ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

جیل کہانی – شانزے کی کہانی – آسیہ راشد

جیل آفیسر کی زبانی

جیل آفیسر شمیم چیمہ نے کہانی شروع کی ۔
ضلع چکوال کے نواح میں گھومتی ، پہاڑیوںکے درمیان واقع گھنے جنگل سے گھرا ہؤا کاشانہ فصیح اس کے مکینوں کے دولت اور امارت کامنہ بولتا ثبوت تھا ۔ یہ ایک عظیم الشان پرانا گھر تھا جس میںبلوط اور شیشم کے بلند و بالا دروازے سپین کی طرز کی بنی ہوئی محرابوںوالی شیشے کی کھڑکیاں اس کی شان و شوکت میں اضافہ کر رہی تھیں ۔ اس گھر کی دیواروں پر لگے ہوئے آبائو اجداد کے کرخت چہروںوالے بڑے بڑے پورٹریٹ اس گھر سے جڑی تاریخ کی عکاسی کر رہے تھے جس میں وہاں کے مکینوںکی وضع داری ، روایت پسندی، جدت طرازی اورکہیںکہیں رحم دلی کی داستان رقم تھی ۔ بیرون ملک سے لائے گئے انواع و اقسام کے نوادرات اس گھر کی سطوت کو بڑھا رہے تھے ۔شاہ بلوط اور صندل کی لکڑی کے بھاری سامان ، قدیم طرز کی پوشش اورپرانی یادوںکی دیر پا خوشبو کاشانہ فصیح کے اندر کے ماحول کو خوشگوار بنا دیا تھا ۔
جب اس گھر کی اکلوتی بیٹی شانزے کے اٹھلاتےہوئے قدم گھر کی راہداریوں میں چلتے پھرتے ،اوراس کے گونجتے ہوئے قہقہے زندگی کا احساس دلاتے تو اس گھر کی رونق میں اور اضافہ ہو جاتا ۔فصیح اللہ خان کے دونوںصاحبزادے فہیم اللہ خان اور وسیم اللہ خان تعلیم کے سلسلے میں بیرون ملک میںمقیم تھے جبکہ ان کی چھوٹی بہن شانزے اپنی گریجویشن کا چوتھا سال مکمل کر چکی تھی۔
پھر اچانک اس گھر کی خوشبوکو نظر لگ گئی ۔ فصیح اللہ اپنی شریک حیات کے ساتھ ایک گاڑی کے حادثے میں ہلاک ہوگئے ۔ان کی اچانک وفات نے پورے خاندان کا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیا۔
والدین کی وفات کے بعد دونوںبھائی اپنے ملک واپس آگئے۔ دولت شہرت اور اقتدار نے جلد ہی والدین کا غم بھلا دیا ۔ وہ جب جب اپنی ریاست کادورہ کرتے ان کا سیروںخون بڑھ جاتا اور پھر وہ اپنے اقتدار ، دولت اور جاہ وحشمت کو بڑھانے کے خواب دیکھنے لگے ۔ ان دونوںبھائیوںکے برعکس شانزے اپنی اسٹیٹ کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتی تھی ۔ وہ اپنے علاقے میںخوشخالی اور اور عدل و انصاف چاہتی تھی ۔ اس نے اپنے بابا فصیح اللہ خان کے ساتھ مل کر اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کے بہت سے خواب دیکھے تھے ۔ وہ یہاں ہسپتال، سکول ، کالج بنوانا چاہتی تھی مگر اپنے ارادوں کی تکمیل کے لیے اسے اپنے بھائیوں کا ساتھ چاہیے تھا۔
آج ان کے والدین کو دنیا سے گئے دو ماہ ہونے کو آئے تھے۔تینوں بہن بھائی اپنے آراستہ و پیراستہ ڈرائینگ روم میں بیٹھے تھے۔شانزے نے اپنے بھائیوں کو ان پراجیکٹ کے بارے میں آگاہی دی جووہ بابا کے ساتھ مل کر کرنے جا رہی تھی ۔ وہ اپنے آبائو اجداد کی روایت کے برعکس اپنے علاقے کو ترقی و خوشخالی سے ہمکنار ہوتا دیکھنا چاہتی تھی۔
وہ اس تاریخ کا حصہ تھی جو اس نے اپنی آنکھوںسے رقم ہوتے دیکھی تھی مگر عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بنائے گئے منصوبے اس میں نہ ہونے کےبرابر تھے ۔اس کے بھائی اپنے آبائواجداد کی بنائی ہوئی تاریخ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیںچاہتے تھے۔ جیسا چل رہا ہے وہ ویسا ہی چلتے رہنا دینا چاہتے تھے ۔ انہیں صرف اس بات میں دلچسپی تھی کہ ان کی ریاست اورکتنی وسیع ہو سکتی ہے ۔
شانزے اپنی محبت کرنے والی گرم جوش طبیعت اور بھائیوں کی دیکھ بھال کرنے والی فطرت کے ساتھ اس مسئلے کا خوشگوار حل چاہتی تھی اور پر امید تھی کہ اس کے بھائیوں کو جو پیار محبت ،اقتدار ، دولت میراث میں ملی تھی اس کی قدر کرتے ہوئے وہ انصاف کے تقاضے پورے کریں گے اور اس کی بات مان لیں گے ۔ مگر بھائیوںکو یہ سب کرنے میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔
شانزے ہر صورت میں اپنے خوابوںکو پورا کرناچاہتی تھی اس نے بھائیوںسے وراثت کامطالبہ کر دیا کہ اسے اس کے حصے کی جائیداد روپیہ پیسہ دے دیا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی سے اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کر سکے ، وراثت کے مطالبے پر اس کے بھائیوںکے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے ۔ کون سی وراثت؟ فہیم نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔ زرعی زمینوں میں بہنوںکاکوئی حصہ نہیں ہوتا ۔
مگر مجھے یہ حصہ اور حق میرے رب کریم نے دیاہے جو ہر صورت میں آپ کو دینا ہوگا ، وہ پر اعتماد لہجے میں بولی۔
شانزے کا سوال ایک ایسی سچائی کی مانند تھا جسے جھٹلانا ان کے بس میں نہ تھا ، اس کاموقف بہت وزن رکھتا تھا۔
شانزے سے ان کی میراث کے بارے میں چار پانچ مرتبہ بات ہوئی وہ اسے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہےمگر شانزے کسی بھی صورت میں اپنی جائیداد سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھی۔
وہ ایک سیاہ رات تھی جب دونوںبھائی کمرے میںبیٹھے شانزے کے خلاف سازش کا جال بن رہے تھے ۔ ان دونوںکے ساتھ تیسرا شیطان تھا جو انہیںغلط راستوں کی جانب دھکیل رہا تھا۔
شانزے سے کیسے جان چھڑوائیں … اس نے تو خاندانی وکیل کو بھی اگلے ہفتے بلا لیا ہے ۔ فہیم نے بتایا۔
دونوںبھائی سرگوشیاںکرنے لگے ۔ کمرے کی دیواریں کچھ زیادہ ہی سیاہ دکھائی دے رہی تھیں ۔ تاریکی بڑھتی جا رہی تھی۔
ہمیں شانزے کو پاگل ثابت کرنا ہوگا ۔ وسیم نے آبنوسی صوفے کے کٹہرے کو پکڑ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔
گزرے ہوئے دور کی محبتوں کی باز گشت اپنا کام نہ دکھا سکی ۔ لالچ نے ان کی آنکھوںپر پٹی باندھ دی تھی دونوںبھائیوں نے بہن کی پوری جائیداد پر قبضہ کرنے کے لیے ایک دلدوز منصوبہ تیار کرلیا ۔ وہ ایک ایسی داستان تخلیق کر رہے تھے جس میں انہوں نے اسے پاگل ثابت کرنا تھا۔دونوںبھائی نہیں چاہتے تھے کہ ان کے علاقے میں سکول ،کالج ، ہسپتال اورفلاحی منصوبے شروع کیے جائیں ۔ ایسی صورت میں انہیں اپنا اقتدار ، جاہ و جلال ، حکومت ،طاقت ، شہرت سبھی ملیا میٹ ہوتا دکھائی دیا ۔ یہاں کے لوگ اگر تعلیم یافتہ ہو گئے تو انہیں اپنے حقوق سے بھی آگاہی ہو جائے گی تو پھر ہم کس پر حکومت کریں گے !شانزے کی اپنے حقوق سے آگاہی ان کے ارادوںکی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ہمیں شانزے کو ہر قیمت پر پاگل ثابت کرنا ہے ۔ فہیم دوبارہ بڑ بڑایا۔ ان کے بھیانک منصوبے کی سیاہی ان کے دل اور چہرے کو سیاہ کرنے کے لیے کافی تھی۔
پچھلے کچھ دنوں سے دونوں بھائیوں کارویہ شانزے کے ساتھ ہمدردانہ تھا ۔ شانزے تمہاری آنکھیں کیوں سوج رہی ہیں ؟
نہیں تو بھائی میں بالکل ٹھیک ہوں ، وہ بولی۔
شانزے تمہارےچہرے پرکیا لگا ہؤا ہے؟
شانزے تم برتن اپنے غسل خانے میں کیوں دھورہی ہو؟
تمہارے کمرے سے دھواں کیوںاٹھ رہا ہے ۔ کیا تم سگریٹ پی رہی ہو ؟
تم نے اس قدر خوشبو کیوں چھڑک رکھی ہے … تم نے جوتیاں کیوں فرج میںرکھ دی ہیں؟
شانزے حیران تھی وہ تو ایسا کچھ نہیں کررہی معلوم نہیں دونوں بھائیوںکو ایسا کیوںلگ رہا ہے ۔ کیا وہ واقعی ایسا سب کچھ کر رہی ہے ۔
کچھ دنوںبعد اسے محسوس ہونے لگا حقیقت سے اس کی گرفت دور ہوتی جارہی ہے اور وہ بے یقینی کاشکار ہو رہی ہے ۔ اس کے لیے یہ سب کچھ سمجھنا مشکل ہو رہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ نہ تو اس نے برتن غسل خانے میںدھوئے تھے نہ ہی اس نے سگریٹ پیا تھا جو دھواں نکلتانہ ہی تیز خوشبو چھڑکی اور نہ ہی جوتے فرج میں رکھے ۔ وہ فیملی ڈاکٹر کو یہ سب کچھ بتا رہی تھی اوردونوں بھائی نہایت فکر مندی سے ڈاکٹر کواس کی ذہنی کیفیت سے آگاہ کر رہے تھے۔
ڈاکٹرنے بھائیوںکی بات پر اعتبار کرتے ہوئے اسے ذہنی سکون کے لیے صبح شام انجکشن دینے شروع کردیے ۔ وہ تمام دن سوتی رہتی ۔ دوائیوںکے اثرات سے اس کے چہرے پر سوجن آنے لگی۔ وہ جہاںبیٹھتی بیٹھی رہ جاتی ۔ اس کا ذہن آہستہ آہستہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے دور ہوتا جارہا تھا ۔ اس کے عزیز و اقارب آتے اس کی حالت دیکھ کرافسوس کرتے ہوئے چلے جاتے۔
کچھ عرصے بعد معلوم ہؤا اسے پاگل خانے میں داخل کروا دیا گیا ہے ۔ وسیم اور فہیم کی خوشی کی انتہا نہ تھی ۔ ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ شانزے کاشانہ فصیح سے دور پہنچ چکی تھی ۔ اب وہ با آسانی اپنی من مانی کر سکتے تھے ۔اب کوئی ایسا نہ تھا جو ان کے ارادوں میں دخل اندازی کر سکتا۔
فصیح اسٹیٹ کی زمین سونا اگل رہی تھی اور وہ دونوں بھائی اس دولت سے مزید زمینیں خرید رہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک جائیدادیں خریدی جا رہی تھیں ۔ اپنے ملک کے عوام کی محنت کے پیسے سے بیرون ملک بینکوںمیں اکائونٹ کھلوائے جا رہے تھے۔
ادھر شانزے پچھلے چھ ماہ سے ذہنی امراض کے ہسپتال میں داخل تھی ۔ وہ تمام دن غور و فکر کرتی رہتی ۔ آخر اس نے ایسا کون سا جرم کیاتھا جو اسے روشنیوں سے اندھیروںمیں دھکیل دیا گیا تھا ۔ اس کے دن تنہائی اورراتیں اذیتوں میں گزرنے لگیں ۔ اسے ایک علیحدہ کمرے میں رکھا گیا تھا جہاں تنہائی اس کی ساتھی تھی ۔ اسے بھائیوں کی ہدایت کے مطابق دوسرے مریضوںسے الگ تھلگ رکھا گیا تھا جس کے لیے ہسپتال والوں کوبھاری ڈنیشن دی گئی تھی ۔ اس کے کمرے کی کھڑکیاں چھوٹی تھیں جو اسے ایسی دنیا کا منظر دکھاتی تھیں جسے وہ چھو نہیں سکتی تھی صرف دور سے دیکھ سکتی تھی ۔ اسے بہت سی آوازیں اپنے ارد گرد سے آتیں جنہیںوہ سن تو سکتی تھی مگر ان لوگوں کو دیکھ نہیں سکتی تھی۔رات کا سناٹا مدھم روشنی والا بلب ، آسیب بھرے ماحول کے ساتھ دیواروں پر لمبے لمبے سائے ڈالتا رہتا جس سے تنہائی کی خوفناکی میں اور اضافہ ہوجاتا ۔ اسے اپنے بھائیوں کی بے رحمی کی یاد ستانے لگتی مگر وہ ہمت اور طاقت کا ستون بن کر حالات کامقابلہ کرنا چاہتی تھی ۔ ہمت اور طاقت کی تلاش نے اسے رب تعالیٰ کے نزدیک کر دیا تھا ۔ دن ہفتوںمیں اور ہفتے مہینوں میں تبدیل ہونے لگے۔
انہی دنوں ہسپتال میں ڈاکٹر ماریہ کی تعیناتی شانزے کے لیے مبارک ثابت ہوئی ۔ ڈاکٹر ماریہ کے ہمدردانہ رویے نے شانزے کے دل میں ایک بار پھر امید کی کرن جگمگا دی ۔ اس کے شکوک و شبہات ،انتھک خوف سے لرزاں دل کو سہارا ملنے کی امید دکھائی دینے لگی۔
ڈاکٹر ماریہ نے نہایت توجہ سے شانزے کامعائنہ کیا اور اپنے حالات زندگی بتانے کوکہا ۔ ایک نرم اورپیار بھرا لہجہ اس کے درد کو زبان پر لے آیا ۔ اس نے اپنا دل کھول کرڈاکٹر ماریہ کے سامنے رکھ دیا ۔ طبی معائنے اورضروری ٹیسٹوںکے بعد ڈاکٹرماریہ نے اسے مکمل طور پر صحت مندقرار دے دیا ۔ اس نے شانزے سے پے در پے سوال کیے ، اس کے دماغ کی اچھی طرح گہرائی سے چھان بین کی اور اتنے سالوں کے حالات کے بل پہ یہ بات ثابت کی کہ شانزے ذہنی طور پر مکمل صحت مند ہے۔
یوںشانزے کومکمل طور پر صحت مند قرار دیتے ہوئے اسے اس کے گھر بھیج دیا گیا ۔ وہ جب گھر آئی تو یہ گھر اس کانہ تھا ۔ ہر کوئی اسے عجیب نظروںسے دیکھ رہا تھا ، اس کے اپنے کمرے میں بہت سی تبدیلیاں کردی گئی تھیں یہ کمرہ اس کی بھتیجی سارہ کو دے دیا گیا تھا ۔ انہیںاس کی واپسی کی کوئی امید نہ تھی۔
وسیم اورفہیم ایک بار پھر سر جوڑ کربیٹھ گئے ۔ چمکتی ہوئی لیمپ کی روشنی ان کے چہروں کوخوفناک بنا رہی تھی ۔ ہمیشہ بھاگتی دوڑتی قہقہے لگاتی شانزے نے مینٹل ہسپتال کی تنہائیوں سے باہرنکل کراپنے آپ کوذہنی طور پر آزاد نہ کرپائی تھی ۔ قید تنہائی نے اس کے ہونٹوں کی مسکان چھین لی تھی ۔ کچھ دوائیوں کے اثرات نے اسے جسمانی طور پر سست کر دیا تھا ۔ اس کے چہرے کی ہشاشت پر ایک مردنی سی چھا گئی تھی ۔ ایک افسردگی نے اس کے گرد احاطہ کرلیا تھا۔ یہ گھراب وہ پہلے والا گھر نہ تھا اس کی بھابھیاں اسے ہمدردی سے دیکھتیں مگر ساتھ ہی وہ اسے بوجھ سمجھ کر اس سے دور رہتیں ۔ دونوںبھائی بیرون ملک سے خود پسندی ،خودغرضی اور لالچ کی جو ڈگریاںاپنے ساتھ لائے تھے ان کے زیر اثر انہوں نے شانزے سے چھٹکارا پانے کی نئی منصوبہ بندی کرلی تھی۔
اور پھر لوگوںنے دیکھا کہ وسیم سر ، منہ اورہاتھوں پرپٹیاںباندھ کر گھر میں داخل ہو رہا ہے ۔ اس کے جسم پر جا بجا چاقو کے نشان تھے ۔ اسے قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔پولیس کو بیان دیتے ہوئے اس نے شانزے کا نام لیا تھا اورپھر اقدام قتل کے جرم میں شانزے کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا ۔
اتنے برس بیت چکے تھے ۔ اپنے شہر سے دور لاہور کی جیل میں اسے رکھا گیا۔ تنہائی کے بیس سال شانزے نے جیل میں کاٹ دیے ۔ نہ مقدمہ چلا نہ ہی کسی نے کیس کی پیروی کی نہ ہی کوئی پیشی ہوئی ۔ اس کے اپنے ہی اس کی جان کے دشمن تھے توکون اس کے کیس کی پیروی کرتا !
اتنا کہہ کر شمیم چیمہ خاموش ہوگئیں۔ انہوںنے اپنی یاد داشت کا رجسٹرڈ بند کردیا جس میں شانزے کے حالات زندگی لکھے گئے تھے اور بولیں، اب ویمن ایڈ ٹرسٹ والوں نے اس کا کھوج لگایا ہے ، اسے رہائی اورانصاف دلانے کے لیے ضلع چکوال کی فصیح اسٹیٹ کے خاندانی وکیل کی خدمات لی گئی ہیں۔
کیا شانزے رہا ہو جائے گی ؟ کیا اس کے بھائی اس کی جائیداد اوراختیارات اسے دے دیں گے ؟ کیا وہ جیل سے رہائی کے بعد اپنےعلاقے کی فلاح وبہبود کے لیے کوئی کام کر پائے گی ؟ کیا اس کے علاقے میں کالج سکول ہسپتال بن سکیںگے ؟
میںنے یہ تمام سوالات اپنے آپ سے کیے اورخاموش ہو گئی شانزے کی کہانی پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی سے کتنی ملتی جلتی ہے ۔ وہ بھی بیس سالوںسے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہی ہے ۔ وہ بھی اپنے ملک میں تعلیمی انقلاب لانا چاہتی تھی ۔وہ پاکستان کو علمی لحاظ سے دنیا کا مضبوط خطہ بنانا چاہتی تھی۔ شانزے کی جیل کی کوٹھڑی میں کن جان لیوامراحل سے زندگی گزری ، اس پر کتنا جسمانی اور ذہنی تشدد کیا گیا ، ان سلاخوں نے اسے کتنا پر عزم بنا دیایا پھر توڑ پھوڑ کے رکھ دیاہے یہ ہم نہ جان سکے ۔
کیا اس کے بھائیوںکو اس دنیا میں کوئی سزا ملے گی ؟ابھی تک تو ان کی رسی دراز ہے مگر اللہ کی پکڑ سے کون بچ سکا ہے اب تو شانزے کا سارا معاملہ اللہ کےسپرد تھا ۔کیا مجرم کبھی فلاح پا سکتے ہیں؟ میںنے امید بھری نظروںسے آسمان کی جانب دیکھا ۔ اس آسمان کی طرف جسے شانزے نے ان بیس سالوںمیں بارہا دیکھا ہوگا ۔ اللہ کے ہاںدیر ہے اندھیر نہیں۔میرے اندر سے آواز آئی۔
ملاقات کا وقت ختم ہوچکا تھا ۔ ہم پر امید دل اور بوجھل قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے جیل کی چار دیواری سے باہرآگئے ۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
4 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x