بتول اپریل ۲۰۲۱

عورت بے چاری! -بتول اپریل ۲۰۲۱

’’کچھ عرصہ پہلے جب میں بے انتہا مصروفیت کے گرداب میں پھنسی کچھ لکھنے کے لیے سخت محنت کر رہی تھی ،میری ایک کولیگ نے مجھے تجویز دی کہ میں بڑے بڑے نامور تخلیق کاروں کے روز مرہ کے شیڈول کے بارے میں پڑھوں تاکہ اس کے مطابق اپنے اوقات کو ترتیب دے سکوں۔لیکن اس مشورے پر عمل کے بعدخلاف توقع میں بہت ناامید ہوئی کیونکہ ان تمام مشہور اور نابغہ روزگار شخصیات کے،جن میں اکثریت مرد حضرات تھے ،روزو شب ان کی نصف بہتر خواتین کے مرہون منت تھے ‘‘۔
معزز قارئین !یہ اس بلاگ کا ابتدائی حصہ ہے جو ڈیڑھ سال پہلے دی گارجین میں شائع ہؤا تھا جسے بریگیٹ شاولٹ نامی ایوارڈ یافتہ فیمنسٹ صحافی نے تحریر کیا تھا ۔ وہ آگے لکھتی ہیں :
’’ان کی بیویاں ان کو مداخلت سے محفوظ رکھتی ہیں ۔خادمائیں ناشتہ کھانا میز پر پہنچادیتی ہیں ,وقت بے وقت ان کو چائے کافی مہیا کرتی ہیں ۔ان کو بچے کے بال کٹوانے جیسے معمولی معمولی کاموں سے دور رکھتی ہیں ۔سگمنڈ فرائیڈ کی بیوی مارتھا اس کے کپڑوں کا ہی خیال نہیں رکھتی بلکہ اس کے ٹوتھ برش پر پیسٹ تک لگاتی تھی ۔مارسل پروسٹ کی خادمہ نہ صرف اس کو کھانے پینے…

مزید پڑھیں

غزل-بتول اپریل ۲۰۲۱

بڑی پرخار ہیں راہیں مگر دامن بچانا ہے
کہ میر کارواں ہوں میںمجھے رستہ بنانا ہے
نگاہوں کو جھکا رہنے دوں عصمت کا تقاضا ہے
کہ ان کا کام تو ہر دن نئے سپنے سجانا ہے
زمانے کی نگاہیں ہیں بہت بےباک اے ساتھی
سنبھل کر چل اگر خود کو نگاہوں سے بچانا ہے
کبھی لگتا ہے تنہا ہوں اور اک عالم اکٹھا ہے
کوئی اپنا ملے جس کو کہ حال غم سنانا ہے
جگر چھلنی ہے اپنوں نےچلایا تیر کچھ ایسے
ہمیں بھی ضد ہے ہونٹوں پر تبسم کو سجاناہے
 

 
غزل
قیامت کا منظر دکھائی دیا ہے
ہمیں ایسا اکثر دکھائی دیا ہے
وہ کہتے ہیں جس کو فقط دوستی ہے
کوئی اور چکر دکھائی دیا ہے
یہ چٹھی ترے نام کی ہوگی لازم
احاطے میں پتھر دکھائی دیا ہے
سمجھتے ہیں باہر کی اوقات کیا ہے
جنہیں من کے اندر دکھائی دیا ہے
بتایا گیا ہے فلک بے کراں ہے
اور انسان محور دکھائی دیا ہے
حقیقت بتائی ہے اتنا جھجکتے
بہانے کا عنصر دکھائی دیا ہے
اترتے ہوئے جھیل آنکھوں کے اندر
ہمیں اک سمندر دکھائی دیا ہے

مزید پڑھیں

قبول ہے! -بتول اپریل ۲۰۲۱

آسمان پر بادل چھائے اور خوب برسے، پسینہ میں شرابور نفوس نے جہاں سکھ کا سانس لیا وہاں ان کے چہروں پر تشویش کی لہر بھی تھی۔ پہاڑی راستے کی مسافر بارات کہیں تاخیر نہ کر دے۔ ظہر کی اذان سے قبل مسجد کے قرب میں دو ویگنیں آ کر رکیں اور جن سے تین خواتین اور کچھ مرد باہر نکلے۔ بارات کا استقبال خوش آمدیدی کلمات سے کیا گیا، سب باراتیوں میں دولہا کی پہچان اس کا سہرا اور ہار نہیں بلکہ اس کے چہرے کے لو دیتے دیے تھے، اور سڈول جسم پر کھبتا ہؤا سفید قمیص شلوار اور بسکٹی رنگ کی واسکٹ!(شاید دولہا کا کردار ہی خاص ہوتا ہے)۔
نماز ِ ظہر تک کچھ اور مہمان بھی مسجد میں پہنچ گئے اور خطبہ نکاح اور’دولہا دلہن کے‘قبول ہے ‘‘ کے تحریری اقرار نامے کی خوشی میں سب کو مٹھائی پیش کی گئی۔دولہا کا تعلق آزاد کشمیر کے ایک شہر سے تھا اور دلہن راولپنڈی کی رہائشی تھی، جس نے لاہور ملتان اور فیصل آباد کے علاوہ کو ئی شہر نہ دیکھا تھا۔ آزاد کشمیر کا رہن سہن اور تہذیب و تمدن تو دور کی بات اسے تو اس کا حدود اربعہ تک معلوم نہ تھا۔ دونوں خاندانوں کے…

مزید پڑھیں

رمضان المبارک کیسے گزاریں -بتول اپریل ۲۰۲۱

اس قیمتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے عملی نکات پر مبنی رہنمائی
رمضان روزوں کا مہینہ ہے ۔روزے کی فرضیت اور مقصدیت سے اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں ہم سب کو آگاہ کردیا ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے،’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا ءکے پیرووں پر فرض کیےگئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی‘‘(البقرہ: 183)۔یعنی روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا اور اس کا مقصدتقویٰ کا حصول ہے ۔ اس کی رحمتوں سے فیضیاب ہونے کے لیےیہاں اس ماہ کی چند خصوصیات اور کرنے کے کچھ کاموں کا ذکر مختصراً کیا جارہا ہے ۔
استقبالِ رمضان
تقویٰ کے حصول ، اللہ کی رضا پانے ، اپنے نفس کی تربیت اور تزکیہ کرنے کے لیےضروری ہے کہ ہم رمضان کو بہترین انداز میں گزاریں ۔اس کے لیے ہمیں بہترین منصوبہ بندی اور تیاری کرنی چاہیے ۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم اپنے گھر آنے والے کسی بہت خاص مہمان کی آمد سے پہلے تیاری کرتے ہیں۔ رمضان ہمارے گھر آنے والے تمام مہمانوں سے زیادہ معززاور بابرکت ہے لہٰذا اس کا استقبال بھی شاندار انداز سے کرنا…

مزید پڑھیں

سرخ مالٹوں کی سر زمین – پروفیسر خواجہ مسعود – بتول اپریل ۲۰۲۱

چلیے آج آپ کو ریڈ بلڈ مالٹوں کی سر زمین کی سیر کراتے ہیں ۔ آپ نے خوش ذائقہ ریڈ بلڈ مالٹے تو ضرور کھائے ہوں گے یاان کا جوس پیا ہوگا ۔ ان کا ذائقہ ہلکا سا ترش لیکن میٹھا ہوتا ہے ۔ یہ نہ صرف پاکستان میں شوق سے کھائے جاتے ہیں بلکہ سردیوں کے سیزن میں یہ عرب ممالک ، یورپ اور جاپان تک ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں بے حد پسند کیے جاتے ہیں۔
ہم لوگوں نے جنوری کے وسط میں ان خوش نما اور خوش ذائقہ مالٹوں کی سر زمین کی سیر کا پروگرام بنایا ۔ ہماری فیملی تھی ۔ میں ، بیٹا خرم، بہو زوبیہ اور پوتاعلی اور پوتیاں آمنہ اور مریم… دوسری فیملی ہمارے بھانجے سعید کی تھی ان کی اہلیہ صائمہ ، بچیاںدعا اور بسمہ ، تیسری فیملی ہماری بھانجی عظمی کی تھی ۔ ان کے میاں خاور ، بیٹیاں ،فاطمہ ، فارعہ اور ان کا بیٹا شہیر۔
تینوں گھرانے اپنی اپنی گاڑیوں پہ سوار تھے ۔ صبح گیارہ بجے ہم راولپنڈی سے روانہ ہوئے ۔ سفر کوئی لمبا نہیں ہے ، قریباً ایک گھنٹے میں یہ سفر طے ہو جاتا ہے ۔ راولپنڈی سے ہم پشاور روڈ پہ محو سفر…

مزید پڑھیں

صحرا سے بار بار وطن کون جائے گا! صحرانواد -بتول اپریل ۲۰۲۱

تھر ہمیں اپنی محبت کے سحر میں جکڑچکا تھا … ہمیں یقین ہؤا کہ محبت لمحے میں وارد ہو جاتی ہے!
صاف ستھری سیدھی سڑک پہ گاڑی تیز رفتاری سے رواں تھی ۔ سڑک کے دونوں جانب صحرا تھا، ہم کہا نیوں اور ناولوں کی بنیاد پہ بننے والے تصورکے مطابق صحرا میں تاحد نگاہ ریت تلاش کر رہے تھے جب کہ یہاں دونوں طرف چھوٹے بڑے ریت کے ٹیلے اور بے شمار صحرائی پودے تھے ، اس کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ جانوروں کے ریوڑ چرنے میں مصروف نظر آئے۔ کہیں بکریاں ، کہیں بھیڑیں ،کہیں گائیں اور کہیں اونٹ ، یہ اونٹ ہمارے کراچی کے ساحل پہ نظر آنے والے اونٹوں کے مقابلے میں خوب اونچے لمبے اور صحت مند تھے ۔خاص بات یہ تھی کہ ان جانوروں کے ساتھ کوئی چرواہا دور دور تک نظر نہیں آیا، صاحب نے بتایا کہ یہ جانور خود ہی کھا پی کر شام ڈھلے واپس اپنے ٹھکانوں پر پہنچ جاتے ہیں ، اونٹ اور گائیں وغیرہ بعض اوقات اتنی دور بھی نکل جاتے ہیں کہ دو دن بعد واپس پہنچتے ہیں لیکن ان کے مالکوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ ایک مزے کی بات ان جانوروں ، خصوصاً بکریوں کی یہ تھی کہ…

مزید پڑھیں