ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

محشر خیال

ام ریان۔لاہور
چمن بتول میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ چلنے والا ناول ’’ اک ستارہ تھی میں ‘‘ اپنے اختتام کو پہنچا ۔ ایک نسبتاً نئے نام والی مصنفہ کے قلم سے اتنی پختہ تحریر پر خوشگوار حیرت ہوئی ۔کہانی پر مصنفہ کی گرفت مضبوط رہی ۔ کردار نگاری اورمنظر کشی عمدہ تھی ۔ گائوں ہو یا خواتین کا ہوسٹل ، مصنفہ نے بڑی چابک دستی سے اس کا احاطہ کیا ہے۔ سکول کی ہیڈ مسٹریس کا کردار بڑا مختصر مگر دلچسپ اوربھرپور تھا ۔پون ، بی بی اور زرک کے کردار نمایاں ہیں ۔ زرک دیر سے کہانی میں شامل ہؤالیکن پوری کہانی پر چھا گیا۔کہانی میں تجسس تھا ۔ دل پون کے ساتھ ساتھ دھڑکتے رہےکہ اب کیا ہوگا ؟ چنانچہ خوشگوار انجام پر مسرت ہوئی ۔جہاں یہ بات اچھی ہے کہ مصنفہ نے لسی میں پانی ڈال ڈال کر کہانی کو اتنا نہیں بڑھایا کہ قاری بور ہوجائے ، وہیں بعض مقامات پر تشنگی کا احساس بھی ہؤا۔ گائوں ، بی بی اور خواتین ہاسٹل دو تین بھرپور قسطوں کے متقاضی تھے ۔ آخری قسط بہت خوبصورت تھی ۔ایک کامیاب ناول پر اسما اشرف بجا طورپر تحسین کی مستحق ہیں ۔ امید ہے آئندہ بھی ان کا نام چمن بتول میں مہکتا رہے گا ۔
٭ ٭ ٭
پروفیسر خواجہ مسعود ۔ راولپنڈی
’’چمن بتول‘‘ شمارہ دسمبر 2023ء پرتبصرہ پیش خدمت ہے ۔
2023ء کوآپ نے اس خوبصورت جملے کے ساتھ الوداع کہا ہے ’’ تسبیح روز وشب کے دانے شمار کرتے کرتے سال خاتمے پر آلگا ہے‘‘۔ڈاکٹر صاحبہ نے فلسطین کے نہتے مسلمانوں پر اسرائیل کے ڈھائے جانے والے مظالم پربھی زبردست صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔ آپ نے بجا فرمایا ہے کہ اس بربریت کے خلاف نہ صرف دنیا بھرکے مسلمان بلکہ دنیا بھرسے عیسائی اوریہودی بھی سراپا احتجاج ہیں ۔ آپ کے یہ جملے زبردست ہیں ’’ تازہ معرکے کے دوران فلسطینی دنیا کی سب سے عظیم ، بہادر ، باعزت، با وقار ، ثابت قدم اور صابرقوم کی صورت میں سامنے آئی ہے …فلسطینی جنازے اٹھا کر بھی زندہ ہیں مگرامت مر گئی ہے ‘‘۔
’’ مجھ سے مانگو‘‘ ( ڈاکٹر میمونہ حمزہ صاحبہ کا بصیرت افروز مضمون ) ڈاکٹر صاحبہ نے وضاحت سے بتایا ہے کہ یہ دعا دیتا اورآخرت کی نجات کا ذریعہ ہے ۔لیکن دعا صرف خدائے بزرگ و برتر سے ہی مانگنی چاہیے۔ دعا دلوں کے لیے شفا اوردونوںجہانوں کی سعادت کا ذریعہ ہے۔ مصیبتوں اوربلائوں کو ٹالتی ہے ۔دعا اللہ تعالیٰ کے قرب کا احساس ہےلیکن دعا کی قبولیت کے لیے اخلاص ضروری ہے ۔
’’ فواحش کی ممانعت‘‘ (سید محمود حسن) آپ نے بتایا ہے کہ اسلام میں بے حیائی کے کاموں کوحرام قراردیا گیا ہے ۔ خاص طورپر یہ زنا کے بارے میں سخت وعید سنائی گئی ہے رسول ؐ نے فرمایا کہ زنا کرنا ، جھوٹ بولنا اورتکبرکرنا بڑے سخت گناہ ہیں۔
’’ اہل فلسطین کی جدوجہد تاریخی تناظرمیں ‘‘ ( افشاں نوید ،ترتیب و ترجمہ صائمہ اسما) اس معلومات افزا مضمون میں مسئلہ فلسطین پرسیرحاصل روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح برطانیہ، فرانس ، جرمنی و دیگر یورپی ممالک کی مدد سے مسئلہ فلسطین وجود میں آیا ۔ ان اقوام نے یہاں اپنے قبضہ کے دوران دنیا بھر سے یہودیوںکولا لا کے بسایااور انہیں ایک غاصب یہودی ریاست اسرائیل قائم کرنے میں مدد دی اوریہاں کے اصل باسیوں یعنی مسلمانوں کوغزہ اورمغربی کنارے کے مختصر علاقے میں دھکیل دیا گیا ۔ بعد میں غاصب اسرائیل نے القدس شریف پر بھی قبضہ کر لیا ۔ عرب ممالک کے باہمی اختلافات بھی اسرائیل کی مضبوطی کا باعث بنے اور آج بھی فلسطینی مسلمان اپنی آزادی کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں ۔ اگرچہ اسرائیل نے امریکہ اور یورپی ممالک کی مدد سے فلسطینیوں کا قتل عام شروع کررکھا ہے ۔ہزاروں فلسطینی بچے ، خواتین اور مرد شہید ہو چکے ہیں ۔ ان کے گھر بمباری سے مسمار کر دیے گئے ہیں لاکھوں فلسطینی مسلمان بے گھر ہوچکے ہیں ۔ لیکن یہ ظلم و ستم بھی فلسطینیوں کے جذبہ حریت کو ختم نہیں کر سکا ۔
شعر وشاعری: رفعت عزیز کی دلکش نعت سے ایک خوبصورت شعر
پستی میں ڈوبتی ہوئی امت یہ جان لے
وابستہ ہے عروج نبی ؐسے وفا کے ساتھ
حبیب الرحمٰن صاحب کی غزل سے ایک منتخب شعر
حبیبؔ دل میں کسی سے بھی دوریاں نہ رہیں
اگر حساب ہر ایک اپنا بود و ہست کرے
غزل ( ڈاکٹرجاوید اقبال باتش) غزل کا ایک خوبصورت شعر :
کتابِ زیست بڑے شوق سے جو پڑھتے ہو
مجھے بھی ڈھونڈ نکالو کسی کہانی سے
’’ یہ میرے ہونے کا اک پتہ ہے ‘‘ اسما صدیقہ کی ایک چھوٹے بحرمیں پیاری نظم ہے ۔
قلوب واذہاں کی روشنی ہے
یہ کتنے سینوں میں جاگزیں ہے
خدائے واحد کی قربتوں کا جبھی امیں ہے
’’ لوگ کیا کہیں گے ‘‘ (عینی عرفان) والدین کوجوان اولاد کے جذبات و احساسات کا ضرورخیال رکھنا چاہیے خاص طور پہ شادی بیاہ کے معاملات میں اگران کی بات نہیں سنی جائے گی تواولاد سے بھی غلطیاں سرزد ہوسکتی ہیں ۔
’’ مرد رویا نہیں کرتے ‘‘ (عالیہ حمید ) سقوط ڈھاکہ پر ایک رلا دینے والی کہانی یہ شکست واقعی ہمارے لیے ایک قومی المیہ بن کے رہ گئی ہے ۔ سرندامت سے جھک گئے ۔
’’ نیا ساحل‘‘( کوثر خان) بعض خاوند ناجائز طورپر اپنی وفا شعار بیویوں پربے جا سختی کرتے ہیں ان کی قدرکرنے کی بجائے ان سے ناروا سلوک کرتے ہیں ۔یہ ایک انتہائی قابل مذمت اور گھٹیا حرکت ہے ۔ یہ کہانی ہمیں یہی بتاتی ہے۔
’’ احساس کی لہریں‘‘ ( عصمت اسامہ حامدی) کتنی ستم ظریفی ہے کہ میڈم خود تو حقوق نسواں کی علمبردار بن کے ایک جلسے سے تقریر کرنے گئی ہیں لیکن ان کی بہو گھر میں زچگی کی حالت میں تکلیف سے کراہ رہی ہے ۔
’’ دسمبر ستمگر‘‘ (زرینہ خورشید) سانحہ مشرقی پاکستان پر ایک دل ہلا دینے والی داستان ۔ اس میں بنگالیوں نے غیر بنگالیوں پر وہ ظلم و ستم کیے کہ پڑھ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اسلام سے دوری اورلسانی عصبیت اس سانحہ کی بڑی وجہ تھی۔
’’ درد کے رشتے‘‘ ( ماہ جبیں) فلسطین میں مسلمانوں کے خون کے ساتھ اسرائیل جو خون کی ہولی کھیل رہا ہے اس پر مبنی یہ کہانی ہے ۔ واقعی سانحہ فلسطین ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔ عالم اسلام کوجلد کوئی عملی قدم اٹھانا چاہیے تاکہ اس ظلم و ستم سے اسرائیل کو روکا جا سکے ۔
’’ سلاخوں کے پیچھے‘‘( آسیہ راشد) آپ نے ہماری جیلوں کی زندگی کا صحیح نقشہ کھینچا ہے واقعی با اثر لوگ توجیل میں بھی عیش و آرام سے رہتے ہیں جبکہ غریب لوگ کسمپرسی کی حالت میں ہوتے ہیں ۔بعض اوقات نا کردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہوتے ہیں ۔ آسیہ راشد صاحبہ کی یہ جیل یاترا معلومات افزا ہے۔
’’ اک ستارہ تھی میں ‘‘ ( اسما اشرف منہاس) آخری قسط بہرحال اس قسط وار کہانی کا انجام بخیر ہؤا پون مسلمان ہو جاتی ہے اور زرک سے اس کی شادی ہو جاتی ہے ۔اورپھر دونوں شہزادہ شہزادی ہنسی خوشی رہنے لگے ( پرانی کہانیوں کا مشہور جملہ )۔
’’ اپھارہ‘‘ ( آصفہ سہیل) واقعی آج کل انٹرنیٹ پر اتنا کچھ لکھا جا رہا ہے کہ اگر اسے دیکھنے بیٹھ جائیں تو پاگل ہو جائیں ۔ہر کوئی دانش ور بنا ہؤا ہے ہرکوئی سکالر بنا ہؤا ہےاور فضولیات کی بھی بھرمار ہے ۔ انٹر نیٹ کے استعمال پر اچھی تحریر ہے ۔
’’ آذر بائجان کی سیر ‘‘ ( آخری قسط ۔ مہ جبیں) یہ ایک دلچسپ سفرکی ایک دلچسپ رو داد تھی ہرقسط پڑھ کے مزہ آیا ۔امید ہے آپ آئندہ بھی کوئی سفر نامہ تحریرکریں گی۔
’’ مشرقی پاکستان کیسے الگ ہؤا؟‘‘ ( اسما معظم) سانحہ مشرقی پاکستان پر ایک زبردست کالم یہ وہی بنگلہ دیش ہے جہاں کبھی آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی ۔ جہاں کے مولوی اے کے فضل حق ( شیر بنگال) نے لاہورمیں قرارداد پاکستان کی پر زورحمایت کی تھی ۔ لیکن افسوس ہم نے مشرقی پاکستانیوں کو محرومیوں کا شکار کردیا اوربالآخر ہندوستان کی سازش سے و ہ ہم سے الگ ہو گئے ۔
’’ ماہتاب ڈھونڈتا ہوں میں ‘‘ ( رپورٹ شہلا خضر ، تحریر صائمہ اسما) ایک خوبصورت تقریب کا خوبصورت احوال ۔حجاب کے موضوع پر ایک یاد گار تقریب یہ جملے زبردست ہیں ’’ حجاب صرف بال چھپانا نہیں ہے بلکہ طور طریقوں میں ایسی حدود سیٹ کرتا ہے جس سے سامنے والا بات کرتے ہوئے دس ہزار بار سوچے کہ آیا یہ لڑکی یا خاتون اس طرح کی ہیں کہ ان سے کوئی نا مناسب بات کرسکوں ‘‘۔ مہمان خصوصی محترمہ ڈاکٹرسمیحہ راحیل صاحبہ کابیان بہت دلکش اوراثر انگیز تھا۔
’’ وہ آئیں ہمارے گھر میں ‘‘ ( افشاں نوید ) نامورشخصیت اورادیبہ محترمہ قانتہ رابعہ کے اعزاز میں سجائی گئی ایک تقریب کا خوبصورت احوال ۔ کراچی کی حلقہ خواتین کے لیے ایک انمول تحفہ آپ کی تحریریں لاکھوں اذہان کے بند دریچے کھول دیتی ہیں ۔ مشک کی خوشبو کی مثل انہیں معطر کررہی ہے ۔
’’ انسان کا نشہ‘‘( سنیہ عمران) اس مختصر مضمون میں خوبصورت طریقے سے سمجھایا گیا ہے کہ نہ کسی کی بے جا خوشامد کریں اورنہ ہی خوشامد پسند کریں ۔ ہمیشہ مقصد حیات کو سامنے رکھیں دوسروں کے کام آئیں ’’ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا‘‘
’’ بتول میگزین ’’ کوئی قاتل ملا نہیں ‘‘ ( حنا سہیل جدہ) سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور پر ایک رلا دینے والی کہانی اس دن ظالم دہشت گردوں نے کتنے ننھے چراغ گل کر دیے ۔ کتنے گھروں میں صف ماتم بچھا دی اللہ ان دہشت گردوں کوغارت کرے ۔
’’ اسیرقفس‘‘(عنیزہ عزیز ) جب دوخاندانوں میں رنجش پیدا ہو جائے تو سگے بھائی بھی ایک دوسرے کے لیے بیگانے بن جاتے ہیں ۔ انا کی دیوار لمبی جدائیاں ڈال دیتی ہے۔ اس کہانی میں یہی سمجھایا گیا ہے۔
’’ طاہرہ صابر کی یادمیں ‘‘ (روبینہ اعجاز) آپ نے اپنی پیاری دینی بہن کی یاد میں یہ مضمون لکھا ہے ۔ مرحومہ واقعی بڑی خوبیوں کی مالک تھیں انہوں نے اپنے آپ کو دین اور خلق خدا کی خدمت کے لیے وقف کررکھا تھا ۔ ایسے لوگوں کی یاد دل سے بھلائی نہیں جا سکتی۔
’’ مٹی کے مکیں‘‘ (بشریٰ عدنان) افسانہ نگار عینی عرفان کے افسانوں کے مجموعہ ’’ مٹی کے مکیں ‘‘ پر ایک اچھا تبصرہ ہے عینی عرفان بلاشبہ ایک اچھی افسانہ نگار کے طور پر ابھری ہیں ۔ یہ جملے خوبصورت ہیں ’’ ان کا ہر افسانہ بیش قیمت موتی جیسا ہے اور ان موتیوں کی حسین لڑی ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’ مٹی کے مکیں ‘‘ ہاتھوں میں پہنچے گا توقارئین مایوس نہیں ہوں گے ۔
’’ بچوں میں ٹھوس غذا کھلانے کا آغاز‘‘ ( ڈاکٹر ناعمہ شیرازی) ڈاکٹر صاحبہ نے بچوں کی غذا کے بارے میں بہترین مشورے دیے ہیں بچوں کو تازہ پھل اورسبزیاں کھلائیں ۔ہمیشہ تازہ اور صاف ستھری غذا کھلائی جائے۔
گوشہ تسنیم’’ رائے اپنا تعارف ہے ‘‘ ( ڈاکٹر بشریٰ تسنیم) ڈاکٹرصاحبہ نے اچھے طریقے سے سمجھایا ہے کہ ہمیں کسی کے بارے میں جلد بازی میںکوئی رائے قائم نہیں کر لینی چاہیے نہ ہی اس کا پرملا اظہار کرنا چاہیے ۔کیونکہ ہماری رائے ہماری اپنی ہی شخصیت کی آئینہ دار ہوتی ہے ۔ رائے قائم کرتے وقت حکمت ودانائی ، تحقیق اورانصاف کے تقاضوں کولازمی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ دوسروں کے بارے میں بد گمانی سے بچنا چاہیے۔
٭٭٭
حمیرا بنتِ فرید۔ کراچی
ناول’’اک ستارہ تھی میں‘‘پون نامی ایک ایسی لڑکی کےگرد گھومتا ہے جو اپنا ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیتی ہے۔ مصنفہ اسما اشرف منہاس نے بڑی خوبصورتی سے اس کردار کو پیش کیا ہے- ابتدا ہی سے پون کا آ گ کا خوف، دل کی بے چینی سے لے کر اسلام قبول کرنے تک کے لمحات اور ایمان لانے کے بعد مختلف کٹھن آزمائشوں سے گزرنے کے واقعات، مصنفہ نےسب ایک تسلسل سے بیان کیے ہیں جس کو پڑھتے ہوئے ایک تجسس آخر تک قائم رہا۔ خوبصورت منظر نگاری نے کہانی میں مزید جان ڈال دی۔ کفر سے اسلام کی طرف سفر میں اللّہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوتی ہے جو ’بی بی‘ جیسے کردار کی شکل میں اللہ نے اس کی زندگی میں بھیجا ۔یہ کردار اسے مایوسیوں کے گہرے سمندر سے نکال کر روشنی کی طرف بڑھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سچا دین اپنانے کے بعد کئی ناہموار راستوں پر چلنا پڑا لیکن آخر کار انجام کامیابی اور انعامات کی صورت میں ملا۔ یہ پیغام افسانے میں بہترین انداز میں دیا گیا ہے لیکن اختتام میں یہ بات عجیب لگی کہ زرک نے پون کی رہائی والے دن ہی بنا اس کی واضح رضامندی کے اچانک نکاح بھی کر لیا۔ آخر کے جملوں میں ہے’’وہ ایک بے قیمت ذرے سے چمکتا ستارہ بن گئی‘‘ اس کے تحت عنوان ’’اک ستارہ تھی میں‘‘ نہیں بلکہ’’اک ستارہ ہوں میں‘‘ ہونا چاہیےتھا۔
٭٭٭
رخسانہ شکیل۔کراچی
’’اک ستارہ تھی میں‘‘اسماء اشرف منہاس کی پہلی تحریر ہے جو میں نے پڑھی ہے۔بہت پیاری اور خوبصورت تحریر ،سادہ اور پر اثر انداز، منظر نگاری اگرچہ مختصر مگر جاندار، بلاوجہ طول نہیں دیا گیا۔ناول کا پلاٹ بامقصدہے، ہم جیسے پیدائشی مسلمانوں کو بتایا گیا کہ جب پورے شعور کے ساتھ رب کو جانا جاتا ہے اور اسے رب مان کر اسکی رضا کے آگے سر جھکایا جاتا ہےتو اس راہ میں آنے والی مشکلات کاخوشدلی سے سامنا کیا جاتا ہے، ر ب کے راستے پر چلنے سے جب اپنے پیاروں سے ناتا ٹوٹ جاتا ہے،آپ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتے ہیں تو آپ کا رب آپ کو کہتا ہے تم نے تمام وعدوں کو برحق مانا ایمان لائے تو پھرتمھیں جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے، اور تم سے جو کچھ چھن گیا اس سے بہتر بلکہ بہترین عطا کیا جاتا ہے ،وہ تمھیں کبھی تنہا میں چھوڑے گا۔
ناول میں موجود بی بی کا کردار بڑا اثر انگیز ہے۔ راضی بہ رضا رہنے والی اللہ کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ۔مصنفہ نے بغیر کسی وعظ اور نصیحت کا انداز اپنائے واضح پیغام اپنے قارئین تک پہنچایا ہے جس پر وہ مبارکباد کی مستحق ہیں۔
٭٭٭
ثمرین شاہد۔کراچی
بتول میں سلسلہ وار شائع ہونےنے والا ناول ’’اک ستارہ تھی میں‘‘ پڑھا ۔ اس کہانی میں ہر جملہ پرتاثیر تھا اور ہر قسط کے آخر میں سسپنس کہ آگے کیا ہوگا ۔آخر تک قاری کو اپنی گرفت میں رکھنا ایک اچھے لکھاری کی خصوصیت ہے۔ کہانی کے ہر موڑ پر جستجو اور بیان کرنے کا اندازدل کو چھو لینے والا کہ جب وہ جیل میں ہے تو وہاں کا منظر قاری کے دل ودماغ میں پیوست ہو جائے۔ بہترین استعارے استعمال کیے اور منظر کشی اس طرح کی گئی کہ پڑھنے والے کولگا واقعی وہ وہاں موجود ہے۔ اس خوبصورت انداز سے اس کہانی کو قرآن سے جوڑا گیا کہ پتابھی نہیں چلا اور سبق بھی حاصل ہوگیا۔بہرحال پوری کہانی بہت اچھی تھی کہ ہر قسط پر تبصرہ کرنے کا دل چاہے۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x