ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

پھروہی بادہ و جام – بتول اپریل ۲۰۲۳

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
ہاتھ آجائے مجھے میرا مقام اے ساقی
علامہ اقبال کے اس شعر میں مطالب و معانی کا ایک سمندر موجزن ہے۔ اس شعر میں علامہ کے دل کی تڑپ جھلکتی ہے ایک درد پنہاں ہے، دردِ دل ۔ مسلم قوم کے لیے ایک پیغام بیداری کا ، اولولعزمی کا ، اپنے کھوئے ہوئے وقار کو ، مقام کو حاصل کرنے کا پیغام ۔ علامہ جب مسلمانان ہند اور مسلمانانِ عالم کی دگر گوں حالت دیکھتے ہیں تو ان کا دل روتاہے ۔ وہ مسلمان کوان کا شاندار ماضی یاد دلاتے ہیں جب مسلمان ایمان کی دولت سے مالا مال تھے ، یقینِ محکم ان کے اندر موجزن تھا ۔
یقیں محکم، عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
علامہ بار بار اپنے اشعار میںمسلمانوںکو ان کی عظمت رفتہ یاد دلاتے ہیں اوران کے دل میں یہ تڑپ پیدا ہوتی ہے کاش مسلمان پھر اپنا وہ کھویا وہ مقام دنیا میں حاصل کر سکیں ، کاش مسلمان نوجوان یہ یاد رکھیں !
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پائوں میںتاجِ سرِ دارا
اقبال اس درد کو یاد کرتے ہیں۔
اے آبِ رودِ گنگا وہ دن ہیں یاد تجھ کو ؟
اترا تیرے کنارے جب کارواں ہمارا
اور جب دریائے دجلہ کی سر زمین کو مسلمانوں نے زیر نگیں کیا تو
اے موجِ دجلہ توبھی پہچانتی ہے ہم کو
اب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارا
اور مسلمانوں نے سپین میں ایک عظیم الشان سلطنت کی بنیاد رکھی جہاں آٹھ سو سال تک مسلمانوںنے حکومت کی اور سپین کو علم اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ بنادیا ۔ ان کے عہد میںسپین میں شاندار ترقی ہوئی انہوں نے عظیم درسگاہیںقائم کیں، ضخیم کتابوں سے آراستہ لائبریریاں ، شاندار زراعت ، فنون لطیفہ ، فلسفہ و سائنس کی ترقی ۔ یہاں تک کہ یورپ سے طلبا تحصیل علم کے لیے مسلم سپین میں آنے لگے ۔ قرطبہ کی عظیم جامع مسجد تعمیر کی گئی ۔ الحمرا کا شاندار محل تعمیر ہؤا اور سپین فتح کیسے ہؤا تھا یہ تاریخ کا ایک تابناک باب ہے جب مسلم جرنیل طارق بن زیاد اپنی سپاہ کے ساتھ سپین کے ساحل پر اترا تو اس نے تمام کشتیاں جلانے کا حکم دیا ۔ جب سپاہیوں نے اس پر حیرانی اور پریشانی کا اظہار کیا تو طارق بن زیاد نے انہیں کہا۔
’’ یا تو ہم اس سر زمین کو فتح کریں گے یا یہیںشہید ہو جائیں گے ، واپسی کا خیال دل سے نکال دو ‘‘ ۔ اور اس کے ان دو جملوں نے سپاہ میں جرأت اور یقین محکم پیدا کردیا اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ طارق بن زیاد نے ایک عظیم بادشاہ راڈرک کو شکست دی اور سپین میں اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ علامہ اس وقت کو یاد کرتے ہیں۔
اے گلستانِ اندلس وہ دن ہیں یاد تجھ کو
تھا تیری ڈالیوں پہ جب آشیاں ہمارا
مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
تھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا
وہ جذبہ ایمانی تھا کہ حضرت علی ؓ حیدر کرار نے خیبر کا نا قابلِ شکست دروازہ توڑ کے رکھ دیا ۔
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا زورِ حیدر ، فقرِ بوذر ، صدقِ سلمانی

اور
قبضے میں یہ تلوار بھی آجائے تو مومن
یا خالدِ جانباز ہے یا حیدر کرار
ایک دور وہ آگیا کہ رفتہ رفتہ تمام مسلمان ممالک غیروں کے محکوم ہو گئے ، غلامی کی زنجیروں میں جکڑ ے گئے کہ ان کے اندر یقین محکم نہ رہا تھا ۔
ہو گئی رسوا زمانے میں کلاہِ لالہ رنگ
جوسراپا ناز تھے ہیں آج مجبورِ نیاز
ہند میں مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ ہؤا یہاں کے حکمران عیش و عشرت کے دلدادہ ہو گئے جذبہ ایمانی ختم ہوگیا یا کمزور پڑ گیا اور پھر آخری مسلمان مغلیہ بادشاہ کو وہ دن دیکھنا پڑا کہ جب اُس نے تھال سے دستر خوان اٹھایا تو اس میں بادشاہ کے جوان بیٹوں کے کٹے ہوئے سر رکھے تھے بوڑھا بادشاہ آہ ِسرد بھر کے رہ گیا اور پھر باقی زندگی کسمپرسی میں کالے پانی میں گزاری اوروہیں گمنامی میں دفن ہو گئے۔
کیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نے
گزاری عمر پستی میں مثالِ نقش ِ پا تو نے
بغدادی عظیم اسلامی سلطنت کے خلفا جب لہو ولہب میں اورجاہ و حشمت میں ڈوب گئے تو آخری خلیفہ بغداد کو یہ دن دیکھنا پڑا کہ خونخوار ہلاکو نے بغدادکی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ خلیفہ کوایک بوری میںبند کرکے راستے پہ پھنکوا دیا اور اسے گھوڑوںکے سموں سے کچل کے رکھ دیا۔
سپین میں جب شاندار اسلامی سلطنت کو زوال آیا اور آخری مسلمان بادشاہ ابو عبد اللہ غرناطہ کی چابیاں ملکہ ازابیلا کے حوالے کر کے جا رہا تھا تو ایک ٹیلے پہ کھڑے ہو کے اپنے شاندار محل کو حسرت سے دیکھنے لگا۔ ماں نے کہا :
جس شہر کی حفاظت تم مرد بن کر نہیںکر سکے اب اسے دیکھ کے عورتوں کی طرح آنسو کیوں بہاتے ہو ؟‘‘
اورپھر مسلمان ہر ملک میں محکوم ہوتے چلے گئے ۔ علامہ اقبال قرطبہ کی عظیم مسجد میں بیٹھ کر مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو یاد کر کر کے اشک بہاتے رہے۔
یہی تڑپ علامہ کے دل میں تھی ۔ وہ مسلمانوں کی حالتِ زار دیکھ کر بہت افسردہ ہوجاتے تھے اس لیے مسلمانوں کو بار بار وہ عظمت رفتہ یاد دلاتے رہے ۔ اپنے اندر وہی جذبہ ، وہی تڑپ ، آزادی کی لگن ، خودی اور خوداری کی صفت ، ایمان کی قوت ، پیدا کرنے کی تلقین کرتے رہے انہوں نے اپنے اشعار کے ذریعہ سوئی ہوئی مسلم قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔
اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دے
برقِ دیرینہ کوفرمانِ جگر سوزی دے
پھر ایک جگہ فرماتے ہیں:
جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دل کو سوزِ پنہاں سے
تری تاریک راتوںمیں چراغاں کرکے چھوڑوں گا
اور
اسی کشاکشِ پیہم سے زندہ ہیں اقوام
یہی ہے رازِ تب و تاب ملتِ عربی
وہ جنہوں نے مئے ایمان پی تھی ، ان کا ایمان اتنا مضبوط تھا کہ حضرت بلالؓ کو تپتی ریت پر لٹاتے تھے لیکن پھر بھی زبان پر بار بار خدا کا نام اور رسولؐ کا نام ہوتا تھا ۔ حضرت عمر ؓ جن کے ہاتھوںمیں ایمان کا جام وسبو تھا، ان کے نام سے بڑے بڑے غیر مسلم بادشاہ کانپتے تھے۔
اقبال کی دلی خواہش تھی کہ موجودہ دور کے مسلمانوں کی زندگیاں بھی قرآنی تعلیمات کے مطابق ہوں۔
یہ راز کسی کو نہیںمعلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
ان کی مسلم نوجوان کے بارے میں دلی خواہش تھی:
خاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتاب
تابد خشاںپھر وہی لعل و گہر پیدا کرے

علامہ اقبال کی شاعری صرف اہلِ ہند کے لیے نہیں تھی بلکہ آپ کی شاعری آفاقی شاعری تھی ۔ ہزار اختلاف سہی لیکن جب ہندوستان کے ہندو بھی اقبال کا یہ ترانہ سنتے ہیں تودعویٰ کرتے ہیں کہ اقبال ہندوستان کے شاعر ہیں:
سارے جہاںسے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
جب آپ کی فارسی شاعری پڑھتے ہیں تو ایرانی پکار اٹھتے ہیں کہ اقبال ہمارے شاعر ہیں ۔ فلسطینی ان کو اپنا شاعر مانتے ہیں ۔ اور تو اور یورپ میں جرمنی والے آج بھی ان کا احترام کرتے ہیں اور اپنے شہر میونخ میں آج بھی انہوںنے اپنی ایک سڑک کا نام اقبال سٹریٹ رکھا ہؤا ہے۔
جب آپ نے یہ ترانہ لکھا:
چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
تو دنیا بھر کے مسلمان ان کی شاعری کا دم بھرنے لگے کیوں کہ آپ صرف ہند ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوںکو آزادی، بیداری ، بلند حوصلگی ، حرارت ایمانی خودی ، خودداری،عزم و ہمت یقیں و ایمان کا سبق دے رہے تھے ۔ انہیں کہہ رہے تھے۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا،عدالت کا ، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
عشق رسول ؐآپ کے دل میںکوٹ کوٹ کر بھرا ہؤا تھا۔
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہِ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ ونجف
اور :
ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبالؔ
اڑا کے مجھ کو غبارِ رہِ حجاز کرے
آپ نے نوجوانوں کوجہدمسلسل کا سبق دیا ۔
تو ہی ناداںچند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی داماں بھی ہے
علامہ اس بات پر بھی کڑھتے تھے کہ اسلام کے کئی زریں اصولوں پر اہلِ یورپ تو عمل کر رہے ہیں لیکن مسلمانوں نے ان کو چھوڑ دیا ہے ۔علم و حکمت اور سائنس میں وہ ترقی کر گئے حالانکہ یہ سب مسلمانوں کی میراث تھی۔
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباکی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
آپ کی شاعری نے ہند کے سوتے ہوئے مسلمانوںمیں بیداری کی لہر دوڑا دی ، آزادی کی تڑپ پیدا کردی اور بالآخر مسلمانوں نے اپنا آزاد وطن پاکستان حاصل کرلیا جو علامہ کے خواب کی تعبیر تھا ۔ آج دل سے آپ کے لیے یہ دعا نکلتی ہے :
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ ِ نور ستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
اللہ ہم اہل پاکستان کو توفیق دے کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں علامہ کے خواب کی تعبیر بنا سکیں ۔ آمین
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x