ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

جامع مسجد شیخ زاید – نور اپریل ۲۰۲۱

گاڑی فراٹے بھرتی ابو ظہبی کی طرف رواں دواں تھی ۔پھوپھا جان ہمیں جامع مسجد شیخ زاید کی چیدہ چیدہ خصوصیات بتا رہے تھے۔’’ یہ مسجد دنیا کی دس بڑی مساجد میں سے ایک ہے۔متحدہ عرب امارات کی یہ سب سے بڑی مسجد ہے ۔ یہ 1996ء میں بننا شروع ہوئی تھی اور 2007 میں تکمیل کوپہنچی ۔دنیا کے مختلف ممالک سے منگوائے گئے سفید سنگ مر مر کی بنی یہ مسجد دور سے ایک چمکتا ہوا موتی معلوم ہوتی ہے ۔ اس پر دو ملین درہم لاگت آئی ہے ۔اس میں تقریباً اکتالیس ہزارنمازیوں کی گنجائش ہے۔‘‘
مسجد دیکھنے کا ہمارا اشتیاق بڑھتا جا رہا تھا ۔ تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے کے سفر کے بعد ہم مسجد کی پارکنگ میں رُکے ۔ بہت بڑی پارکنگ میں بے شمارگاڑیاں اوربسیں کھڑی تھیں ۔ نماز کی ادائیگی کے لیے آنے والوں کے علاوہ سیاح بھی اس خوب صورت مسجد کو دیکھنے جوق در جوق آتے ہیں۔
ہم مسجد کی طرف بڑھے۔ راستے میں جگہ جگہ پھولوں کی قطعات اور فوارے لگے تھے ۔ مسجد کے ڈھیر سارے گنبدوں کی طرف اشارہ کر کے بابا نے کہا ’’ انھیں دیکھ کر تو ترکی کی مساجد یاد آتی ہیں ۔‘‘
’’ اوریہ محرابیں مسجد قرطبہ کی یاد دلاتی ہیں ۔‘‘ امی نے لقمہ دیا۔
’’ دراصل اس مسجد میں ترک ، مصری، مراکشی، اندلسی، ایرانی اور مغل ہر ایک کے فن تعمیر کی جھلک موجود ہے ۔‘‘ پھوپھا جان نے وضاحت کی بلا شبہ یہ بہت بڑی اور بہت خوب صورت مسجد تھی ۔ اس کا نقشہ ایک شامی ماہرتعمیرات نے بنایا ہے ۔یہ تقریباً بارہ ہیکڑ رقبے پرپھیلی ہوئی ہے ۔ چھوٹے بڑے مختلف جسامت کے بیاسی گنبد اورچارمینار ہیں ۔سب سے بڑے گنبد کا قطر106فٹ اورصحن سے اونچائی 279فٹ ہے ۔ جب کہ میناروں کی اونچائی 351فٹ ہے ۔سفید مر مر کے فرشوں پر اس طرح پھول پتے بنائے گئے ہیں کہ قالین کا گمان ہوتا ہے ۔دیواروں اورستونوں پربیل بوٹے کھود کر ان میں قیمتی جواہر بھر دیے گئے ہیں جو روشنی میں جھلملاتے نظر آتے ہیں۔
’’ تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے تھے کہ شاہی قلعہ ، شیش محل اور دوسری مغل عمارتوںمیں جواہرت سے پچی کاری اورکاشی کاری کی گئی تھی تو ان الفاظ کا خاک مطلب سمجھ میں نہیں آتا تھا پر آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے ۔‘‘ آپا مسجد کی خوب صورتی سے بڑی متاثر نظر آ رہی تھی۔
مسجد ایک بڑے اوردوچھوٹے ہالوں پرمشتمل ہے ۔ جس میں سے ایک خواتین کے لیے ہے ۔ ایک جگہ ملنے کی مقرر کر کے امی اورآپا خواتین کے حصے کی طرف بڑھ گئیں اور ہم دوسری طرف مُڑ گئے ۔ تاکہ وضو کر کے تخیۃ المسجد کے نفل ادا کر سکیں ۔پھوپھا جان نے کہا :
’’ مسجد کی خوب صورتی تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں ، اب ذرا وضو خانہ بھی دیکھیے۔‘‘
’’ وائو‘‘ میرے اوربھائی کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔ ہلکے سبز رنگ کے سنگ مر مر سے آراستہ وضو خانہ واقعی دیکھنے کی چیز تھا ۔سیپ کی شکل کے واش بیسن ،پھول کی پتیوں سے مشابہ تراشیدہ سبز سنگ مر مر کی راکری( مصنوعی پہاڑی) جس سے پانی جھرنے کی صورت بہہ رہا تھا ۔ ہمیں یوں لگ رہا تھا جیسے کسی قدیم بادشاہ کے محل سرا میں پہنچ گئے ہوں۔
وضو کے بعد چھوٹے ہال میں نفل ادا کیے ۔چھت سے ایک خوب صورت سا فانوس لٹک رہا تھا ۔ معلوم ہوتا تھا جیسے اس میں بھی قیمتی جواہرات لگے ہیں ۔ دروازوں اورکھڑکیوں کے شیشوں پربھی رنگین شیشوں سے دیدہ زیب پھول بنے تھے ۔
نماز کے اوقات کے بعد مسجد سیاحوں کے لیے کھول دی جاتی ہے چناں چہ یہاں مختلف ممالک کے باشندے نظرآ رہے تھے جو قطار بنائے مرکزی ہال میں جانے کے منتظر تھے ۔چھوٹے چھوٹے گروپوں کی شکل میں انھیں باری باری ہال میں لے جایا جا رہا تھا ۔ ہم بھی اپنی باری پراندر پہنچ گئے۔ ہال بہت بڑا تھا ۔ہمارا اندازہ تھا کہ سات سے دس ہزار تک لوگ اس میں نماز ادا کر سکتے ہیں ۔ سب سے عجوبہ تو اس کا قالین تھا ۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا ہاتھ سے بنا ہوا قالین ہے جو ایران میں تیار ہوا ۔ چھت سے نہایت شان دار فانوس لٹک رہا تھا ۔ یہ دنیا کا دوسرا بڑا فانوس ہے ۔ اس کا قطر تینتیس فٹ اور اونچائی انچاس فٹ ہے جب کہ وزن بارہ ٹن ہے ۔ مسجد میں کل سات فانوس لگے ہیں جن میں چالیس کلوگرام خالص سونا استعمال ہوا ہے ۔ یہ فانوس جرمنی سے منگوائے گئے ہیں ۔ سامنے کی دیوار پر خوب صورتی سے اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ تحریر ہیں ۔
جب ہم باہر نکلے تو رات گہری ہو گئی تھی ۔ مسجد دلکش روشنیوں میں جھلملا رہی تھی ۔ راہداری کے ساتھ ساتھ تالاب تھا جس میں محرابوں کا عکس بڑادل فریب نظارہ پیش کررہا تھا ۔امی کو پھر مسجد ِ قرطبہ یاد آگئی۔
’’ امی،آپ نے اتنی دفعہ مسجد قرطبہ کا ذکر کیا ہے کہ اب تو میرا ابھی وہاں جانے کودل کرنے لگا ہے ۔‘‘ بھائی نے نہایت ہوشیاری سے اگلے تفریحی سفرکی راہ ہموار کی۔
’’ اگر موقع ملا توان شاء اللہ ضرور جائیں گے ۔‘‘ بابا نے کہا ۔’’ اپنی تاریخ سے واقفیت رکھنی نہایت ضروری ہے ۔ اپنے اسلاف کے کارناموں پرجہاں ہمارا سر فخر سے بلند ہوتا ہے اوراپنی ذات پر اعتماد بڑھتا ہے ۔ وہیں ماضی کی کوتاہیاں ، اپنے حال کو سنوارنے اوربہترمستقبل کا خاکہ بنانے میں مدد دیتی ہیں ۔‘‘
اب ہم واپس اپنے مسکن کی طرف جا رہے تھے اور منصوبے بنا رہے تھے کہ کل کہاں کہاں جانا ہے ۔پھوپھا جان بولے :’’ کل آپ کو ’بردوبئی‘ لے کر چلیں گے ۔‘‘
یہ لفظ ہمارے لیے بالکل نیا تھا ۔ ہم سوچنے لگے کہ یہ نہ جانے کیا چیز ہے ؟

٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x