بتول مارچ ۲۰۲۲

بے مہرکورونا – بتول مارچ ۲۰۲۲

سچ ہی کہتے ہیں کہ جب تک کسی بھی قسم کی آزمائش خود پر نہ پڑے اس وقت تک اس کی شدت یا خوفناکیت کا اندازہ ہونا ممکن نہیں۔ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہؤا۔ یہ بھی نہیں کہ کوویڈ 19 کی تباہ کاریوں سے میں بالکل ہی بے خبر تھا یا معاشرے میں گھومنے پھرنے والے دیگر افراد کی طرح ان تمام احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا جن کی ہدایات بار بار ذمہ دار محکموں کی جانب سے جاری کی جارہی تھیں، اجتناب کر رہا تھا۔ شاید ہی کبھی ایسا ہؤا ہو کہ میں نے گھر سے باہر ایسی حالت میں قدم باہر رکھا ہو کہ میرے چہرے پر ماسک نہ ہو یا میں بلا ضرورت گھر سے باہر نکلا ہوں۔ نماز پڑھنے کے لیے بھی صرف اور صرف ایسی مساجد میں جایا کرتا تھا جہاں حکومتی ہدایات کے مطابق نماز ادا کی جاتی تھی۔ بازاروں میں تو آناجانا بالکل ہی بند کر دیا تھا۔ محلے میں بھی اگر کسی ایسے اجنبی کو آتا جاتا دیکھتا جس سے شناسائی نہ ہو تو گھر کے اندر لوٹ آتا تھا۔ اکثر افراد کہا کرتے تھے کہ کورونا جیسی بیماری کا شور محض ایک ڈراوا ہے تو میں ان کو پاکستان اور…

مزید پڑھیں

بتول میگزین – بتول مارچ ۲۰۲۲

اے فخر دیں!تجھے مرحبا تجھے آفریں
بریرہ صدیقی۔ جرمنی
خیروشر کے ازل سے جاری معرکہ حق و باطل میں نعرہ تکبیر کی معجزاتی تاثیر ہمیشہ عقل انسانی کو مبہوت کردیتی ہے۔ کبھی فاران کی چوٹیوں سے اللہ اکبر کی پکار کےساتھ طلوع ہوتاسورج پوری دنیا کے ظلمت کدے کو اپنی کرنوں سے منور کرتا ہےتوکبھی چاغی کی پہاڑیاں اعلائے کلمتہ اللہ کی پکار پہ لبیک کہتی، ایٹمی قوت بننے کی نوید سناتی ہیں۔ کفر کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہے جبکہ قوم اس عظیم فتح کے دن کو یوم تکبیرسے موسوم کرتی ، ہر سال اس کا جشن مناتی ہے۔
حال ہی میں، ایک بار پھر تاریخ عرب کے ریگزاروں سے چودہ سو سال کا سفر طے کرتی ریاست کرناٹک کے کالج میں آپہنچی ہے ۔معرکہ حق و باطل ایک بار پھرسجا ہے اور شیطان ایک بار پھر اپنے لاؤ لشکراور ذریت سمیت ارغوانی اور نارنجی شالیں لہراتا آپہنچا ہے۔
کیمرے کی آنکھ جو منظر پیش کرتی ہے اس سے لگتا ہے کہ نہتے منحنی سے وجود پر لپکنے والے بےضمیر شرپسندوں کو انتظامیہ مداخلت کرکے روکتی ہے لیکن قلبی واردات اس کے برعکس گواہی دیتی ہے کہ ، ’’شاھت الوجوہ ‘‘ ،’’رسوا ہوں وہ چہرے ‘‘کہہ کر جو خاک مشرکین مکہ کے چہروں…

مزید پڑھیں

ابتدا تیرے نام سے – بتول مارچ ۲۰۲۲

قارئین کرام! سلام مسنون
ایسے میں جبکہ بھارت کی انتہا پسند ہندو حکومت نے مسلمانوںکا جینا حرام کررکھا ہے اور دنیا میں ہر جگہ بھارتی مسلمانوں کے لیے تشویش پائی جاتی ہے، کرناٹکا بھارت کی نوعمر بہادر لڑکی مسکان نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل جیت لیے۔
پاکستان ایک اسلامی آئین رکھتا ہے جو اس کے قیام کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے اور یہاں کی چھیانوے فیصد مسلم آبادی کی خواہشات کا ترجمان ہے۔ پاکستان توبنا ہی مسلمانوں کے لیے تھا۔اور اس وجہ سے بنانا پڑا کہ ہندو اکثریت کا تعصب مسلمانوں کو متحدہ ہندوستان میں برابر کا مقا م دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ صرف مسلمان کیا کسی بھی اقلیت کو، یہاں تک کہ اپنے ہی نیچ ذات ہندؤں کو وہ اپنے برابر نہیں سمجھتے۔یہی وجہ ہے کہ انتہا پسند ہندو گروہوں کو جہاں اور جب بھی اختیارواقتدار ملا ہے، اقلیتیں ان کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہیں۔ہندو مذہبی جذبات پر مبنی اقتدار کا مطلب بھارت میں رہنے والوں کے لیے تباہی ہے۔ پاکستان کا آئین اگر اسلام کو اپنے قوانین کا سرچشمہ سمجھتا ہے، اس کے باشندوں کو اسلامی طرز زندگی کی ضمانت دیتا ہے اور ایسا ماحول دینے کا وعدہ کرتا ہے جو اسلامی قوانین کی روح…

مزید پڑھیں

رومان پرور باتیں – بتول مارچ ۲۰۲۲

انسانوں کے بے شمار مزاج ہوتے ہیں۔ اور ہر مزاج کا ایک الگ ہی رنگ ہوتا ہے لیکن یہ ایک فطری تقسیم ہے کہ خوشی سچی ہو اور غم گہرا ہو تو اس پہ سارے انسانوں کا اظہار ایک جیسا ہی ہوگا۔ خوشی میں مسکرانا، ہنسنا یا قہقہہ لگانا اور اداسی، غم، تکلیف یا پریشانی میں اظہار کے سب تاثرات آفاقی ہیں۔
محبت اور نفرت آفاقی جذبے ہیں ان کے اظہار کے لیے انداز بھی ہر انسان میں ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ دنیا کے کسی خطے میں یہ نہیں ہوتا کہ انسان جب کسی سے خوش ہو تو اظہار کے لیے اسے مار پیٹ کرے یا اسے اذیت دے اور نہ ہی کہیں یہ ملے گا کہ کوئی اپنی عزتِ نفس پامال کرنے والے سے دلی تعلق محسوس کرے۔ اور اس بات کا چرچا کرے کہ فلاں نے آج مجھے بہت بےعزت کیا اس لیے میں بہت خوش ہوں۔ یقیناً یہ غیرفطری اور لایعنی تصور ہے۔
انسانوں کی زندگی میں رومان بھی روح کی تسکین کے لیے ایک فرحت افزا اور خوب صورت جذبہ ہے۔
ہر باذوق فرد رومان پرور ماحول، رومانی باتیں، رومانی کہانیاں اور نغمے پسند کرتا ہے۔ رومان کے بارے میں بھی سب کا نقطہٴ نظر ایک جیسا نہیں…

مزید پڑھیں

ملاکا کی سیر- بتول مارچ ۲۰۲۲

ملاکا کی سیر کی تفصیلات ہمارے سرتاج من عزیز کی بیماری کی نظر ہو گئیں۔ اللہ کا شکر تھا کہ وہ جلد ٹھیک ہو گئے، لیکن کئی دن تک طبیعت نڈھال رہی اور وہ نرم غذا کے علاوہ کچھ اور نہیں کھا سکتے تھے۔
ملاکا جنوب مغربی ملیشیا کا شہر ہے جسے سیاحوں کا شہر بنا دیا گیا ہے۔ یہ بہت پرانی بندرگاہ بھی ہے جہاں سے بڑے بڑے تجارتی جہاز گزرا کرتے تھے جو ایشیا کے مختلف حصوں سے تجارتی سامان لے کر جاتے تھے۔ بہت صدیاں پہلے یہاں کے راجہ نے اسلام قبول کر لیا تھا اور ملاکا اسلامی ریاست کا صدر مقام بن گیا۔ یہاں پر کئی عجائب گھر ہیں جن میں قرآن کے قدیم نسخے، پرانے مخطوطات اور نقشے محفوظ کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک عجائب گھر میں ہم نے ملائی زبان کو اپنے اصلی رسم ا لخط میں لکھا ہوا دیکھا۔ ورنہ ترکی زبان کی طرح ملائی زبان بھی اب رومن رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ سمندری سفر اور جہازوں سے متعلق بہت سا سازوسامان بھی ان عجائب گھروں میں محفوظ کیا گیا تھا۔ اسی طرح انگریز دور حکومت کی یادگار کے طور پر کچھ چرچ بھی ہیں جو تقریباً کھنڈر بن چکے…

مزید پڑھیں