکارنا ، عاجزی سے مانگنا ، مدد چاہنا ، مصیبت کو دُور کرنے اورحاجت روائی کے لیے التجا کرنا ، بیماری ، افلاس اور تکلیف سے نجات حاصل کرنے کے لیے درخواست کرنا ۔
مطلب یہ ہے کہ جسمانی اور روحانی آفتوں سے چھٹکارا پانے اور ہر طرح کی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لیے درخواست کرنے کا نام ’’دعا‘‘ ہے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس سے مانگیں ، اس کی بار گاہ عالی میں اپنی درخواستیں لے کر پہنچیں جب انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو یا کسی رنج اور مصیبت سے رہائی حاصل کرنا ہو تو اس کو پکاریں دینے کے لیے اس کے خزانے بلا حساب ہیں اور وہ کسی کو خالی نہیں لوٹاتا۔
دُعا بھی عبادت ہے
نبی ؐ نے فرمایا ۔ دعا عبادت ہے پھر آپؐ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی۔
’’تمہارا رب کہتا ہے…

مزید پڑھیں

فیصلہ انسان کا ہے -بتول اپریل ۲۰۲۱

قرآنِ مجید نے پہلے انسان کی تیاری کے لیے مٹی کی مختلف کیفیات کا ذکر کیا ہے۔ وہ أحسن تقویم اس وقت بنا جب خاکی پتلے میں روح پھونکی گئی۔
بطنِ مادر میں نظامِ ربوبیت کے محیر العقول کرشموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ باری تعالیٰ بچے کی حیاتیاتی تشکیل کے یہ تمام مرحلے ماں کے پیٹ میں تین پردوں کے اندر مکمل فرماتا ہے۔ یہ بچے کی حفاظت کا کس قدر خوشگوار اِہتمام ہے۔
اِرشادِ ربانی ہے (الزمر، 39: 6):
’’وہ تمہیں ماؤں کے پیٹ میں تاریکیوں کے تین پردوں کے اندر ایک حالت کے بعد دُوسری حالت میں مرحلہ وار تخلیق فرماتا ہے۔ یہی اللہ تمہارا ربّ (تدرِیجاً پرورش فرمانے والا) ہے۔ اُسی کی بادشاہی (اندر بھی اور باہر بھی) ہے۔ سو اُس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، پھر تم کہاں بہکے چلے جاتے ہو!‘‘
17ویں صدی عیسوی میں Leeuwen Hook نے خوردبین (microscope) اِیجاد کی۔ صاف ظاہر ہے اِس سے پہلے اندرونِ بطن اُن مخفی حقیقتوں کی صحیح سائنسی تعبیر کس کو معلوم ہو سکتی تھی! آج سائنس اُن پردوں کی حقیقت بھی منظرِ عام پر لے آئی ہے جس کی رُو سے اس امر کی تصدیق ہو چکی ہے کہ واقعی بطنِ مادر میں بچے کے…

مزید پڑھیں

جنگی قیدی کی آپ بیتی -بتول اپریل ۲۰۲۱

( قسط ۲ شمارہ مارچ میں آخری پیراگراف سے پہلے ایک پورا صفحہ میری غلطی کی وجہ سے کمپوز ہونے سے رہ گیاتھا، جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ مدیرہ صاحبہ نے اس کمی کو اپنی بہترین صلاحیت سے پُر بھی کردیاتھا مگر تشنگی باقی رہی لہٰذا اس کو آج کی قسط میں شامل کیاجارہا ہے۔ سید ابوالحسن)
میںان حالات میںبس ایک چیز کا منتظر تھا اور وہ تھی اللہ کی مدد، بار بار اس کی مدد مانگتا رہا۔ اتنے میں چند افراد میرے پاس آئے اور آکر بیٹھ گئے۔ ان میں سے ایک بنگالی بولنے والابھی تھا۔ مجھے ان سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور یوں لگا کہ میری دعائیں قبول ہوگئی ہیں۔ انھوںنے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ ہمیں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒنے آرمی کیمپ بھیجا تھا۔ وہاں سے اُن لوگوں نے اس مسجد میں آپ کی موجودگی کا ذکر کیا۔ ہم آپ کو لینے کے لیے آئے ہیں ۔ مسجد میں تین چار جیل کے اور ساتھی بھی تھے،انہوں نے ہمیں ساتھ چلنے کو کہا۔
سید مودودیؒ سے شرفِ ملاقات
چنانچہ ہم سب کو گاڑی میں بٹھا کر اچھرہ مولانا مودودیؒ کی رہائش گاہ کے قریب ۱۔ اے ذیلدار پارک لے جایا گیا۔ ہم نے جب ۱۔ اے ذیلدار…

مزید پڑھیں

محشر خیال -بتول اپریل ۲۰۲۱

افشاں نوید۔کراچی
مارچ کے پرمغز اداریے کے اختتام پر صائمہ کی اس معصوم خواہش نے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا کہ رسالہ پڑھ کر چند جملوں کے ذریعے قارئین اپنا فیڈ بیک دیا کریں۔ یقیناً اس محنت شاقہ کا حق ہے قاری پر کہ فیڈ بیک دیا جائے۔مزید بہتری کی گنجائش ہر جگہ موجود رہتی ہے سو،اپنے رسالے کو اپنی رائے سے مزید بہتر بنایا جائے۔
عبدالمتین صاحب نے خوشگوار زندگی کے لیے عملی ٹپس دیے، یہ باتیں بار بار دہرائی جانی چاہئیں۔ میمونہ حمزہ کی علمیت و عملیت کا قائل ہونا پڑتا ہے،ہر موضوع کا ماشاءاللہ حق ادا کردیتی ہیں۔امانت کا ہر جہت سے مفہوم بیان کر دیا۔ شمارے کا ’’خاص مضمون‘‘ واقعی بہت خاص ہے۔ یہ تو کسی پی ایچ ڈی مقالے کے لیے بہترین لوازمہ فراہم کرسکتا ہے۔ دجالی فتنوں کے اس دور میں اصطلاحات کو جس طرح redefine کیا جا رہا ہے یہ مضمون اسی کو آشکارا کر رہا ہے ۔مضمون ایک سے زیادہ بار پڑھ کر سمجھنے سے دلیل کی قوت مہیا کرے گا۔ڈاکٹر آسیہ شبیر اور صائمہ آپ کا شکریہ۔
’’گیسوئے اردو کو شانہ ملا‘‘میں صائمہ اسمانے تحریر کیا کہ ان لفظوں کی جڑیں اور مادے عربی مبین سے ہیں جس سے ہمیں اپنے نبی پاک…

مزید پڑھیں