۲۰۲۲ بتول جون

موٹاپے سے نجات – بتول جون ۲۰۲۲

صحت مند زندگی کا آغاز
آج کے مادیت پسند دور میں جہاں مشینوں کے استعمال نے زندگی میں آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں انسان کو سہل پسند بنا دیا ہے۔اس کے نتیجے میں کئی مسائل پیدا ہوئے جن میں موٹاپا قابل ذکر ہے۔
موٹاپا اب ایک عالمی وبا بن چکا ہے اور کئی بیماریوں کی جڑ ہے اور کئی بیماریوں کی ابتدا کرتا ہے جن میں کولیسٹرول بڑھنا، شوگر، برین ہیمبرج، امراضِ قلب، فالج، لقوہ، گٹھیا، سانس پھولنا، وغیرہ شامل ہیں۔ گزشتہ سال کی تحقیق کے مطابق موٹاپے سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں پاکستان نویں نمبر پر ہے۔
حکیم محمد ادریس لدھیانوی فاضلِ طب و الجراحت فرماتے ہیں: ’’وزن کو اعتدال سے زیادہ نہیں بڑھنا چاہیے۔ ہمارے وزن کا ہر اضافی پونڈ ہماری زندگی کا ایک حصہ ہم سے چھین لیتا ہے‘‘۔
دبلا پتلا یعنی سمارٹ اور پرکشش نظر آنا سبھی کا خواب ہے۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔سمارٹ لوگوں کےلیے بھی ضروری ہے کہ وہ وزن برقرار رکھنے کے لیے اپنا خیال رکھیں تاکہ وزن دوبارہ نہ بڑھے۔
اس مضمون میں آپ کے ساتھ بہت سی مفید اور آزمودہ ٹپس شیئر کی جا رہی ہیں جن پر عمل کر کے آپ با آسانی وزن کم…

مزید پڑھیں

مولا بخش – بتول جون ۲۰۲۲

اب وہ دورگزر چکا ، جو کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا بچے پٹ کر بھی بالآخر کندن بن کر نکلتے تھے
 
گزرے وقتوں میں بچوں کی زندگی کا ایک اہم ترین واقعہ اس وقت ظہور پذیر ہوتا جب چھ سات برس کی عمر میں روتے مچلتے چیختے چلاتے بچوں کو بڑے بھائی یا چچا ڈنڈاڈولی کرتے ہوئے پہلے روز اسکول لے جاتے ،دن بھر گلیوں میں کھیل کود کا عادی بچہ جب اسکول کی قید اور ماسٹر یا مولوی صاحب کی مار دیکھتا تو قدرتی طور پر ابتدا میں مزاحمت کرتا پہلے روز مولوی صاحب کو ’’شروع کرائی‘‘ نذر کی جاتی اور بچوں میں شیرینی تقسیم کی جاتی۔ رفتہ رفتہ بچہ خود ہی بغل میں بستہ مار کر ہاتھ میں کالی سیاہی کی مٹی کی دوات اور تختی لیے اسکول جانے کا عادی ہو جا تا۔نئے ہمجولیوں کے ساتھ ماسٹر جی کی غیر موجودگی میں خوب شور بر پا رہتا۔
بزرگوں کو وہ پہلی پہلی ماسٹر جی کی مار تو ضرور ہی یاد ہوگی ،جب نا تجربہ کار نئے نئے بچوں کی سیاہی سے بھری دوات میں قلم ڈبونے سے اس میں پڑا پھونسٹراقلم کی نوک میں اٹک کر باہر گر پڑتا اور بچھا ہوا ٹاٹ ،فرش، دیواریں اور ہاتھ پیر…

مزید پڑھیں

کریلا حلیم – بتول جون ۲۰۲۲

ہماری شادی کو تقریباً پانچ برس ہو چکے تھے، ہم نئے نئے مظفر آباد سے راولپنڈی شفٹ ہوئے تھے۔ ہمارا گھر میکے سے چند گلیاں دور تھا۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں، اور ہمارے پھوپھی زاد سعید بھائی جان بھی چھٹیاں گزارنے چلاس سے راولپنڈی آئے ہوئے تھے۔ اتنے عرصے بعد چند گھر اتنے قریب آ گئے تھے۔ دستر خوان پر کسی کو اپنے گھر کا کھانا پسند نہ آتا تو چپکے سے یا ہلکے اعلان کے ساتھ ہمارے ہاں آ جاتا کیونکہ ہمارے میاں صاحب خوش خوراک بھی تھے اور مہمان نواز بھی! جب عین کھانے کے وقت دروازے کی گھنٹی بجتی تو صاف ظاہر ہوتا کہ یہ ہمارے ودود بھائی ہوں گے، جو ایم ایس سی کے دوران دو برس ہمارے ساتھ مظفرآباد بھی رہ چکے تھے۔ کبھی ان کے ہمراہ ٹیپو بھی ہوتا، اور کبھی ان کے پیچھے باسط بھی نمودار ہوتا۔
ایک روز ہم ناشتے سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ پھوپھی زاد سعید بھائی جان آگئے، وہ بازار جا رہے تھے۔ ہمارے میا ں بھی ساتھ چل پڑے۔ جاتے ہوئے اتنا ہی کہا کہ ’’باسط کے ہاتھ کھانا پکانے کا سامان بھجوا دوں گا‘‘۔
کچھ ہی دیر بعد باسط آ گیا، اس کے ہاتھ میں ایک شاپر میں…

مزید پڑھیں

وہ جنہیں آخرت سدھارنے کا موقع ملا – بتول جون ۲۰۲۲

اللہ کی نگاہِ کرم کے بغیر کوئی کام تکمیل کو نہیں پہنچتا اورجن پر اللہ کی نظر کرم ہو وہ دنیا کے خوش نصیب انسان بن جاتے ہیں۔ڈیلی نیوزامریکہ سے نہال ممتاز نے دل خوش کن تحریر بھیجی ہے ۔ ایمان سے آگہی کا یہ سفر ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہدایت صرف اسے نصیب ہوتی ہے جوہدایت کا طالب ہوتا ہے وہ مسلمان خوش نصیب ہیں جنہیں اللہ نے مسلم گھرانوں میں پیدا کیا اور پھر ایمان ، حقانیت اور ہدایت کی نعمت سے مالا مال کیا۔
اس مضمون میں ہالی وڈ اوربالی وڈ کے ان فنکاروں کا ذکر ہے جنہوں نے اسلام قبول کر کے اپنی عاقبت سدھارلی( یہ الگ بات کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی زندگیوں میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں اور کیا نہیں )۔
مقبولیت ، شہرت اوردولت کی چکا چوند والی شوبز کی دنیا اکثر لوگوں کی عقل پر پٹی باندھ دیتی ہے ۔ ہالی وڈ میں اسلام کی روشنی سے منور ہونے والوں میں نمایاں ترین نام مصری ادا کار عمر شیرف کا ہے جسے عموماً عمر شریف پکارا جاتا ہے انہوں نے شوبز کیرئیر کا آغاز 1953ء میں ایک مصری فلم میں ادا کاری سے کیا اپنی عمدہ ادا کاری کی بدولت…

مزید پڑھیں

رشّو کی نانی – بتول جون ۲۰۲۲

رشّو کو آج نانی اماں کی باتیں بہت بری لگی تھیں۔ شاید اس لیے کہ وہ اب بڑی ہوگئی تھی۔ یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے جب بچوں کو دوسروں کی روک ٹوک بری لگتی ہے۔ وہ اپنے بارے میں کچھ سننا ہی نہیں چاہتے۔ اس لیے لوگوں کی نظروںسے اوجھل رہ کر راستے بدلتے رہتے ہیں۔
یہی حال رشّو کا تھا۔وہ اپنے اوپر زیادہ توجہ دینے لگی تھی۔ بال کیسے بنائے جائیں،کپڑوں کا فیشن، جوتوں اور چوڑیوں کی میچنگ،آنکھوں میںکاجل،ہلکی سی لپ سٹک بھی،اٹھنے بیٹھنے اورچلنے کے انداز۔ بس نانی اماں کو رشّو کی یہی ادائیں ناپسند تھیں۔ بلکہ انہوں نے کچھ زیادہ ہی روک ٹوک شروع کردی تھی۔
آج آپا کی شادی تھی۔ رشو نے بیوٹی پارلر سے بال بنوائے۔ اچھے اچھے کپڑے، لمبے لمبے بندے پہنے۔ ابھی وہ اپنے سراپا کو آئینے میں دیکھ ہی رہی تھی کہ نانی اماں کی نظرپڑی۔
’’رشو ادھر تو آئو۔ میں بھی تودیکھوں۔‘‘
یہ سنتے ہی رشو نے نانی اماں کو سلام کیا اوران کے گلے لگ گئی، بڑی خوش ہوکر بولی’’ نانی اماں میں کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘
’’بھئی تم تو ہو ہی اچھی لیکن سرپر یہ گھونسلا نہ ہوتا تو اوراچھی لگتی۔‘‘
’’ارے نانی اماں! اس پر میں نے500روپے خرچ کیے ہیںآپ اسے گھونسلا کہہ…

مزید پڑھیں

ذرا سوچیے – بتول جون ۲۰۲۲

اس شام جب وہ اپنی ماں سے لڑ جھگڑ کر چودھری صاحب کے ڈیرے پر پہنچا تو اس نے دیکھا بڑے چودھری صاحب دلدار حسین اپنے بیٹے کو سمجھا رہے تھے ۔ بیٹے اب تم شہر میں اپنی آمدو رفت کم کردو اور دوسرے گل چھرے بھی ختم کر دو کیونکہ اگلے سال وہ اسے الیکشن میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے بیٹے سے کہا تمہاری ذرا سی غلطی اخباروں کومل گئی تو وہ ایسی ہوا دیں گے کہ الیکشن لڑنا مشکل ہو جائے گا ۔ چوہدری صاحب تھوڑی دیر رک کر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولے ۔ فیکا کہاں ہے ؟ ادھر سرکار…یہاں ادھر ہوں۔ فیکا اپنی جگہ کھڑا ہوگیا ۔چودھری صاحب نے فیکے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔ خیال رکھا کر چھوٹے سر کار کا ۔ اگر کچھ ایسا ویسا ہو گیا تو تیری چمڑی ادھیڑدوں گا ۔ فیکا گھبرا گیا ۔ اس سے پہلے چودھری صاحب نے ایسی بات کبھی نہیں کہی تھی ۔ وہ حیرت سے نظریں جھکائے خاموش کھڑا تھا ۔ بڑے چودھری سمجھدار اور گھا گھ بندے تھے ۔ اسے خاموش دیکھ کر بولے اوئے ! تو تو ساتویں جماعت پاس ہے ، اپنے یار کا خیال رکھا کر، سمجھ گیا…

مزید پڑھیں