چڑیا / شبنم( نظم) – نور مارچ ۲۰۲۱

کوئی تبصرہ نہیں

چڑیا
آجا پیاری چڑیا آجا
میری گود میں آن سماجا

کب سے تجھ کو ڈھونڈ رہا ہوں
تیری راہیں دیکھ چکا ہوں

کیوں مجھ سے روٹھی ہو چڑیا
دور کیوں جا بیٹھی ہو چڑیا

آ میں تیرا دل بہلائوں
تیرے سارے ناز اٹھائوں

لے گاجر کا حلوہ کھالے
اس سے اپنی بھوک مٹا لے

شبنم
فلک سے گرتی شبنم
فرش پہ پڑتی شبنم

گھاس کے منہ پہ پھیلی
مثل ِ گوہر یہ چمکی

اس کے ننھے قطرے
جن کو ہم رس سمجھے

برگ پہ ہو ہریالی
دُھل گئے گل اور ڈالی

دور سے لگیں جواہر
قمرؔ یہ چرخے سے گر کر

چوہدری قمر جہاں

* * *

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp