ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ہم کہ ٹھہرے اجنبی – بتول دسمبر۲۰۲۲

شارجہ کورنیش پہ ایک بلڈنگ میں اس صبح بہت دیر سے ایک لفٹ کسی منزل پہ رکی ہوئی تھی۔ دوسری لفٹ اوپر جانے والوں کے ہاتھوں میں تھی … نیچے جانے والے لوگ اکٹھا ہوتے جارہے تھے۔ کوئی پانچ منٹ میں اوپر جانے والی لفٹ ساتویں منزل پر واپس آ کر رکی تو سب لفٹ میں داخل ہونے میں پہل کرنے کی کوشش میں تھے۔ زیادہ مرد تھے تو صائمہ اور ایک اور خاتون باہر ہی کھڑی رہ گئیں۔
’’مردوں کو لیڈیز فرسٹ والا اصول اب بھول گیا ہے‘‘۔ صائمہ نے رنجیدہ ہو کر کہا۔
ہلکے نیلے رنگ کی ساڑھی میں ملبوس پچاس پچپن کے لگ بھگ دوسری خاتون نے نو عمر صائمہ کو مسکرا کر دیکھا اور تسلی آمیز لہجے میں بولیں:
’’وہ تعداد میں جیادہ تھے … زمہوری دور ہے نا!‘‘
صائمہ نے ان بنگالی خاتون کی بات پر سر ہلا کر تائید کی ۔
’’آنٹی! آپ آئیے نا! ہماری طرف، میری امی آپ سے مل کر بہت خوش ہوں گی۔ آپ کون سے فلور پہ رہتی ہیں؟‘‘ باتونی صائمہ کو خیال آیا کہ شاید وہ یہاں نہ رہتی ہوں … کسی کو ملنے آئی ہوں۔
’’میں نیچے تیسرے فلور پہ رہتی ہوں‘‘۔
’’اچھا!‘‘ صائمہ نے سوچا میری امی کی ہم عمر ہیں ان سے دوستی کرواتی ہوں وہ ہر وقت گھر میں اکیلی رہتی ہیں۔
’’آنٹی کیا نمبر ہے آپ کے فلیٹ کا؟ میں امی کو لے کر آپ کے پاس آئوں گی‘‘۔
’’تین سو تین‘‘۔ بنگالی لہجہ میں خاتون نے جواب دیا۔
اسی اثنا میں لفٹ آگئی … دونوں نے لفٹ میں داخل ہو کر ایک دو جملوں کا تبالہ کیا تھا کہ تیسرا فلور آگیا۔
’’آنٹی! اللہ حافظ‘‘ صائمہ نے خوش دلی سے خاتون کو الوداع کہا۔
صائمہ پاکستان سے حال ہی میں کامرس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد شارجہ کی ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کر رہی تھی۔ شام کو جب وہ گھر واپس آئی تو لفٹ میں داخل ہوتے ہی اس کو صبح والی خاتون یاد آگئیں۔اپنے فلیٹ میں داخل ہوتے ہی اس نے حسب عادت آواز لگائی۔
’’السلام علیکم ! امی جان! میں آگئی‘‘۔
فلیٹ کون سا کوئی بڑی جگہ ہوتی ہے نہ صحن، نہ برآمدہ، پلک جھپکتے میں وہ ماں کے کمرے میں موجود تھی۔
’’امی! آج مجھے ایک آنٹی ملی تھیں۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ میری امی آپ سے مل کر بہت خوش ہوں گی۔ آپ ان سے دوستی کر لیں۔ سارا دن بور ہوتی رہتی ہیں‘‘۔ بائیس سالہ صائمہ کا انداز گفتگو ابھی بھی بچوں والا تھا۔
صائمہ کی ماں عاکفہ نے بستر سے اٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’کہاں کی ہیں؟‘‘
’’بنگلہ دیش کی‘‘۔
’’مجھے بنگالی لوگ نہیں بھاتے، تمھیں پتہ تو ہے، میں نے تو کبھی کام والی بھی نہیں رکھی بنگالی‘‘۔
’’کیوں؟‘‘ صائمہ ایک دم بجھ سی گئی۔
’’ایک تو وہ اردو کی ٹانگ کیا سب کچھ توڑ پھوڑ کر رکھ دیتے ہیں‘‘۔
’’امی! یہ تو کوئی بات نہ ہوئی‘‘۔ صائمہ ناراض ہی ہو گئی اور کچن میں جاتی ماں کو رنجیدہ نظروں سے دیکھتی رہی۔ اس کو واقعی اپنی ماں کے رویے سے بہت تکلیف ہوئی تھی۔
صائمہ بجھے دل سے اپنے کمرے میں گئی اور بستر پر بیگ پھینک کر خود لباس بدلنے کے لیے الماری میں لٹکتے کپڑوں کو دیکھنے لگی۔
’’امی! کون سے کپڑے پہنوں‘‘۔ اس نے وہیں سے آواز لگائی، مگر ماں کی طرف سے کوئی آواز نہ آئی۔ نہ مشورہ، نہ ہی ڈانٹ۔
ابھی تک صائمہ، کپڑوں کے انتخاب میں ہمیشہ متردد رہتی تھی۔ ’’دوچار کپڑے ہوں تو اس معمولی سے کام میں اتنا دماغ اور وقت خراب نہ ہو‘‘ ماں کی طرف سے اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا۔
اس وقت ماں کی طرف سے خاموشی نے صائمہ کو احساس دلایا کہ وہ کچھ زیادہ ہی ناراض ہو گئی ہیں۔ اس نے پھولدار کاٹن کا گھیر والا فراک اور چوڑی دار پاجامہ نکالا، جو استری شدہ تیار تھا اور پہن کر باورچی خانے میں ماں کے پاس آگئی۔ وہ رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھیں۔
’’امی! آج کیا بنایا ہے‘‘۔
’’دیکھ لو‘‘۔ مردہ سی آواز جس سے گریہ کا شائبہ ہوتا تھا۔
’’امی! آپ اتنی ناراض کیوں ہو گئی ہیں‘‘۔ صائمہ نے ماں کے کندھے پہ سر رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں ناراض کب ہوں‘‘۔
’’پھر کیا ہیں؟‘‘
’’اداس ہوں‘‘۔
’’اس اداسی کا بنگالی لوگوں سے کیا تعلق ہے؟‘‘
’’بس ہے‘‘۔ انداز جان چھڑانے والا تھا۔
’’تم یہ جوس پیو، تمھارے بابا اور بھیا آنے والے ہیں۔ پھر ایک ساتھ کھانا کھالیں گے‘‘۔
اور عاکفہ بیٹی کے جواب سے پہلو تہی کرتے ہوئے باورچی خانے سے باہر چلی گئی۔
صائمہ جوس کا گلاس پکڑے ماں کے پیچھے ہی چلی آئی ۔ یہ سوچتے ہوئے کہ ماں سے کچھ تکرار کرے یا نہ کرے کہ بنگالی لوگوں سے اور بنگلہ دیش سے ان کو کیا تکلیف پہنچی ہے کہ وہ اتنی معمولی سی بات سے اس قدر رنجیدہ ہو گئی ہیں۔
’’بابا، آجائیں تو ان سے پوچھوں گی‘‘۔ اس نے خودکلامی کی … اور لائونج میں آ کر ٹی وی چلا لیا۔
وہی شام کے مذاکرے اور ان میں شریک لوگوں کی بحثا بحثی، دعوے، الزام اور بے مقصد بے نتیجہ گفتگو، انسان بجائے ذہنی آسودگی کے زیادہ تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔
ٹی وی کی آواز بند کرکے وہ گھونٹ گھونٹ جوس پینے لگی۔ دھیان ماں اور بنگلہ دیش میں الجھا ہؤا تھا۔
تھوڑی دیر میں باپ بیٹا اپنے اپنے کاموں سے واپس آئے اور رات کا کھانا سب نے مل کر کھایا۔ ماں کی خاموشی۔ اداسی کا احساس دونوں کو بھی ہو گیا۔ عاصم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں بہن سے اشارتاً پوچھا کہ:
’’کیا ہؤا؟‘‘
صائمہ نے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر اس کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
عاکفہ نے دونوں کی حرکت کو جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا۔ یہ بچے سمجھتے ہیں ماں سے کچھ بات چھپا سکتے ہیں۔ کوئی اور دن ہوتا تو وہ بچوں کو ضرور یہ کہہ ڈالتی۔ خاموش طبع، نفیس سے عارف چوہدری، اپنے دھیان کھانا کھانے میں مصروف تھے۔
اچانک ہی انھوں نے باقی تینوں کو دیکھا۔ خلاف معمول سب خاموش تھے۔
’’کیوں بھئی! کیا آج دفتروں میں یا راستے میں لوگ نہیں تھے‘‘۔
روزانہ بہن بھائی کی طرف سے لوگوں پہ تبصرے، باتیں سننے کو ملتی تھیں، آج خاموشی تھی۔
’’بابا! آج مجھے لفٹ میں ایک آنٹی ملی تھیں۔ ‘‘ صائمہ نے جھٹ سے اس خاموشی کو توڑا۔
’’اچھا!‘‘
’’میں نے ان سے کہا کہ میں امی کو لے کر آپ کے پاس آئوں گی‘‘۔
’’بابا، وہ بنگلہ دیش کی ہیں‘‘۔ صائمہ نے ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے ساتھ ہی ماں کو دیکھا۔
عارف چوہدری نے چونک کر بیوی کو دیکھا۔
’’خاموش چہرے پہ مزید گھمبیرتا چھا گئی تھی‘‘۔ اور وہ اسی طرح اپنی خالی پلیٹ اٹھا کر باورچی خانہ میں چل دیں۔
عاصم اور عارف چوہدری نے محسوس کر لیا کہ آج گھر میں کوئی ایسی بات ہوئی ہے جس سے عاکفہ پہ مایوسی کا دورہ پڑنے والا ہے۔ اور کچھ وقت ان کو لگے گا نارمل ہونے میں۔ وہ وقت چند گھنٹے بھی ہو سکتے ہیں۔ چند دن بھی اور چند سال بھی۔ اگرچہ اب وقت کے ساتھ ساتھ یہ دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہے لیکن اثرات تو باقی رہتے ہیں۔ تنہا ہو کر سوچ بچار کرتیں، خود ہی معمول پہ آجاتیں۔ عارف چوہدری نے بچوں کو منع کر دیا کہ وہ اس وقت ان سے کوئی سوال نہ کریں اوردعا کریں کہ وہ اپنے معمول پہ جلد آجائیں۔
’’بابا! مجھے تویاد نہیں کہ کبھی کسی اتنی تلخ بات کا تذکرہ ہؤا ہو کہ امی اتنی …!‘‘
لائونج میں جھولتی کرسی پہ بیٹھے عارف چوہدری نے بیٹی کا جملہ اچک لیا ۔ ’’بیٹا، تم میٹرک کے بعد پاکستان چلی گئی۔ اس سے پہلے اگر کبھی کوئی بات ہوئی ہو گی تو تم نے دھیان نہ دیا ہو گا‘‘۔
’’مگر ایسی کیا بات ہے بابا!‘‘ اس کے لہجے میں تشویش کے ساتھ ساتھ تجسس بھی تھا۔
عارف چوہدری کسی لمبی گفتگو کے موڈ میں نہ تھے۔ انھوں نے صائمہ کو مشورہ دیا ’’تم پہلے انٹرنیٹ پہ دیکھو‘‘۔
’’کیا‘‘ وہ حیران نظروں سے باپ کو دیکھنے لگی۔
’’کہ تمھاری ماں کی اداسی کا تعلق بنگلہ دیش سے کیوں ہے؟‘‘
’’بابا! ‘‘ اس نے لفظوں کو ذرا کھینچتے ہوئے کہا۔
’’مذاق نہ کریں‘‘۔
وہ سمجھی باپ اس بات کا اشارہ کر رہے ہیں کہ آج کا دور انٹرنیٹ سے مشورہ، حقائق جاننے کا دور ہے۔ بزرگوں، دانش وروں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ یہ جملہ ہر زبان پہ رہتا ہے کہ نیٹ پہ دیکھیں گے، کیا ملتا ہے؟ اور اس بات پہ باپ اور بچوں میں گفتگو چلتی رہتی تھی۔
’’میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ یہ تو تم جانتی ہو نا کہ پہلے بنگلہ دیش، مشرقی پاکستان ہؤا کرتا تھا‘‘۔
’’جی‘‘ صائمہ نے پورا دھیان لگاتے ہوئے باپ کو جواب دیا کہ اب بابا کچھ بتائیں گے۔
’’صائمہ بیٹا! تمھارا کیا خیال ہے… مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے متعلق۔ میرامطلب ہے تعلیمی اداروں میں تمھیں کیا بتایا گیا ہے؟‘‘
’’مجھے یاد نہیں۔ کبھی کسی نے تذکرہ کیا ہو، بس یہ علم ہے کہ دو حصے تھے پاکستان کے، پھر وہ علیحدہ ہو گیا۔ بابا! اتنی دور دوسرا حصہ بنانے کی تک کیا بنتی ہے؟ پہلے ہی دوپاکستان بنا دیتے‘‘۔
اسی وقت عاصم لائونج میں داخل ہؤا۔ وہ صائمہ سے دو سال بڑا تھا۔ فارغ وقت نیٹ پہ بیٹھا اپنے دوستوں سے تحریری گفتگو کرتا رہتا … بہن کی باتوں کو کسی خاطر میں نہ لانا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔
صائمہ بھائی کو دیکھ کر کچھ خجل سی ہو گئی کہ اب یہ درمیان میں ایسی لن ترانیاں کرے گا کہ اصل بات کہیں سے کہیں جا نکلے گی۔
ساٹھ سالہ عارف چوہدری نے عاصم کو دیکھا تو بولے۔
’’آج دونوں بہن بھائی نیٹ پہ یہ تحقیق کروکہ مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش کیوں بنا؟ صبح چھٹی ہے۔ آج میری طرف سے اجازت ہے ساری رات جاگ سکتے ہو۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلے گئے۔
’’تم دو پاکستان بنا رہی تھی۔ میں نے آتے آتے سنا تھا۔ دوسرا کہاں تک پہنچا ہے؟‘‘
’’بھائی عاصم! خدا کے لیے مجھے ستائو نہیں۔ بابا ہمیں ہوم ورک دے گئے ہیں کل جمعہ کی نماز کے بعد پیش کرنا ہو گا… میں واقعی یہ جاننا چاہتی ہوں کہ امی کی اداسی کا تعلق اس معاملے سے کیا ہے؟‘‘
عاصم بھی سنجیدہ نظر آنے لگا۔ ’’صومی! ہم بچوں کا المیہ یہ ہے کہ پاکستان سے دور رہ کر تاریخ پاکستان سے دور ہی ہوجاتے ہیں۔ نصاب اور پڑھانے والے استاد دونوں ہی حقائق سے روگردانی کرتے نظر آتے ہیں۔ میں نے اور تم نے اپنا سکول ٹائم ایسے اداروں میں گزارا جو کہ پاکستانی نہ تھے۔ ہم نے دوسروں کی تاریخ پڑھی … مگر اپنی نہیں … ہمیں دوسروں کے جغرافیہ پڑھنے پڑے مگر ہم اپنے وطن کے جغرافیہ سے بالکل واقف نہیں ہیں‘‘۔
’’ہاں، یہ تو ہے‘‘۔
’’اور کتنی بری بات ہے‘‘۔ دونوں نے ایک دوسرے کو تائیدی نظروں سے دیکھا۔
’’صومی! چلو دیکھیں نیٹ پہ کیا ملتا ہے؟‘‘
دونوں اپنے اپنے لیپ ٹاپ پر تلاش کرنے لگے۔
’’بھائی!یہ دیکھیں صدیق سالک کی کتاب کا لنک نکل آیا ہے‘‘۔
’’ہمہ یاراں دوزخ‘‘ اور ’’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘
’’ہاں! یہ میں نے کچھ ڈاکومنٹریز نکالی ہیں، اور یہ دیکھو ساتھ ہی کچھ انٹرویوز اور مذاکرے کے لنک بھی نظر آ رہے ہیں‘‘۔ عاصم نے لیپ ٹاپ پہ نظروں جمائے بہن کو جواب دیا۔
’’بھائی ! اتنی موٹی موٹی کتابیں کون پڑھے گا۔ ہماری تو اردو بھی بہت کمزور ہے۔ شکر ہے گھر میں اردو بولی جاتی ہے تو اس سے ناطہ نہیں ٹوٹا‘‘۔
’’چلو، جتنا ہو سکتا ہے وہ تو کرتے ہیں‘‘۔
’’اچھا، میں ’’ہمہ یاراں دوزخ‘‘ پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں‘‘۔
پھر صائمہ رات بھر کتاب کا مطالعہ کرتی رہی اور جذباتی ہو کر آنسو بہاتی رہی۔ اس نے دل میں اپنے وطن اور اس کی آبرو کے لیے ایک کسک اور درد محسوس کیا۔ وہی جو وہ اپنی ماں کے دکھ پہ دکھی ہو کر محسوس کرتی تھی۔ وطن سے محبت بھی ماں کی محبت سے کتنی ملتی جلتی ہے۔ اسی لیے تو اس کو مادرِ وطن کہتے ہیں۔
ہندو حکومت کے ہاتھوں پاکستان اور اس کی فوج کی بے حرمتی پہ وہ زاروقطار روئی اور اسے اپنے دل میں بنگالیوں کے خلاف نفرت محسوس ہوئی۔ وہ غدار ہیں انھوں نے اپنے دشمن کو اپنے گھر میں گھسنے دیا۔ موقع دیا، اپنے وطن کی فوج کو شکست دلوائی۔
’’واقعی امی ٹھیک کہتی ہیں‘‘۔بنگالی لوگ اچھے نہیں ہوتے۔
پاک فوج کے جوانوں کو جس طرح ہتھیار پھینکنے پڑے، اور جس طرح اس فوج کی دھاک ختم ہوئی … ساری دنیا میں جس کی بہادری کا ڈنکا بجتا تھا۔
’’اف! اف! میرے خدایا!‘‘ اس نے روتے روتے اپنا سر کمپیوٹر ٹیبل پہ رکھ دیا۔ غم اور دکھ نے اس کو بے حال کر دیا۔
فجر کی نماز کے لیے عاکفہ اٹھیں تو صائمہ ابھی جاگ رہی تھی۔ دونوں نے اپنے اپنے کمرے میں نماز ادا کی… اس کے بعد صائمہ لائونج میں آ کر آج کا اخبار باہر کے دروازے سے اٹھا کر دیکھنے لگی۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے برما سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو اپنے علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کا حکم دیا ہے اور بہت سے مسلمان بنگلہ دیش میں داخل ہوتے ہوئے گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
صائمہ کے دل میں غصہ اور غم کی لہر اٹھی۔ یہ سب ان ہندوئوں کے ساتھ رشتے بنانے کا نتیجہ ہے۔
اسی وقت عاکفہ لائونج میں داخل ہوئیں اور صائمہ جھٹ ماں کے سینے سے لگ گئی۔
’’امی! آپ ٹھیک کہتی ہیں‘‘۔
’’کیا؟‘‘
’’کہ بنگالی لوگ ٹھیک نہیں ہوتے۔ انھوں نے پاکستان کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ ہمیں تو علم ہی نہ تھا کہ کیا ہو چکا ہے‘‘۔
’’صائمہ! جس دن بنگلہ دیش بنا، وہ ہماری قوم، بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک سیاہ دن تھا … ایک ایسی اسلامی ریاست کے دو ٹکڑے ہو گئے جو دنیا میں سب سے بڑی اسلامی مملکت تھی۔ مدینہ ثانی اور اسلام کا قلعہ کہلاتی تھی‘‘۔
عاکفہ صوفے پہ بیٹھ گئیں تو صائمہ ماں کے قدموں میں بیٹھ گئی اور سر ماں کی گود میں رکھ دیا۔ جیسے روٹھی ماں کو منا رہی ہو …
عاکفہ نے بیٹی کا سر ہلاتے ہوئے دلگیر لہجے میں بتایا۔
’’صائمہ! میں اس وقت مڈل کلاس کی طالبہ تھی۔ جس دن یہ سانحہ ہؤا۔ میرے ابا جان اتنا روئے اور اتنی بری طرح دھاڑیں مار مار کر روئے کہ دیواروں سے ٹکریں ماریں اور وہ اسی رات یہ جہاں چھوڑ گئے۔ پتہ نہیں رات کے کس پہر ان کا ’’نروس بریک ڈائون‘‘ ہو گیا تھا‘‘۔ عاکفہ کی آواز گلے میں ہی دب گئی … اور دونوں چپ چاپ آنسو بہاتی رہیں۔
’’میرے کانوں میں اپنے ابا جان کی آخری آواز بلکتے بچوں کی طرح کی آواز ہی سنائی دیتی ہے … یہ آخری آواز تھی جو ہم نے اپنے باپ کی سنی‘‘۔ عاکفہ نے ایک لمبا سانس لینے کے بعد اپنے دل کا دکھ بیٹی کو منتقل کیا۔ کچھ دیر دونوں خاموش رہیں۔
’’تم رات بھر نہیں سوئی نا!‘‘عاکفہ نے بیٹی سے پوچھا۔
’’جی امی! وہ میں کتاب پڑھ رہی تھی‘‘۔
’’اچھا اب سو جائو‘‘۔
صائمہ خود بھی یہی چاہ رہی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں چلی گئی اور عاکفہ تلاوت کے لیے سٹڈی میں چلی گئیں۔
جمعہ کی نماز اور کھانے کے بعد گھر کے سب افراد ٹی وی لائونج میں بیٹھے تو عارف چوہدری نے دونوں بچوں کو باری باری دیکھا۔ بغیر کچھ کہے دونوں سمجھ گئے کہ رپورٹ طلب کی جا رہی ہے رات کو دیے گئے کام کی …۔
’’بابا! پاکستانی فوج کی جو رسوائی ان بنگالیوں نے کروائی ہے نا! میں ان کو کبھی معاف نہیں کروں گی‘‘۔ جوش جس میں غصہ نمایاں تھا وہ صائمہ کے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا۔
عاصم نے اس کا جوش و جذبہ انتقامی سا دیکھا تو بولا۔
’’تم نے یہ نہیں سوچا کہ بنگالیوں نے یہ سب کیوں کیا؟‘‘
عارف چوہدری نے ہاتھ اٹھا کر عاصم کو خاموش کرایا۔
’’آپس میں بحث نہیں … آرام سے دلائل کے ساتھ بات کرو‘‘۔
’’جی بابا‘‘ عاصم نے ادب سے باپ کو جواب دیا۔
’’صائمہ بیٹا آپ نے کیا پڑھا؟‘‘
’’بابا! میں نے صدیق سالک کی ’’ہمہ یاراں دوزخ‘‘ پڑھی۔ میں کچھ باتیں اور بھارتی حکومت کے ہاتھوں پاکستانی فوج کی رسوائی کے واقعات پڑھ کر بہت روئی‘‘۔
’’تم رونے دھونے کے علاوہ کر بھی کیا سکتی ہو‘‘۔ عاصم عادت سے مجبور تھا۔ بہن کی طرف ایک تیر پھینک ہی دیا۔
’’عاصم!‘‘ ماں نے سرزنش کی۔
’’جی امی!‘‘ عاصم نے معذرت خواہانہ لہجے میں جواب دیا۔
’’بابا! میں نے جو کچھ رات بھر میں تلاش کیا۔ وہ سب سامنے رکھ کر جو نقشہ یا حالات سمجھ سکا ہوں۔ وہ یہ ہیں کہ … بنگال کے لوگ محب وطن ہیں۔ پاکستان بننے سے بہت پہلے آزادی کی تحریک ان کے اندر موجود تھی۔ انگریزوں کا اصل مدمقابل بنگال تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا مقابلہ اور اس کی مزاحمت بنگال نے کی… ٹیپو سلطان کو شکست کچھ گھر کے بھیدی کی غداری کی وجہ سے ہوئی‘‘۔
’’تو غدار تو ہیں نا‘‘ صائمہ نے بیچ میں ٹوکا۔
’’وہ ہر قوم میں ہوتے ہیں۔ کوئی قوم غداروں سے خالی نہیں ہوتی، چند لوگوں کی وجہ سے پوری قوم کو لعنت ملامت نہیں کی جا سکتی‘‘۔
عارف چوہدری نے صائمہ کو اشارے سے چپ کرایا۔
عاصم نے اپنی بات شروع کی۔
’’۱۷۵۷ء میں جب بنگال سے مزاحمت ٹوٹی تو ایسٹ انڈیا کمپنی کا ہندوستان پہ قبضے کا خواب پورا ہؤا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کا باعث بھی بنگال کی حریت پسندی تھی۔
جب ہندوستان تقسیم کرنے اور ہندو مسلم الگ ریاستوں کا مطالبہ شروع ہؤا تو انگریز نے ۱۹۰۵ء میں بنگالی قوم پرستی کو ہوا دی اور اس صوبے کو دو حصے میں تقسیم کر دیا۔
اچھا اب میں مسلم ریاست کے مطالبے کے بارے میں آپ کو بتاتا ہوں۔ یعنی ’’پاکستان‘‘ بنانے میں بنگالیوں کا کتنا ہاتھ ہے۔
مسلم لیگ کی بنیاد ڈھاکہ میں رکھی گئی۔ تقسیم ہند کی قرارداد بنگال نے پیش کی۔ قراردادِ لاہور بنگالی لیڈر فضل الحق نے پیش کی۔
جب تقسیم کے وقت بنگال کو پیش کش کی گئی کہ دو اٹانومس ریاستیں بنائی جائیں تو بنگالیوں نے خود مطالبہ کیا کہ ہم دو نہیں ایک ملک بننا چاہتے ہیں۔ دستور ساز اسمبلی میں لیاقت علی، شبیراحمد عثمانی کو پہنچانے کا سہرا بنگالیوں کے سر ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ اگر بنگال کی جدوجہد نہ ہوتی تو پاکستان کا معرض وجود میں آنا مشکل تھا‘‘۔
عاصم نے تینوں کو باری باری دیکھا اور منجھے ہوئے مقرر کی طرح گویا ہؤا۔
’’۱۷۵۷ء سے حریت کی تحریک چلانے والے بنگال کو محنت، جدوجہد اور قربانیوں کا صلہ ۱۹۴۷ء میں ملنا تھا۔
مگر کیا ہؤا؟ پاکستان کی ابتدائی کابینہ میں خاطر خواہ کردار نہ دیا گیا اور پھر زبان کا مسئلہ …
اگر قائداعظم دونوں حصوں میں اردو قومی زبان کا اعلان نہ کرتے تو اچھا تھا۔ انھوں نے ایک ایسے خطے میں وہ زبان رائج کرنی چاہی جو وہاں بہت کم بولی جاتی تھی اور ان کا تلفظ لب و لہجہ اس کے لیے مناسب نہ تھا‘‘۔
’’بھائی! آپ قائداعظم کو نہ کچھ کہیں۔ انھوں نے ٹھیک ہی کیا ہو گا‘‘۔
’’کیوں؟ کیا وہ انسان نہیں تھے؟ ان سے غلطی نہیں ہو سکتی تھی؟‘‘
’’لو اب یہاں پورے عرب میں بنگالی اردو بولتے ہیں یا نہیں؟ تب بھی سیکھ جاتے اب تو بغیر سیکھے بولنی ہی پڑتی ہے‘‘۔ صائمہ کا غصہ ابھی بھی برقرار تھا۔
’’۱۹۴۹ء میں دستور ساز اسمبلی، قراردادِ مقاصد میں بنگالیوں کو کچھ تحفظات تھے کیونکہ مغربی حصے کے لوگ مشرقی حصے پہ حکمرانی کرنا چاہتے تھے۔
اصل میں اس وقت پاکستان کے کرتا دھرتالوگ انگریزوں کے قانون اور اسی کی سوچ رکھتے تھے۔ انگریز بنگالیوں سے خار کھاتے تھے۔ کیونکہ ان کی مزاحمت ان کو بہت دیر تک برداشت کرنا پڑی۔ جب ہندوستان پہ انگریزوں کا غلبہ ہو گیا تو انتقامی رویہ بنگالیوں کے ساتھ رہا۔ محکوم، بے بس بنا کر رکھا گیا۔
اب پاکستان کے حکمران بھی اسی سوچ کے تحت بنگالیوں کے ساتھ سلوک کر رہے تھے۔ مشرقی حصے کے لیے ترقیاتی فنڈ ہوں یا منصوبے، مغربی حصے کے مقابلے میں بہت کم رکھے گئے … حالانکہ ان کی آبادی مغربی حصے سے زیادہ تھی۔
فوج میں بنگالیوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر تھا کہ ان کے قد اور جسمانی ساخت فوجی پیمانے پہ پوری نہیں اترتی۔
ان کے وسائل ان پر ہی استعمال نہ کیے گئے۔ بیوروکریسی، سیاست دان، حکمران اور فوج نے ان کو اپنے جسم و جان کا حصہ نہ سمجھا بلکہ ان کو محکوم سمجھ کر محروم رکھا گیا۔ ۱۷۵۷ء سے بنگال جس آزادی کے خواب دیکھ رہا تھا وہ ٹوٹ رہا تھا۔ اس کی تعبیر الٹ نظر آ رہی تھی۔ انگریزوں نے مراعات بنگالیوں کو نہ دی تھیں کہ وہ آزادی کے طلبگار تھے مراعات کے نہیں۔ مغربی حصے کے حکمرانوں میں اور سیاست دانوں میں مراعات یافتہ طبقہ موجود تھا… جیسا رزق ہو گا ویسی ادائیں ہوں گی‘‘۔
عارف چوہدری نے مسکرا کر بیٹے کو داد دی ۔ صائمہ بار بار پہلو بدل رہی تھی … عاکفہ خاموشی سے بیٹے کو بولتے دیکھ رہی تھی۔
باپ کی طرف سے حوصلہ افزائی پر عاصم اور پر جوش ہو گیا۔
’’جب صدر ایوب نے الیکشن کروائے تو فاطمہ جناح مدمقابل تھیں۔ وہ مغربی حصے سے ناکام رہیں مگر مشرقی حصے نے قائداعظم کی بہن کا لحاظ کیا اور لاج رکھی۔ بنگالی خون میں حق خودارادیت اور حریت پسندی ختم نہیں کیا جا سکتا تھا مگر ان کے خواب ٹوٹ رہے تھے۔ انھوںنے چھ نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔ جن میں سے ساڑھے پانچ ان کے حق میں ہی تھے۔
بابا! آپ کو معلوم ہے ۱۹۶۹ء میں صدر ایوب نے اپنی کابینہ میں کہا کہ مغربی پاکستان کے مسائل حل کرنا اہم ہیں، یہ چلتا رہے گا۔ مشرقی پاکستان تو چند سال رہے گا … بابا! وہ تو چند کیا دو سال بھی نہ رہا‘‘۔
عاصم نے اپنے لہجہ میں نمی محسوس کی۔
’’جب ایک ملک کا صدر اپنی کابینہ میں یہ کہہ رہا ہو تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے؟‘‘
مشرقی پاکستان کے باسی برملا یہ کہتے تھے کہ ’’ملک ہم نے بنایا، تم نے قبضہ کر لیا۔ جب بڑا بھائی چھوٹے کو اس کا حق نہ دے تو پھر ایسے ہی ہوتا ہے‘‘۔
’’چھوٹے بھائی کو بھی تو بڑے بھائی کا لحاظ کرنا چاہیے‘‘۔ صائمہ چپ نہ رہ سکی۔
’’بڑے بھائی سرپرست ہوتے ہیں اور سرپرستی کرنے والا ایثار زیادہ کرتا ہے۔ خیال رکھنا اسی کا فرض ہوتا ہے‘‘۔ عاصم نے صائمہ کی طرف منہ کرکے لفظ چبا چبا کر کہا۔
’’اچھا! عصر کی نماز کا وقت قریب ہے، بات مکمل کر لو جلدی سے‘‘۔ عارف چوہدری نے دیوار گیر گھڑی کی طرف اشارہ کیا۔
’’مشرقی پاکستان کے معاملات میں سردمہری فوج اور حکومت میں مناسب نمائندگی نہ دینا، حقارت سے دیکھنا، قدرتی آفات پہ سنگ دلی دکھانا … بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں میں حصہ حق کے مطابق نہ رکھنا، کسی بھی ملک کے باشندوں کو محرومی کا احساس دلاتا ہے۔
اور پھر دشمن اپنی چال چلتا ہے۔محرومی دور کرنے آجاتا ہے اور اس آڑ میں وہ گھر پہ گھس بیٹھتا ہے۔ شاطر و مکار ہندو نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ بھارت نے اپنی سرحدیں ان محروم لوگوں کے لیے کھول دیں۔ اور اپنے آزمودہ ہتھکنڈوں سے ان لوگوں کو پاکستان دشمنی کی تربیت دی۔ لاکھوںلوگ تیار کیے گئے اور لاکھوں مکتی باہنی کی شکل میں مشرقی پاکستان میں لائے گئے۔ پھر تعلیمی اداروں میں ان کا عمل دخل، ثقافت، ذہنی ابتری، نفرت کا احساس، اسلام پسندوں کے خلاف جارحیت کا جذبہ … یہ سارے عوامل بھارت کو اس سرزمین پر پنجے گاڑنے کے لیے کافی تھے‘‘۔ عاصم نے پہلو بدلا۔
پانی کا گلاس اٹھا کر دو گھونٹ پیے ۔ گلا تر ہؤا تو اس نے اپنی بات جاری رکھی۔
’’مشرقی پاکستان میں گورنر مغربی پاکستان سے آتے تھے۔ ایک مغربی پاکستانی کے پاس مشرقی پاکستان میں تین تین عہدے ہوتے تھے۔
بابا! ہم بنگالیوں کو کیا باور کرانا چاہتے تھے کہ وہ نالائق ہیں، وہ ملک چلانا نہیں جانتے؟ مغربی پاکستان میں کسی بنگالی کو ایس ایچ او بھی نہیں لگایا جاتا تھا مگر مشرقی پاکستان میں سارے عہدے مغربی پاکستان کے لوگوں کے پاس تھے۔ اسی لیے … ‘‘ عاصم نے پانی کا گلاس میز پہ رکھ دیا۔
’’جب مشرقی پاکستان میں فوج کو مکتی باہنی اور بھارتی فوج سے لڑنا پڑا تو ان کی پشت پہ عوام نہ تھی۔ نہ وہاں کے فوجی جوان تھے۔ جنگیں عوام کی پشت پناہی اور مائوں کی دعائوں کے بغیر نہیں جیتی جا سکتیں … اور نہ مقامی جوانوں کے بغیر … پھر ہمیشہ یہ کہا جاتا رہا کہ ’’ہم مشرقی بازو کا دفاع مغربی بازو سے کریں گے‘‘۔ جب بھارت مشرقی پاکستان میں گھس آیا تو مغربی محاذ خاموش رہا۔ اگر ادھر سے بھارت کو ناکوں چنے چبوائے جاتے تو اس کے ہوش ٹھکانے آجاتے‘‘۔
بھارت کے نام پہ صائمہ کو بھی جوش آگیا۔
’’ہاں اور کیا … جبکہ دونوں حصے اس کمینے بھارت کو پیس کر رکھ دیتے درمیان میں‘‘۔
عاصم نے مسکرا کر بہن کو دیکھا اور بولا۔
’’مشرقی پاکستان کے خلاف بھارت نے تین محاذ کھولے۔
مسلح افواج، وزارت خارجہ، مکتی باہنی… اور خود بڑے بھائی نے کیا کیا؟‘‘ عاصم کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
’’اپنے ہی چھوٹے بھائی کو قتل کر دیا۔ دشمن کے حوالے کر دیا۔ اس وقت وہ جوان تھا بلکہ آتش جواں ہی نہ تھا، جواں تر تھا۔
جب امنگیں ٹوٹ جاتی ہیں تو جواں لمحوں میں ہی بڑھاپا آجاتا ہے‘‘۔
کمرے میں صرف عاصم کی آواز تھی باقی سب خاموش تھے۔ کمرے کی ہر چیز سانس روکے ان حقائق کو سن رہی تھی۔
اسی اثنا میں عصر کی اذان ہونے لگی۔ اس کے احترام میں عاصم بھی خاموش ہو گیا۔ اذان کی آواز خاموشی میں فلاح کی پکار تھی۔ اندھیروں سے اجالے میں آنے کی دعوت تھی۔ دلوں میں اٹھتے جذبات اور ذہنوں میں کشمکش تھی۔ وہی کشمکش جو تسلیم کر لینے سے پہلے ہوتی ہے۔
عاکفہ نے اذان ختم ہونے پہ پہلی بار اپنی رائے دی۔
’’شکر ہے مشرقی پاکستان بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بنا۔ ایک اسلامی مملکت کا اضافہ ہی ہؤا‘‘۔
عارف چوہدری نے بیوی کی مثبت رائے پہ خوشی کا اظہار کیا اور دونوں بچوں کو تھپکی دی۔ مرد نماز کے لیے جا چکے تھے اور عاکفہ بھی جاء نماز پہ بیٹھی عجیب تذبذب کا شکار تھی۔ تصویر کا دوسرا رخ ایک کسک بن کر رہ گیا تھا۔
’’یا اللہ! میں نے اپنے ان بہن بھائیوں کو بہت برا بھلا کہا … یہاں کتنی بنگالی عورتیں گھر گھر محنت مزدوری کرتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی عمروں میں بیاہی جاتی ہیں اور پھر کمائی کرکے اپنے سسرال بلکہ میکے والوں کی بھی معاونت کرتی ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ سمجھاکہ ان کو دنیا میں سزا مل رہی ہے کہ بس دوسروں کی غلامی کریں۔ پاکستان کی کوئی عورت گھریلو ملازمہ کے ویزے پہ ملک سے باہر نہیں جا سکتی۔ اگر یہ بھی پاکستانی ہی رہتیں تو ان کو اس طرح دربدر نہ پھرنا پڑتا…‘‘
مگر آج عاکفہ کو محسوس ہو رہا تھا کہ اگر ان کے یہ حالات ہیں تو اس میں قصور ہم ’’بڑے بھائی‘‘ کے گھر والوں کا بھی ہے۔ الگ ملک بنا کر بھی جانے ان کے چہرے پہ بشاشت اور خوشحالی کی رونق کیوں نظر نہیں آتی؟ مرد ہوں یا عورت سب بے رونق اور پژمردہ کیوں رہتے ہیں۔ شایدہمارا قصور ہو … ان کو یہ احساس محرومی ہم نے دیا ہے۔
یا اللہ!انفرادی اور اجتماعی قصوروں کی ہم معافی طلب کرتے ہیں۔ یا اللہ ہمیں سیدھی راہ اور صاف شاہراہ مستقیم کی طرف گامزن کر دے۔ آمین
نماز کے بعد سب نے شام کی چائے پر بھی اسی موضوع پر اپنا اپنا احساس دوسروں تک منتقل کیا۔
عاکفہ جلدی معمول پر آگئیں۔ ایک دن صائمہ اپنی ماں کو لے کر حجاز پارک میں لمبی سیر کے لیے نکلی۔ دسمبر کے سہانے دن تھے۔ صبح سویرے روشوں میں رنگ برنگے پھولوں کی بہار تھی۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بہت خوشگوار موڈ میں تھے۔ لمبی سیر کرنے اور تیز تیز چلنے والوں کے لیے سرخ رنگ کا راستہ بہت بھلا معلوم ہورہا تھا۔ جیسے سرخ قالین قدموں کے نیچے بچھا دیا گیا ہو۔
چلے چلتے صائمہ نے سامنے سے آتی انہی بنگالی آنٹی کو دیکھا … قریب آ کر اس نے سلام کیا اور اپنی امی کا تعارف کرایا … آج اس کو فکر نہ تھی کہ اس کی ماں بنگالی خاتون سے ملنے سے بدک جائیں گی۔
’’آپ آئیں ہمارے گھر …‘‘ عاکفہ نے پہل کی۔
’’آپ کی بیٹی وعدہ کر گئی تھی آپ کو لائے گی … آپ پہلے آئیے‘‘۔
’’جی ضرور ان شاء اللہ‘‘۔
اور پھر دوسرے دن صائمہ اپنی ماں کو لے کر تیسری منزل کے تین سو تین فلیٹ کی گھنٹی بجا رہی تھی … ان کو نہیں معلوم تھا کہ اس کہانی کا اگلا حصہ اس گھر میں سننے کو ملے گا۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا۔ خوش دلی سے سلام دعا ہؤا اور اندر داخل ہوتے ہی دونوں بری طرح ٹھٹک گئیں۔ پائوں زمین پہ جم گئے۔ نظریںدیوار پہ لگی تصویروں پہ ٹک گئیں … ماں بیٹی نے ایک دوسرے کو تعجب بھری نگاہوں سے دیکھا۔ مگر کچھ بولی نہیں۔ اگرچہ سوال زبان پہ مچل رہا تھا۔
’’آپ آرام سے بیٹھئے‘‘۔ آنٹی نے دونوں سے کہا۔
سادہ سے لائونج میں بس وہ تصویریں ہی نمایاں لگ رہی تھیں۔
پتہ نہیں کیا بات کی جائے اور کہاں سے شروع کی جائے؟
بس صائمہ کو یہی سوجھا کہ پوچھ لے کہ آپ کی دن بھر کی کیا مصروفیات ہوتی ہیں؟
’’کچھ خاص نہیں۔ تین بیٹیاں ہیں۔ دو کی شادی کر دی ہے۔ وہ پاکستان میں ہوتی ہیں۔ تیسری ابھی پڑھائی سے فارغ ہو کر آسٹریلیا سے آئی ہے۔ اس کی بھی شادی ہو جائے اللہ کرے کسی پاکستانی سے‘‘۔
’’آنٹی! پاکستانی سے ہی کیوں؟‘‘
’’اس لیے کہ ہم پاکستانی ہیں…‘‘ صائمہ خاموش ہو گئی کہ اب کیا پوچھے؟
عاکفہ نے پوچھا’’بہن آپ کا نام کیا ہے؟‘‘
’’میر انام فاطمہ ہے۔ بیٹیوں کے نام عائشہ، اسماء اور عمارہ ہیں‘‘۔
’’اچھا‘‘ عاکفہ نے مختصر سا جواب دیا۔’’بہت اچھے نام ہیں یقینا خود بھی اچھی ہوں گی‘‘۔
صائمہ نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔
’’آنٹی یہ تصویریں …‘‘
فاطمہ نے سر گھما کر دیوار پہ لگی تصویروں کو دیکھا۔ ’’بھئی یہ ’’مفکر پاکستان‘‘ ہیں اور یہ ’’بانی پاکستان‘‘ ہیں …پاکستانی کے گھر میں تو یہی تصویریں ہونی چاہئیں ناں!‘‘
’’آنٹی ہم کئی دن سے اسی موضوع پہ بات کر رہے ہیں کہ پاکستان کے دوسرے حصے کے ساتھ کیا ہؤا؟… آپ بھی تو مشرقی پاکستان میں رہتی ہوں گی نا!‘‘
’’ہاں! ہم مشرقی پاکستان میں رہتے تھے … پاکستان بنانے میں ہمارے باپ دادا کی محنت و کاوش بھلائی نہیں جا سکتی۔ وفاداری اور ایمان داری ان کا شعار تھا‘‘۔
سچے پاکستانی۔ محبت وطن۔ وہ اگرچہ بنگالی لہجے میں بات کر رہی تھیں کبھی انگلش میں بولنے لگتیں، لگتا ہے وہ بھی بہت کچھ کہنے کو بے تاب ہیں کسی سے اپنے دل کا حال سنانے کو من مچل رہا ہے۔
’’۷۰ء میں محب وطن پاکستانیوں پہ برا وقت شروع ہو گیا تھا۔ ہندوئوں کی آمدورفت جاری تھی۔ محب وطن پاکستانیوں کی لسٹیں تیار ہو رہی تھیں۔ تعلیمی اداروں پہ ان کے قبضے ہوتے جا رہے تھے۔ میرے دادا نے بیٹوں کو بلا کر عہد لیا کہ تم نے پاکستانی بن کر جینا ہے اور پاکستانی ہی مرنا ہے۔
انھی دنوں محب وطن پاکستانیوں کی سربریدہ لاشیں سڑکوں پہ پائی جانے لگی تھیں … انھوں نے تب اندازہ لگا لیا تھا کہ حالات کا رخ بہت بری راہ پہ گامزن ہونے کو ہے۔ ابھی تم لوگ ملک چھوڑ دو، حالات اچھے ہوں گے تو واپس آجانا‘‘۔ شستہ انگریزی میں بات کرتی ہوئی فاطمہ کا گلا رندھ گیا۔
مگر حالات پھر کبھی اچھے نہ ہوئے … ساری کے پلو سے انھوں نے آنکھوں کا پانی خشک کیا۔
ایک ٹھنڈی آہ بھر کر فاطمہ نے پہلو بدلا … ’’ہم چودہ سال کے تھے ہمارا نکاح چچا زاد نصیر الدین سے کرکے آسٹریلیا بھجوا دیا گیا۔ سب گھر والے وہاں ہی رہ کر شہید ہو گئے سوائے ہمارے۔ ہم نے آسٹریلیا کا پاسپورٹ حاصل کر لیا۔ بنگلہ دیش بنا ہم نہ گئے نہ ہم نے بنگلہ دیشی پاسپورٹ لیا کیونکہ یہ ایک عہد تھا کہ ٹوٹے ہوئے پاکستان کو قبول نہیں کرنا تھا‘‘۔
اسی وقت ایک کامنی سی لڑکی چائے کے لوازمات لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔
’’یہ میری عمارہ ہے‘‘۔ اس نے دونوں کو سلام کیا۔ صائمہ نے ہاتھ ملایا اور چائے بسکٹ سے ان کی تواضع کرنے لگی۔
’’اچھا آنٹی پھر کیا ہؤا؟‘‘ صائمہ نے گفتگو کا سلسلہ پھر سے جوڑا۔
’’ہونا کیا تھا … پاکستان سے محبت کے جرم میں ہمارا سارا خاندان زندہ جلایا گیا۔ پہلے سب کو حفاظتی جگہ پہنچانے کا جھانسہ دے کر ایک مکان میں رکھا اور سب ایک ساتھ شہید کر دیے گئے۔ ایک ہجرت ہندوستان سے کی تھی … اور اب یہ ہجرت دار آخرت کی طرف ہو گئی۔
اس وقت ہم دونوں کے علاوہ خاندان کا کوئی فرد نہیں جو ہمارا رشتہ دار کہلائے۔ پاکستانی ہونے کی اور وطن سے محبت کی قیمت ہم نے چکائی ہے۔ ہم نے۔ اور ہم جیسے ہزاروں خاندانوں نے … جو اب نہ پاکستانی ہیں نہ بنگلہ دیشی‘‘۔
فاطمہ نے سینے پہ ہاتھ مارا۔’’ اصل میں ہم پاکستانی ہیں۔ پاکستان ہمارا ہے۔ہم نے اپنا وہ پاکستانی پاسپورٹ تبرک کے طور پر سنبھال رکھا ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی نے دونوں بڑی بیٹیوں کو ایک پاکستانی سے بیاہ دیا۔ وہیں آسٹریلیا میں اب وہ لاہور میں آباد ہیں تاکہ ہماری نسلیں پاکستانی کہلائیں۔ وہ وعدہ جو ہم نے اپنے باپ داداسے کیا تھا کہ مرتے دم تک پاکستانی رہیں گے۔ اور ہم وہاں نہیں گئے کہ وہ چمن ہم کو آدھا گوارا نہ تھا … مدینہ ثانی کو چھوڑ کر بھلا وہاں کیسے بس جاتے؟‘‘
ان کی باتوں سے سچائی کی مہک نے کمرہ میں ایک ناقابل فہم سی خوشگوار فضا بنا دی تھی۔ اگرچہ صائمہ اور اس کی ماں کے دل سخت شرمندہ تھے۔ وطن سے سچی محبت کا مفہوم اس طرح انھوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
’’آنٹی! وہ بھی تو ایک اسلامی ملک ہی بن گیا ہے۔ ہم تو اس بات پہ مطمئن ہو گئے ہیں‘‘۔
’’ہاں ایک لحاظ سے بات درست ہے، مگر وفا کا وعدہ پورا کرنا ہی محبت کی شان ہے … اور پھر وفا کے تقاضے ہر کسی کی سمجھ کے مطابق ہوتے ہیں ۔ ہماری سمجھ یہ کہتی ہے کہ محبت میں وفا، پائیداری اور استقامت اصل ایمان ہے‘‘۔فاطمہ نے محبت کا نیا فلسفہ وطن کے حوالے سے بیان کر دیا۔
عمارہ نے سب کو چائے وغیرہ پیش کی پھر صائمہ کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔ اور پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا۔
’’ہم لوگ پاکستان کے حالات پہ بہت پریشان رہتے ہیں۔ بلوچستان کا معاملہ اگر غور کریں تو کسی قدر ملتا جلتا ہے مشرقی پاکستان کے حالات سے‘‘۔
’’ہم نے کوئی سبق نہ سیکھا …‘‘ صائمہ نے دکھ سے کہا ۔ ’’سب اپنے اپنے مفاد کے پیچھے قومی مفاد کو بھول بیٹھے ہیں‘‘۔
’’جو قوم سے غداری کرتا ہے اس کا انجام تو اچھا نہیں ہوتا نا! مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کے سارے قصور وار عبرت کی موت مرے بلکہ ان کی اولادیں بھی …‘‘ عمارہ نے پتے کی بات کہی۔
دونوں خواتین ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف ہو گئیں۔ لڑکیاں اپنی باتوں میں لگ گئیں۔
’’ارے ہاں! میں نے تو کبھی اس طرح سوچا ہی نہیں‘‘۔ صائمہ نے جواب دیا۔ حالانکہ وہ دل میں شرمندہ ہو رہی تھی کہ انھوں نے کسی بھی موضوع پہ کبھی نہ سوچا نہ پڑھا تھا نہ وطن کی محبت کو اپنے ایمان کا حصہ بنایا تھا۔
اس نے رشک سے عمارہ کو دیکھا جو پاکستانی ہونے اور اسی شناخت پہ قائم رہنے پہ مصر ہے۔
ادھر ادھر کی مزید باتیں ہونے لگیں اور پھر وہ رخصت لے کر اپنے ہاں آنے کی دعوت دے کر چلی آئیں۔ لفٹ میں کھڑی صائمہ نے اپنی ماں کو کچھ سوچتے ہوئے دیکھا …
’’امی! کیا سوچ رہی ہیں؟‘‘
’’عمارہ بہت اچھی بچی ہے‘‘۔ اور ماں کی معنی خیز مسکراہٹ سے وہ جان گئی کہ اب گھر جاکر مجھے عاصم بھائی کو خوب تنگ کرنا ہے۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x