بتول مارچ ۲۰۲۲

قراردادِ پاکستان اورمخالفین کے بے بنیاد الزامات – بتول مارچ ۲۰۲۲

قیام پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین سنگِ میل اور روشن ترین باب ، حقائق کے تناظر میں مکمل تفصیلات
خطبہ الٰہ آباد سے قرارداد پاکستان کا دس سالہ عرصہ کتابوں کا موضوع ہے کیونکہ میری ذاتی رائے میں ہندوستان کے مسلمانوں کی زندگی میں یہ دہائی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ میرے نزدیک یہ دہائی (1940-1930) ہندوستانی مسلمان کی تاریخ کی اہم ترین دہائی ہے ۔ اس موضوع پر مضمون گویا سمندر کو کوزے میںبند کرنے کے مترادف ہے اس لیے بہت سے غیر اہم حقائق سے صرف نظر کرنا پڑے گا ۔
’’Immortal Years‘‘کا مصنف ایولن رنچ لکھتا ہے کہ میں نے جناح سے پوچھا کہ آپ کو پاکستان کا خیال یعنی ایک آزاد مسلمان مملکت کا خیال پہلی بار کب آیا ؟ قائد اعظم نے جواب دیا تھا 1930ء۔ اسی سال علامہ اقبال نے دسمبر 1930 میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلمان اکثریتی علاقوں پر ایک ریاست کا تصور پیش کیا ۔ اگرچہ انہوں نے اس کے قیام کے لیے Within or Withoutکے الفاظ استعمال کیے کہ اس ریاست کو ہندوستان کی فیڈریشن کے اندر یا باہر قائم کیا جا سکتا تھا لیکن بعد ازاں انہوں نے کئی بار اس کی وضاحت کی کہ ان…

مزید پڑھیں

استقبال ِ رمضان – بتول مارچ ۲۰۲۲

مہینوں سے کچرا وہاں جمع ہو رہا تھا۔ تعفن سے سانس لینا دوبھر تھا۔ اس سے چھٹکارے کی صورت نظر نہ آتی تھی۔ ایک صاحب نے آگ لگا دی۔
کچھ دن بعد وہاں سے گزر ہؤا ۔ کچرے کا نام و نشان تک نہ تھا۔کسی نے راکھ اٹھا کر نئی مٹی ڈال کر کچھ بو دیا تھا۔
خوشگوار حیرت کچھ عرصے بعد گزرنے پر ہوئی۔ وہاں چھوٹے چھوٹے پودے ترتیب سے اگ آئے تھے۔درمیان میں کیاری میں تروتازہ سبزیاں جا بجا پھول اپنی بہار دکھا رہے تھے۔یقیناً کسی نے مستقل توجہ دی تھی۔
آج معمولات سے فراغت کے بعد منزل مقصود استقبال رمضان کا پروگرام تھا۔ درس دینے والی کا پہلا جملہ ہی چونکا گیا۔ وہ رمضان کا مطلب ’’جل جانا‘‘بتا رہی تھیں۔
سوال ہؤا کس چیز کا جل جانا؟
جواب تفصیلی تھا۔
’’یہ مہینہ ایک بھٹی کی مثل ہے جو گزشتہ گناہوں کو جلا دیتی ہے۔ مومن پاک صاف اجلا ہو جاتا ہے۔ اس میں خیر اور بھلائی کے لیے ویکیوم پیدا ہوجاتا ہے۔جگہ صاف کرکے نئی مٹی ڈال کر بیج بوئے جائیں تو کئی طرح کے پودے ،پھل اور پھول اگائے جا سکتے ہیں‘‘۔
ذہن میں کچرے سے کیاری کا سفر آ گیا۔
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ،ایک بڑے انقلاب کا پیامبر ، کچرے سے…

مزید پڑھیں

محشر خیال – بتول مارچ ۲۰۲۲

بشریٰ تسنیم۔ ملتان وسط فروری میں بتول کا دیدار نصیب ہؤا۔ اداریہ حسب معمول اہم خبروں اور حالات پہ معتدل تجزیہ تھا۔الطاف فاطمہ کا افسانہ’’پھول اور پتھر ‘‘ واقعی بہترین انتخاب تھا ۔ قانتہ رابعہ کے افسانے کے اختتام پہ سوچ ’’احساس محاسبہ‘‘نکتے پہ جامد ہوگئی ۔ رسالہ ابھی زیر مطالعہ ہے ۔ ان سب قارئین کا بہت شکریہ جو محشر خیال میں یا فون، واٹس ایپ کے ذریعے ’’گوشہِ تسنیم‘‘کے کالم پہ پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں ۔ وہ سب’’ محشر خیال‘‘ میں بھی رسالے پہ اپنے تاثرات ارسال کیاکریں تو اچھا لگے گا۔ اس مرتبہ بتول میں تصویروں والا تجربہ اچھا ہے اگر چہ تصویریں بہت واضح نہیں تھیں ۔ خواجہ مسعود صاحب کی غیر حاضری محسوس ہوئی ،امید ہے خیریت سے ہوں گے ۔ پروفیسر خواجہ مسعود ۔راولپنڈی ’’ چمن بتول ‘‘ ماہ فروری 2022 کا ٹائٹل وادیٔ کشمیر جنت نظیر کے ایک خوبصورت منظر سے مزین ہے وہاں لکڑی کے گھر پانی کے اندر کھڑے ہوتے ہیں اور لوگ کشتیوں کے ذریعے گھر تک آتے ہیں۔ ’’ ابتدا تیرے نام سے ‘‘ مدیرہ محترمہ صائمہ اسما کا ایک فکر انگیز تبصرہ آپ نے صحیح کہا ہے کہ کراچی میں جماعت اسلامی اور گوادر میں مولانا ہدایت…

مزید پڑھیں

مکدّر دل – بتول مارچ ۲۰۲۲

صالحہ کے میاں راشد صاحب نے ان کی خواہش پر اتوار کے دن سینڈزپٹ پر ہٹ بک کروایا۔آج کل صالحہ بیگم کے روز و شب میں قنوطیت یاسیت طاری تھی۔بلکہ بیٹی کرن کی شادی کے بعد یہی حالات تھے۔ایسے میں میاں راشد صاحب ان کا ڈپریشن ختم کرنے کے لیے یہی ترکیب کیا کرتے کہ ان کی پسندیدہ تفریح کا اہتمام کرتے۔سمندر کنارے بیٹھ کر ڈوبتے منظر کا نظارہ کرنا انھیں بہت پسند تھا۔عمر کے اس حصے میں تھے کہ ایک دوسرے کی پسند کا احترام تھا یا دونوں کی پسند ہی ایک ہو گئ تھی۔میاں راشد بھی بیگم کے ساتھ اس منظر سے لطف اندوز ہوتے۔
سورج آگ برسا برسا کر اب ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔اس لیے ہوا کے جھونکے بڑے دلفریب لگ رہے تھے۔ سورج سرخ تانبا سا ہوگیا تھا۔لال گول سی ٹکیہ سی نکلنے والی شعاعیں پانی میں منعکس ہو کر پانی کی سطح پر مختلف شوخ رنگ بکھیر رہی تھیں ۔سورج پانی سے ملنے کو بے تاب نظر آرہا تھا ۔یہ وقت صالحہ کو ہمیشہ وصل کا وقت لگتا ۔سورج ڈھل کر پانی میں گم ہوگیا دو وقت بھی آپس میں گلے مل گئے صالحہ کے دل پر چھائی اداسی قنوطیت جیسے مٹ گئ۔
دور کہیں سے اللہ…

مزید پڑھیں

عورت کم زور ہے؟ – بتول مارچ ۲۰۲۲

عورت کم زور، کم ہمت، پست حوصلہ ہے،کیونکہ وہ صنف نازک ہے!
ہم سب یہی سنتے چلے آرہے ہیں، لیکن کیا یہ حقیقت ہے یا محض ایک مفروضہ؟
ایک بے بنیاد تصور کو ایک بروقت قدم ہی زمیں بوس کرسکتا ہے۔ جی! بالکل ایسا ہی ہے۔ جیسے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو ایک چھوٹا سا جگنو ہی پچھاڑ ڈالتا ہے۔
جیسے شدید دھند کو سورج کی ایک کرن ہی پرے دھکیل ڈالتی ہے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں:
ایک جگنو ہی سہی ساتھ سفر میں رکھنا
تیرگی کو کبھی بے باک نہ ہونے دینا
اور یہ بھی کہ:
چند لمحوں میں سبھی عکس نکھر آئیں گے
دُھند کا راج ہے بس دھوپ نکل آنے تک
عورت جب ظلم کے مقابل پورے عزم کے ساتھ آن کھڑی ہو تو کیا پھر بھی اسے صنف نازک کہا جائے گا۔ ؟
عورت صنف ناک ہوتی ہے، جی! اسے آبگینے سے تشبیہ دی گئی ہے، بالکل درست ہے یہ، لیکن جب حق کی طرف سے باطل کے سامنے آجائے تو پھر چشم فلک دیکھتی ہے کہ یہی صنف نازک مجسم عزم و حوصلہ بن کر اس کو للکار تی ہے۔
کیا ہم اسلام کی پہلی شہید خاتون حضرت سمیّہؓ کو بُھول سکتے ہیں؟
کیا دربار یزید اور بازارِ شام میں خطیبۂ مظلوم جناب زینبؓ کے خطبات کی…

مزید پڑھیں

مٹی کی چڑیا – بتول مارچ۲۰۲۲

دن ڈھلے جب رانو باہر سے بکریاں لے کر آئی ، اس وقت وہ جانے کے لیے چار پائی سے اٹھ رہے تھے ۔ دونوں نے یکے بعد دیگرے اس کے سر پر یوں ہاتھ رکھا جیسے پوسٹ ہونے والے لفافوں پر ڈاک مہر رکھ کر اٹھا لی جاتی ہے اور پھر کھٹاراسی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر چلے گئے۔
بانس کے ستونوں پر کپڑے کی چھتوں والی جھگیوں کی اس بستی میں دائیں طرف سے چار چھوڑ کر اگلی دو جھگیاں رانو کی ہیں جن کے سامنے چند قدموں کی جگہ کو اطراف میں لگی اینٹوں نے کچے صحن کی شکل دے رکھی ہے جہاں ابھی کچھ دیر پہلے ایک چار پائی پر رانو کے اماں ابا اور دوسری پر ایک پکی عمر کا شخص اور عورت جو شاید اس کی بیوی تھی ، بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔
’’ اماں یہ کون لوگ تھے ؟‘‘ رانو نے اماں سے پوچھا تھا ۔ ساجے نے ایک نظر شاداں کو دیکھا اور چپ چاپ جھگی کے اندر چلا گیا ۔
’’ مہمان تھے رانو اور تو اتنی دیر لگا آئی ، رنگ کب کرے گی ؟‘‘
’’ اماں بس ابھی کر دیتی ہو ں‘‘۔اس نے اپنی پوریں چڑیوں پر پھیرتے ہوئے جواب…

مزید پڑھیں