۲۰۲۲ بتول جون

فاصلے اور فیصلے – بتول جون ۲۰۲۲

سوتے سوتے اچانک ہی ان کی آنکھ کھلی تھی ۔کمرے میں اندھیرا تھا ۔ گھڑی کی سوئی کے ساتھ ان کے ذہن میں بھی خیالات کی یلغار آنی شروع ہوئی تھی ۔ وہ اُٹھ کر بیٹھ گئیں تھیں ۔ جاتی سردیوں کے دن تھے ۔ موسم میں تبدیلی آ رہی تھی ۔ کسی وقت ہلکی سی خنکی محسوس ہوتی ۔ انہوں نے لیٹے ہوئے چھوٹی زینیہ سے چادر ڈلوائی تھی ۔ انہوں نے آہستہ سے چادر اپنے اوپر سے سرکائی ۔ باہر کمرے سے اب بھی باتوں کی دھیرے دھیرے آوازیں آ رہی تھیں ۔ کھلے دروازے سے روشنی ایک لکیر کی صورت میں کمرے کے اندر تک آ رہی تھی۔ انہوں نے چند لمحے اس پیلی لکیر کو دیکھا ۔ زندگی بھی اسی طرح گھپ اندھیرے کی مانند ہو چکی تھی ۔ ارشد صاحب کے دنیا سے جانے کے بعد زندگی بھی محدود ہو گئی تھی۔ بس یہ اولاد ہی تھی تاریکی میں روشنی کی لکیر کی مانند لیکن اب یہی روشنی نا امیدی کی علامت بن رہی تھی ۔ انہوں نے گہرا سانس لیا۔
’’ تم دونوں رہو خاموش‘‘ لیکن میں نہیں رہوں گی ، امی کو تو دبا لیا ، وہ کہیں بھی تو کیا لیکن مجھے …‘‘دھیرے…

مزید پڑھیں

خواب سراب – بتول جون ۲۰۲۲

میں میٹرک میں تھی جب مجھ سے بڑی بہن کی منگنی ہو گئی۔اس کے منگیتر کی آمد پہ وہ گھر میں چھپتی پھرتی لیکن ہونے والے جیجا جی کی نظریں اسے ڈھونڈ ہی لیتیں۔بہت مرتبہ میری منت سماجت بھی کرتے کہ بس پانچ منٹ کے لیے بات کروا دو۔ میں نے بہت مرتبہ ان سے آئس کریم کھائی، گفٹس لیے بلکہ یہ کہیں کہ انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔لیکن کمال بھائی بھی کمال کے انسان تھے۔ آپو کی بس ایک جھلک کےلیے ہر ہفتے گھنٹوں کا سفر کر کے آجاتے۔
خیر آپو جیسی خوبصورت اور خوب سیرت لڑکی کے لیے کم از کم اتنا پیار کرنے والا ساتھی تو بنتا تھا!
کمال بھائی اپنے گھر میں سب سے بڑے تھے۔انکے والد صاحب جب وہ میٹرک میں تھے تب وفات پاچکے تھے۔باپ کی وفات کے بعد انہوں نے دن رات ایک کرکے اپنے والد صاحب کے کاروبار کو سنبھالا اور اب وہ اپنے چھوٹے سے شہر کے ایک جانے پہچانے انسان تھے جن کی وجہ شہرت ان کی بہترین کاروباری ساکھ اور ایمانداری تھی۔
آپو کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔ میرے بابا نے اس کی شادی پہ کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
آپو شروع سے ہی بہت سگھڑ، کم گواور خوبصورت تھیں۔ میں خوبصورتی…

مزید پڑھیں

مٹی کا گُلّک – بتول جون ۲۰۲۲

وہ والہانہ انداز میں بیت اللہ کے گرد چکر لگا رہی تھی ۔ ہر چکر کے اختتام پر وہ حجراَسود کو استیلام کرتی اور پھر اللہ یار کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے حجراَسود کی کتھئی پٹی سے آگے بڑھ جاتی۔
مطاف اس وقت زائرین سے بھرا ہؤا تھا ۔ بیت اللہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ موجود تھا ۔ طواف میں بے پناہ رش ہونے کے باوجود خیراں نے کوشش یہی کی تھی کہ ہر چکر میں وہ بیت اللہ کی دیوار کو چھو کر محسوس کر سکے ۔ اللہ کے گھر کو ہاتھ لگا کر اس کے روئیں روئیں میں کرنٹ سا دوڑ جاتا تھا ۔ پھر ایک عجیب قسم کی ٹھنڈک روح میں اُتر جاتی ۔ اس احساس کے ساتھ کہ اس نے اپنے اللہ کو چھُو لیا ہے ۔ وہ اینٹوں کے بنے ہوئے اس چوکور گھر میں اللہ کو موجود پاتی تھی ۔ اسی لیے طواف کرتے ہوئے اللہ سے قریب ہونے اور اس بھوری دیوار کو چھونے کی کوشش میں وہ کئی مرتبہ کُچلی گئی ۔ اس کے پیر کے تلوے زخم زخم تھے ۔ سانسیں رُک رُک گئیں ۔ اللہ یار اُسے پیچھے سے کھینچتا مگر وہ جذباتی ہو کر پھر آگے…

مزید پڑھیں

تو کیا ہؤا – بتول جون ۲۰۲۲

زبدہ بیاہ کے سسرال میں داخل ہوئی تو بہت سی چھوٹی چھوٹی خامیوں اور خوبیوں کے ساتھ ماں کی ایک عادت جہیز میں لے کر آئی تھی۔
اسے کم گوئی کی عادت نہیں تھی بلکہ ضرورت کے وقت الفاظ منہ سے نکالنا سکھایا گیا ۔البتہ ضرورت نہ ہو تو وہ کئی کئی گھنٹے منہ بند ہی رکھتی تھی۔
شادی بخیر و عافیت ہوئی۔ کھانے پینے اٹھنے بیٹھنے سونے جاگنے سے لے کر ہزار مسائل میں سسرال کا مزاج الگ ہی تھا ۔
زبدہ کی سلجھی فطرت ،اخلاق حسنہ اور دین سے شغف نے اس میں برداشت کا مادہ وافر مقدار میں پیدا کردیا تھا ۔مزاج تو سگی بہنوں کے بھی فرق ہوتے ہیں اس لیے وہ زیادہ پریشان نہیں بلکہ پر امید ہی تھی
شادی شدہ زندگی کو دس ہفتے گزرے تھے جب ساس نے بآواز بلند اس کا نام لے کر پکارا ۔
’’جی امی جان‘‘ ،وہ پل بھر میں تابعداری سے حاضر ہوئی ۔
’’مجھے پتہ چلاہے فروہ تمہاری رشتہ دار ہے ‘‘،انہوں نے سوال کیا تھا یا بتایا تھا زبدہ کو اندازہ نہیں ہو سکا۔
’’کون فروہ ؟‘‘ وہ سوچ میں پڑ گئی ۔
ساس کے منہ پر روز روشن کی طرح طنزیہ مسکراہٹ نے جھلک دکھلائی ۔
’’تمہارے بڑے بھائی کی سالی…..‘‘کچھ کچھ چبھتا سا…

مزید پڑھیں

سات دن – بتول جون ۲۰۲۲

کراچی شہر میں آباد ہوئے انہیں عشروں کا عرصہ گذر چکا تھا ۔
ابتدا میں جب وہ یہاں آئے تھے تو پلے میں کچھ ہی روپے تھے۔ اسٹیشن کے قریب ایک نچلے درجے کے ہوٹل میں ایک چھوٹا کمرہ کرایہ کا لیا۔کمرے کے ساتھ غسل خانہ نہیں تھا وہ باہر مشترکہ تھا آج کے عبد الصمد صاحب نے کل اس بات کو محسوس ہی نہیں کیا ۔پلے جو پیسے تھے انہیں بہت سوچ سمجھ کر خرچ کرنا تھا ۔
دو دن تو سوچ بچار میں ہی لگائے ۔
اسٹیشن کے ہوٹل سے نکل ادھر اُدھر آوارہ گردی کی لوگوں کو دیکھا پرکھا راستوں کو جانا صبح کا ناشتہ گول کر کے دوپہر کو بارہ بجے چھپر والے ہوٹل میں بیٹھ جاتے ۔ اور پیٹ پوجا کر کے دوبارہ ہوٹل کے تنگ کمرے کا رخ کرتے۔
کچھ دیر قیلولہ کرتے اور ذرا دھوپ کے ڈھلتے ہی دوبارہ باہر کارخ کرتے۔ سڑکیں ناپتے ہوئے کبھی کسی فٹ پاتھ پربیٹھ جاتے ۔ زن زن جاتی گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے چکرآنے لگتے تواٹھ کھڑے ہوتے۔ کسی دوکان میں اے سی چل رہا ہوتاتوضرور شوق میں داخل ہوتے ۔ کچھ نہ لینا ہوتا لیکن پھر کچھ چیزوں کی قیمتیں معلوم کرکے کچھ ٹھنڈی ہوا کی سانسیں لے کر باہرنکل…

مزید پڑھیں

روئے سخن – بتول جون ۲۰۲۲

وبا کے دو گزشتہ برسوں کی یاد میں کچھ احساسات نظم ہوئے)
مکالمہ تو خدا سے تھا بس
خدا کے عہدِ وفا سے تھا بس
قبولیت تھی اسی کے آگے
اور اس سے ہٹ کےجو بات بھی تھی
اسی تسلسل کا مرحلہ تھا
اسی تکلم کا سلسلہ تھا
جو التجا تھی جو مشورہ تھا
سوال تھا جو دلیل تھی جو
کوئی تھا دعویٰ کہیں تھا شکوہ
اسی تخیل سے مل رہا تھا
کہیں تڑپنے کا واقعہ تھا
کسی کے لٹنے کا سانحہ تھا
کسی کے مٹنے کا ماجرا تھا
(اور اس پہ گریائے دل زدہ تھا)
اسی سے کہنے اسی سے سننے کا اک یقیں برملا رہا تھا
جو دل دکھا تھا
سوال پھر اب کسی سے کرتے
جواب خواہ اب کہیں سے آئے
دراصل اس سے ہی مل رہا تھا
مطالبہ تو رضا کا تھا بس
اسی سے ملتی عطا سے تھابس
اسی کی سچی پنہ سے تھا بس
مکالمہ تو خدا سے تھا بس
خدا کے عہدِ وفا سے تھا بس
عطائے رب کی ثنا سے تھا بس

مزید پڑھیں