ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

نذرانہ – بتول اکتوبر ۲۰۲۱

شادی سے پہلے تو سب لڑکیوں کی زندگی ہی عیش کی ہوتی ہے مگر ماہا کی تو موج مستی کی دنیا تھی ۔ابا دوبئی میں مقیم تھے ۔اماں بہن بھائیوں،نندوں دیوروں میں سب سے بڑے بھائی کی بیوی ۔یعنی اماں اپنے میکہ میں سب سے بڑی اولاد اور ابا اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی اولاد۔آپ کہہ سکتے ہیں رب نے ملائی جوڑی ۔
نہ نہ آگے کچھ مت کہیے ……اماں ابا دونوں ہی بڑے ذمہ دار قسم کے انسان تھے ۔اماں نے سسرال میں آتے ہی نئی نئی مرحومہ ساس کی جگہ اتنی عمدگی سے لی کہ سبھی عش عش کر اٹھے۔
یوں ابا کے دوبئی جانے کے بعد ابا کی ذمہ داریاں بھی ان کے سر پر آن پڑیں ۔پیر کو سودا سلف لاتیں، منگل کو کپڑوں کی دھلائی کا کام ، انہیں الگنی پر اتنی خوبصورتی اور عمدگی سے پھیلاتیں اور اتار کر تہہ لگاتیں کہ استری کرنے کی کم کم ہی نوبت آتی۔
بدھ کم سدھ ۔یوں بڑے کاموں کی تکمیل بروز بدھ جمعرات کے دن وہ باورچی خانے کی نذر کرتیں ۔سمجھیں لنگر ہی بناتیں محلے میں اور اریب قریب کے رشتہ داروں میں بھیجتیں خواہ دال چاول ہی کیوں نہ ہوں۔
جمعہ بہت اہتمام سے ،مرد گھر میں ہوتے تو بس دن کام سے جلوہ نمائی کرتا ہؤا گزر جاتا پتہ ہی نہ چلتا ۔ہفتہ کے دن میل ملاقات کے لیے مخصوص تھا ۔ایسے میں پانچ بچے پیدا ہونے کے بعدپل بڑھ بھی گئے۔تینوں بیٹوں کی شادیاں بھی ہو گئیں۔ بیٹی کی بھی بالآخر رخصتی ہوگئی بس چھوٹا پیس یعنی ماہا باقی تھی۔
بڑے بیٹے اور بیٹی جتنے فرمانبردار اور آنکھوں کی ٹھنڈک تھے ماہا بی بی اتنا ہی زچ کرنے والی ۔بڑے بیٹے کو بس ایف اے تک پڑھایا پھر دکان کا منہ دکھایا اور اٹھارہ سال کی عمر میں اس کی شادی بھی کردی ۔ اس سے چھوٹے دونوں بیٹے جڑواں تھے گو عادات و اطوار میں ایک دوسرے سے قطعی مختلف لیکن ایک وصف دونوں میں مشترکہ تھا اور وہ تھا ماں کا حد درجہ تابعدار ہونا ۔ان کے رشتے اپنی بھانجیوں سےکیے، بیٹی کو جیٹھ کے بیٹے سے بیاہا ۔سب کاموں سے وہ شادی کے بعد ستائیس سالوں میں فارغ ہوچکی تھیں ۔اٹھتے بیٹھتے اب ماہا کی شادی کی فکر تھی بڑوں کے رشتے جتنی آسانی اور جلدی میں ہوئے اس کے رشتے میں اتنی ہی دیر ہو رہی تھی۔
اماں کے بس میں نہیں تھا کہ اسے شادی سے پہلے ہر فن مولا کردیں ۔لیکن وہ بھی اول درجے کی ہڈ حرام ،سگی ماں کو غچہ دے جاتی ، کاموں کے لیے اماں کی تینوں لاڈلی بہوئیں کافی تھیں جن کی شہہ پر وہ آرام سے غچہ دے پاتی ۔
اماں کلستیں ،چیختیں اس ڈھیٹ ہڈی پر کوئی اثر نہ ہوتا ۔اماں آنے والے وقت کا اتنا خوفناک نقشہ کھینچتیں کہ کوئی اور ہوتا تو توبہ تلا کرکے تیاری کرتا ،یہ تو ماہا تھی !!!
آنے والے دنوں کے جتنے حسین خواب اس نے دیکھے تھے جتنے منصوبے اس نے بنائے تھے شاید روئے زمین پر کسی نے نہیں بنائے ہوں گے ۔اور اسے شادی بس حسین رنگین مزاج لوگوں کا ملن ہی دکھائی دیتی …..پیار بھرے دلوں کا ملاپ!اور اس کے لیے مددگار انڈین فلمیں اور ڈرامے تھے ۔عجیب بات یہ تھی کہ اسے پرانی رومانوی فلمیں بھی اسی طرح پسند تھیں جیسے بالی وڈ کی نئی فلمیں ۔
ہر گانا وہ دس دس بار سنتی ہر پسندیدہ سین وہ کئی کئی بار دیکھتی ۔اور دیکھتے دیکھتے ہیروئن کی جگہ پر اپنے آپ کو فٹ کر لیتی ۔خیالوں ہی خیالوں میں اس کا شہزادہ،ہاتھ تھامنے کے لیے عامر خان کی طرح موجود ہوتا ۔

بگ باس کے تین سیزن اس نے جنونیوں کی طرح دیکھے ۔بنا پلکیں جھپکاے وہ ان کے پندرہ پندرہ منٹ کے ڈائیلاگ سنتی اور دیکھتی ۔ اس کا خوابوں کا شہزادہ ایک نہیں تھا شکل عامر خان جیسی ،آواز شاہ رخ خان جیسی ،قد سلمان خان جیسا ،چال اکشے کمار جیسی ،سٹائل ورن دھون جیسا…..ہائے…… وہ دل پر ہاتھ رکھتی اور اماں جوتے پر !!
کبھی جوتا کمر پر لگتا کبھی آگے فلائی کرجاتا مگر وہ اپنے آپ کو دیپیکا پیڈوکون ،کترینہ کیف سے کم نہ سمجھتی ۔بہنوئی نے سالی کو پیسوں کی بجائے ایپل کا موبائل فون لے دیا تو اب راتیں انہیں کے سنگ سنگ گزرتیں ۔انڈین فلم ایکٹریسز کے متعلق اس نے درجنوں ایپ ڈاؤن لوڈ کر رکھی تھیں ۔ایسے میں تقدیر نے اس کے لیے بھی قلابازی کھائی اور وہ سالوں مہینوں میں نہیں دنوں میں عزیر احتشام کی جیون ساتھی بن گئی، جس کا روزگار امریکہ میں تھا۔ اس لیے نکاح پہلے ہؤا اورگیارہ ماہ کے بعد اسے پردیس بیٹھے شوہر کے پاس رخصت کر دیا گیا۔
واشنگٹن ایرپورٹ پر اس کا مجازی خدا لینے آیا ہوا تھا ۔پھولوں کے ہار یا بکے کی بجائے،طنزو تشنیع والے استقبالیہ جملے لے کر۔
’’آپ کی ساتھ والی سیٹ پر جو لڑکا تھا ذرا لمبے سے قد کا….. وہ اسلام آباد سے آپ کے ساتھ ہی تھا ناں؟‘‘
پہلے تو ماہا کو اس جملے کی سمجھ ہی نہیں آئی۔ اس نے حیرانی سےکہا۔
’’کون سا لڑکا ؟ میرے ساتھ تو ستر سالہ بزرگ عورت ہی رہی ہیں فل ٹائم‘‘۔
’’یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ میں نے خود لڑکے کی آواز سنی تھی جب تمہیں فون کیا تھا لینڈنگ کے بعد‘‘آواز میں تھوڑی سی غراہٹ بھی موجود تھی۔
’’نہیں ۔کسی کی آواز نہیں تھی پورے جہاز میں بس دوچار ہی لڑکے تھے وہ بھی انگریز ،،پریشانی سے ماہا بولی۔
’’دیکھا دیکھا ،وہ انگریز لڑکے کی ہی آواز تھی ناں ‘‘،لہجہ ایکدم ہی توانا ہؤا۔
’’لیکن وہ لڑکے تو اکانومی کلاس میں نہیں تھے بزنس کلاس میں تھے ،ایک آدھ مرتبہ ہی جھلک نظر آئی تھی ‘‘۔
’’بات تو خیر ہوئی ہوگی ان سے، کیسے لگے ؟‘‘پچاس منٹ کی نئی نویلی بیوی کا سواگت کرتے ہوئے اس نے پوچھا۔
’’آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ،؟ میری تو انگریزی بالکل بھی اچھی نہیں‘‘ ،وہ روہانسی ہو کر بولی۔
’’اس کا تو یہی مطلب بنتا ہے کہ اگر انگریزی بولنے پر قدرت ہوتی تو ضرور ان سے بات کرتیں جی بھر کے‘‘قدرے سفاکی سے اس نے فقرہ نہیں اندر کا زہر نکالا۔
ستر ہزار فلمی سین اور دولہا کے بولے جانے والے رومانی ڈائیلا گ کرلاتے ہوئے چاروں طرف شور مچانے لگے اور وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اپنے دولہا ،نصف بہتر اور مجازی خدا کو دیکھنے لگی جس میں کوئی بھی ادا دولہوں والی نہیں تھی ۔نصف کیا وہ تو چوتھائی بہتر بھی نہ تھا۔
اسے اب ارد گرد کے مناظر سے دلچسپی تھی نہ لوگوں سے ۔مستقبل کی جھلک اسے ان پچاس پچپن منٹوں کی ڈرائیو میں نظر آچکی تھی ۔
نہیں…..ایسے بھی نہیں تھا! واشنگٹن ٹاؤن میں اس کی دونوں نندیں اور بچے بہترین استقبال کے لیے موجود تھے ۔وہ جن پھولوں کے ہار اور بو کے کی میاں سے توقع کر رہی تھی وہ دونوں نندوں عرشیہ اور اشفیہ کے ہاتھوں میں تھے۔
پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔بہت دیر تک بڑی عمر کی نندیں اس کا منہ چومتی رہیں، دونوں نندوئی بہت خوش دلی سے ملے ۔وقتی طور پر اسے شوہر کی بدمزاجی کا دکھ ایک طرف کرنا پڑا ۔چار پانچ دنوں میں اسے سسرال آئیڈیل محسوس ہوئی۔نندیں بہت سمجھدار اور ڈیسنٹ تھیں حد درجہ وارفتگی سے پیش آتیں ۔مگر شوہر کے لیے اس کا تجزیہ خوش کن نہ تھا۔ سڑیل ،بد مزاج شکی ……نندوں کے دیے گئے تعارف سے تو یہ بھی پتہ چلتا تھا کہ اسے عورت صنف سے ہی چڑ ہے۔
’’اب آپ ہی اس کے نظریات اور خیالات میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہو‘‘اشفیہ مسکرائی ۔
بہت سی باتیں کانوں میں انڈیل کر وہ رخصت ہو گئیں ۔ایک ایروزونا میں تھی اور دوسری فلوریڈا میں۔اب ان کے آنے کے امکانات

سال بھر نہیں تھے کہ دونوں ملازمت کرتی تھیں ،بچے سکول میں زیر تعلیم تھے اور اتنی دور سے بقول ان کے روز روز آنا ناممکن تھا ۔
اگلے چند دنوں میں اس نے شوہر کی شکل میں دنیا کے ہر برے انسان کی جھلک دیکھ لی ۔بے انتہا شکی انسان ۔نندوں کو گئے دوسرا دن تھا جب اس نے پوچھا ۔
’’یہ تم اتنا ہنس ہنس کر امتیاز بھائی اور عرفان بھائی سے بات کررہی تھیں۔ کیا پہلے سے جانتی ہو انہیں ؟‘‘
اڑاڑادھم !کئی آسمان اس کے سر پر آن گرے ۔مارے صدمے کے اس نے کوئی جواب نہ دیا ۔میکہ میں تاڑ تاڑ سب کو جواب دینے والی نے منہ بند ہی رکھا ۔صبر کا پہلا گھونٹ پینا اتنا آسان نہیں تھا مگر اس نے پی لیا ۔اس کے بعد بس اس کا گزارہ اسی شربت پر رہا۔ سب سے پہلا بداعتمادی کا مظاہرہ عزیر نے کیا جب ملازمت پر جاتے ہوئے دروازہ باہر سے بند کر گیا ۔واپسی پر ہی دروازہ کھولتا ۔اس کے بعد خفیہ ہی خفیہ ماہا کے موبائل کی بیٹری بدل دی ،ٹریکر لگوا لیا ،جاتے ہوئے نیٹ بند کر جاتا۔ رابطے کی کوئی صورت نہ چھوڑ کے جاتا ۔ہفتہ بھر میں ماہا کی بس ہوگئی ۔ دبے لفظوں میں اس نے شکوہ کیا تو شوہر نے مردانگی کا ثبوت مارنے سے دیا ۔اس ماہا کو جسےتھپڑ تو دور کی بات تو کبھی اماں ابا نے انگلی کی پور سے نہیں چھوا تھا۔
اگلے تین چار دن وہ بخار میں پھنکتی رہی ۔ گھر میں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کے اس نے پین کلر لیں ۔مگر اندر کی چوٹ سے ہونے والا بخار محبت بھرے ہاتھوں کے لمس اور نرم لہجے کے بول سے ہی اترنا تھا سو بخار نہ اترا ۔گھر میں وہ اپنی مرضی سے آتا اپنی مرضی سے جاتا۔کبھی موڈ بہتر ہوتا تو دو میٹھے بول کی خیرات دے دیتا وگرنہ وہی شک آلود زہریلے کوڑے برساتا۔
’’نکاح میں جو بلیک پینٹ اور وائٹ شرٹ میں لڑکا تھا وہ کون تھا؟‘‘
’’تمہاری شادی رشتہ داروں میں کیوں نہ ہوئی ؟‘‘
’’نکاح پر اتنا رو رہی تھیں یقیناً کوئی یاد آرہا ہوگا ؟‘‘
’’فیس بک فرینڈز میں سے کتنے اصلی فرینڈ ہیں؟‘‘
دل زخمی اور شکستہ ہوچکا تھا ماں باپ سے رابطے کی کوئی صورت نہیں تھی ۔ابھی تک وہ ایک مرتبہ بھی گھر سے باہر نہیں جا سکی تھی۔جیل اور قید خانے میں تنہائی کا عذاب تو نہیں ہوتا وہ تو یہ عذاب بھی بھگت رہی تھی ۔ شادی اتنی خوفناک چیز ہوتی ہے ،شوہر اتنے شقی القلب ہوتے ہیں اسے تو یہ پتہ ہی نہ تھا۔مہینے میں چار ہفتے آئے ،ہر ہفتے میں سات دن تھے اور ہر دن میں چوبیس گھنٹے۔ انڈین فلموں کے بغیر ایک پل نہ گزارنے والی نے کتنے پل گزار لیے ۔
پھر اسے اپنا رب یاد آیا ۔اپنی ماں کی باتیں یاد آئیں۔اپنے اعمال یاد آئے ۔ایسے میں جب اکثر میاں گھر پر ہوتا موبائل فون پر بیٹری بھی آن ہوتی سگنل بھی ہوتے لیکن فون کی بیل سنائی نہ دیتی ۔وہ بس اللہ سے مدد کی طلبگار تھی ۔گناہوں کا اعتراف اس کی دنیا ہی بدل گیا۔
ایک دن اس کے گھر کا دروازہ زور زور سے بجا ۔اس کا چڑیا جتنا دل دہل گیا۔ تھوڑی سی دیر کی جدوجہد کے بعد دروازہ کھلا اور کچھ پولیس کی وردی میں ملبوس لوگ دروازے پر نظر آئے ۔انہیں میں کچھ ایشیائی بھی تھے ۔ایک نے بیٹی کہہ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور پولیس والوں نے کچھ کاغذی کارروائی مکمل کی اور چلےگئے۔اس بزرگ نے اپنے آپ کو بہاولپور کا باشندہ بتایا ۔تین چار خواتین بھی بقول ان کے پہنچنے والی تھیں جواگلے بیس بائیس منٹ میں پہنچ بھی گئیں۔ ایک جو قدرے کم عمر تھی اس نےماہا سے تعارف مانگا، پھر پوچھا گھر میں کچھ کھانے کے لیے ہے ،کیا امریکہ میں تمہارے کوئی جاننے والے رہتے ہیں ،اور بالآخر انہوں نے وہ خبر اس کے کانوں تک پہنچادی کہ تمہارا میاں جو کہ بہت سے جرائم میں ملوث تھا آخر کار ایک گورے کے ساتھ الجھنے کے دوران آج مارا گیا ہے۔تم چونکہ نو وارد ہو اس لیے ہر چیز سے لا علم ہو، تمہیں بہت جلد یہ گھر خالی کرنا ہوگا کہ اس کے کرائے کی عدم ادائیگی کا بھی کیس کردیا گیا ہے ۔
رات گئے تک وہ خواتین موجود تھیں پھر اس کی نند آگئی ۔تب اس کی لین میں رہنے والی ایک انڈین مسلم نے ساری تفصیل اس کی نند کو بتائی ۔اس کے میاں پر عائد فرد جرم اس کی نند کو بتائی جارہی تھی اور اس

کے کانوں میں جیسے پگھلا سیسہ ڈالا جارہا تھا۔
اس نے ڈکیتیوں کی خوفناک وارداتوں میں کئی مرتبہ حصہ لیا ۔
وہ ہومو تھا۔
وہ بچیوں کے اغوا میں بھی ملوث تھا ۔
اس کی نند اس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہی تھی ۔
’’ہم سے قسم لے لو ہمیں کسی بات کا علم نہیں تھا۔ یہ ہماری سوتیلی ماں کا بیٹا تھا ۔ہماری ماں کے مرنے کے بعد ڈیڈی نے دوسری شادی کی تو نئی ماما کے ساتھ آیا تھا۔ ہم تو ہاسٹلز میں رہتی تھیں ‘‘۔
بس اس پر یہ کرم ہؤا کہ اگلے بہتر گھنٹے کے دوران وہ واشنگٹن ائرپورٹ پر تھی ۔والدین کو اس نے آمد سے بے خبر رکھا تھا ۔جب اچانک وہ پاکستان پہنچی تو اس کا حلیہ دیکھ کر سب کو بغیر بتائے یقین آچکا تھا ۔
عدت کے دوران ہی اسے اماں ابا کی کھسر پھسر میں اپنا نام سنائی دیتا۔ بس وہ کان بند کرلیتی ۔
عدت گزرتے ہی اس کے لیے آئے دو رشتوں کی بابت اماں نے بتایا ۔دونوں پڑھے لکھے اور اچھے روزگار والے تھے لیکن شادی کے نام سے وہ بدک چکی تھی۔اماں روز سمجھانے بیٹھ جاتیں۔ بہن اپنی خوشحال زندگی کی مثال دیتی ۔بھابھیاں اس کے لیے دعاگو رہتیں ۔وہ تو ابھی بھی سوتے میں چیخ مار کر اٹھ جاتی تھی۔ابھی بھی گئے دن برے خواب کی طرح مسلط تھے مگر کاتب تقدیر نے اسے گھیر لیا ۔اس نے والدین کی خواہش پر سر جھکا دیا ۔ تین ماہ ہی تو تھے شادی کے دن تک پہنچنے میں۔ اس کی دلجوئی کے لیے ہر کوئی سرگرم تھا۔ اچھی زندگی کی نوید سنائی جاتی۔ مگر کون جانے ؟ پہلے بھی تو اس نے بہت کچھ سوچا تھا۔ آنسو لڑھکتے ہوے گالوں پر بہہ نکلتے۔
شادی کا دن آگیا ۔
اس کا رنگ پیلا پھٹک ہورہا تھا۔بس ایک ہی سوچ ایک ہی خیال شکنجے میں کس لیتا ۔ پچھلی زندگی کے بارے میں سوال ہؤا تو کیا جواب دوں گی؟ رخصتی کے وقت وہ بے ہوش ہوئی۔بھابھی کی بہن ڈاکٹر تھیں انہوں نے کچھ انجکشن لگاے کچھ دھیان بٹایا اور پھر وہ رخصت ہو کر قریبی قصبے میں چلی گئی ۔
شام ہونے میں دیر ہی کتنی دیر لگتی ہے ۔شام سر پر سوار ہوگئی اور ماہا اس شام کی انگلی تھام کر نئے گھر میں داخل ہوئی۔
پھولوں کے گلدستے،ہار پتیاں کیا کچھ نہیں تھا ۔سب کے چہروں پر مسکراہٹ اور آسودگی بھی اس کے خوف کو کم نہ کر سکی۔ پہلے بھی نندیں تو اچھی ہی تھیں۔
اس نے مغرب اور عشا کی نماز اپنے کمرے میں ادا کی۔ چند ہی لمحوں میں نئی زندگی کا ساتھی بھی’’ السلام علیکم‘‘ کی نرم سی آواز کے ساتھ داخل ہؤا۔
چھوٹی چھوٹی باتیں، بچپن کے قصے،شرارتیں ،ملازمت ،گھر بار ، سب کا تذکرہ ہؤا۔ماہا اسے بہت اچھی لگی ،اس نے کھل کے تعریف کی۔
’’آپ کے ہاں کا کھانا بھی زبردست تھا ‘‘۔بہت دعائیہ کلمات بھی عنایت ہوئے ۔جس فقرے سے ماہا ڈر رہی تھی ہر دو منٹ کے بعد کہ ابھی وہ فقرہ نیزے کی انی کی طرح لگے گا وہ فقرہ سننے میں نہیں آیا۔
اس نے ڈرتے جھجکتے اپنا خوف ہونٹوں پر منتقل کیا ۔
’’آپ نے سوال نہیں کیا میرا ماضی کیا تھا….پچھلے شوہر کے متعلق….. اچھے تھے یا برے اور….،،
’’استغفر اللہ،مجھے کس نے حق دیا ہے میں ماضی کے متعلق کرید کروں؟ آپ کا سابق شوہر اچھا تھا یا برا،میں کون ہوتا ہوں پوچھنے والا آپ کا ماضی کیسا تھا ،معذرت میرا رشتہ آپ کے ماضی سے نہیں ، حال اورمستقبل سے ہؤا ہے ۔گزشتہ کی بات بھی کرتے ہوئے ہمیں سو مرتبہ سوچناہوگا کیا پتہ کوئی کیسا ہو یا کیسا نہ ہو! میری دعا ہے کہ اللہ ہمارے مستقبل میں اپنا خاص فضل شامل کرے اور ہم سرخرو ہو کر رب کے ہاں حاضر ہوں،ہماری زندگی صرف ہماری زندگی نہ ہو بلکہ جو جو لوگ ہماری زندگیوں سے وابستہ ہیں وہ سب اس سے فیض حاصل کریں۔ ہم محبت بھرے دلوں کے ساتھ زندہ رہیں اور اسی طرح اس کے حضور حاضر ہوں‘‘۔
ماہا بے یقینی میں یہ سب سن رہی تھی۔اس کی آنکھوں سے بھل بھل آنسو بہہ رہے تھے۔ کچھ خوشی کچھ شکرانے کے اور کچھ دکھ بھرے ماضی کی قبر پر بطور نذرانہ!٭

 

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
4 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x