۲۰۲۲ بتول نومبرصنفی شناخت کا بحران کیوں؟ – بتول نومبر ۲۰۲۲

صنفی شناخت کا بحران کیوں؟ – بتول نومبر ۲۰۲۲

ایک دن شبانہ مسجد کی تیسری صف میں ہاشمی صاحب کے برابر میں آکر کھڑی ہو گئیں ۔ ان کی پڑوسن تھیں حال ہی میں تبدیلی جنس کا آپریشن کرا کے اپنی شناخت بدل لی تھی۔ ہاشمی صاحب ذرا ہچکچائے تو انہوں نے بے تکلف قریب ہو کر کندھے سے کندھا ملالیا، اس لیے کہ نادر ا کے ڈیٹا میں اب وہ شبانہ نہیں ’’ سلیم ‘‘ تھیں !
سندھ کے ایک دور افتادہ گائوں میں نہر سے سر بریدہ لاش ملی ۔ ریشماں کو لواحقین نے پیر کی انگلیوں سےپہچانا ۔ یہ لرزہ خیز قتل ایک جائیداد کے جھگڑے کا شاخسانہ تھا ۔ برادری میں وراثت میں بہنوں کے حقوق غصب کر لیے جاتے تھے مرحوم والد صاحب جو بڑے جاگیر دار تھے ۔ کئی شہروںمیں ہزاروں کینال زمین چھوڑ کر رخصت ہوئے ۔ ریشماں نے اپنا حصہ طلب کیا تو اسے دھمکیاں دی گئیں ۔ وہ بارہ جماعت پاس با شعور لڑکی تھی ۔ بھائیوں کو اعتراض اس کی تعلیم پر تھا کہ ماں نے اس کے لاڈ اٹھا کر اسے اسکول اور کالج نہ بھیجا ہوتا تو آج وہ منہ کو نہ آتی۔
ایک نام نہاد وکیل نے مشورہ دیا کہ نادرا کے آفس جا کر اپنی شناخت تبدیل کرالے مسئلہ ہی حل ہو جائے گا ۔ اس نے ایسا کرنے والے کامیاب لوگوں کی مثالیں بھی دیں ۔ ابھی ریشماںنے نادرا کے دفتر کا پہلا چکر لگا کر فارم حاصل کیا ہی تھا کہ بھائیوں کو بھنک پڑ گئی ۔ بار بار چاروں بھائی سر جوڑ کر بیٹھے ۔ ایک صبح ریشماں اپنے بستر سے غائب پائی گئی ۔ بھائی مصنوعی پریشانی ظاہر کرتے ہوئے تھانے ، کچہری کے چکر لگاتے رہے ۔ محلہ میں مشہور ہو گیا کہ عاشق کے ساتھ فرار ہوئی تھی۔ سربریدہ لاش نے کوئی اور ہی کہانی بیان کی ۔ چاروں بھائی راتوں رات فرار ہو گئے ۔
پانچویں جماعت کا شعیب بہت پریشان دکھائی دے رہا تھا ۔ معلوم ہؤا کہ اس کے باقی دونوں بہن بھائی اسکول چھوڑ چکے ہیں ۔ وجہ معمولی تو نہ تھی ان کی ماں ’’تحلیل ‘‘ ہو گئی تھی۔ صرف ہم جماعت وجاہت کو بتایا تھا شعیب نے کہ اس کی ’’ ماما‘‘ کھو گئی ہیں ۔ ماما کو کوئی نفسیاتی دورہ پڑا ۔ انہوں نے ’’رہی‘‘ اور ’’ تھی‘‘ کی بجائے ’’ رہا ‘‘ اور ’’ تھا‘‘ کا صیغہ استعمال کرنا شروع کر دیا پڑھی لکھی خاتون تھیں اچانک القا ہؤا کہ ان کے ’’شریر‘‘ میں تو ایک مرد بستا ہے ۔ ان کا عورت ہونا ایک چیلنج بن گیا ان کے لیے!
ایک این جی او کی انٹیلی جنس تک یہ خبر پہنچی ۔ کچھ قانونی ضابطے ، ہارمون تھراپی اور سرجری ، تین بچوں کی ماں ’’ نغمانہ ‘‘ جیتے جی تحلیل ہو کر ’’عابد ‘ ‘بن گئی ۔
شعیب کے حادثے سے اسکول کے سب بچے سہمے سہمے رہنے لگے ہیں کہ ان کی ماں’’ تحلیل‘‘ نہ ہو جائے ۔ اسکول انتظامیہ نے بچوں کی خوف کی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے کونسلنگ کا اہتمام کیا ۔ غیر حاضر بچوں کی تعداد بڑھنے لگی اور شعیب نے بالآخر اسکول چھوڑدیا کیونکہ وہ ہم جماعتوں کے سوالوں کا ہی نہیں ان کی نظروں کا بھی سامنا کرنے کی سکت نہ پاتا تھا۔
ایڈونچرازم کے دلدادہ چیف کے دوست کچھ عرصے سے اس میں عجیب ہی تبدیلی محسوس کر رہے تھے پہلے تو اس نے ڈپریشن کی دوائیں لینا شروع کیں پھر سماجی رابطہ کم کر دیا ۔پڑھے لکھے نوجوان کا نیٹ پر LGBTکے ایک گروپ سے رابطہ ہو گیا۔ ایک ٹرانس جینڈر ایکٹویسٹ نے اسے سنہرے باغ دکھائے اور پھر ….
حنیف ایک دن ’’ نازنین ‘‘ کے روپ میں میکسی پہنے ،گلے میں مالا اور رخساروں پر غازہ ۔ جب دوستوں کے سامنے آیا تو کچھ کے طوطے اڑ گئے ، کسی کے سینے میں دل ٹھہر گیا اور کوئی مارے ندامت کے ’’ نازنین ‘‘ پر دوسری نگاہ ہی نہ ڈال سکا اور پیٹھ کرکے یوں بھاگا جیسے نازنین اس کا پیچھا

کرتی ہوئی دوڑ رہی ہو !
خدا نخواستہ ! یہ ہے وہ معاشرہ جہاں دھکیلنے کے لیے خفیہ سازشیں تیار کی جا رہی ہیں۔
وہ مغربی اور یورپی سیکولر معاشرے جہاں خاندانی اقدار فنا ہو چکی ہیں۔ جہاں شخصی عزت و وقار ، اخلاقی ذمہ داری ہر چیز ’’ ذاتی پسند‘‘ کے تابع ہے ۔ وہاں صنفی شناخت تو معمولی بات ہے ان معاشروں نے تو ’’اکیلی مائوں‘‘یعنی بن بیاہی کو قانونی اور ریاستی تحفظ فراہم کیا ہؤا ہے ۔ ریاست ان کے معاملے میں زیادہ حساس ہے۔
اصل مسئلہ شروع ہی اس وقت ہوتاہے جب ریاست فرد کے معاملے میں بے جا دخل اندازی کرتی ہے ۔ مثلا ً ایک خاندان میں کتنے بچے ہونا چاہئیں یہ خاندان کا مسئلہ ہے ۔ ذرائع ابلا غ کے ذریعے شعور بیدا رکیا جا سکتا ہے ۔ اچھی صحت اور تعلیم پر توجہ دلائی جا سکتی ہے اچھے اورمثالی خاندانوں کاتعارف دے کر شعور بڑھایا جا سکتا ہے کہ اولاد کی تربیت میں کن کن امور کا خیال رکھا جائے ۔ صحت مند خاندان کے لیے ماں کی صحت کتنی ضروری ہے ۔مگرجب ریاست کو’’ عورت کی صحت ‘‘ سے دلچسپی پیدا ہوئی تو خاندانی منصوبہ بندی کی آڑ میں کیسا معاشرتی فساد پیدا ہو گیا اور حیا کی قدروں کو کس طرح پامال کیا گیا ۔ آزاد جنسی تعلقات کی راہ ہموار کی گئی ۔ اسقاط حمل کو عورت کاقانونی حق قرار دینے کے لیے این جی اوز سڑکوں پرنکل آئیں ۔ ’’ کم بچے خوشحال گھرانہ‘‘ کے سلوگن کے پیچھے فحاشی کا ایجنڈا تھا ۔
خواتین کا استحصال ہوتا ہے ، مرد ان پر تشدد کرتے ہیں ’’ عورتوں پر تشدد‘‘ کے سلوگن کی آڑ میں کسی طرح بات ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ تک پہنچ گئی ۔ صنفی نفرت کوجنم دیا گیا ۔مرد کا اتنا بھیانک روپ بیان کیا گیا کہ عورت ذات مرد سے ہی نفرت کرنے لگے۔ ایک ’’ فیمینسٹ سوسائٹی‘‘ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی گئی ۔ کیونکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے وژن 2020ء میں ہم جنس پرستی کا فروغ اور اسقاط حمل کے حقوق شامل ہیں۔
اقوام ِ متحدہ کے ادارے کے تحت دنیا بھر میں ہم جنس پرستی کے فروغ ،اس کو قانونی حیثیت دلوانے اور اسقاط حمل کو قانونی طور پر منظور کرانے کی جدوجہد جاری ہے۔ عالمی اداروں کے ان اہداف کے پیچھے بڑے ممالک فنانسرز ہوتے ہیں ۔ سزائے موت کو ختم کرانا ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے کیونکہ اسلام میں زنا کی سزا بھی سنگسار کرنا ہے ( اگر فرد شادی شدہ ہو تو ) ان کی نظر میں سنگسار کرنا یا کوڑے مارنا تو انسانیت کی توہین ہے لیکن رضا کارانہ ریپ انسانیت کا گویا شرف ہے ۔ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے ۔
ان دجالی فتنوں کے دور میں فتنے کو فتنہ سمجھنا سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ بخاری شریف ’’ کتاب الفتن‘‘ میں درج ہے ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ ایسے فتنے برپا ہوں گے کہ ان میں بیٹھنے والا ، کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا ۔ چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا اگر کوئی ان (فتنوں ) کی طرف دور سے بھی جھانک کر دیکھے گا تو وہ اسے بھی سمیٹ لیں گے ۔ ایسے وقت میں جو کوئی پناہ کی جگہ پا لے اسے اس کی پناہ لے لینی چاہیے ‘‘۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہم جنس پرستوں کے سیمینار مغربی ممالک کے سفارت خانوں کے تعاون اور سر پرستی میں منعقد ہو رہے ہیں ۔ برائی ہر دور میں موجود رہتی ہے جب تک دنیا قائم ہے خیر اور شر کی یہ جنگ جاری رہے گی مگر اسلام کا مزاج یہ ہے کہ وہ شر کو خیر کی پوری قوت سے دباتا ہے ۔ایک طرف نظامِ عبادات ہے، تذکیر ہے تو دوسری طرف سزائوں کا نظام ہے ۔ مجرم کو عبرت کانشانہ اس لیے بنایا جائے کہ ایک سوسائٹی پاکیزہ رہے، مجرمانہ ذہنیت پنپ نہ سکے ۔ جبکہ اس وقت خواہش سے جنس تبدیل کرانے والے کو بڑے ممالک شہریت اور امیگریشن دے رہے ہیں ۔ ان کے لیے حکومتی سطح پر مراعات اورفنڈز کا اعلان کیا جا رہا ہے ۔
فتنوں کی نوعیت پر غور کریں تو ایک طرف شادی کی عمر بڑھائی جا رہی ہے ، سزائے موت معطل کرنے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے تو دوسری طرف ٹرانس جینڈرز کی آڑ میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کے لیے چھتری مہیا کی جا رہی ہے۔ اگر خواجہ سرائوں یا انٹر سکس کے حقوق کا تحفظ مطلوب تھا تو قانون ’’ ٹرانس جینڈرز‘‘ کے لیے کیوں بنا؟
بات ساری یہ ہے کہ ان کے اور ہمارے’’ احترام آدمیت‘‘ کے

بات ساری یہ ہے کہ ان کے اور ہمارے’’ احترام آدمیت‘‘ کے پیمانے ہی مختلف ہیں ۔ ان کے نزدیک وہ فرد بہت قابلِ تکریم ہے جو پیدائشی جنس سے قطع نظر دوسری جنس اختیار کرے ۔ گویا اس نے انسانی آزادی کو ’’ نیا وقار ‘‘ عطا کیا ۔ اس کو سماجی تحفظ اور قانون کی چھتری ملنا چاہیے ۔ اس کو وہ Self percieved Gender Identityکا معصوم نام دے رہے ہیں کہ ظاہری شخصیت کے ساتھ ایک خود ساختہ اندرونی شخصیت بھی قابل احترام ہے ۔
وضاحت یہ کی جا رہی ہے کہ جنیاتی جنس(Genetic sex)اور صنف(Morphological Sex) دو الگ الگ چیزیں ہیں چونکہ ٹرانس جینڈر کی صنفی شناخت یا صنفی اظہار اس جنس سے مطابقت نہیں رکھتا جو اسے پیدائش کے وقت تفویض کی گئی تھی لہٰذا اسے اختیار ہے کہ جوچاہے صنفی شناخت اختیار کرے ۔ اس کو ایک نفسیاتی عارضہ کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے ۔ اس طرح ’’ خود تصور کردہ صنفی شناخت‘‘ کی آزادی دے کر مسلم معاشرے کو کس جہنم میں دھکیلا جا رہا ہے ؟
یہ فرار کی راہ ہے کیونکہ ایک واضح صنفی شناخت اور صنفی کردار کے بغیر کیسے معاشرتی و اخلاقی اور خاندانی اقدار کے استحکام کی بات کی جا سکتی ہے ۔ جنس تبدیل کرانا تو دور کی بات ہے اسلام میں تو عورتوں کو مردوں کی محض ظاہری مشابہت یامردوں کی عورتوں سے مشابہت پر سخت وعید یں ہیں ۔ کجا کہ ایک اسلامی معاشرے میں تبدیلی جنس کو قانونی تحفظ دیا جائے کوئی دورائے نہیں کہ جسمانی حوالے سے معذور یا کمزور افراد کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں ۔ معاشرے میں بھی ان کو احترام ملنا چاہیے ان میں خواجہ سرا بھی شامل ہیں لیکن یہ ایکٹ ہمارے معاشرے اور تہذیب پر حملہ ہے ۔ اگراس کواسی طرح نافذ کیا گیا تو ہماری نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی ماہنامہ بتول مبارکباد کا مستحق ہے جس نے اس موقع پر خاص نمبر نکال کر اپنی اخلاقی ذمہ داری پوری کی ۔ دعا ہے یہ خاص نمبر آگہی کا سبب بنے آمین
٭…٭…٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here