ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ابتدا تیرے نام سے – بتول اکتوبر ۲۰۲۱

قارئین کرام!سات اکتوبر کو جبکہ افغانستان پر ناٹو کے حملے کو پورے بیس برس ہورہے ہیں، یہ خوش آئند بات ہے کہ افغانستان کی سرزمین نہ صرف حملے کی اس بیسویں سالگرہ پردشمن کے ناجائز قدموں سے پاک ہے بلکہ اب ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پہ وہاں عبوری حکومت کے اعلان کے بعد قدم بہ قدم حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ بیالیس سالہ بدامنی، جنگ، قتل و غارت گری، تباہی اور بربادی کے بعدبہت ہمت چاہیے اس تھکن کو ایک طرف رکھ کے تعمیر نو کرنے میں، ایک عرصہ چاہیے نارمل زندگی کی طرف آنے میں۔اس ملک اور اس کے رہنے والوں پر جو گزری، سب کچھ بھلایا نہیں جا سکتا البتہ صبر کیا جا سکتا ہے مگر صبر کا مرہم کارگر ہونے کے لیے بھی وقت چاہیے۔
ابھی کچھ دن لگیں گے!
دل ایسے شہر کے پامال ہوجانے کامنظر بھولنے میں
جہانِ رنگ کے سارے خس و خاشاک سب سرو و صنوبر بھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے!
پاکستان کے لیے بھی صورتحال کچھ کم نازک نہیں ہے۔ باوجود اس کے کہ پاکستان اس ناجائز جنگ میں اپنے مفادات کے خلاف جاکر امریکہ کا اتحادی بنا،جبکہ ہمیشہ اس دوران بھی پاکستان کا یہ موقف رہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، اور امریکہ کا ساتھ دینے کے نتیجے میں اپنے ملک کو بد امنی اور دہشت گردی کا شکار کر لیا، اس کے بعد جب خود امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھی آخر کار اس بات کی سمجھ آگئی تو افغانستان کی دلدل سے نکلنے میں ان کی غیر مشروط مدد کی،بلکہ ان کےبھگوڑے فوجیوں کو پناہ بھی دی تاکہ وہ جان بچا کر واپس جا سکیں اور ان کے ہاتھوں ظلم اٹھانے والے کسی افغان جنگجو کے ہاتھوں مارے نہ جائیں ، اس پر احسان مند ہونے کی بجائے الٹا وہ پاکستان کے لیے عالمی سطح پر مشکلات پیدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔عین ان دنوں جب امریکی فوجیوں کو پناہ لینے کے لیے پاکستان کی سرزمین ہی محفوظ ترین نظر آرہی تھی، برطانیہ نے پاکستان کو غیر محفوظ ملک قرار دے کر نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کو واپس چلےجانے کا اشارہ دے دیا۔لگتا یہ ہے کہ پاکستان کو خطے میں امریکی مفادات سے ہٹ کر اپنے لیے نئے امکانات تلاش کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔ایک طویل عرصے کے بعد ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان اپنی ترجیحات کے مطابق اپنے خارجہ اور دفاعی امورکے فیصلے کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے اس وقت ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت بالکل ہم آہنگ ہے، جبکہ یہی امر امریکہ کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ معمول ہے کہ امریکہ پاکستان میں وقتاً فوقتاً انہی دونوں عناصر کو باری باری استعمال کر کےخطے میں اپنے مفادات کو آگے بڑھاتا ہے۔ اب نئے حالات میں پاکستان کوسفارتی محاذ پر تنہا کرنے کی کوشش تو محض ایک پہلو ہے۔افغانستان سے بھاگنے کے بعدامریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مابین اب پاکستان کو کئی پہلوؤں سے غیر مستحکم کرنے پر سوچ بچار اور مشورے یقیناًعروج پر ہیں۔ برطانیہ میں سابق حکمران خاندان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا اعلان بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ماضی کے کرپٹ ٹولے، پاکستان مخالف گروہ، بھارت نواز افراد اور جماعتیں، نظریاتی اور فکری طور پہ گمراہ اورمتشدد عناصر، ان سب کی سرپرستی ففتھ جنریشن وارفیئر کا طریق کار ہے۔ حکومتوں کے کرنے کے اپنے کام ہیں مگر عوامی سطح پر ہم سب کو بےحد چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

ستمبر کا شمارہ پریس میں جا چکا تھا جب سید علی گیلانی کی رحلت کی جانکاہ خبر سننے کو ملی۔عمر بھر ظلم اور ناانصافی کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہونے والا ، شیر کی طرح گرجنے والا، ہر ترغیب و تحریص سے بالا بے مثال مجاہد لاکھوں سینوں میں شمع آزادی فروزاں کر کے چلا گیا۔ اس کی زندگی گواہ ہے کہ ایک لمحے کو اس نے اس شمع کی لو کم نہ ہونے دی، خونِ جگر دے کر اس کو سربلند رکھا، نہ خود تھکا نہ کسی کوتھکنے دیا، نہ خود مایوس ہؤا نہ دوسروں کو مایوس ہونے دیا۔ یہ وہ شخص تھا جس کی ہیبت سے خود کو ایک بڑی طاقت سمجھنے والے غاصب ملک کے ایوان ہل جاتے تھے۔اس نوے سالہ ضعیف کو وفات تک گھر میں قید رکھا گیا یہاں تک کہ میت سے بھی خوف کا یہ عالم کہ وارثین کے حوالے نہ کیا، مبادا ان کا جنازہ ہی تحریک حریت کو مہمیز دینے کا باعث بن جائے۔سالہا سال سے ان کے بھارت سے باہر جانے پر پابندی تھی یہاں تک کہ کینسر کے علاج کے لیے مجبوراً امریکہ جانے کی اجازت دینی پڑی تو بھارتی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے امریکہ نےہی ان کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔یہ بھارت کی پشت پناہی کرنے والی نام نہاد عالمی طاقتوں کا اپنا انسانی حقوق کا ریکارڈ ہے جو تاریخ کے صفحات پر رقم ہے۔فاتحِ خیبر علی المرتضٰیؓ کے نام کی لاج رکھتے ہوئےاس شیرِ خدا نے ببانگِ دہل طاقت کے ایوانوں کو للکارا ، عوامی اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت پر ڈٹا رہا، سمجھوتہ یا پسپائی کا لفظ اس کی لغت میں موجود ہی نہ تھا۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی کی مجال نہ تھی کہ کشمیریوں کے خون سے غداری کا سوچ بھی سکتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا اور امید ہے کہ سیدؒ مرحوم کو اعلیٰ علیین میں رکھے اور ان کے وارثین کے ہاتھوں کشمیریوں کو صبحِ آزادی سے جلد ہمکنار کرے آمین۔
ڈاکٹر صفدر محمود کی رحلت ایک اور بڑا نقصان ہے۔ تاریخ پاکستان ، بانیانِ پاکستان اور مقاصدِ قیام پاکستان کو تاریخی طور پہ درست تناظر میں پیش کرنے میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ نظریہ پاکستان پر پختہ یقین ان کی فکر کی بنیاد تھا۔پاکستان کے قیام، مابعد کے سیاسی اتارچڑھاؤ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی جیسے موضوعات پر اہم کتب تصنیف کیں۔ عرصہ دراز سے صحافتی کالم باقاعدگی سے تحریر کرتے تھے۔سابق وفاقی سیکرٹری بھی رہے اور تاریخ دان کے طور پہ ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو پرائڈ آف پرفارمنس بھی دیا گیا۔اللہ مرحوم کے درجات بلند کرے آمین۔
ربیع الاول کی مناسبت سے اس بار کچھ خاص تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ ویب سائٹ پرتازہ شمارہ مطالعہ کے لیے اپ لوڈ کردیا جاتا ہے، وہاں رابطے کا ذریعہ بھی موجود ہے، اس کے علاوہ فیس بک پیج اورای میل کے ذریعے بھی اپنی فیڈ بیک اور تبصرہ ضرور ارسال کیجیے۔تحاریر کے لیے ای میل کا ذریعہ بہترین ہے البتہ تحریراصولوں کے مطابق کمپوز ہونی چاہیے۔ ساغرؔ صدیقی کے چند غزلیہ اشعار کے ساتھ اجازت؎

نہ کشتیوں نہ کناروں کا احترام کرو
فقط بھنور کے اشاروں کا احترام کرو
یہیں سے گُزرے گا اِک روز کاروانِ بہار
فسُردہ راہ گزاروں کا احترام کرو
جو ہو سکے تو بدل دو نوشتہِ تقدیر
نہ ہو سکے تو ستاروں کا احترام کرو
خزاں کی گود میں بھی پُھول مُسکرا اُٹھیں
کچھ اِس طرح سے بہاروں کا احترام کرو
نشاط و کیف کی دُنیا میں جُھومنے والو
کبھی تو اُجڑے دیاروں کا احترام کرو
یہی ہے ذوقِ عبادت کی انتہا ساغرؔ!
غمِ حیات کے ماروں کا احترام کرو

دعاگو
صائمہ اسما

 

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x