ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

یادِ ماضی – بتول جنوری ۲۰۲۲

انسان جب سے ہوش سنبھالتا ہے اپنے ساتھ اچھے برے ہونے والے معاملات کا سامنا کرتا ہے۔ بہت چھوٹی عمر میں ہونے وا لے زیادہ تر واقعات اس کی یادداشت سے محو ہو جاتے ہیں، کچھ غیر معمولی واقعات ہی اس کو یاد رہتے ہیں اور ان کا نقش انسان کی زندگی پہ بہت گہرا ہوتا ہے جو آخری عمر تک نہیں مٹتا۔ دانائی سے بھرا یہ قول خود پتھر پہ لکیر ہے:
’’بچپن کے نقش گویا پتھر پہ لکیر ہوجاتے ہیں‘‘
ہماری زندگی میں منفی و مثبت جذبات کا بھی ایک مقام ہے اور یہی جذبات ہماری زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ جذبات ہماری یادوں پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ ہم ان چیزوں کو بہت اچھی طرح یاد رکھتے ہیں جن کے جذباتی اثرات ہم پر گہرے ہوتے ہیں۔
مثلاً ہر شخص کو یاد رہتا ہے وہ دن، جب اس کا کوئی پیارا رشتہ دنیا سے چلا جاتا ہے۔ وہ آخری ملاقات یا بات جو فوت ہوجانے والے کے ساتھ ہوئی ہوتی ہے۔
وہ پہلے قلبی احساسات جو کسی پہلی کامیابی سے پیدا ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ سب یاد آتے ہیں جنہوں نے کامیابی پہ اچھے یا برے ردعمل کا اظہار کیا ہوتا ہے۔ یا وہ پہلا صدمہ جو غیر متوقع طور پہ وارد ہوتا ہے۔ اسی طرح جدائی کے وہ لمحات جب کسی پیارے سے پہلی بار جدا ہونا ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی حادثے، سانحے کے مواقع یاد رہ جاتے ہیں۔ کبھی قومی و ملی خوشی یا غم انسان کی یادوں میں بس جاتا ہے۔
بعض اوقات بھولی بسری یاد کسی ایسے لمحے اعصاب، دل و دماغ پہ حاوی ہو جاتی ہے جب کوئی رنگ، خوشبو، ساز وآواز یا ماحول اس واقعہ کا تاثر دیتا ہے۔
اجنبی مقامات پہ کوئی غیر معمولی آشنا احساس چونکا دیتا ہے۔ پردیس میں وطن کی یاد ایسے ہی کسی لمحے میں رونے پہ مجبور کر دیتی ہے۔ کسی کا چہرہ دیکھ کر ماں کی شفقت کی خوشبو پھیل جاتی ہے تو کبھی بچپن کی اور کبھی احباب کی محبت دل کو گرمانے لگتی ہے اور خوشبو، رنگ اور ساز انہی محفلوں، زمانوں اور ماحول میں پہنچا دیتے ہیں۔
اسی طرح بہت سے ملکی یا بین الاقوامی واقعات، تاریخ کا ایسا حصہ بن جاتے ہیں جن کے حوالے سے عوام الناس اپنی ذاتی یادداشت کا سہارا لیتے ہیں۔مثلاً یہ اس سال کی بات ہے جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہ حملہ ہؤا تھا۔ یا میں نے اس سال حج کیا تھا جب کعبہ پہ باغیوں نے حملہ کیا تھا۔ جس دن افغانستان پہ روس نے حملہ کیا تھا تو میری نوکری کا پہلا دن تھا وغیرہ،انسانی یادداشت کا تعلق کسی خاص نکتے سے جڑا ہوتا ہے جو اس کے لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس نکتے یا احساس کے تناظر میں اس کی زندگی کے رخ متعین ہوسکتے ہیں۔ انسان کی نفسیات بدل سکتی ہے۔ مقصدِ زندگی پہ اس کا رنگ گہرا ہوسکتا ہے۔ غرض انسان کا ماضی ہی اس کے حال اور مستقبل پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ مستقبل کے نقشے ان تجربات و مشاہدات کی روشنی میں بنائے جاتے ہیں جو یقیناً کہیں نہ کہیں موجود ہوتے ہیں….. کسی کتاب میں، ذہن میں یا کسی کے عمل میں۔
بچپن اور لڑکپن میں انسان کا مختلف قسم کے ماحول سے واسطہ رہتا ہے۔ گھر، خاندان، کالونی محلے کے اچھے برے لوگوں کا ماحول، اسی ایک ماحول سے طبعاً شریف النفس اپنے مزاج اور بد طینت لوگ اپنے مزاج کے لوگوں کو آئیڈیل بناتے ہیں۔
ہر فرد کی یادوں میں کسی کی بے پناہ محبت، کسی کی بے وجہ نفرت، کسی ہم جماعت، ہمجولی کا الزامی یا انتقامی رویہ اور کسی استاد کی یا محلے کے بزرگ کی شفقت، غرض یادوں کا ایسا جم غفیر ہے جس میں سے کچھ یادوں

کے چہرے نمایاں ہوتے ہیں اور کچھ معدوم ہوتے ہیں۔ یادوں کے اس ہجوم میں انسان کی اپنی افتاد طبع کچھ یادوں کے چہرے کو نمایاں کر دیتی ہے۔ اور انہی یادوں کے طفیل عملی میدان میں، شریف النفس کو شرافت اور شریر النفس کو شر دلفریب لگتا ہے۔
عمر کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے انسان کےذہن سے بہت سی یادوں کے نقش دھندلا جاتے ہیں۔ مگر بچپن کے کچھ گہرے نقوش ایسے دیرپا ہوتے ہیں کہ وہ کالے بادلوں کے درمیان جھانکتے چاند کی طرح اپنا آپ منواتے رہتے ہیں غرض یہ کہ بچپن اور لڑکپن زمانے کے ادوار میں سے ہر فرد اپنی افتاد طبع کے مطابق یادوں کو محفوظ کر لیتا ہے۔
نیک طبع اس دور کی صحبت اہل صفا کو، ادبی و علمی سرگرمیوں کو اور مسجد کے ماحول کو اپنے لیے خوش کن یادیں سمجھیں گے اور وقتاً فوقتاً اس ماحول کی یاد میں اداس ہوں گے اور وہاں کے تصور میں غمگین ہوں گے۔ اس جیسے ماحول کے قریب رہنا چاہیں گے۔ مگر شرپسند طبیعت ان شریر لوگوں اور ان کی شرارتوں کو یاد رکھے گی جو اس دور میں دوسروں کے لیے باعث آزار تھے۔ عیاش طبع کے لوگ انہی واقعات اور افراد کے ساتھ وابستگی برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے جو آوارہ مزاج کے تھے۔ کسی کا مسجد اور دینی و علمی محافل میں دل اٹکا رہے گا اور صحبت اہل صفا سے حاصل ہوتے نور و حضور، سرور کا نشہ مطلوب ہوگا، تو کسی کو خوشی سینما گھر، تھیٹر یا میلے ٹھیلے کی پرانی یادوں میں ملتی ہوگی۔ اور وہ اسی ناسٹیلجیا میں جیتا ہوگا اور اسی طرح کے مقامات اور ماحول کے قرب میں رہنا پسند کرتا ہوگا۔ ناسٹیلجیاNostalgia بھی ماضی کی ایسی یاد داشت ہے جس میں انسان ایسا کھویا رہے کہ وہ خود کو اسی زمانے اور ماحول سے منسلک سمجھے اور خود کو ویسے ہی کردار میں ڈھلا دیکھتا رہے اسی تناظر میں کچھ عوامل ایسے بھی ہوتے ہیں جو اِس کی حسرت بن گئے ہوتے ہیں۔ جب ایسے فرد کے ذہن میں جاگزیں، آئیڈیل زندگی کے بر عکس حالات سے سابقہ پڑتا ہے تو اس کے اندر ناسٹیلجیا کی کیفیت فزوں تر ہوتی جاتی ہے۔
بچپن اور لڑکپن کی گلیوں، شہر یا وطن سے دوری کے غالب احساس سے دل میں ایک خاص قسم کی اداسی کا ڈیرہ رہتا ہے۔ نگاہیں وہی چہرے دیکھنا چاہتی ہیں، کان انہی آوازوں کو سننا چاہتے ہیں اور انسان تنہائی میں اسی مقام و ماحول میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ اپنی عمر کے اسی حصے میں جینا چاہتا ہے اور اپنے متعلقین کی طرف سے بھی اسی ماحول کے مطابق طرز عمل کی خواہش کرتا ہے، یہ کیفیت اس پہ وقتاً فوقتاً دورے کی شکل میں طاری ہوتی رہتی ہے اور ذہن میں اضطراب پیدا کرتی ہے۔ اپنے لڑکپن یا ماضی کی منفی دلفریب یادوں کے حصار سے نہ نکلنا اور وہی اندازِفکر شخصیت کا حصہ بنا لینا شخصی کردار کے مثبت ارتقاء پہ بند باندھ دیتا ہے۔ البتہ کوشش کر کے ماضی کے منفی اندازِ فکر میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
اپنے پسندیدہ ماضی کے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنا اچھی بات ہے اگر یہ پرانا ماحول اخلاق وکردار کے لیے تزکیہ کا باعث ہو۔
اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان گزرے وقت کا ذکر مستقبل سے زیادہ کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اپنے آباوٴ اجداد اور ان کے کارناموں کا تذکرہ تسلسل سے کرتا ہے اور ان پہ ہی فخر کرتا ہے۔ اپنے بچپن کی غلطیاں اور ان پہ سرزنش اور سزائیں بھی اب بھلی لگتی ہیں۔ نامور اساتذہ اور بزرگوں سے مار کھانا باعثِ فخر اورکھیل کود میں چوٹیں کھانا یاد آتا ہے تو دل خوش ہوتا ہے۔ امیر ہوجانے والا، گزرے وقت کی غربت میں حاصل شدہ فراغت اور بے فکری کو یاد کرتا ہے تو آہیں بھرتا ہے۔ انواع واقسام کے کھانے پا کر بچپن میں کھائے ہوئے ماں کے ہاتھ کی سوکھی روٹی کی لذت تلاش کرتا ہے۔
یہ بھی عجب بات ہے کہ انسان کی جتنی عمر بڑھتی جاتی ہے وہ یادوں کے حوالے سے اتنا ہی پیچھے جانے لگتا ہے۔ عموماً معمر لوگ ماضی قریب کی باتیں اور مقام بھول جاتے ہیں مگر ماضی بعید کی باتیں پتھر کی لکیر ثابت ہوتی ہیں اور ان کو اکثر بچپن والے مقام اور رشتہ دار ہی خواب میں نظر آنے لگتے ہیں۔
ایک بات اور قابلِ غور ہے کہ کیا انسان کے لاشعور میں بچپن یا پیدائش سے پہلے کا ماضی بھی موجود ہوتا ہے؟
فطری لاشعور کے حوالے سے کیا انسانوں کی یادداشت میں یکسانیت ہے یا اختلاف ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق’’ہر بچہ پیدائش کے وقت مسلم ہوتا ہے‘‘۔ یعنی اولاد آدم کا لاشعور میں دین فطرت سے تعلق موجود ہوتا ہے۔ اور ساری اولاد آدم اپنے رب سے ’’الست بربکم‘‘ کا ایک ہی اقرار، ایک ہی مقام سے کر کے آئی ہے۔ اور ہر روح اپنے آبائی وطن جنت سے وابستہ رہتی ہے اور دنیا میں آکر بھی اپنے ماضی کا آبائی مقام یعنی جنت، اس کے لاشعور میں بسا رہتا ہے۔ اور ویسا ہی گھر یا مقام دنیا میں بھی بنانا چاہتی ہے۔
اب تو سائنس دان بھی اظہار کرنے لگے ہیں کہ انسان اس کرہ ارض پہ اجنبی ہے اور کسی اور مقام سے آیا ہے اور ماضی کے اسی مقام کے مطابق بودوباش رکھنا چاہتا ہے۔
دنیا کے انسانوں میں ہزاروں اختلاف ہو سکتے ہیں مگر موجودہ دنیا کے کسی بھی حصہ کے انسانوں سے یا ماضی میں گزری قوموں کی رہائش کا تصور دیکھیں تو وہ ایک ہی ملے گا۔ اور سبھی اپنے گھر کا ایک جیسا نقشہ نہ بھی بنائیں لیکن اس میں خوب صورتی، کشادگی، سہولت، آرام، بے فکری کے سارے عوامل کے ساتھ گرمی، سردی میں معتدل موسم و آب وہوا اور صاف ستھرا ماحول رکھنےکا انتظام ضرور ہوگا۔ ہر فرد اپنے گھر کا بلاشرکت غیرے مالک و مختار ہونا چاہتا ہے۔
وہ سدا جوان رہنے کے جتن کرتا ہے۔ بیمار اور بوڑھا نہیں ہونا چاہتا، اسے موت پسند نہیں ہے۔ وہ اپنے دل میں پیدا ہونے والی ہر خواہش جلد ازجلد پوری کرنا چاہتا ہے۔ بے عیب شریکِ حیات حاصل ہوجانے کی ہر کسی کو بے قراری رہتی ہے۔ اسے بھوک میں کھانے کے انتظار سے کوفت ہوتی ہے۔
اور یکساں سوچ کا مزید ثبوت یہ ہے کہ دنیا کے ہر خطے کا ہر فرد اپنے گھر میں سبزہ، باغ، پھل پھول، آبشار، روشیں وغیرہ بنانا چاہتا ہے اور کھانے پینے کے لوازمات میں بھی متنوع مشروبات، انواع اقسام کے کھانے، دودھ، شہد، بھنے پرندے، بکثرت پھل، تفریح کا سامان اور خدمت گزاروں کی ریل پیل، ہر انسان کی تمنا ہوتی ہے۔
کیا یہ اپنے ماضی کی اور پہلے گھر ’’جنت‘‘ کی لاشعور میں بسی یاد نہیں؟
واقعی انسان اپنےماضی کی کھوئی ہوئی خوبصورت دنیا کی تلاش میں ہے اور ’’جنت‘‘اس کا ماضی ہے۔ اور بہت مبارک ہے وہ ’’یاد ماضی‘‘ جس کا تعلق ابدی زندگی کے اعلیٰ معیار کی جنت الفردوس سے ہو۔ اور بہت خوش بخت ہیں وہ جو اس ’’مقام ماضی‘‘ پہ واپس پہنچنے کی تیاری کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا تو صرف ایک راستہ ہے ’’اپنے گھر‘‘واپس جانے کا!
٭ ٭ ٭ ≠

 

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x