ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

چيلنجز ، کاميابى کى راہ گزر – بتول اپریل ۲۰۲۲

زندگی کی راہ گزر بہت سے تجربات سے مزين ہوتی ہے ۔ کہیں پھولوں کی سیج ، تو کہیں خاردار راستہ لیکن یاداشت میں یادیں انہی کانٹوں بھرے راستوں کی پیوست رہ جاتی ہیں ۔ ان سے کُشید اسباق نہ کسی کتاب میں ملتے ہیں ، نہ کسى دوسرے امتحان سے ۔ زندگی کے امتحان کسی نعمت سے کم نہیں ، یہ مسائل ہی سوچ کو نئے زاویے سے ہمکنار کرنے ، کچھ نیا اور بہتر کرنے کی جستجو پیدا کرتے ہیں ۔ دنیا کا وجود چيلنجز کو تسخیر کر کے ہى ممکن ہؤا ۔ اگر چیلنجز کو زندگى سے منہا کر ديں تو دنیا کا نظام تباہ ہوجائے ، یہ رنگینياں بے رنگ ہو جائيں ۔ غرضيکہ مسائل کے ساتھ ہی کامیابی جڑی ہے ۔ بغير مسئلوں کے کوئی بھی ترقی نہیں کرسکتا ۔
قدرت کی جانب سے تربیت کا انتظام بھى چیلنج کے ذریعے ہى رکھا گیا ہے ۔ ذى شعور ہی نہیں بلکہ ہر چرند پرند بھی رکاوٹوں سے لڑ کر زندگی بھرپور بنانے کا فن جانتے ہیں ۔ تتلى کے لیے بھی پہلا چیلنج لاروا ہوتا ہے ، اس رکاوٹ سے نبرد آزما ہونے کے لیے زور سہنا اور باہر نکلنا ہی اُس کو خوبصورتی سے روشناس کرتا ہے ۔ اگر بیرونی طاقت اس رکاوٹ کو توڑ ڈالے تو تتلى خوشنمائی سے محروم ہو جاتی ہے گویا تتلى کی خوبصورتی لاروے سے مقابلہ کرنے میں ہی پوشیدہ ہے ، جتنا اپنے بل پر لڑنے کی اہل ہوگی اتنی ہی حسین ہوگی ۔
انسان کی زندگی بھی اس سے کچھ الگ نہیں ۔ ہر کسی کی زندگی میں لاروے ناگزیر ہیں ۔ مختلف اشکال لیے لاروے جا بجا آکھڑے ہوتے ہیں ۔ فطرت ثانیہ ہے کہ ان سے نبرد آزما ہوکر ہی خوبصورت اور پائیدار پّر ميسر ہوتے ہیں ۔ ان سے مقابلہ ہی عظمت پر فائز کرتا ہے ۔ بظاہر چٹان کی مانند چیلنجز بھی مردانہ وار سامنا کرنے سے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتے ہیں ۔ وہ کامیابی جس کا ہم صرف خواب دیکھتے ہیں ، سخت صورتحال سے گزرے بغیر ممکن نہیں ۔ اس کی تعبیر کے لیے قدرت ہمارے قد سے بڑا چیلنج لا کھڑا کرتی ہے مگر ان بحرانوں پر قابو پانے کے بعد سامنا کرنے والے کو قدآور بنا کر بلندى عطا کرتی ہے اور یہی کامیابی کی مساوات بھی ہے ۔
دنیا کی عظیم شخصیات کی سوانح عمری پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے بھی دشوار گزار مراحل تھے جنہیں مات دے کر ہی عروج حاصل ہوا ۔ بانیِ پاکستان محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے ابوابِ زندگی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ انہوں نے عقیدےاورمذہب کی بنیاد پر حقوق کی پامالیوں اور زیادتیوں کو محسوس کیا اورآواز بلند کی ۔ برصغیر کے مسلم باشندوں کو برسوں پر محیط حالت ِخواب سے جگایا اور قومی حمیت کا احساس بیدار کیا ۔ درپیش نازک دور میں مسلمانوں کی قیادت کی اورقوم کو متحرک کیا جس کا نتیجہ تحریک پاکستان کی صورت نکلا۔ قائداعظم کی بصیرت اور معاملہ فہمی نے صرف جذبہ جگانے پر ہی اکتفا نہيں کیا بلکہ منزل کے حصول کی جامع حکمت عملی طے کى ، استقامت سے اس پر عمل پیرا رہے اورذہانت سے سازشوں کے جال توڑتے رہے، بالآخرکامیابی ان کا مقدر ٹھہری ۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنوں کی مکاری سہی ، پیاروں نے ان کے اعتبار کو ٹھیس پہنچائی اور ذاتی مفادات کی خاطر انہیں سانسوں کی ڈور سے محروم کرنے کی سازش بھی بنی ۔ عزیز ترین بھائیوں کا حضرت یوسف علیہ السلام کو کنويں کی اتھاہ گہرائیوں کے حوالے کرکے چھوڑ جانا ، ایسے اذیت ناک لمحات حضرت یوسف علیہ السلام نے تن تنہا گزارے ۔ اس آہنى چیلنج سے نہ دلبرداشتہ ہوئے ،نہ ہى ہمت ہار کر مایوس ہوئے بلکہ ’خدا اعتمادی، خود اعتمادی‘ کے فلسفے پر کاربند رہے ۔ اندھیر وادی میں خدائے بزرگ و برتر پر توکل کا دیا جلائے رکھا ۔ عقل انسانی تو عموماً ان حالات میں ہاتھ پاؤں چھو ڑ بیٹھتی مگر مسبب الاسباب پر قوى بھروسے نے پیغمبر خدا کو ہر خوف سے عاری رکھا ۔ آخرکار ان کٹھن حالات ميں سرخرو ہوئے ۔
مشہور مقولہ ہے کہ سپاٹ ساگر کبھی ہنرمند ملاح تیار نہیں کر سکتے یعنی انسان کی قابلیت ، صلاحیت ، شعور اور عقل غرض زندگی کا نکھار کسی نہ کسی طرح مشکل حالات سے وابستہ ہے ۔ ‘بھٹی اور کندن، گویا ہمجولیاں ہوئيں ۔ آسان حالات کبھی بھی آگے بڑھنے کا پیش خیمہ ثابت نہیں ہوتے ، يہ زندگی میں درپیش رکاوٹیں ہى ترقی کی جانب گامزن رکھتی ہیں ۔ نمٹنے کا حوصلہ ، بلند مقاصد کا حصول اور مسائل کو حل کرنے کا گُر سکھاتی ہیں۔
واقعہ ہے کہ ایک نابینا بیٹھا مانگ رہا تھا ۔ بادشاہ نے سوال کیا تو پتہ چلا کہ کئی برس سے بصارت کا سوالی ہوں ، مگر دعا قبولیت کا درجہ نہیں پاتی ۔ یہ سنتے ہی بادشاہ نے جلاد کو فی الفور حکم دیا کہ اگر میری واپسی تک اس کی بینائی نہ لوٹے تو سر تن سے جدا کر دینا ۔ یہ سننا تھا کہ نابینا شخص نے گڑگڑاتے ہوئے دعا مانگنا شروع کر دی اور عہد کیا کہ اگر خدا اسے بصارت عطا کردے تو وہ آئندہ کبھی نہیں روئے گا ۔ کچھ دیر میں بادشاہ آیا تو سوالی کی آنکھیں منوّرہو چکی تھيں ۔ وہ حاضر ہو&ٔا اور کہا ”بادشاہ سلامت برسوں سے میں التجائيں کر رہا ہوں مگر میرا مسئلہ جوں کا توں تھا ۔ آج ایسا کیا ہؤا کہ لمحوں میں حل ہوگیا؟“ باشاہ کہنے لگا”اس سے پہلے تیرے پاس دعا تھی، تڑپ نہیں“ ۔ درحقیقت نازک دور اور سخت صورتحال کا ادراک ہونا ناکافی امر ہے ۔ مستقل مزاجی کے علاوہ تڑپ اور طلب ہی درست سمت کا تعین کرنے میں کارگر ہوتے ہیں ۔ ڈٹ کر سامنا کرنے کی اہلیت ہوگی ، تب ہی کامیابی دروازے پہ ہوگی ۔
ہمارے معاشرے میں باصلاحیت نوجوان بھی ناکامی کے خوف میں مبتلا نظرآتے ہیں حالانکہ ناکامی محض ’مزید محنت‘ کی اصطلاح ہے ، حتمی نتیجہ نہیں ۔ یہ ترقی کی راہ میں حائل چیلنج سے زیادہ کچھ نہیں ۔ زندگی میں ترقی کا اہم راز ناکامی کو خوش دلی سے قبول کرنے میں پنہاں ہے ، ناکامی کا سامنا کرنے والے ہی اس ’اژدھے‘ کو روندھنے کا اصل گُر جانتے ہیں۔ دنیا پر چھاجانے والی قوموں کى کامیابی کی بنیادی وجہ بھى یہی ہے کہ وہ ناکامی کو ’ہارنے‘ کا استعارہ نہیں جانتیں بلکہ ان کے نزديک يہ جینے کی چابی ہے ، کوتاہیوں اور غلطیوں سے سیکھنے کا نادر موقع ہے۔
ناکامیوں سے دل شکستہ ہونے کی بجائے ان کا گہرا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے پھر یہی ناکامیاں کامیابی کا راستہ بن جاتی ہیں۔ ہمیں رکاوٹوں ، الجھنوں اور مسائل پر توجہ دینے کے بجائے مقاصد کے حصول کو فوکس کرنے کی ضرورت ہے، ایسا نہ ہو کہ یہ معاشرہ ہنر مند اور باصلاحیت افراد کے باوجود گہنا جائے ۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x