ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

پریوں کے دیس میں – بتول نومبر۲۰۲۰

دلفریب نظاروں ، آبشاروں ، پہاڑوں ،بپھرتے دریا ئے کنہار اورپرفسوں جھیل سیف الملوک کی سیر کا احوال

 

میں نے اپنی ننھی پوتی مریم کو ایک دن جھیل سیف الملوک پہ پریوں کے آنے کی کہانی سنا دی ، بس اسی دن سے وہ اصرار کر رہی تھی کہ اسے بھی وہ جھیل دیکھنی ہے ۔ اس کا اصرار سن کر میرے بھانجے ، بھانجیوں کو بھی شوق پیدا ہو گیا کہ ہم سب بھی چلیں گے۔
ان سب کی خواہش پوری ہونے کا وقت آگیا اور پچھلے سال 2019ء جولائی کے آخری عشرے میں ہمارا اس پریوں کے دیس کی سیر کا پروگرام بن گیا ۔ میں تو پہلے بھی چاردفعہ اس خوبصورت علاقے اور اس خوبصورت جھیل کی سیر کر چکا ہوں لیکن میرے بھانجے ، بھانجیوں اور پوتے پوتیوں کے لیے ادھر جانے کا یہ پہلا موقع تھا اس لیے وہ سب بہت پر جوش تھے۔
ایک موٹر سائیکل کی ٹکر کی وجہ سے میری ایک ٹانگ میں کچھ پرابلم ہے اور پیدل چلنا مشکل ہوتا ہے ۔ سٹک لے کر چلتا ہوں ۔ میں نے بہت کہا کہ آپ لوگ چلے جائیں میں گھر پہ آرام کروں گا لیکن وہ سب بضد تھے کہ ہم آپ کے بغیر بالکل نہیں جائیں گے ہمیں لطف نہیں آئے گا سو مجھے ان کے ساتھ جانے کی حامی بھرنا پڑی۔
ہم نے ایک کوچ کرائے پر لی جس میں چوبیس سیٹیں ہوتی ہیں ۔ ہم بڑے بچے ملا کر کل بیس کے قریب تھے اس لیے آرام سے کھلے کھلے بیٹھ گئے ۔ میرا ایک بھانجا سعید الحق ، دو بھانجیاں مونا اور بشریٰ،بیٹاخرم اوربہو زوبیہ بچوں کا شوق ہے اور اصرار ہے کہ ہمارے نام بھی لکھیں تو ان کی خوشی کے لیے ان سب کے نام بھی لکھ رہا ہوں ۔ بھانجے سعید کی بیٹیاں دعا اور بسمہ بھانجے کی اہلیہ صائمہ ، بھانجیوں کی بیٹیاں ماریہ ، مریم ،عائشہ ، حرا ، حلیمہ ، بھانجی بشریٰ کے بیٹے عمر اور سعد … اور میری پوتیاں آمنہ ، مریم اور پوتا علی ، سب نے بڑے اہتمام کے ساتھ تیار ی کی اور ہماری کوچ صبح دس بجے راولپنڈی شہر سے روانہ ہوئی ۔
ہم اسلام آباد سے ہی موٹروے پر آگئے اور سی پیک کے تحت بننے والی نئی ،شاہراہ پر محو سفر ہو گئے ۔کوچ کا ڈرائیور سجاد ایک ماہر ڈرائیور تھا اور کوچ ائیر کنڈیشنڈ تھی اس لیے سفر کا مزہ آ رہا تھا ۔ موٹروے پر تو کوچ زبردست رفتار کے ساتھ دوڑتی رہی لیکن یہ تیز رفتار سفر جلد ہی اختتام پذیر ہو گیا کیونکہ اس وقت تک یہ شاہراہ ابھی صرف حویلیاں تک مکمل ہوئی تھی (اب تو ماشاء اللہ اسلام آباد سے مانسہرہ تک مکمل ہو چکی ہے )۔ حویلیاں سے نیچے اتر کر پرانی ایبٹ آباد روڈ پہ محو سفر ہوئے ۔ یہ اچھی سڑک ہے لیکن آج کل اس پہ ٹریفک کا رش بڑھ گیا ہے۔
جلد ہی ایبٹ آباد آگیا ۔ یہاںسڑک شہر کے اندر سے گزرتی ہے جس پہ ٹریفک کا بے تحاشا رش ہوتا ہے ۔ ایبٹ آباد شہر پار کرتے کرتے کم از کم ایک گھنٹہ لگ گیا ۔ اب دوپہر کے کھانے کی خواہش ہو رہی تھی ۔ ایبٹ آبادسے نکلیں تو ذرا آگے جا کے ایک مقام آتا ہے جس کا نام ہے قلندر آباد ، وہاں کے چپل کباب بہت مشہور ہیں اور مزے کے ہوتے ہیں لہٰذا فیصلہ ہؤا کہ لنچ میں قلندر آباد کے مزیدار چپل کباب کھائے جائیں ۔ وہاں پہنچ کر ہم سڑک کنارے ایک ہوٹل پہ رکے ۔ویسے اگر آپ نے اصل قلندر آباد کے چپل کباب کھانے ہوں تو قلندر آباد کے بازارمیں جا کے کھائیں لیکن وہاں گاڑی کا جانا مشکل ہوتا ہے ، پیدل ہی جا سکتے ہیں ۔ وہاں مزے سے آپ نیچے چٹائیوں پہ بیٹھ کرروایتی طریقے سے ان کبابوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔ لیکن ہماری مجبوری تھی کہ بازار جانا مشکل تھا سو سڑک کنارے ایک ریستوران کا انتخاب کیا۔
ریٹ مناسب تھا ، پانچ سو روپے فی کلو کے حساب سے کباب دے رہے تھے ۔ ایک کلو میں چار بڑے یا آٹھ چھوٹے سائز کے کباب بنا دیتے ہیں ۔ بھانجا، بھانجی گوشت نہیں کھاتے ان کے لیے دال ماش کا آرڈر دے دیا ۔ ویٹر ارشد چٹنیاں اور سلاد لا کے اہتمام کے ساتھ ہمارے سامنے رکھتا گیا۔
تھوڑی دیر میں گرما گرم کباب آگئے اور دال ماش بھی ، کباب بہت مزے کے تھے مصالحے بھی مناسب اور مزیدار تھے ۔ ساتھ گرم گرم تندوری روٹیاں ۔ سب نے مزے لے لے کر کباب کھائے ۔ کھانے کے ساتھ خوب انصاف کیا گیا اب موسم بھی اچھا ہو گیا تھا ۔ آسمان پربادل تیر رہے تھے ۔ چائے بھی منگوائی گئی اور مزے سے پی ۔ سب باری باری واش رومز سے فارغ ہوئے اور تازہ دم ہو کر آگے کا سفر شروع ہو گیا۔
جلد ہی مانسہرہ کا علاقہ شروع ہو گیا اب مناظر خوبصورت اور دلکش ہونے لگے ۔پہاڑی علاقہ شروع ہو چکا تھا ، ہر طرف سبزہ ہی سبزہ سامنے سر بفلک پہاڑ، دور برف پوش چوٹیاں بھی نظر آ رہی تھیں ۔ دلفریب مناظر تھے جو آنکھوں کو تازگی اور دل کو فرحت بخشتے ہیں۔
مانسہرہ کے باہر بائی پاس روڈ بنا دی گئی ورنہ وہاں بھی ٹریفک کے اژ دہام کا سامنا کرنا پڑتا ۔ہم آرام سے مانسہرہ کے باہر سے گزر گئے ۔ ہرسو خوبصورت مناظر تھے ۔کہیں ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے، کہیں گہرائی میں سر سبز ٹھنڈی وادیاں۔ اب سڑک پہاڑوں میں سے گزر رہی تھی ۔ زگ زیگ، بچے کبھی خوف سے کبھی خوشی سے چلا رہے تھے ۔ موسم بھی اچھا ہو گیا ۔ جب بالا کوٹ کے قریب پہنچے تو چھما چھم بارش شروع ہو گئی جس سے موسم خنک ہو گیا بلکہ ہمیں نکال کر سویٹر پہننے پڑے ۔ بالا کوٹ کے قریب ہی گڑھی حبیب اللہ کا قصبہ آتا ہے جہاں سے ایک سڑک مظفر آباد، آزاد کشمیر کو نکلتی ہے اور دوسری سیدھی آگے وادیِ کاغان کی طرف بالا کوٹ جو 2005ء کے زلزلے کے دوران مکمل تباہ ہو گیا تھا ۔ اب نیا تعمیر ہؤا ہے ۔ یہاں دو مشہور شہدا کے مزار ہیں ۔مولانا سید احمد شہید اور سید اسمٰعیل شہید ۔ دونوں سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے اس جگہ شہید ہوئے تھے ۔ بالا کوٹ کو گیٹ وے ٹو کا غان کہا جاتا ہے ۔
بالا کوٹ سے پہلے ہی دریائے کنہار کے خوبصورت مناظر بھی آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں ۔ نیچے گہرائیوں میں دریائے کنہار کا سفید چمکدار پانی نظر آتا ہے اور دریا سانپ کی طرح بل کھاتا ہؤا نیچے گہری وادیوں میں بہتا ہؤا چلا جاتا ہے ۔
بالا کوٹ کے قریب تو جہاں دریا کی رفتار ذرا آہستہ ہوتی ہے اور پانی زیادہ گہرانہیںہوتا وہاں پانی کے اندر ریستوران کا ساسماں نظر آتا ہے ۔ دریا کے اندر بڑی بڑی چار پائیاں بچھی ہیں کرسیاں رکھی ہیں ۔ آپ پائوں ٹھنڈے ٹھنڈے پانی میں ڈبو کر بیٹھ جائیں اور خوب تازہ دم ہو جائیں ۔ وہاں آپ گرما گرم چائے سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔ مشروبات کی بوتلیں دریا کے ٹھنڈے پانی میں ہی ٹھنڈی کی جاتی ہیں۔بالا کوٹ سے آگے وادی کاغان کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے ۔ سڑک بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ میں سے گزر رہی تھی اور نیچے وادی میں زور و شور سے بہتا ہوا دریائے کنہار نظر آ رہا تھا ۔ پہاڑوں پرچیڑ کے دیوقامت درخت تھے اور درمیان میں قالین کی طرح سبزہ بچھا ہؤا تھا۔ خوبصورت وادی کا غان شروع ہو چکی تھی لیکن ابھی اس وادی کے صدر مقام ناران تک پہنچنے میں کافی فاصلہ اور وقت درکار تھا ۔ راستے میں بٹہ کنڈی کا مقام آیا جہاں اکا دکا چھوٹے چھوٹے ریستوران تھے ۔مگر یہاں سے ہم بغیر رکے گزر گئے۔ پھر پارس کا مشہور مقام آیا اور اس کے بعد کوائی، جہاں سے اوپر شوگران کی پہاڑی پر راستہ جاتا ہے ۔ یہ بھی ایک مشہور تفریح مقام ہے ۔
مجھے یاد ہے جب میں پہلی دفعہ 1975میں شوگران کی پہاڑی پر گیا تھا تو یہاں ایک بھی ہوٹل نہ تھا ۔ مکمل طور پر قدرتی حسن ہر طرف نظر آتا تھا ۔ صرف ایک فاریسٹ آفس اور ریسٹ ہائوس تھا ۔شوگران بہت بلندی پر واقع ہے یہاں کھڑے ہو کر دوربرفانی چوٹیاں بخوبی نظر آتی ہیں ۔ شوگران سے ایک تنگ پتھریلی مشکل سڑک اور بھی بلندی پر واقع سری پائے کے مقام پر جاتی ہے جو اور بھی سر سبز اور دلکش ہے اور قدرتی حسن سے مالا مال ہے وہاں آپ صرف جیپ پرجا سکتے ہیں۔
اب جب کئی سال بعد شوگران آئے تو دیکھا کہ پہاڑی پر ہر طرف ہوٹل ہی ہوٹل بن گئے ہیں اور وہ قدرتی حسن اور سیر گاہ کا تصور کچھ ماند پڑ گیا ہے ۔ کاش کہ وہاں سلیقے سے اور تھوڑے ہوٹل بنائے جاتے تاکہ اس کا قدرتی حسن قائم رہتا ۔
بہر حال ایک دو راتیں قائم کرنے کے لیے یہ اب بھی ایک اچھا خوبصورت سیاحتی مقام ہے سیزن میں ہوٹلوں کے کرائے بہت بڑھ جاتے ہیں ۔ ایک اچھے ہوٹل میں فیملی روم قریباً دس ہزار تک ملے گا جب کہ آف سیزن یہی کمرہ دو ہزار میں آسانی سے مل جائے گا۔
شوگران کے بعد مہاتڈری کا مشہور مقام آیا ۔ وہاں ہم نے مختصر قیام کیا ، چائے پی اور آگے روانہ ہو گئے ۔ چھوٹی پوتی مریم بہت خوش تھی ۔ بہت کہا راستے میں کچھ دیر سو جائو لیکن مسلسل جا گتی رہی اور بڑوں کے ساتھ خوبصورت نظاروں سے لطف اندوزہوتی رہی ۔ اب دریائے کنہار زیادہ تندی اور تیزی کے ساتھ بہہ رہا تھا اور اس کی موجیں بپھر رہی تھیں ۔ صاف شفاف پانی نظروں کو ٹھنڈک بخش رہا تھا ، ہم ان خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آگے بڑھتے گئے کیونکہ ہم غروب آفتاب سے پہلے ناران اپنی منزل تک پہنچنا چاہتے تھے ۔ راستے میں کہیں بادل آجاتے اور اچانک بارش شروع ہو جاتی اور نظارے اور بھی دلکش اور حسین ہوجاتے۔
ہم نے ایک ہوٹل میں کمرے بک کروا رکھے تھے جس کا نام ہوٹل ’’ فلورا اِن ‘‘ ہے ۔ یہ ہوٹل ہماری نو اسی عائشہ کی سہیلی رمشا کے والد چلا رہے ہیں ۔ بڑے نفیس اور خوش اخلاق انسان ، باشرع اور باریش انسان ہیں ۔ ہر سال محبت و عقیدت کے ساتھ حرمین شریفین میں حاضری دیتے ہیں اللہ نے ان کو خوب نوازا ہے۔
خدا خدا کر کے ہم اپنی منزل ناران پہنچ گئے ۔ سب سیاح اسی مقام پر قیام کرتے ہیں کیونکہ یہاں ہر قسم کے بڑے چھوٹے ہوٹل موجود ہیں اور ریستوران تو بے شمار ہیں جہاں آپ کو لاہور ی کھانے ، کراچی کے کھانے پشاور کے کھانے ، بلوچی کھانے سب کچھ مل سکتا ہے ۔ ناران ، وادی کاغان کا مرکزی مقام ہے ۔ کاغان تو ناران سے بھی چند کلو میٹر پہلے آجاتا ہے لیکن وہاں سیاح کم ہی قیام کرتے ہیں کیونکہ ناران ایک ایسا مقام ہے جہاں سے جھیل سیف الملوک کو بھی سڑک جاتی ہے اور جھیل لولو سر اور بابو سر ٹاپ کو سڑک جاتی ہے ۔ وہاں سے آگے جا کے سڑک چلاس چلی جاتی ہے جہاں سے آپ شاہراہ ریشم پہ پہنچ جاتے ہیں۔
یوں صبح دس بچے کے چلے ہوئے ہم قریباً چھ بجے شام ناران پہنچ گئے تھے ۔ ہوٹل فلورااِن پہنچے تو خالد بٹ صاحب نے خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کیا ۔سامان اتارا ، ہمارے کمرے کھول دیے گئے ۔ کمرے نہایت کشادہ اور صاف ستھرے تھے ۔ ہر کمرے میں چار چاربستر موجود تھے بلکہ ہمارے کہنے پر ہمارے کمروں میں زائد گدے اور کمبل وغیرہ بھی مہیا کر دیے گئے ، اس طرح ہمیں بہت سہولت ہو گئی ۔ ہوٹل کاماحول بہت اچھا اور عملہ با اخلاق تھا فیملیز یہاں بے خطر آرام و سکون سے رہ سکتی ہیں۔
ہم نے کمروں میں سامان سیٹ کیا تھکے ہوئے تھے اس لیے کمروں میں ہی چائے منگوائی گئی ۔
رات کے کھانے کے لیے سب نے فیصلہ کیا کہ بازار میں چلتے ہیں جہاں ہر طرح کے ریستو ران موجود ہیں اور طرح طرح کے کھانے مل جاتے ہیں ۔ رونق بھی بہت ہوتی ہے پہلے تو صرف بازار والی سڑک ہی ہوتی تھی جس پر ہوٹل بھی ہیں اور ریستوران بھی … لیکن اب ایک اور سڑک ناران بائی پاس کے نام سے تعمیر کردی گئی ہے اور اب اس سڑک پر بھی بے شمار نئے ہوٹل بن گئے ہیں ’’ فلورا اِن‘‘ اسی بائی پاس پر واقع ہے۔
ہم تیار ہو کر بازار پہنچے ۔ ہر طرف ریستوران روشنیوں سے جگ مگ کر رہے تھے ۔ بے شمار انواع و اقسام کی دکانیں ، ہر طرف لوگ ہی لوگ ، گاہک ہی گاہک ، کہیں پنجاب تکہ ہائوس ہے کہیں لاہوری ہوٹل کہیں خیبر شنواری، تو کہیں بولان کوئٹہ ریستوران ، الغرض ہرعلاقے کے کھانے یہاں میسر ہیں ۔ کہیں بریانی مل رہی ہے تو کہیں برگر کہیں پیزا تو کہیں باربی کیو، کہیں ٹرائوٹ فش ۔ اب تو ٹرائوٹ فش بہت مہنگی ہو گئی ہے ، قریباً چار ہزارروپے کلو ۔ بیس سال پہلے جب میں کاغان آیا تھا اس وقت چار سو روپے کلو مل جاتی تھی۔
پنجاب ہوٹل میں مزیدار کھانا کھایا اور واپس آئے ۔ تھوڑی دیر ٹی وی سے دل بہلایا پھر سب بستروں میں گھس گئے ۔ صاف ستھرے کمبل تھے ، شفاف سفید چادریں ، رضائیاں بھی موجود تھیں اس لیے بہت آرام سے سوئے لیکن کاغان میں بجلی کی فراہمی کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ہوٹل کے منیجر نے بتایا کہ انہوں نے چار پانچ لاکھ روپیہ خرچ کر کے ہوٹل کے باہر ٹرانسفارمر لگوا دیا ہے لیکن واپڈانے ابھی تک وعدہ کے مطابق بجلی کی سپلائی نہیں دی ۔ہوٹل والے اپنے ہیوی ڈیوٹی جنریٹر سے کام چلا رہے ہیں ۔ رات کو ایک بجے جنریٹر بند کرنا پڑتا ہے تو بجلی چلی جاتی ہے پھر صبح سات بجے آتی ہے ۔
ناشتہ کے بعد سیر کا پروگرام تھا ۔ میرا خیال تھا کہ پہلے جھیل سیف الملوک جائیں جہاں کہا جاتا ہے کہ چودھویں کی رات کو پریاں اترتی ہیں لیکن باقی گروپ ممبران کا خیال تھا کہ پہلے جھیل لولو سر اور بابو سر ٹاپ کی سیر کی جائے سب کی خواہش کا احترام کرنا پڑا۔
صبح گیارہ بجے روانہ ہوئے ۔ ناران کے قریب ہی دیکھا کہ لوگ بڑی بڑی کشتیوں میںبیٹھ کر دریائے کنہار کی سیر کر رہے ہیں ۔ غالباً ایک کشتی کا کرایہ دو ہزار روپے تھا ۔ پوری فیملی اس میں بیٹھ سکتی ہے یہ کشتیاں پانی کے بہائو کے رخ پر چلتی ہیں ۔ کشتیوں والے انہیں بڑی بڑی گاڑیوں میں رکھ کے واپس بیٹھنے والے پوائنٹ پر لے آتے ہیں ، وہاں سے پھرسوار ہوتے ہیں ۔
یہ سفر بڑا خوبصورت تھا ۔ سامنے خوبصورت پہاڑ تھے جو سر سبز اور سربفلک تھے ۔ سامنے کئی پہاڑوں پر سفید برف چمک رہی تھی ۔ سڑک آہستہ آہستہ بلند ہوتی جا رہی تھی ۔ راستے میں جا بجا خوبصورت آبشاریں تھیں جن کا ٹھنڈا شفاف پانی جھاگ اڑاتا ہؤا گر رہا تھا ۔ گاڑی تک پانی کے چھینٹے آ رہے تھے ۔ لوگ ان آبشاروں پر کھڑے ہو کر پانی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ہم لوگ مستقل ان خوبصورت مناظر کو اپنے کیمروں میں محفوظ کررہے تھے ۔ نیچے گہری وادیوں میں دریا سانپ کی طرح بل کھاتا ہؤا بہتا جا رہا تھا ۔ یہ دریا جھیل لولو سر سے نکل کر پہاڑوں میں بہتا ہؤا نیچے جا کر ناران کے مقام پر دریائے کنہار میں شامل ہو جاتا ہے جہاں سے بالا کوٹ کی طرف اس کا سفر شروع ہو جاتاہے ۔ راستے میں جگہ جگہ خوبصورت ہوٹل تعمیر ہو گئے ہیں جہاں آپ آرام سے رات بسر کر سکتے ہیں ۔ سڑک بہت اچھی ہے ۔ لوگ اپنی گاڑیوں میں جھیل لولو سر تک آسانی سے چلے جاتے ہیں ۔ ہم راستے میں ایک ریستوران میں رکے جس کا نام ’’ کائنات ریسٹورنٹ‘‘ تھا سڑک کے کنارے اچھا صاف ستھرا ریستوران تھا یہاں چائے بھی دستیاب تھی اور کھانے بھی ، صاف ستھرے واش رومز بھی تھے ۔ اس کے بعد سب کا پروگرام بنا کہ نیچے جا کر دریا کو ہاتھ لگائیں اور اس کے کنارے بیٹھ کر لطف اندوز ہوں ۔ میں تو ریستوران کے باہر ہی کرسی پہ بیٹھ کے یہ سب نظارہ دیکھتا رہا اور باقی لوگ نیچے دریا کے پاس پہنچ کر خوب لطف اندوز ہوئے اور تصویریں بنائیں ۔ اب ہم پھر جھیل لو لو سر کی جانب روانہ تھے یہ سفر اگرچہ خاصا طویل تھا لیکن چونکہ خوبصورت پہاڑی مناظر تھے چشمے تھے بل کھاتا ہؤا جھاگ اڑاتا ہؤا دریا تھا اس لیے سفر میں مزا آ رہا تھا اور تھکاوٹ محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔ سڑک پر بے شمار گاڑیاں رواں دواں تھیں ۔لگتا تھا پنجاب ، سندھ ، کے پی ، سبھی جگہوں سے لوگ ادھر نکل آئے ہیں ۔ ہر طرح کا فیشن یہاں نظر آ رہا تھا ۔جب سے ہم ناران سے اوپر سڑک پر روانہ ہوئے تھے جگہ جگہ پہاڑوں پر یا سڑک کے کنارے لگے سائن بورڈوں پر ایک نام لکھا ہؤا تھا ’’مون ریسٹورنٹ‘‘35کلو میٹر ۔30کلو میٹر … 25کلو میٹر … 20کلو میٹر … لیکن ہم تھک گئے اور وہ ریسٹورنٹ نظر نہیں آ رہا تھا ۔ انتظار کر کے بالآخر وہ مقام آہی گیا جہاں مون ریسٹورنٹ کے نام کے ساتھ ایک بورڈ لگا یا ہؤا تھا جس پر لکھا تھا ’’ آخر مل ہی گیا ‘‘ ۔
لوگوں کا رش تھا ، کافی وسیع ریستوران تھا ، کار پارکنگ کے لیے بھی خاص جگہ تھی ۔ ویسے آفرین ہے اس ہوٹل کے مالک پر ایک دفعہ پہاڑی تودہ گرنے سے وہاں سڑک بلاک ہو گئی تو اس ہوٹل کے مالک نے کمال فیاضی کا مظاہرہ کیا سب کو بلا معاوضہ رات گزارنے کے لیے جگہ دی اور رات بھر ان کی تواضع حلوے اور چائے سے کی ۔ یہ واقعی اس ریستوران کے مالک کی اعلیٰ ظرفی ہے وگرنہ تو لوگ ایسے علاقوں پر خوب کمانے کی فکر میں ہو تے ہیں۔
آگے روانہ ہوئے تو پہاڑوں کے مناظر اور بھی دلفریب اور دلکش ہونے لگے ۔ جگہ جگہ گرتی خوبصورت آبشاریں ، جھرنے اور بابو سر ٹاپ پہ چمکتی ہوئی برف کا نظارہ … بالآخر ہم جھیل لولو سر پہنچ گئے ۔ یہاں بے حد رونق تھی اور دو تین اچھے وسیع اور صاف ستھرے ریستوران بھی تھے۔
لو لو سر جھیل اوپر سے نظر آ رہی تھی جو کافی لمی ہے اور چوڑائی میں ذرا کم ہے ۔ میرے اور ڈرائیور کے علاوہ باقی سب جھیل کے پانی کو ہاتھوں سے چھونے اور نزدیک سے دیکھنے کو چلے گئے ۔ واقعی یہ جھیل قدرت کا شاہکار ہے برف پگھل پگھل کر پانی کی شکل میں اس جھیل میں جمع ہوتی رہتی ہے ، پھر اس جھیل کا پانی نیچے کا رخ کرتا ہے اورمسلسل دریائے کنہارمیں شامل ہوتا رہتا ہے۔
ایسے لگتا تھا کہ سارا پاکستان ہی اس جھیل کو دیکھنے چلا آیا ہے ۔ بہت لوگ تھے ۔ ابھی بابو سر ٹاپ وہاں سے بیس کلو میٹر اور آگے تھی اور پہاڑی سڑکوں کے بیس کلو میٹر بھی بہت وقت لیتے ہیں ۔ اب اگر وہاں جاتے تو واپسی پر رات ہو جاتی اور ہم بچوں کے ساتھ رات کے پہاڑی سفر کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے ۔ سو بابو سر ٹاپ کا دور سے ہی نظارہ کیا۔ نظر تو وہ صاف آ رہی تھی ، بس وہاں ایک برف کا نظارہ ہے باقی کوئی خاص رونق نہیں ۔سو ہم جھیل لو لو سر سے ہی واپس ہو لیے اور دن کی روشنی میں ایک دفعہ پھر خوبصورت پہاڑی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے واپس ناران کی طرف روانہ ہوگئے ۔ آتے ہوئے ناران سے جھیل لولو سر تک تین گھنٹے لگے تھے جبکہ واپسی کا سفر دو گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے ۔
راستے میں پھر گم گشتہ ’’ مون ریسٹورنٹ ‘‘ نظر آیا لیکن ہم یہاں نہیںرکے بلکہ آگے چل کر ’’ کائنات ‘‘ ریستوران پہ رکے ۔ گرما گرم چائے کا لطف اٹھایا ، واش رومز کی سہولت سے فائدہ اٹھایا پھر واپسی کا سفر شروع ہو گیا۔ہوٹل واپس پہنچ کر راستے کے کھانے کے لیے پھر ہم نے بازار کا رخ کیااور کھانے کے بعد بازار میں تھوڑی چہل قدمی کی ۔
ہماری پیاری پانچ سالہ پوتی مریم رات کو پریوں کو یاد کررہی تھی ۔ کہنے لگی ’’ دادا ابو میں نے پریوں والی جھیل ضرور دیکھنی ہے ‘‘۔
میرا خیال تھا کہ اب جھیل سیف الملوک کا پروگرام منسوخ کرتے ہیں کیونکہ ہم نے جھیل لو لو سر دیکھ لی ہے ۔ لیکن جب صبح فجر کی نماز پڑھ کے میںلیٹا ہی تھا تو دیکھا منظر ہی بدلا ہؤا تھا ۔ میرا خیال تھا کہ سب بچے تھکے ہوئے آج دس بجے سے پہلے نہیں جاگیںگے لیکن یہاں تو سات بجے ہی سب تیار کھڑے تھے اور میں انہیں دیکھ کے حیران ہو رہا تھا کہ کیا ماجرا ہے اچانک ننھی مریم آگے آئی اور کہنے لگی’’ دادا ابو اٹھیں ، چلیں نا ہمیں پریوں کی جھیل پہ لے کے چلیں ‘‘۔
اب تو انکار کی گنجائش ہی نہیں تھی تھوڑی دیر میں ہم سب جھیل سیف الملوک کی طرف جانے کے لیے تیار تھے۔
آپ حیران تو ضرور ہو رہے ہوں گے کہ اس ساری کہانی میں میری اہلیہ نگہت کا ذکر کہیں نہیں آیا ۔ کاش کہ وہ آج زندہ ہوتیں تو ضرور ہمارے ساتھ ہوتیں اور پوتے پوتیوں ، نواسے ، نواسیوں کے ساتھ بہت خوش ہوتیں کیونکہ انہیں بھی یہ خوبصورت علاقے بہت پسند تھے ۔ ہم اس سے پیشتر 2002 میں اکٹھے اس وادی کاغان کی سیر کر بھی چکے تھے۔ہم اکٹھے شوگران ، سوات کی سیاحت بھی کر چکے تھے ۔ میری اہلیہ 13اگست 2018ء کو ہم سب کو چھوڑ کے جنت کو سدھار گئیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے۔ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ہم سب پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ( آمین)۔
بیٹا خرم اور بھانجا سعید جھیل سیف الملوک کے لیے جیپ کا بندوبست کرنے گئے ۔ ان سے بھی بارگیننگ کرنا پڑتی ہے ۔ ایک جیپ کا تین ہزار مانگ رہے تھے لیکن تھوڑی سی گفتگو کے بعد اڑھائی ہزار فی جیپ پر راضی ہوگئے ۔ ہم نے دو جیپیں لیں اور ان میں پیک ہو کر بیٹھ گئے ۔ پی ٹی ڈی سی ہوٹل سے جھیل سیف الملوک کا سفر شروع ہؤاسڑک بہت خراب ہے اور جگہ جگہ پتھر پڑے ہوئے ہیں اس لیے اس سڑک پر مضبوط انجن والی جیپیں ہی چل سکتی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ جب آج سے نصف صدی پہلے میں نوجوانی میں یہاں آیا تھا تو اس وقت بھی سڑک ایسی ہی تھی اور یہی جیپیں اس سڑک پر چلتی تھیں ۔ حالانکہ یہ سڑک صرف تیرہ کلو میٹر ہے اسے آسانی سے پختہ بنایا جا سکتا ہے لیکن ابھی تک پتھریلی ہے ۔ ہمیں وہاں کچھ لوگوں نے یہ راز کی بات بتائی کہ مقامی لوگ خاص کر جیپوں کے مالکان نہیں چاہتے کہ یہ سڑک بنے کیونکہ ایک ہزار سے زائد لوگوں کے پاس یہ جیپیں ہیں اور ان کا روز گار سیزن میں اسی سڑک کی وجہ سے چلتا ہے ۔اگر پختہ سڑک بن جائے تو لوگ اپنی گاڑیوں کے ذریعہ بھی اوپر جا سکیں گے اور ان کا روز گار ختم ہو کر رہ جائے گا ۔جیپ ناہموار راستے پر چلی جا رہی تھی ۔ سب کو خوب جھٹکے لگ رہے تھے ۔ کبھی کبھی سر جیپ کی چھت سے بھی ٹکرا جاتا ۔ بچے خوشی سے اور کچھ خوف سے چیخ رہے تھے لیکن جیپ ان سب کی پروا کیے بغیر اس خراب سڑک پر رواں دواںتھی ۔ راستے میں ایک جگہ سڑک پربرف کا ایک چھوٹا سا گلیشئر بھی آتا ہے ۔ اس پر ہمیں اتر کر چلنا نہیں چاہیے ۔ چند سال پہلے ایک لڑکی نے غلطی کی ، جیپ سے اتری او راس برف پرکھڑی ہو کے سلفی بنانے لگی تو اچانک برف کریک ہو گئی اوروہ لڑکی دھڑام سے نیچے گہرائیوں میں جا گری اورپھر اس کی لاش ہی ملی ۔ ہمیں احتیاط کرنی چاہیے۔
بالآخریہ خطرناک سفر پون گھنٹے میں ختم ہو گیا اور جیپیں جھیل سیف الملوک پہ پہنچ کے رک گئیں ۔ ہم سب جیپوں سے نیچے اترے سامنے جھیل سیف الملوک تھی ۔ بے حد خوبصورت ، دلکش ، بالکل ایک پیالے کی طرح جھیل کا پانی یہاں جمع ہے ۔ سامنے برف پوش پہاڑ نظر آ رہا تھا جس کی برف پگھل پگھل کر جھیل کے پانی میں شامل ہو رہی تھی ۔ اس جھیل کا پانی نیچے وادی میں جا کر دریائے کنہار میں ضم ہوجاتا ہے ۔
بچے بڑے سب جھیل کے نیلگو ں پانی کو دیکھ کرکھوسے گئے ۔ میں تو جھیل کے کنارے ایک کرسی لے کے بیٹھ گیا اورجھیل کے مسحورکن نظاروں سے لطف اندوزہوتا رہا ۔
ننھی مریم حیران ہوکر جھیل کودیکھ رہی تھی اورپھر پوچھنے لگی ’’ دادا ابوپریاں کہاں ہیں؟ میں ان سے ملوں گی ‘‘۔ میں نے مسکرا کے جواب دیا کہ پریاں یہاں چودھویں کی رات کو اترتی ہیں تووہ تھوڑی سی مایوس ہو گئی۔ اب سب کو شوق تھا کہ کشتی میں بیٹھ کے جھیل کی سیر کریں ۔کشتی والوں سے بات کی وہ فی کشتی ایک ہزارروپے مانگ رہے تھے مگرجب بھائو تائوکیا گیا تو چھ سو روپے فی کشتی پرراضی ہو گئے ۔دو کشتیاں لی گئیں اور سب جھیل کے نیلگوں پانی پر سیرکے لیے نکل گئے۔
اب توجھیل سیف الملوک پرکچھ چھپر ہوٹل بنا لیے گئے ہیں اور قیام کے لیے بھی ایک دو اچھے ہوٹل ہیں ورنہ جب میں 1975میں پہلی دفعہ یہاں آیا تھا توہم ناران سے پیدل چل کر جھیل سیف الملوک آتے تھے ۔ نوجوانی کا زمانہ تھا توقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں اوپرجھیل تک پہنچ گئے تھے۔اس وقت اس جھیل کے آس پاس کوئی ہوٹل نہ تھا نہ ہی چھپر ہوٹل ۔ مکمل قدرتی حسن ہر طرف پھیلا ہؤا تھا اور جھیل کا حسن لازوال اور بے مثال نظر آتا تھا اب تووہ قدرتی حسن ماند پڑ تا جا رہا ہے ۔ لوگ شاپر ،ڈبے نیچے پھینکتے رہتے ہیں ۔ خراب خراب چھپر ہوٹلوں نے جھیل کے حسن کو گہنادیا ۔ آج سے کئی سال پہلے واقعی محسو س ہوتاتھا کہ یہاں پریاں ضرور اترتی ہوں گی۔کشتی میں جھیل کا سفر کر کے سب بہت محظوظ ہوئے ۔جیپ والوں نے بتا دیا تھا کہ وہ یہاں صرف ڈیڑھ گھنٹہ رکیں گے۔ اس لیے سب وقت پہ واپس آگئے ۔جھیل کے سامنے تصاویر لیں اورپھر واپسی کے سفر کے لیے جیپوںپرسوار ہوگئے ۔واپسی کے سفر میں صرف آدھا گھنٹہ لگا۔
صبح ہم بغیر ناشتہ کیے روانہ ہو گئے تھے لہٰذا ’’ پنجاب ریستوران‘‘ پہنچے اورناشتے کا آرڈر دیا ۔توے کے مزیدار پراٹھے تھے ، آلو کی بھجیا، لاہوری چنے ، نان اور کچھ آملیٹ بھی منگوائے گئے خالص دیسی لسی کے ساتھ ناشتے کا مزہ آگیا۔ سب نے خوب انصاف کیا۔ ہم پندرہ بیس لوگ تھے ، بل صرف تین ہزار روپے آیا ۔کاغان جیسی جگہ پہ یہ بڑا غنیمت محسوس ہؤا۔
اس پر لطف ناشتے کے بعد ہم ہوٹل واپس آئے ، سامان پیک کیا ، واپسی کی تیاری شروع ہوئی ۔ ہوٹل کے مالک خالد بٹ سے الوداعی ملاقات اوربل ادا کرنے ہوٹل کے آفس پہنچے۔ بٹ صاحب بڑے خوش اخلاق ہیں میں نے بل کا پوچھا تومسکرا کے کہنے لگے ، خواجہ صاحب آپ جو مرضی ادا کردیں آپ کا اپنا ہوٹل ہے ۔ فی کمرہ کرایہ ساڑھے تیرہ ہزارتھا ۔ ہم نے دس ہزار فی کمرہ کے حساب سے ادا کیا جو بٹ صاحب نے خوش دلی سے قبول کرلیا۔ اللہ نے بٹ صاحب کے کاروبارمیں بہت برکت عطا فرمائی ہے ۔بتا رہے تھے کہ میں تین نئے ہوٹل تعمیر کرا رہا ہوں ۔ ایک شوگران ، ایک ناران اورایک بالا کوٹ میں اورتینوں کا نام’’ میجسٹک ان‘‘ ہوگا۔
کوچ میں سوار ہوئے اورواپسی کا سفرشروع ہؤا پھر وہی دلفریب مناظر… بلند پہاڑ، حسین آبشاریں،دلکش وادیاں ، ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ، اونچے اونچے درخت، پیلے رنگ کے جا بجا کھلتے ہوئے خوبصورت پھول۔ ان کی خوشبو بڑی پیاری تھی ۔ واپسی یہ ایک آبشار پہ ہم رکے ، کولر میں پانی بھرا ۔پانی ٹھنڈا، شفاف اورمیٹھا تھا ۔ ساراراستہ یہ پانی پیتے رہے، بہت ذائقے والا تھا اورصحت بخش بھی۔
مہانڈری ، جرید ، کوائی، پارس بٹہ کنڈی سے ہوتے ہوئے بالا کوٹ پہنچے تو موسم ابرآلود ہوگیا ، گہرے بادل چھا گئے اور چھما چھم بارش برسنے لگی ۔ہمارا خیال تھا کہ بالا کوٹ کے قریب دریائے کنہارمیں بیٹھیں گے جہاں کرسیاں چارپائیاں پانی کے اندر بچھائی ہوئی ہیں اورکچھ کھاپی لیں گے لیکن بارش اتنی تیز تھی کہ باہر نکلنے کی گنجائش ہی نہ تھی ۔ اس لیے موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے محو سفررہے بارش کی وجہ سے موسم بہت حسین ہوگیا تھا ۔ پہاڑی مناظراور بھی دلکش ہوگئے تھے ۔پہاڑی سفر جاری رہا ۔ کئی ساتھی تونیند کی آغوش میں چلے گئے ۔
مانسہرہ کے بعد اب ہم اس ہوٹل کے انتظار میں تھے جہاں ہم جاتے ہوئے رکے تھے اورچپل کباب کھائے تھے ، بالآخر قلندرآباد کے قریب ریستوران آگیا ۔وہاں کھانا کھا کر پھر روانہ ہوئے حویلیاں سے موٹروے ( سی پیک شاہراہ) لے لی ہری پور، حطار وغیرہ سب پلک جھپکتے گزر گئے اور بالآخر یہ سفر تمام ہؤا ۔ ہم رات دس بجے کے قریب واپس راولپنڈی گھر پہنچ گئے ۔ ڈرائیور کاشکریہ ادا کیا اس نے نہایت شاندار اور محتاط ڈرائیونگ کی تھی اورہمیں محفوظ ، صحیح سلامت گھروں کوواپس پہنچادیا۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ پر خطر پہاڑی سفر سے سلامتی کے ساتھ واپس آگئے۔
یہ ایک یاد گار تفریحی سفر تھا ۔ لطف آیا ، جی چاہتا ہے کہ لوٹ کے واپس اس حسین وادی میں پہنچ جائیں اور ’’ پریوں کے دیس‘‘ کے حسین نظاروں میں کھو جائیں۔

٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x