سوشل میڈیا کے مفید استعمال کا چیلنج پاکستان کے تناظر میں ۔ ڈاکٹر صائمہ اسما
گزشتہ قسط میں ہم نے ان پہلوؤں پر بات کا آغاز کیا جن میں ریاست کی جانب سے عوام کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں پہلا نکتہ یہ کہ ریاست کوعوام کی سوشل میڈیا خواندگی کا بندوبست کرناچاہیے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے انہیں فیک نیوز کا شعور دیا جائے۔ اس کے بعد عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے جو نقصانات پہنچ سکتے ہیں اور جن خطرات سے صارفین دوچار ہو سکتے ہیں ،ان سے آگاہ کرے۔ یہاں ان کا ذکر کیا جارہا ہے۔
۲۔نقصانات اورغلط کاروں سے حفاظت
سوشل میڈیا کے ذریعے صارف ایسے افراد سےرابطے میں ہوتا ہے جن کی شناخت سے وہ قطعاً ناواقف ہوتا ہے،مگر بات چیت اس طرح ہوتی ہے جیسے بہت گہری دوستی ہو۔ اس دوران بہت ذاتی معلومات تک شیئر کردی جاتی ہیں، اپنی مصروفیات کاتذکرہ اور دیگر تفاصیل جو کئی مرتبہ قریبی افراد کو بھی معلوم نہیں ہوتیں،سوشل میڈیا کے ’’دوستوں‘‘ کو بتا دی جاتی ہیں۔زیادہ ترنوعمر لڑکے اور لڑکیاں صنفِ مخالف کی کشش میں دوستی کرتے ہیں اور اپنی معلومات شیئر کردیتے ہیں بلکہ کئی بار اپنی زندگی کے ایسے راز اور تلخ حقائق تک بتا دیتے ہیں جن میں انہوں نے اپنے گھروالوں کو بھی شامل نہیں کیا ہوتا۔لڑکیاں اپنی تصاویر…

