Blog

سوشل میڈیا کے مفید استعمال کا چیلنج پاکستان کے تناظر میں ۔ ڈاکٹر صائمہ اسما

گزشتہ قسط میں ہم نے ان پہلوؤں پر بات کا آغاز کیا جن میں ریاست کی جانب سے عوام کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں پہلا نکتہ یہ کہ ریاست کوعوام کی سوشل میڈیا خواندگی کا بندوبست کرناچاہیے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے انہیں فیک نیوز کا شعور دیا جائے۔ اس کے بعد عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے جو نقصانات پہنچ سکتے ہیں اور جن خطرات سے صارفین دوچار ہو سکتے ہیں ،ان سے آگاہ کرے۔ یہاں ان کا ذکر کیا جارہا ہے۔
۲۔نقصانات اورغلط کاروں سے حفاظت
سوشل میڈیا کے ذریعے صارف ایسے افراد سےرابطے میں ہوتا ہے جن کی شناخت سے وہ قطعاً ناواقف ہوتا ہے،مگر بات چیت اس طرح ہوتی ہے جیسے بہت گہری دوستی ہو۔ اس دوران بہت ذاتی معلومات تک شیئر کردی جاتی ہیں، اپنی مصروفیات کاتذکرہ اور دیگر تفاصیل جو کئی مرتبہ قریبی افراد کو بھی معلوم نہیں ہوتیں،سوشل میڈیا کے ’’دوستوں‘‘ کو بتا دی جاتی ہیں۔زیادہ ترنوعمر لڑکے اور لڑکیاں صنفِ مخالف کی کشش میں دوستی کرتے ہیں اور اپنی معلومات شیئر کردیتے ہیں بلکہ کئی بار اپنی زندگی کے ایسے راز اور تلخ حقائق تک بتا دیتے ہیں جن میں انہوں نے اپنے گھروالوں کو بھی شامل نہیں کیا ہوتا۔لڑکیاں اپنی تصاویر…

مزید پڑھیں

اِک پھول کامضموں ہو توسو رنگ سے باندھوں ۔ شاہدہ کرام

حویلی کے سامنے آہنی دروازہ کے پارکھلی سڑک پر کھیل کی دیوانی اپنی باری کی حریص شاہ زادی کی نظریں سٹاپو سے ہٹ کر کہیں اور ہی ٹک گئی تھیں ۔ہمجولیاں سکتہ کے عالم میں اُسی سمت تکنے لگ گئیں ۔اُڑتی دھول کے سوا انہیں تو کچھ نظر نہ آرہا تھا ۔ یکدم شہزادی نے گیند کودُور اُچھالا اور سر پٹ سامنے سیدھی سڑک پر دوڑ لگا دی ۔سکھیاں آواز یں دیتی رہ گئیں اور وہ ہرنی کی سی قلابیں بھرتی نظروںسے اوجھل ہو گئی اور رُکی تو اماں کی بغل میں جا کر ۔ جو ابا کی خدمت گزاری سے فراغت و اجازت پاکر دنوں بعد اپنے بھائی کے گھر خیر خیریت کاپتہ کرنے گئی تھیں۔
شاہ زادی نے اماں کا بازو پکڑ زور زور سے کھینچنا جو شروع کیاتو وہ بھی پریشانی میں بول اُٹھیں۔
’’ کچھ بتائو تو سہی کیا ہؤا ؟‘‘
نظر جواٹھائی تو شازو شدت جذبات سے سرخ چہرہ لیے اماں کو اور زور سے کھینچنے لگی۔
’’ گھرچلیں جلدی کریں ‘‘ سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا ، اور چہرہ تو ویسے ہی قندھاری انار کی طرح سرخ رہتا تھا ۔ آج تو دو چندہو رہا تھا۔
’’ اللہ خیر کرے ، یہ لڑکی تو اپنی کھیل اور باری…

مزید پڑھیں

وہ دودن! – بتول اگست ۲۰۲۴

گاہے بگاہے تذکیر و محاسبہ کی ہر فرد کو ضرورت ہوتی ہے۔27_28, مئی 2024 منصورہ آ ڈیٹوریم میں فیصل آ باد اور لاہور کے ارکان کے لیے دو روزہ تربیتی نشست کا اہتمام تھا۔تربیت گاہیں تو اس سے پہلے بھی ہوتی رہیں مگر اس مرتبہ انداز کچھ جدا تھا۔ کافی دنوں سے ایسی ہی اجتماعیت کی کمی محسوس ہورہی تھی جہاں لگے بندھے انداز میں لیکچرز کی بجائے سامعین کے احساسات ،خیالات، معمولات اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پروگرام ترتیب دیے گئے ہوں۔مقررین نے نہایت جاں فشانی سے موضوعات تیار کر رکھے تھے اور واقعتاً ایک لمحے کے لیے بھی بوریت کا احساس نہ ہؤابلکہ ایسے لگ رہا تھا کہ اگر دو کی بجائے تین دن بھی تربیت گاہ ہوتی تو انہماک اسی طرح برقرار رہتا۔
ہال میں بیٹھا ہر فرد گہری سوچ میں ڈوبا اپنے آپ کو کھوج رہا تھا اور اپنی کمزوری یا غفلت کو ٹٹول رہا تھا۔جیسے رمضان کا ایک مہینہ سال بھر کے لیے ٹریننگ کورس ہوتا ہے تو یہ دو دن ہمارے لیے روحانی خوراک کا توشہ تھے۔
پہلا دن
پروگرام کا آغاز ساڑھے دس بجے ہونا تھا۔لیکن پچھلے ایک دو ہفتے سے ہمارے گروپس میں بار بار ریمائنڈر کے میسجز آتے رہے جس کی وجہ سے…

مزید پڑھیں

امی ،میری ساس – ناصرہ پروین خان

ایک بہو کے لیے اپنی ساس کی توصیف میں قلم اٹھانا اور وہ بھی بعد از مرگ یقیناََ ایک بے حد خوشگوار اور خوبصورت ماضی کی غمازی کرتا ہے اور پھر اپنی ساس جوکہ سگی چچی تھیں اپنے حسنِ اخلاق اور محبت کی وجہ سے ماں سے بھی بڑھ کر درجہ حاصل کرلیں یقیناََ قابلِ تحریر ہے ۔
میری والدہ کا انتقال 1998 میں امریکہ میں ہؤا۔ چچی صاحبہ نے پچھلے 25 سال نہ صرف اس خلا کو انتہائی محبت و شفقت سے پُر کیا بلکہ اپنے حسنِ سلوک سے اپنی بہوؤں کے دل جیت لیے ۔ ہمارا گھر ایک بھرا پُرا گھرانہ ہے اور 9 بیٹیوں اور 4 بیٹوں کے ساتھ ہمیشہ خوشیوں اور قہقہوں سے گونجتا،چچا صاحب کے مترنم اور گونجدار قہقہے اسے مزید جاندار و شاندار بنا دیتے۔ چچی صاحبہ کے اپنے اصول تھے جن کے تحت سب لوگ اپنی اپنی حدود کی حفاظت کرتے۔ صوم وصلوٰۃ کی پابندی رمضان میں سحر و افطار کی رونقیں ، عید بقر عید پر دعوتیں۔ تحریکی اجتماعاتِ خواتین ، درس قرآن و دورہ قرآن کی محافل ، اکثر اوقات دیگر شہروں سے آئی ہوئی جماعت کی خواتین جن کا قیام و طعام بھی ہمارے ہی گھر ہوتا، گھر کی رونقوں اور…

مزید پڑھیں

ابتدا تیرے نام سے ۔ سمیہ اسما

قارئین کرام سلام مسنون!
حج اور قربانی کے مناسک اس بارشدت کی گرمی میں آئے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان جسمانیاورمالی عبادات کو قبول و منظور فرمائے اور اپنے بندوں کااجر محفوظ کرلے۔آگ برساتے موسم میںسڑک پہ چلنے والوں ،محنت مزدوری کرنے والوں کا خیال رکھنا، ان سے نرمی سے پیش آنا، ان کےلیے آسانی کرنا وہ کم سے کم صدقہ ہے جو ہم اپنی سہولتوں بھری زندگی کے بدلے دے سکتے ہیں ۔ملک میں گندم کی پیداوار سے متعلق ایک نیا بحران پیدا ہو گیاہے۔ پنجاب حکومت نے سرکاری سطح پرگندم خریدنے سے انکار کر دیا ہے۔طلب کم ہونے سے گندم کی قیمت لاگت سے کم پہ چلی گئی ہے جس کی بنا پہ کسان طبقہ بے حد پریشان ہے۔اکثر کسان قرض لے کرفصلیں اگاتے ہیں اور فصل بکنے پر ادائیگی کرتے ہیں۔ان کی دن رات کی محنت رائگاں جارہی ہے۔ہمارے ملک کی معیشت زراعت پر کھڑی ہے۔ کسان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔نیز ہماری آبادی کی بڑی اکثریت کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔کسان کو خوشحال رکھنا اور زرعی شعبے کے لیے دانشمندانہ پالیسیاں بنانا بہت اہم ہے۔ ہم جو پہلے ہی بیرونی امداد پہ چل رہے ہیں، حکومتی سطح پر کسان دشمن اقدامات…

مزید پڑھیں

اگلی عید پر – عشرت زاہد

چوں….چوں….چرر….چوں…. چرر
چنیوٹی جھولے کی ناگوار آواز مسلسل آ رہی تھی۔ لیکن اس سے بےنیاز اس پر بیٹھی رخشی کا ہاتھ ننھے اسجد کو تھپکنے میں مصروف تھا۔ رمضان کا اٹھائیس واں روزہ تھا۔ عصر کی نماز پڑھ کر اس نے بھابی کا کچھ ہاتھ بٹایا۔ ابھی روزہ کھلنے میں آدھا گھنٹہ باقی تھا۔ ان کے گھر کا اصول تھا کہ روزے کے آخری لمحات کچن میں ضائع نہیں کرنے، پہلے سے فارغ ہو کر افطار تک دعا کے وقت کا فائدہ اٹھانا ہے،خوب دعائیں مانگنی ہیں۔سوڈرائنگ روم میں سب گھر والے جمع تھےاور امی با آواز بلند دعائیں مانگ رہی تھیں۔
تین ماہ کا چھوٹا سا اسجد کافی دیر سے سونے کے لیے مچل رہا تھا۔ اس کے رونے سے سب ڈسٹرب ہو رہے تھےاس لیے رخشی اس کو اٹھا کر برآمدے میں چلی آئی۔
’’ارے گڑیا تم یہاں کیوں بیٹھی ہو۔ چلو نا اندر‘‘احمد بھائی اسے ڈھونڈتے ہوئے برآمدے میں پہنچے۔
’’جی بھائی۔ میں اس کو سلا رہی تھی‘‘۔
’’اچھااچھا۔ یہ جھولا کتنی آواز کر رہا ہے۔ اس کے کنڈوں میں گریس ڈالنا پڑےگا۔ ہر چیز توجہ مانگتی ہے۔ مینٹ ننس نہ ہو سکی، ذرا چوک ہوئی اور گڑبڑ شروع‘‘۔
احمد بھائی کہہ رہے تھے۔
رخشی کا دماغ لفظ مینٹ ننس میں الجھ کر رہ…

مزید پڑھیں

ابتدا تیرے نام سے – صائمہ اسما

قارئین کرام سلام مسنون! غزہ میں زمینی جنگ جاری ہے اور مزاحمت کی قوتیں اس بے جگری سے لڑ رہی ہیں کہ قابض فوج کواپنی کامیابی کا وہم تک نہیں ہونے دیا۔ شہریوں کے قتل عام پردنیا میں احتجاج کا دائرہ اس قدر وسیع ہوگیا ہے کہ بعض ممالک میں ان کی تاریخ کے بڑے مظاہرے ہورہے ہیں۔تازہ معرکے میں فلسطینیوں نے جانیں دے کر نئے سرے سے اپنا مقدمہ بطور مقبوضہ محصور آبادی دنیا کے سامنےپوری قوت سے پیش کیا ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل کی حمایت تاریخ کی نچلی ترین سطح پر آگئی ہے۔اس مقام پر اگر عرب ممالک ذرا سی بھی حمیت دکھائیں اور مسلم دنیا کو ساتھ ملائیں تو فلسطین کی آزادی کچھ بھی دور نہیں،مگر افسوس ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی مہینےبھر سے اسلام آباد میں دھرنا دیےاحتجاج کررہے ہیں۔ان کے لانگ مارچ پر اسلام آباد میں داخل ہونے پر لاٹھی چارج کیا گیا،راستہ روکا گیا اور شہر سے باہر دھکیلنے کی کوشش کی گئی مگرسوشل میڈیا پر بات اتنی پھیل گئی کہ اتھارٹیز کے لیے مشکل پیدا ہوگئی۔ ان کا مطالبہ ان کے غائب کیے گئے افراد کی بازیابی ہے ۔ بہت عرصے سے بلوچستان…

مزید پڑھیں