۲۰۲۳ بتول فروری

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ – بتول فروری ۲۰۲۳

زاہد صا حب نما ز عشا ءپڑھ کر گھر داخل ہی ہو ئے تھے کہ انہو ں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔
نصر ت آرا نےسا ی چیزیں الما ی میں سے نکال کر بیڈ پر پھینکی ہو ئی تھیں اور بڑے غصے سے سنگھا رمیزپر پر انی میک اپ کی چیزوں کو اٹھا اٹھا کر پھینک ر ہی تھی ۔انہوں نے اپنی والدہ کی طرف دیکھا جو پر یشا نی سے دونو ںبچو ںکوسینے سے لگا ئے بیٹھی تھیں۔
اس کا مطلب ہے کہ آج پھرنصرت نے ان کی پٹا ئی کی ہے ۔انہوں نےپریشانی سے سو چا اس کو کیا ہو گیا ہے اب تک تو یہ ایسی حر کتیں نہیں کر تی تھی ۔ انہوں نے بیڈ وم کا د روازہ کھولااور نصرت کی طرف خشمگیں نگاہوں سے دیکھا ۔
نصرت ان کی دس سال سے زوجہ حیات تھی وہ بہت صابر شاکر خاتون تھی انہوں نے ان کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا تھا اور وہ ہر دُکھ سُکھ میں ان کا ساتھ بڑی خوش اسلوبی سے دے رہی تھی۔ دس پندرہ دن سے وہ اس کا لہجہ اور رویہ بدلتا ہؤا دیکھ رہے تھے۔
وہ پہلے ایک گائوں کے اسکول میں ٹیچر تھی اور وہاں اسے سفر کرکے جانا…

مزید پڑھیں

برف، ہوا اور بھوک – بتول فروری ۲۰۲۳

سرد ہوا کے ساتھ برفیلے جھکڑ….
دور تک سناٹا….
تین نفوس!
بھوک اور سردی سے نڈھال ،بجھے ہوئے سرد چولہے کے گرد ایسے بیٹھے تھے گویا وہاں سے انہیں کھانا مل ہی جائے گا۔
یہ پہاڑی کے دامن میں واقع ایک چھوٹی سی بستی تھی جہاں اکا دکا چھوٹے چھوٹے کچے گھر تھے۔ وگرنہ تو یہاں فاصلے سے بنے چار پانچ بنگلے تھے جو صرف برف باری کے زمانے میں ہی آباد ہوتے تھے۔ برف باری دیکھنے کے لیے بس باقی یہاں ان بنگلوں کے رکھوالے رہتے تھے یا کوئی انہی جیسے افراد جن کے روز گار قریبی ہوٹلوں سے وابستہ تھے اور یہ روزی بھی ہوائی روزی تھی، برف باری کے زمانے میں ملتی، اس کے علاوہ چولہے ٹھنڈے پڑے رہتے۔ اسی لیے برف باری کے دوران ان لوگوں کو خوب سے خوب اور زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کی ہوس ہوتی اور دوران سیزن یہ خوب خوب کماتے، اتنا کماتے کہ جب سیزن ختم ہو جاتا تب بھی ان کی سیزن کی کمائی چلتی رہتی ۔
مگر نجانے کیوں اس بار تو سیزن بھی تھا مگر شناور خان کو کوئی خاطر خواہ کام نہیں مل سکا ۔جہاں جاتا نو ویکینسی کا جملہ منہ چڑا رہا ہوتا۔ ایسے تو کبھی نہ ہؤا تھا!سرد ہوا…

مزید پڑھیں

جوڑی فٹ ہے – بتول فروری ۲۰۲۳

’’اچھا اب میں چلتا ہوں‘‘۔
گروسری کا سامان سلیب پر رکھ کر اسلم نے عائشہ سے اجازت چاہی۔
’’کھانا کھا کر چلے جاتے ‘‘عائشہ پیچھے آتے ہوئے بولی ۔
یہ دعوت زبانی تھی اس کے روکنے میں اصرار نہیں تھا اور نہ ہی اسلم کو کسی صورت رکنا تھا ۔اسلم گیٹ تک پہنچ کر مڑا ،خاص عائشہ کے سندھی اسٹائل میں اس کے سر پر ہاتھ دھرا اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا ۔
’’کچھ اصول جو ہمارے درمیان طے ہوئے تھے پکے یاد ہیں نا؟‘‘
’’ جی یاد ہیں۔ جس دن آپ کو کھانے پر روکا تھا وہ دن اصولوں کو بھولنے بھی نہیں دے گا۔ توبہ! آپ کو کھانے پر نپٹانا شہر بھر کو نپٹانے کے برابر ہے، شہلا باجی کی ہمت ہے‘‘۔
اسلم نے چھوٹا سا قہقہ لگایا اوربچوں کو پیار دے کر دہلیز پار کر گیا۔
٭٭٭
شہلا ایک وسیع طول و عرض کی خاص آرڈر پر بنی کرسی پر براجمان تھیں۔ ان کے برابر والی کرسی پر اسلم کھانے میں مصروف تھے۔شہلا کی طرف سے ملازمہ کو ہدایات جاری تھیں ۔گندمی رنگ ،سادہ چٹیا، کان میں گولڈ کے بڑے بھاری بالے، دو موٹی گولڈ کی چین، ایک ایک کنگن ہاتھ میں پھنسا ہؤا، ناک میں ہیرے کی لونگ ،دو سوٹس کو…

مزید پڑھیں

چاندی کا تاج محل – بتول فروری ۲۰۲۳

دروازہ ہلکے سے بجا ۔
شہلا اٹھ چکی تھی لیکن بستر جیسے ابھی اُسے جکڑے رکھنا چاہتا تھا ۔ اس نے نرم گرم روئی کے گالے جیسے کمبل کو سمیٹ کر زور سے بھینچا اور گہری سانس لے کر جواب دیا ۔
’’آجائیں بوا‘‘۔
چالیس پینتالیس سال کی موڈرن بوا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں ۔شہلاکو قدیم اور جدید کا امتراج اچھا لگتا تھا گھر کے لیے میڈ منتخب کی تو اسے پہلے دن ہی دوسری ہدایات کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ انہیں بوا کہا جائے گااور وہ شہلا کو شہلا بی کہیں گی۔
وہ اس طرح اپنی خاندانی روایات سے جڑ کر رہنا چاہتی تھیں انہیں اچھا لگتا تھا ۔ جب اپنی کسی موڈرن سہیلیوں کے سامنے وہ میڈ کو بوا اور بوا اُن کو شہلا بی کہتیں تو انہیں اپنی سہیلیوں سے یہ کہنا بہت اچھا لگتا کہ یہ سب ان کے بزرگوں کی روایات ہیں۔
نادیہ ماچس والا ، میشاء سیٹھانی ، زرینہ مارکوس تو اتنے متاثر ہوتے کہ جتنے ان کی ڈرائینگ روم کی مہنگی اور حسین سجاوٹ سے نہ ہوتے جو وہ ہر سال بہت شوق سے تبدیل کرتی تھی۔ ہاتھی کے دانت کی نازک اور حسین بگھی چاندی کا تاج محل جس کے میناروں پر سبز…

مزید پڑھیں

زمین کے بوجھ – بتول فروری ۲۰۲۳

ملازمت کا پہلا دن دونوں کے لیے حددرجہ خوش آئند تھا۔
دونوں نے ایک دوسرے کو پہلی مرتبہ ملازمت کے پہلے دن ہی دیکھا اور دونوں نے ایک دوسرے کو دل دے دیا۔
دونوں کو ایک ہی بنک میں ملازمت ملی تھی تو دونوں کے کاؤنٹر آمنے سامنے تھے۔
دونوں نے اتفاق سے نیلے اور کالے رنگ میں ڈیزائن کیے کپڑے پہنے تھے۔
ادیبہ کے مالی حالات محنت کے طلبگار تھے۔ باپ کا انتقال ہو چکا تھا تین چھوٹے بہن بھائی ان کی پڑھائی اور دیگر ڈھیر سارے اخراجا ت! اس کی تعلیم دوسرے صوبے کی یونیورسٹی میں مکمل ہوئی تھی اور دوران تعلیم ہی اسے پتہ چلا کہ اس کی بیوہ ماں کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہو چکی ہے۔ یونیورسٹی میں رہتے ہوئے ادیبہ کے حلقہ دوستاں میں بہت سے طالب علم تھے، ان میں نامور سیاستدانوں کے بچے بھی تھے اور فلمی اداکاراؤں کے رشتہ دار بھی ،کھلاڑی بھی اور بیوپاری بھی ،الغرض ان کی صحبت میں شرمیلی سی ادیبہ گھاگ اور مہا چالاک بن چکی تھی۔ ماں کے لیے خیراتی ہسپتال میں علاج اور ان کے لیے خون کی وقتاً فوقتاً ضرورت پر درجنوں ڈونرز پلک جھپکنے میں مل جاتے لیکن افسوس قدرت کا لکھا کوئی مائی کا لال…

مزید پڑھیں

راکب ِ زمانہ – بتول فروری ۲۰۲۳

بدر دین گائوںکا ایک معتبر زمیندار تھا ۔ وہ واحد شخص تھا ، جس نے اپنے بیٹے شعیب کو ایف اے تک تعلیم دلائی تھی حالانکہ اس کے گائوں کے دیگر زمیندار یہی کہتے رہتے تھے کہ بچوں کو پڑھانے کا کیا فائدہ ، ہمیں ان سے سر کاری نوکری تونہیں کروانی ۔ شعیب نے اب اپنا ٹریکٹر سنبھال لیا تھا اور زمین کے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے دو معاون افراد کو ملازم رکھ لیا تھا ۔ اس طرح اس نے کاشت کاری میں دوسروں سے بڑھ کر پیداوار حاصل کرنا شروع کی تھی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب رشتہ ناتا خاندان کے بزرگوں کا غیر متنازعہ کُلّی اختیار ہوتا تھا اور ابھی لوگوںمیں کزن میرج نے ہولناک صورت اختیار نہ کی تھی ۔ اس لیے بدر دین کی اہلیہ شہر میں اپنے بھائی مظہر الحق ایڈووکیٹ کی اکلوتی بیٹی عافیہ سے شعیب کا بیاہ کرنے کی بات پکی کر آئی۔
عافیہ بہت ذہین طالبہ تھی ، اپنے کالج میں وہ ہم نصابی سرگرمیوںمیںحصہ لیتی تھی ۔ اپنی روایتی تعلیم میں وہ ہمیشہ اول دوم درجہ پر رہتی ، لیکن ادبی مباحثوں میں اس کی کار گزاری قابل فخر تھی، اس کی ایک ہم جماعت نزہت نے ملاقاتوںکے ذریعے اُسے مطالعہ…

مزید پڑھیں