بتول مارچ ۲۰۲۲

ساس کی آنکھ کا تارا بنـــیـے – بتول مارچ ۲۰۲۲

چاند کا چمکنا دمکنا اپنی جگہ، شاعروں کا اپنے محبوب کو چودھویں کے چاند سے تشبیہ دینا اور اس کے حسن کی تعریف میں زمین و آسمان کے درمیان قلابے ملانا بھی اپنی جگہ، لیکن اس حقیقت سے کوئی بندہ بشر انکار نہیں کر سکتا کہ آسمان کا اصل حسن تو تارے ہیں۔ یوں بھی کہا جاتا ہے کہ حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے۔اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی رشتے کی آنکھ کا حسن یا تارا بننا کوئی آسان کام نہیں۔ خاص کر بہو کے لیے ساس کی آنکھ کا تارا بننا جو کہ جان جوکھوں کا کام ہے۔ آئیے آج ہم آپ کو اس مشکل اور جان جوکھوں میں ڈالنے والے کام یعنی ساس کی آنکھ تارا بننے کے چند آسان اور مفید گر بتاتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھیں جب آپ اپنی ساس کی آنکھ کا تارا ہوں گی تو پورے گھر کا حسن بھی آپ ہی ہوں گی۔
1 ۔صبح سویرے آنکھ کھلتے ہی دوڑ کر ساس کے کمرے کی طرف جانا ہے نہ صرف زبان سے سلام کرنا ہے بلکہ آگے بڑھ کر ان سے زور دار جپھی (گلے ملنا) بھی ڈالنی ہے لیکن اتنی زور سے نہیں کہ اس…

مزید پڑھیں

موسمِ وبا میںعمرہ کی روداد – بتول مارچ ۲۰۲۲

میں گھر کے کام کاج میں مصروف تھی جب ہماری پیاری سی پڑوسن کا نام ہمارے موبائل پر چمکا۔ ہم نے سرعت سے اسے کھولا تو ایک خوبصورت پیغام تھا:
عمرہ کرنا ہے آپ نے؟ میں نے آپ کی اگلے ہفتے کی بکنگ کروا دی ہے۔ نیچے بکنگ کی تفصیلات تھیںجس کے مطابق ۳۱ مارچ ۲۰۲۱ سے سفر کا آغاز کرنا تھا، اور یکم اپریل کو عمرہ ادائیگی تھی۔ لبیک اللھم لبیک!
میاں صاحب گھر آئے تو ان سے ذکر کیا۔ انہیں بھی علم نہیں تھا، مگر انہوں نے بھی کامل اطمینان کا اظہار کیا۔ اور ہم نے ہولے ہولے تیاری شروع کر دی۔ ہمیں بدھ کو علی الصبح روانہ ہونا تھا۔ پہلی رات مدینہ منورہ گزار کر اگلی صبح مکہ روانگی تھی۔ ہم دونوں، شاہد صاحب اور توصیف صاحب کی فیملیز ہمارے ساتھ تھیں۔ ہماری منی ہمیں تیاری کرتے ہوئے دیکھ کر کئی مرتبہ سوال کر چکی تھی:
’’اس مرتبہ پھر چھوڑ جائیں گی مجھے‘‘۔
اور ہم بے بسی سے اثبات میں سر ہلا دیتے۔ اس کی عمر ابھی اٹھارہ برس نہ ہوئی تھی، اس لیے اسے ابھی عمرہ کی سہولت بھی حاصل نہ ہوئی تھی، ہم نے قمری کیلنڈر کے جمع تفریق سے بھی اس کی عمر کا تخمینہ لگایا مگر اٹھارہ…

مزید پڑھیں

ٹانگے والا خیر منگد – بتول مارچ ۲۰۲۲

رشیدہ نے باورچی خانے کے ساتھ بنی پڑچھتی پر تام چینی کے برتن ٹکائے ۔ صحن میں جلدی جلدی جھاڑو دی باقی دیگچیاں دھونے کا ارادہ چھوڑ دیا ۔ کمر سیدھی کر کے دل ہی دل میںکہا باقی برتن اماںہاجرہ پھوپھی کے گھر سے آکر خود ھو لے گی ۔رشیدہ نے باہر نکلنے سے پہلے صحن اور باورچی خانے کی طرف ایک تنقیدی نظر ڈالی۔’’ کام سارا نبیڑ تو لیا ہے‘‘۔
اماںنے کہا تھا خبر دار کام ختم کیے بغیر گھر سے باہر قدم نکالا۔
نوسالہ رشیدہ کا دل تو مامی صغراںکے ہاں ہی اٹکا رہتا تھا ۔ نیا نیا ٹیلی ویژن آیا تھا ۔ ماما پچھلے ماہ پورے ایک ماہ رہ کر واپس سعودیہ گیا تھا ، چلتی پھرتی تصویریں دیکھتے رشیدہ گم ہو جاتی ۔ جیسے اس کی روح اسکرین میںاتر گئی ہو اور جسم سامنے سن بیٹھااُسے تکے جا رہا ہے۔
اسکرین پر وہ گانا سنا جو مسافروں کو ادھر سے اُدھر لے جاتے ہوئے اس نے پہلی دفعہ ملنگا ٹانگے والے کو گاتے سنا تھا ۔ اسکرین پر سنا تو رشیدہ کی زبان پر چڑھ گیا ۔ مسعود رانا نے جیسے یہ گانا سارے ٹانگے والوںکے لیے ہی گایا تھا ۔ ٹانگہ چلاتے ہوئے ٹانگے والے گاتے تو دیہات…

مزید پڑھیں