ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

عملِ قوم لوط اور آج کے مسلمان – بتول نومبر ۲۰۲۲

ایک بین الاقوامی فتنے کے مشاہدےکی چشم کشا روداد

امریکا میں مسلم ایل جی بی ٹی کمیونٹی سے2015میں اپنے اولین رابطے کے مشاہدات پر مبنی یہ مضمون 2016میں لکھا گیا۔ بعد ازاں میری اس موضوع پر ریسرچ جاری رہی ہے جس کے لیے میں پاکستان کی خواجہ سرا کمیونٹی سے بھی مسلسل رابطے میں رہی ہوں گو ان کا تعلق ایل جی بی ٹی کمیونٹی سے نہیں ہوتا – اپنے یہ تمام مشاہدات کچھ ترمیم اور اضافے کے ساتھ ایڈیٹر بتول صائمہ اسماکی فرمائش پر بتول کے خاص نمبر کے لیے بھیج رہی ہوں۔ تمام نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ تزئین حسن

 

’’وہاں جانے کے لیے آپ کی ایک مخصوص شناخت ہونی چاہیے‘‘۔
ایمن کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی اور میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی بہت کچھ سمجھ گئی۔ اس کے قدرے گول دمکتے ہوئے گورے چہرے پر نازک میٹل فریم کے پیچھے سے جھانکتی ہوئی ذہانت سے پُر آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔
ایمن ، میں اور این، ہارورڈ کے قدیم ترین کیمپس سے کوئی تین چار سو میٹر دور واشنگٹن اسٹریٹ پر واقع کوئی سو سال پرانے بنے ہوئے لکڑی کے مکان کی تین بیڈ روم، لاؤنج اور ایک کچن کم ڈائننگ روم پر مشتمل نچلی منزل شئیر کررہے تھے۔ ہم اس وقت گھر کے کچن میں موجود تھے۔ 2015کا سال تھا، شوال کا مہینہ اور موسم گرما کا سیمسٹر چل رہا تھا اوررات کوئی بارہ بجے کا وقت تھا۔ این سفید فام امریکی تھی جس نے نائن الیون کے واقعے سے متاثر ہو کراسلام کا مطالعہ کرکے اسے قبول کیا۔ وہ ہارورڈ ڈیوینٹی اسکول میں پڑھتی تھی۔ ایمن کا تعلق ہارورڈ کے انتھرو پولوجی ڈیپارٹمنٹ سے تھا، اس کی نو مسلم ماں امریکی سفید فام اور سگا باپ شامی مسلمان تھا۔ اس کے بچپن میں کسی وجہ سے اس کے والدین میں علیحدگی ہو گئی تھی اور اس کی ماں نے ایک اور شامی ڈاکٹر سے دوسری شادی کر لی تھی جو بہت حد تک ایمن کی مہنگی تعلیم کے اخراجات بھی برداشت کر رہا تھا۔
اور میں؟ چلیں اپنا تعارف بھی کروا دیتی ہوں۔ میرا تعلق پاکستان کے شہر حیدرآباد کے ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ میرا بچپن جوانی کا بیشتر حصہ پاکستان میں گزرا تھا۔ شادی کے بعد میں کوئی پانچ سال سعودی عرب میں گزا رنے کے بعد اپنے تین بچوں اور شوہر کے ساتھ کوئی ڈیڑھ پونے دو سال قبل ہی کینیڈا منتقل ہوئی تھی جسے میری دو بہنیں اورلا تعداد رشتے دار پچھلے بیس سالوں میں اپنا گھر بنا چکے تھے۔
پاکستان میں میری تعلیمی اسناد انجینئرنگ اور بزنس سے متعلق تھیں لیکن لکھنے کا شوق مجھے اپنے زمانہ طالب علمی سے تھا۔ یہ دوسری بات کہ پروفیشنل تعلیم اور پھر کیرئیر، شادی اور بچوں کی مصروفیت نے با قاعدہ اس کا موقع نہ دیا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں رہائش کے دوران پہلی دفعہ مجھے سنجیدگی سے لکھنے کا وقت ملا اورمیں تین چار سال شرق الاوسط نیوز گروپ کے ایک میگزین کے لیے تاریخ و سیاحت کے موضوع پرلکھتی رہی تھی۔ وہیں سے صحافت اور ادب کے شعبوں میں بنیادی تربیت سے محرومی کا احساس پیدا ہؤا اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا گیا ۔ صحافت کی تعلیم یوں بھی میری دیرینہ آرزو تھی کہ میرا یہ ماننا تھا کہ اس شعبے میں دنیا بھر میں مسلم کمیونیٹیز کی آواز نہ ہونے کے برابر ہے۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران جب بھی میرا مکّہ جانا ہوتا اور مجھے کعبے کا پردہ پکڑنے کا موقعہ ملتا میں یہ دعا کرنا نہ بھولتی کہ امت کو در پیش مختلف مسائل پر جو خیالات اوراحساسات اور کسی حد تک ان کے حل میرے ذہن میں ہیں، الله اسے قرطاس پر منتقل کرنا سکھا دے اوراس مختصر زندگی میں اس میدان میں مجھے کچھ کام کرنے کا موقع دے۔ مگر زندگی کے اس مرحلے پر جب خود آپ

کے بچے بڑے ہو رہے ہوں اور انہیں مسلسل آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہو ایک نئے شعبے میں تعلیم کا فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ میری خوش قسمتی کہ والدین کی دعاؤں سے اللّہ نے میرے لیے دنیا کی بہترین یونیورسٹی سے صحافت کی تعلیم کو ممکن بنا دیا۔
بوسٹن سے متصل شہر کیمبرج پہنچنے پر دس دن تک میری رہائش ہارورڈ کے قدیم ترین کیمپس ہارورڈ یارڈ سے کوئی چھ منٹ کے فاصلے پر ٹروبرج اسٹریٹ پر تھی جہاں میں سو سالہ پرانی ہی ایک بلڈنگ کا رینوویٹید اپارٹمنٹ ایک جرمن اور دوسری چینی لڑکی کے ساتھ شئیر کررہی تھی۔ وہ اپارٹمنٹ کلاس سے بہت قریب تھا اور بغیر لفٹ کے تیسری منزل پر ہونے کے باوجود آرام دہ تھا کہ کیمبرج شہر کی مرکزی لائبریری، ہارورڈ کا رائٹنگ سنٹر، چرچ اسٹریٹ پر واقع کمپوٹر لیب جو رات بارہ بجے تک کھلی رہتی اور پبلک ٹرانسپورٹ سب کچھ پیدل فاصلے پر میسرتھا۔ مگر چونکہ وہ مجھے صرف دس دن کے لیے کرائے پر ملا تھا اس لیے جلد ہی مجھے یہ دوسرا اپارٹمنٹ تلاش کرنا پڑا جو ہارورڈ یارڈ اور باقی سہولیات سے بھی کوئی ایک میل دور تھا۔ مگر ہارورڈ اسلامک سوسائٹی کی ای میل لسٹ پر اپنی رہائشی ضرورت کا اظہارکیا تو دو تین مسلمان لڑکیوں نے رابطہ کیا اور ایمن کے ہاں بات بن گئی کہ اس کی ایک مصری اپارٹمنٹ فیلو پڑھائی ختم کر کےٹیکساس منتقل ہو گئی تھی اور اپنا کمرہ جس کا کرایہ وہ پیشگی دے چکی تھی موسم گرما کے لیے کرائے پر اٹھانا چاہتی تھی۔ یوں رمضان کا دوسرا ہفتہ شروع ہی ہؤا تھا کہ میں اپنے سامان سمیت واشنگٹن اسٹریٹ منتقل ہوگئی۔
ویسے تو ہم تینوں ہی پڑھائی اور دیگر مصروفیات میں الجھے ہوتے لیکن کچن اور لاؤنج میں اکثر ملاقات ہوتی اور کھانا پکاتے ہوئے، چائے بناتے ہوئے ہم اکثر باتیں کرتے۔ کبھی کبھی این کا منگیتر جو بھی آ جاتا جو خود بھی ایک نو مسلم تھا اور این سے شادی کے لیے ٹیکساس سے بوسٹن منتقل ہؤا تھا۔ امریکا میں پیدا ہونے والے اور مجھ سے بہت مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے یہ تینوں اتنے سادہ اور ملنسار تھے کہ مجھے پہلے دن سے ذرا بھی بیگانگی یا اجنبیت کا احساس نہیں ہؤا۔ ایمن نے پہلی ہی ملاقات میں مجھے کہا کہ مجھے گھر میں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو بلا جھجک استعمال کر سکتی ہوں۔ ہم فرج باتھ روم کچن اور لاؤنج شئیر کرتے۔ صفائی ایمن کرتی، میں برتن دھوتی، کھانا ہم اپنا اپنا بناتے۔ ایمن بازار جاتی تو میرا سودا سلف حلال گوشت وغیرہ سپر مارکیٹ سے لے آتی اور بل سمیت میرے حوالے کر دیتی۔
این ہم تینوں میں سب سے زیادہ مذہبی تھی مگر گورے رنگ کی فربہ جسم والی ایمن جیسی ہر دم مسکراتی اور با اخلاق لڑکی شاید میں نے اپنی زندگی میں کم ہی دیکھی ہوگی۔ وہ ہارورڈ کی اے کلاس طالبہ تھی، ساری دنیا گھوم چکی تھی مگر غرور، نسل پرستی، اپنے اوپر زعم جیسی بیماریاں اسے چھو کر بھی نہیں گزری تھیں۔ وہ ان امریکیوں میں سے نہیں تھی جو محض رسمی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایمن کا کہنا تھا کہ اس کی والدہ بہت مذہبی ہیں۔ انہوں نے اسے امریکی پبلک اسکول کے بجائے اسلامی اسکول میں پڑھایا۔ ایمن اپنی والدہ کے مذہبی مزاج سے کچھ بیزار سی رہتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی بچوں کی طرح اسے نصیحتیں کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ رمضان سے پہلے انہوں نے فون کرکے روزوں کی اہمیت پر لیکچر دیا۔ ایمن چند سال پہلے حج بھی کر چکی تھی۔
رمضان کی راتوں میں اکثر ہم دیر تک جاگتے۔ اکثر ہمارا موضوع مذہب، فقہی مسائل، امریکہ میں مسلمانوں کو درپیش چیلنجز، تیزی سے بڑھتا ہؤا اسلاموفوبیا ہوتا۔ مسلمان ہونا ہم میں قدرِ مشترک تھی مگر امریکی معاشرے کے بارے میں ظاہر ہے یہ دونوں مجھ سے بہت زیادہ جانتی تھیں۔ فقہی مسائل کے بارے میں این کا علم ہم سب سے زیادہ ہوتا۔ وہ عموماً کسی موضوع پر ایک سے زیادہ فقہی مسلکوں کے بارے میں معلومات رکھتی۔ میں چونکہ ان لوگوں سے بہت مختلف پس منظر رکھتی تھی اور میرا امریکی تجربہ بہت نیا تھا تو میں اکثر ان سے اپنے تاثرات شئیر کیا کرتی اور ان کے تبصروں سے مجھے اس معاشرے میں ایک مختلف زاویے خصوصاً وہاں پیدا ہونے والی مسلمان نسل کے تناظر سے جھانکنے کا موقع ملتا۔
مسلمانوں اور یہودیوں کی افطار پارٹی
رمضان میں این نے اپنے کچھ دوستوں کو لے کر یہودیوں، عیسائیوں اورمسلمانوں کی ایک مشترکہ افطار پارٹی رکھی۔ اتفاق سے

یہودیوں کا بھی اس دن روزہ تھا۔ ڈیوینٹی اسکول تعلیم کے ایک ایسے شعبے سے متعلق ہے جو آپ کو مذہبی رہنما بننے کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس میں یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں مذہب کے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ منفرد مگر چھوٹی سی تقریب ظاہر ہےغیر سیاسی تھی اور اس کا مقصد بین ا لمذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ افطار میں شریک حضرات وخواتین سے دلچسپ گفتگو رہی۔ ایک آدھ ہفتے بعد ایمن نے بھی افطار پارٹی رکھی جس کا انتظام اس نے گھر کے پائیں باغ میں کیا۔ اس دعوت میں جس میں میں مدعو نہ تھی شرکت کے لیے دو ایک مسلمان لڑکیاں دوسرے شہروں سے بھی آئی تھیں جو رات کو بھی گھر میں ہی ٹھہریں۔
ایمن کی دوستیں
دعوت کے بعد ملاقات ہوئی تو میرا خیال تھا کہ ایمن کی کلاس فیلوز ہوں گی مگر استفسار پر پتہ چلا کہ ان کا تعلق امریکا کی دوسری ریاستوں سے ہے۔ یہ لڑکیاں ایک رات گزار کر واپس چلی گئیں۔ رمضان کے بعد بہت تواتر سے ایمن کی کچھ مسلمان دوستیں رات گزارنے کے لیے گھر آنے لگیں۔ عام امریکیوں کی بہ نسبت یہ تمام لڑکیاں بہت با اخلاق ہوتیں۔ اکثر کچن یا لاؤنج میں ان سے ملاقات ہوتی۔ رسمی گفتگو میں معلوم ہوتا کہ ایمن سے ان کی ملاقات امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس کی ایک ریٹریٹ (ایک طرح کا سالانہ جلسہ جہاں شرکاکسی مخصوص مقصد کے لیے کچھ دن ساتھ گزارتے ہیں) میں ہوئی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ ان مسلمان لڑکیوں کا تعلق جو امریکا میں ہی دنیا کے مختلف خطوں سے سے آئے ہوئے مختلف پس منظر کے مسلمان والدین کے گھروں میں پیدا ہوئیں، امریکا کی مختلف ریاستوں سے ہوتا۔ میری اکثر کچن اور لاؤنج میں ان لوگوں سے ملاقات ہوتی۔ اپنے لیے چائے بناتے ہوئے میں اکثر ان سے بھی پوچھ لیتی۔
صحافیانہ تجسس کے با عث مجھے ہمیشہ نئے لوگوں خصوصا ً دنیا کے مختلف خطوں کے مسلمانوں سے بہت دلچسپی رہی ہے۔ پانچ سال مشرق وسطیٰ میں گزرنے کے دوران اور اس سے قبل بھی عمرے اور حج کے دوران میری کوشش ہوتی کہ میں زیادہ سے زیادہ عام مسلمانوں سے ملوں اور ان کے کلچر رہن سہن، ان کے خطے کے سماجی اور سیاسی حالات اور دیگر پہلوؤں سے متعلق رسمی اور غیر رسمی معلومات حاصل کروں۔ لیکن جب میں ایمن کی کوئی تین چار ایسی دوستوں سے مل چکی تو میرا ماتھا کچھ ٹھنکا کہ یہ کیسی ریٹریٹ تھی جس میں یہ مسلمان لڑکیاں جو بظاہر قطعاً مذہبی معلوم نہیں ہوتیں، اتنی بڑی تعداد میں نہ صرف ایک دوسرے سے ملیں بلکہ اتنے قریبی تعلقات بھی استوار ہو گئے کہ ایک دوسرے سے ملنے اور ساتھ وقت گزارنے کے لیے دوسرے شہروں کا سفر بھی کرتی ہیں اور آج کے مصروف امریکی معاشرے میں میزبان کا دل بھی اتنا کھلا ہے کہ وہ خوش دلی کے ساتھ ان ساتھیوں کا استقبال کرتی ہے، اپنے گھر ٹھہراتی ہے اور ٹائم بھی دیتی ہے۔
یہ تمام لڑکیاں ایک عام امریکی ٹین ایجر کے برعکس جو عموماً اپنی دھن میں مست رہتا ہے، خوش اخلاق اور انداز و اطوار سے انتہائی مہذب لڑکیاں تھیں۔ میرا تجسس بے سبب نہیں تھا۔ ایمن سے میری اتنی بے تکلفی تھی کہ میں اس سے ہر بات کر سکتی تھی۔ پھراس رات بارہ بجے میں کام کے دوران چائے بنانے کمرے سے نکلی تو ایمن سے کچن میں ملاقات ہو گئی۔ اتفاق سے آج کوئی دوست اس کے ساتھ نہیں تھی۔ میں نے اس سے اس ریٹریٹ کے بارے میں براہ راست دریافت کیا کہ کیا میں وہاں جا سکتی ہوں؟
ایمن کے انکشافات
اور ایمن کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی۔ مجھے آبنوسی لکڑی کی پرانی ڈائننگ ٹیبل کے پیچھے کرسی پر بیٹھی ہوئی ایمن کے دمکتے ہوئے گورے چہرے پر پھیلنے والی دل آویز مسکراہٹ اور اس کی چشمے کے پیچھے سے جھانکنے والی آنکھوں کی چمک آج بھی یاد ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے لیے آپ کی ایک مخصوص شناخت ہونی چاہیے۔
میں اس وقت تک حقیقت حال کو کسی حد تک سمجھ چکی تھی۔ میرا دوسرا سوال تھا۔ کون سی شناخت؟ ہم جنس ہونا؟
اور ایمن کا جواب اثبات میں تھا۔اس نے اسی طرح مسکراتے ہوئے میرے خدشے کی تصدیق کی۔

قارئین میرے جذبات سمجھ سکتے ہیں۔سچی بات ہے کہ اندازہ ہونے کے باوجود یہ تصدیق ایک شاک سے کم نہیں تھی۔ بعد میں نے نئے سرے سے میں نےاس معاملے سے اپنے تعلق کا جائزہ لینا شروع کیا۔ کیا میرا یہاں اس لڑکی کے ساتھ رہائش رکھنا مناسب ہے؟ میرے شوہر والدین اور بچوں نے مجھے پڑھنے کے لیے گھر سے دور رہنے کی اجازت دی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ میں یہاں غیر محفوظ ہوں؟ کیا میرا اس کے برتنوں میں کھانا پینا جائز ہے؟ اس کے ساتھ چولہا، برتن، فرنیچر، جا نماز، صابن اور شیمپو شیئر کرنا جائز ہے؟ کل کو اگر ان لڑکیوں میں سے کسی نے میرے ساتھ کوئی ناشائستہ حرکت کی تو؟
غور کرنے پر اورجو قرآن، حدیث اور فقہ کا تھوڑا بہت علم مجھے تھا اس کی بنیاد پر اس کے ساتھ رہنے، کھانے پینے اور برتن شئیر کرنے پر مجھے کوئی شرعی قباحت نظر نہیں آئی کہ بہرحال قرآن و حدیث کے مطابق سخت سزاؤں کے باوجود شریعت کہیں بھی انہیں غیر مسلم قرار نہیں دیتی۔ بعد ازاں امریکی مسلم اسکالر یاسر قاضی کی ایک یوٹیوب ویڈیو سے بھی اس کی تصدیق ہوئی کہ کسی بڑے سے بڑے گناہ کے باوجود کسی کو غیر مسلم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور برتن تو اچھی طرح دھو کر غیر مسلموں کے بھی استعمال کی اجازت ہے۔ خنزیر یا شراب ایمن بھی استعمال نہیں کرتی تھی۔ کھانا ہم لوگ اپنا اپنا پکاتے تھے۔ مگر کبھی کبھی ایک دوسرے سے کسی چیز کی ضرورت پڑ جاتی تھی۔ ایک مشترکہ انڈرسٹینڈنگ یہ تھی کہ ہم استعمال کر لیتے اور بعد ازاں دوسرے کو بتا دیتے تھے کہ یہ چیز استعمال کی ہے۔ جہاں تک حفاظت کی بات تھی میں کوئی ایک مہینے سے یہاں رہ رہی تھی، ایمن سمیت کبھی کسی نے میری پرائیویسی میں دخل نہیں دیا تھا۔ کبھی ضرورت پڑتی تو یہ دونوں ہمیشہ میرے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاکر مجھے متوجہ کرتیں۔ اس لیے ساتھ رہنے کی شرعی حیثیت اور حفاظت سے متعلق میرے فوری پیدا ہونے والےخدشات قطعاً بے بنیاد تھے۔
مسلم ہم جنسوں کی عالمی تنظیم
ایمن سے اس رات بہت تفصیل سے اس موضوع پر بات ہوئی۔ اس نے مجھے بتایا کہ ایریزونا میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس مسجد MASGD
Muslim Alliance for Sexual and Gender Diversity
نامی تنظیم نے منعقد کیا تھا جو پبلکلی یعنی علی الاعلان ہم جنس کہلانے والے مسلمانوں کی عالمی تنظیم ہے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس نے مجھے بتایا کہ یہ اس تنظیم کا پہلا عالمی اجلاس تھا جس میں سو افراد نے شرکت کی۔ سیکیورٹی مقاصد اور مسلمانوں میں اس اجتماع کے خلاف رد عمل کے خطرے کی وجہ سے اس کی جائے انعقاد کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اجلاس کی کارروائی میں ہم جنسی کی حمایت کرنے والے اسکالر وں(جوعموماً خود بھی نو مسلم اور ہم جنس ہوتے ) کی تقریریں تھیں جن میں شریک نوجوانوں کوعمل قوم لوط کے دینی جواز بتائے گئے۔ اس کا سب سے بڑا لیڈر’امام داعی ‘کہلاتا ہے جو ایک نو مسلم امریکی ہے اور اس نے واشنگٹن شہر میں دنیا کی پہلی ہم جنسوں کی مسجد کھول رکھی تھی کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ عام مسجدوں کے امام مسلم ہم جنسوں کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس دعوے کی تصدیق تو میرے لیے ممکن نہ تھی لیکن یہاں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کتنے مسلمان ہیں جو اپنے آپ کو پبلکلی ہم جنس قرار دینا کھاتے ہیں جو امام مسجد کو ان کی نماز جنازہ سے ان کار کرنا پڑے؟
ایمن نے مجھے بتایا کہ چار پانچ روز جاری رہنے والے اس اجتماع میں امام داعی ہمیں درس بھی دیتے ہیں اور الله کا ذکر بھی کروایا جاتا ہے۔ وہ خود اس بات پر پوری طرح مطمئن نظر آتی تھی کہ یہ ایک فطری عمل ہے۔ اس کا کہنا تھا’’قوم لوط کی تباہی میں ان کے دوسرے اعمال کا بھی ہاتھ تھا اور یہ بات غلط ہے کہ اسلام نے ہم جنسی کو حرام قرار دیا ہے‘‘۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ نظریات مسجد نامی تنظیم کے لیڈروں سے مستعار لیے گئے تھے۔ یہ انکشافات میرے لیے ظاہر ہے تشویش کا باعث بھی تھے اور صحافیانہ نقطہ نظرسے یہ ایک ایسی اسٹوری تھی جس کے مندرجات ابھی تک کم از کم مسلم دنیا کی پبلک کے سامنے نہیں آئے تھے۔
فائنل اسائنمنٹ کے لیے موضوع کا انتخاب
میں نے اس گفتگو کے دوران ہی یہ فیصلہ کیا کہ اگر میری ٹیچر نے مسلم ہم جنسوں کی تنظیم کے موضوع کو منظور کر لیا تو میں اس پر کام کروں گی

میں نے اس گفتگو کے دوران ہی یہ فیصلہ کیا کہ اگر میری ٹیچر نے مسلم ہم جنسوں کی تنظیم کے موضوع کو منظور کر لیا تو میں اس پر کام کروں گی چاہے میں بعد میں اسے شائع نہ کرواؤں۔ شائع کرنے میں یہ قباحت تھی کہ اگر اسے پڑھ کر کسی ایک مسلمان نے بھی یہ سوچا کہ مسلمان ہو کر اس شناخت میں یا اس عمل میں کوئی قباحت نہیں تو یہ میرے لیے آخرت میں گھاٹے کا سودا ہو گا۔ بعد ازاں میں نے اس تحریر کو چھپوا نے کا فیصلہ کیوں کیا یہ تذکرہ آگے آ رہا ہے۔
مجھے اندازہ تھا کہ میری ٹیچر کو یہ موضوع پسند آئے گا۔ میں رمضان کے آخر سے ہی کسی ایسے موضوع کی تلاش میں تھی جسے ٹیچر منظور بھی کر لے، جس پر سورس بھی تعاون پر راضی ہو اور کوئی دوسرا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ لیکن کچھ مسائل کے با عث اب تک موضوع فائنل نہیں ہو سکا تھا۔ اس موضوع کے انتخاب کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو ایمن جسے بعد ازاں میں نے اپنے فیچر میں مرکزی کردار دیا وہ میرے مسلسل رابطے میں تھی اوروہ مجھے’’اندرون خانہ‘‘ ہر طرح کی معلومات فراہم کر سکتی تھی۔ دوسرے جس وقت میں نے اس موضوع کا انتخاب کیا وقت کم تھا اورمیں ذہنی طور پر موضوع کے انتخاب کے حوالے سے بہت دباؤ میں تھی۔ میری فیچر رائٹنگ کے کورس کی ٹیچر روزی دو ایک مجوزہ موضوع مسترد کر چکی تھی۔ اس میں سے ایک موضوع مسلم یہودی تعلقات تھا جو کوشر (یہودی مذہب میں ہلال کے متبادل اصطلاح ) کھانے والی روزی کو بالکل پسند نہیں آیا تھا۔ موضوع کے حق میں میرے پر زور دلائل کے بعد اس نے مجھے اجازت تو دےدی تھی لیکن اس کے دو ایک تبصروں سے مجھے محسوس ہؤا کہ وہ نہیں چاہتی کہ میں یہودی مسلم تعلقات کے موضوع پر کام کروں۔ نیشنل جیوگرافکس، بوسٹن گلوب، یو ایس اے ٹوڈے اور متعدد دوسرے اخبارات اور رسائل میں مسلسل ایک فری لانسر کے طور پر لکھنے والی روزی رمضان کے دوران کلاس ختم ہونے کے بعد میرے ساتھ ہی پیدل اپنے گھر جایا کرتی تھی کیونکہ اس کا گھر کلاس سے کوئی ایک میل دور پروسپیکٹ اسٹریٹ پر واقع اسلامک سوسائٹی آف بوسٹن کی مسجد کے بہت قریب تھا جہاں میں کلاس ختم ہونے کے بعد تراویح پڑھنے جاتی۔ یہ وہ مسجد تھی جس کی تعمیر میں عافیہ صدیقی نے بھی ایم آئی ٹی کے زمانۂ طالب علمی میں حصہ ڈالا تھا۔ اتفاق سے بوسٹن بومبرز کہلانے والے کاکیشیائی مسلم برادران کی رہائش بھی اسی مسجد کے قریب میری ٹیچر کے گھر کے پڑوس میں رہی تھی۔ یہ بات روزی نے مجھے خود بتائی۔ یہ مسجد اور اس کے امام بوسٹن اولمپکس میں دھماکے اور عافیہ صدیقی کے اس مسجد کے نمازی ہونے کی وجہ سے ایف بی آئی کی غیر معمولی تفتیش کا نشانہ بھی رہے تھے۔
پیدل ساتھ جانے کا معاملہ ایسے ہؤا کہ ایسے ہی ایک ای میل میں کسی وجہ سے روزے کا تذکرہ آ گیا تھا کہ میں کلاس کے دوران کھولتی ہوں۔ روزی کا کہنا تھا کہ تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا میں اس وقت بریک دے دیا کروں گی۔ میں نے کہا میں دودھ، کھجوراور ڈرائی فروٹ ساتھ رکھتی ہوں اور کلاس کے دوران ہی روزہ کھول لیتی ہوں۔ یہ معلوم ہونے کے بعد کہ میں کلاس ختم ہونے کے بعد مسجد جاتی ہوں، اس کا کہنا تھا کہ نوبجے جب کلاس ختم ہوتی ہے راستہ بہت سنسان ہو جاتا ہے اکیلے خوف محسوس ہوتا ہے تو ہم ساتھ چل سکتے ہیں۔ مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ راستے میں ہماری گفتگو جاری رہتی۔ عید کے بعد بھی میں نے یہی روٹین جاری رکھا۔
لیکن جس روز مسلم یہود تعلقات کے حوالے سے میں نے کلاس میں اس کی منظوری لینے کی کوشش کی، اس روز اس نے ساتھ جانے سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ آج میرا کہیں اور جانے کا ارادہ ہے۔ ہو سکتا ہے میرا وہم ہو مگر مجھے محسوس ہؤا اس کا موڈ موضوع پسند نہ ہونے کی وجہ سے آف ہؤا۔ بعد میں غور کیا تو مجھے لگا کہ مسلم یہودی تعلقات کا تذکرہ ہو اور اس میں اسرائیل کی انسانی حقوق کی حالیہ خلاف ورزیوں کا تذکرہ نہ آئے یہ ناممکن نہ سہی مشکل امر تھا اور اسی بات سے شاید وہ ڈسٹرب تھی۔ مجھے اس موضوع کا خیال چھوڑنا پڑا۔ ٹیچر کی منظوری ضروری تھی اور خوش دلی سے منظوری بھی۔ سمر سیمسٹر صرف سات ہفتے کا ہوتا ہے اور وقت بہت کم رہ گیا تھا ۔ موضوع کے انتخاب کے بعد انٹرویو کے لیے لوگوں سے رابطے کرنا، ان کے جواب کا انتظار کرنا، مثبت جواب کے بعد بھی انٹرویو ڈیٹ کا اسائنمنٹ کی ڈیڈ لائن سے اتنے قبل مل جانا کہ اطمینان سے موضوع پر لکھا جا سکے، نہ ملنے کی صورت میں یا انٹرویو ڈیٹ دیر سے ملنے کی صورت میں نئے افراد سے رابطے کرنا یا نئے موضوع پر کام شروع کرنا اچھے خاصے وقت طلب مسائل تھے اور اکثر ان میں بہت رسک ہوتا ہے کہ کسی بھی مرحلے پر سورس تعاون کرنے سے ان کار کر دے تو آپ کہیں کے نہیں رہتے۔ اسی لیے میں شدید دباؤ کا شکار تھی اور اس رات ایمن سے اتفاقاً بات چیت اوراس انکشاف کی رسمی تصدیق سے نہ صرف میرے یہ سارے مسائل حل ہونے والے تھے بلکہ مستقبل میں اس اختلافی مگر مسلم معاشروں پر اثر انداز ہونے والے اس اہم موضوع سے متعلق الله نےمجھے بہت کچھ نیا جاننے کا موقع بھی دینا تھا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ بزعم خود ایک پیدائشی صحافی (یہ دوسری بات کہ اس کا علم مجھے بہت دیر سے ہؤا) ہونے کے ناطے میں حقیقی دنیا کی منفرد کہانیوں کی ہمیشہ متلاشی رہی ہوں۔ تجسس رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔

قصہ مختصر ایمن نے اپنا آخری نام شائع نہ کرنیکی شرط پر میرے اس فائنل اسائنمنٹ کے لیے انٹرویو دینے، ہم جنس دوستوں سے رابطہ کروانے اور تعاون کرنے کی حامی بھر لی اور میری ٹیچر روزی نے مسلم ہم جنسوں والے موضوع کو منظور کرلیا لیکن اس نے میرے پہلے ڈرافٹ پر یہ تبصرہ ضرور دیا کہ یہ موضوع چن کر تم نے اپنے آپ کو مشکل میں ڈال لیا ہے۔
یاد رہے جون 2015میں میرے ہارورڈ پہنچنے سے کچھ دن قبل ہی امریکی سپریم کورٹ نے امریکا کی تمام پچاس ریاستوں میں ہم جنس جوڑوں کی شادی کو قانونی طور پر جائز قرار دے دیا تھا۔ ہم جنسی کے حامی حلقوں کے لیے ساری دنیا میں یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔
ایل جی بی ٹی کی اصطلاح اور کوئیر کمیونٹی
آگے بڑھنے سے پہلے دنیا میں مستعمل اصطلاح ایل جی بی ٹی آئی کیو کی وضاحت کردوں جس کا استعمال ہمارے ہاں بھی کثرت سے ہو رہا ہے۔ یہ بھی واضح کر دوں کہ2015 میں ہارورڈ جانے سے قبل مجھے اس اصطلاح کا مطلب نہیں معلوم تھا۔ ویب سائٹس پر کیمبرج میں رہائش ڈھونڈتے ہوئے خصوصیات کے ضمن میں ایک جگہ ایل جی بی ٹی فرینڈلی درج دیکھا تو کنفرم کرنے پر معلوم ہؤا کہ اس کا مطلب گے ہونا ہے۔ فون پر اشتہار دینے والے کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ آپ کا تعلق اس کمیونٹی سے ہو مگر لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسے مائنڈ نہیں کیا جاتا۔
پچھلی چند دہائیوں سے مغرب میں اپنی ہی صنف سے جنسی تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق کی جدوجہد چل رہی ہے اور اسے جنسی تنوع کے فروغ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے پارٹنر کی صنف کا انتخاب اپنی مرضی سے کرے۔ ایسے افراد جو مخالف صنف کے افراد کے بجائے اپنی ہی صنف سے جسمانی تعلق رکھنا چاہتے ہیں انہیں اور جنسی تنوع کے حوالے سے چند دوسرے انسانی گروپس کو ایل جی بی ٹی کیو کی چھتری تلے جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں مورت transgender اور خوجہ سرا intersex شامل ہوتے ہیں۔ اول الذکر افراد مورت دراصل وہ مرد یا عورتیں ہوتی ہیں جو بائیو لوجیکلی ایک صنف میں پیدا ہوتے ہیں مگر کچھ ہارمونل مسائل کی وجہ سے اپنے اندر ایسی تحریک محسوس کرتے ہیں جیسے وہ دوسری صنف میں شامل ہیں یا ہونا چاہتے ہیں۔ یہی نہیں ان کا اٹھنا بیٹھنا لباس اور ظاہری عادات بھی دوسری صنف سے مشابہہ ہوتی ہیں۔ بعد ازاں ان افراد نے مجھے بتایا کہ یہ اپنے اس پیدائشی نقص کی وجہ سے بچپن سے ہی بہت اذیت کی زندگی گزرتے ہیں۔ ان کی چال ڈھال کے باعث نہ تو لوگ انہیں ان کی بائیو لوجیکلی متعین جنس کے مطابق تسلیم کرتے ہیں اور نہ یہ خود نفسیاتی طور پر اس میں ایڈجسٹ ہوتے ہیں۔ ان میں سے جو افورڈ کر سکتے ہیں وہ سرجری کروا کر اپنی صنف تبدیل کروا لیتے ہیں۔ کچھ سرجری کے بغیر بھی اپنے آپ کو ٹرانس کہلوانا چاہتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پیدائشی تیسری جنس کے لوگ یعنی مخنثیٰ یا انٹر سیکس کو بھی اسی چھتری تلے جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے دو چیزیں آپس میں خلط ملط ہو جاتی ہیں۔ ایک تو ایل جی بی جن کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ۔ یعنی اپنی ہی صنف سے جنسی رحجان رکھنے والے جو مذہبی لحاظ سے بالکل ممنوع ہے۔ اور دوسرے ٹرانس ، خواجہ سرا یا مورت جو پیدائشی یا نفسیاتی نقص کے با عث جینڈر اشو کا شکار ہیں۔ اس مسئلے پر آگے تفصیل سے بات کرتے ہیں۔ لیکن قارئین ایک بات اپنے ذہن میں واضح رکھیں کہ جنسی رحجان اور جینڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ایک اختیار کردہ ہے اور دوسرا

پیدائشی نفسیاتی نقص۔
اس کے علاوہ کوئیر Queer ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی چھتری تلے ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے تمام لوگ آ جاتے ہیں ۔ایمن بھی اپنی شناخت کوئیر ہی بتاتی تھی۔ اس کمیونٹی کے زیادہ تر لوگ اب اپنے آپ کو کوئیر ہی کہلانا پسند کرتے ہیں۔ایک بات یہ بھی واضح کر دوں کہ یہ محض ہم جنسی کے فروغ کی تحریک نہیں بلکہ اس کا اصرار یہ ہے کہ اس شناخت کو پبلکلی اختیار کیا جائے اور کسی کو اس شناخت پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
مسجد تنظیم کے لیڈران
مزید تفصیلی انٹرویوز اور دوسرے ذرائع سے تحقیق سے مجھے پتہ چلا کہ مسجد نامی اس تنظیم کا بانی ایک پاکستانی تھا جو اب کسی وجہ سے اس تنظیم سے الگ ہو گیا تھا۔اب امام داعی جو اس کا سب سے بڑا لیڈر تسلیم کیا جاتا ہے بظاہر ایک نو مسلم ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ یہ چین جا کر مسلمان ہؤا جہاں یہ کچھ عرصہ انگلش پڑھاتا رہا تھا۔ یہ کچھ عرصہ سعودی عرب کے شہر ریاض اور شاید تبوک میں بھی رہا تھا اور اس نے کسی سعودی یونیورسٹی میں کسی حیثیت سے کوئی پروجیکٹ بھی کیا تھا۔
اس اسائنمنٹ کے لیے میرا امام داعی سے رابطہ نہیں ہو سکا مگر بعد ازاں 2017 میں کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن کی پہلی مسلم ایل جی بی ٹی کانفرنس میں مجھے ایک اور اسائنمنٹ کے سلسلے میں امام داعی کو ذاتی طور پر سننے اور ان سے مختصر ملاقات کا’’شرف‘‘ حاصل ہؤا جس کا ذکر آگے آئے گا۔ ایک اورامریکی نو مسلم اس کاٹ اس تنظیم کو فکری اور نظریاتی اساس فراہم کر رہا تھا۔ اس نے کسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا تھا اور ہم جنسی کے کلچر کو شرعی جواز فراہم کرنے کے لیے کتابیں بھی لکھ رہا تھا۔ اس نے پاکستان میں بھی کچھ عرصہ گزارا تھا۔ عمومی طور پر مغرب میں اور خصوصی طور پر ایل جی بی ٹی حلقوں میں یہ ایک اسلامک اس کالر کہلاتا ہے۔اس کے علاوہ ایک کینیڈین فوٹوگرافر پروین بھی اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا پر کام کرتی رہی تھی اور اس کی اس موضوع پر تصا ویر کی کینیڈا میں’’می اینڈ مائی الله‘‘ کے نام سے نمائش بھی ہو چکی تھی۔ کینیڈا میں ساؤتھ افریقہ یا کینیا سے آئے ہوئے ہندوستانی نسل کے ایک اسماعیلی فرقے کے وکیل فاروق نے بھی جمعہ سرکل کے نام سے ایک عارضی مسجد بنائی ہوئی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ان کی مساجد میں خواتین سے جماعت کروانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ فاروق نے کسی مرد سے باقاعدہ خاندان کی موجودگی میں شادی کی تھی اور میرے رابطہ کرنے پر اس کا کہنا تھا کہ آپ چاہیں تو میرے شوہر سے بھی انٹرویو کر سکتی ہیں۔ موضوع پر مسلسل تحقیق کے باوجود کسی مرد کا اپنے شوہر کی حیثیت سے کسی دوسرے مرد کا حوالہ دینا میرے لیے اچنبھے کا باعث تھا۔ پرویز نامی حیدرآباد انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک انڈین نژاد امریکی بھی اپنے آپ کو پبلک گے کہلواتے تھے۔ پرویز ایک فلم ’’جہاد فور لَو‘‘ اور 2014 میں حج کے دوران مکہ میں ایک غیر رسمی سی ڈاکو منٹری بنا چکے تھے جو کوالٹی کے لحاظ سے کسی اسکول کے بچے کی بنائی ہوئی لگتی تھی مگر اس فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے ہی مغربی اخبارات نے اسے بہت کوریج دی تھی اور ان کی ہمت کو بہت سراہا تھا کیونکہ مکہ میں فلم بینی میں وہ بار بار اپنی جان کو لاحق کسی خطرے کا تذکرہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو یہاں علم ہو گیا کہ میں ‘گے ‘ ہوں تو میری جان جا سکتی ہے۔ جبکہ ڈاکومنٹری کا کوئی تعلق بظاہر اس موضوع سے نہیں تھا۔
بظاہر اس تنظیم کے بڑے بڑے دعووں کے باوجود تحقیق کرنے پر مجھے محسوس ہؤا کہ پوری دنیا میں گنتی کے چند مسلمان کہلانے والے ہیں جو اس تنظیم کے لیے متحرک ہیں لیکن ان کو مغربی میڈیا بہت کوریج دیتا ہے۔ 2017میں ایڈمنٹن میں میرے اس شبہ کی تصدیق کچھ یوں ہوئی کہ کانفرنس کے دوران سوالات کے وقفے میں میں نے شرکاء سے یہ سوال کیا کہ کتنے لوگ اپنی شناخت ایل جی بی ٹی کے طور پر کرنا چاہتے ہیں۔ ہال میں موجود پچاس کے قریب افراد میں سے بیس کے قریب لوگوں نے ہاتھ اٹھائے۔ میرا دوسرا سوال تھا کہ آپ میں سے کتنے مسلم اور ایل جی بی ٹی دونوں شناخت رکھتے ہیں۔ پچاس میں سے کوئی چھے یا سات افراد ایسے تھے جنہوں نے ہاتھ اٹھائے۔ کانفرنس کے دوران حجاب میں ملبوس کوئی بیس صومالی لڑکیاں کمرے کے دروازے میں کھڑی تھیں۔ ایک لڑکی کے ساتھ میں باہر نکلی اور میں نے اس سے پوچھا کے آپ کا تعلق ایل جی بی ٹی

کمیونٹی سے ہے۔ اس کا کہنا تھا نہیں ہم تو دیکھنے آئے ہیں یہاں کیا ہو رہا ہے۔ کانفرنس میں کچھ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے اور کچھ ایسے سیکیولر مسلمان تھے جو خود کوئیر نہیں تھے مگر اس تحریک سے خیر سگالی کا اظہار کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ کانفرنس میں منتظمین کے علاوہ باقی اکثریت تماشائی تھی جس کے لیے امام داعی کو واشنگٹن سے چیف گیسٹ کے طور پر بلوایا گیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ کانفرنس کے منتظمین میرے اس سوال اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی حقیقت سے کچھ خوش نہیں ہیں۔
ایڈمنٹن کی کانفرنس کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ اس کے آرگنائزر کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے تھا اوران کا دعویٰ تھا کہ یہ ایک معروف اسلامی تحقیقی ادارے میں کچھ عرصے ملازمت بھی کر چکے تھے۔ یہ (ان کی خواہش پر نام نہیں دیا جا رہا) لاہور کی ایک ٹاپ کلاس یونیورسٹی سے تحصیل یافتہ تھے اور کینیڈا سے پی ایچ ڈی کر کے یہیں ایک یونیورسٹی میں تدریس کر رہے تھے۔ ان کا پیشہ ورانہ مضمون تو کچھ اور تھا مگر یہ بھی ایک طرح سے اپنے آپ کو اسلامی اسکالر گردانتے ہیں اورعمل قوم لوط کے دینی جواز پر لیکچر دیتے تھے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ انہوں نے اس موضوع پرمعروف اسکالرغامدی صاحب سے بھی بحث کی مگر’’غامدی صاحب کے پاس ان کے سوالات کے جواب نہیں تھے‘‘۔ یہ صاحب اپنے لیکچرز میں جو یو ٹیوب پر موجود ہیں حدیث کی مستند کتابوں اور مختلف فقہا کے نام استعمال کرتے ہیں اور اپنی دینی اورعلمی قابلیت سے ایک عام مسلمان کو متاثر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا ایک مختصر لیکچر میں نے اٹینڈ کیا اور یو ٹیوب پر تفصیلی لیکچر بعد میں دیکھا۔
(جاری ہے )
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x