ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

سویرا – فاطمہ طیبہ

ہم لوگ نئی کالونی میںشفٹ ہوئے تو گھر کی صفائی کے لیے ملازمہ کی تلاش شروع ہوئی ۔ ڈرائیورنے محلے کے گارڈز سے مدد مانگی تو اس نے روزانہ ایک دوعورتوں کو بھیجنا شروع کر دیا ۔ مسکراتے چہرے اور بڑی بڑی خوبصورت آنکھوںوالی فاطمہ مجھے پہلی نظر میں پسند آگئی۔ فاطمہ کی تین بیٹیاں بھی ساتھ تھیں ۔ فاطمہ کمرے میںآئی تو اس کے کندھے کے پیچھے اس جیسی بڑی بڑی آنکھوں والی پندرہ سولہ سال کی ایک لڑکی مجھے بہت غور سے دیکھ رہی تھی جیسے پرکھ رہی ہو کہ یہ کیسی ہوں گی ۔ اس لڑکی کی آنکھیں اپنی ماں کی طرح تھیں لیکن چہرے پر مسکراہٹ کا نام نہ تھا بلکہ بلا کی سنجیدگی تھی جومجھے عجیب سی لگی۔ فاطمہ نے بہت محنت سے کام کیا تو اس کی ملازمت میرے پاس پکی ہو گئی۔ اس نے بتایا کہ اس کی دو بیٹیاں کسی اور گھر میں کام کرتی ہیں بس ایک لڑکی اس کے ساتھ آئے گی دونوںمل کر کام کریں گی۔
دوسرے دن وہی گہری سانولی رنگت اور بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکی جس کا نام سویرا تھا فاطمہ کے ساتھ کام پر آئی۔ فاطمہ نے کہا کہ سویرا غسلخانے صاف کرے گی اوروہ باقی کام کرے گی ۔
میںتذبذب میں پڑ گئی کہ صفائی اچھی نہیں ہو گی بچیاں تو کام ٹالتی ہیں جبکہ غسل خانوں کی صفائی زیادہ محنت طلب ہوتی ہے ۔ فاطمہ نے تسلی دی کہ سویرا بہت محنتی ہے شکایت نہیں ہوگی۔اس کی بات صحیح ثابت ہوئی سویرا نے چند دن میں غسل خانے چمکا دیے لیکن وہ لڑکی نہ بولتی تھی نہ مسکراتی تھی،اتنی کم عمری کے باوجود گہری سنجیدگی طاری رکھتی ۔ گہری رنگت کے باوجود اس میں بہت جاذبیت تھی ۔ میں روزاس سے ایک آدھ بات کرتی جس کاوہ دھیرے دھیرے جواب دینے لگی اور تھوڑا تھوڑا مسکرانے بھی لگی۔ مجھے وہ لڑکی بہت پیاری لگنے لگی روزانہ میں ان دونوں کوکچھ کھانے کی پیشکش بھی کرتی جوسویرا ٹال جاتی لیکن فاطمہ خوش ہو کر کھا لیتی۔ میں کہتی یہ لڑکی بغیر کچھ کھائے کیسے کام کرتی ہے تو فاطمہ کہتی باجی اس کی یہی عادت ہے یہ کہیں کچھ نہیں کھاتی اپنے گھر جا کر ہی کھاتی ہے ، یعنی اس کی خود داری اسے اجازت نہیںدیتی تھی کسی سے کچھ لینے کی۔
پھر ایک دن سویرا اکیلی کام پر آئی کہ ماں کی کمر میںدرد ہے کچھ دن کام پر نہیں آئے گی ۔ میں پریشان ہوگئی کہ یہ دھان پان سی لڑکی اکیلے سارا کام کیسے کرے گی لیکن اس نے پھرتی سے سارا کام نمٹا لیا اور کام ختم کر کے میرے پاس بیٹھ کرباتیں کرنے لگی ۔کچھ عرصے سے اس کا تکلف ختم ہوگیا تھا اورمجھے اپنے قصے سناتی رہتی تھی ۔ گویا اس نے میری نظروں سے چھلکنے والی محبت کو محسوس کر کے مجھے اپنے دل میں جگہ دے دی تھی۔
پھر کچھ دن بعد فاطمہ واپس آئی تو کہنے لگی کہ سویرا نے کہہ دیا ہے کہ وہ آپ کا کام اکیلے ہی کرے گی اورمیرے ساتھ کسی اور گھر میںکام پر نہیں جائے گی ۔ پس پھر سویرا کی پھرتیاںتھیں کبھی کام اچھا ہوتا کبھی نہ ہوتا لیکن اس نے کسی اور بہن کویا ماں کوآنے کی اجازت نہ دی ۔پھر اس کے اور بھی جوہر نکلے کہ اسے سلائی کی بھی سوجھ بوجھ ہے ۔ مجھ سے فرمائش کی کہ اپنے کپڑے مجھے سینے کو دیںاور کٹنگ بھی سکھائیں ۔ میں نے پہلے اس کو چادریں دیں کہ کنارے موڑو اور سلائی کو سیدھا رکھنا سیکھو، پھر معمولی کپڑا لا کر اسے قمیض اور شلوار کی تراش سکھائی ۔ وہ بہت خوش ہوئی اور اگلے دن ہی شوق سے سی کر لے آئی ۔ اس کی ذہانت کو دیکھ کر مجھے اندازہ ہؤا کہ اگر مشق جاری رکھے تو بہتر سلائی سیکھ جائے گی ۔ پھر میرے کپڑوںمیںچھوٹے موٹے کام ہوتے تو میری مشین پر بیٹھ کر ٹھیک کر دیتی اس طرح میرے لیے بھی آسانی ہوگئی اور اس کو بھی مشق کرنے کا موقع مل جاتا۔میری اس سے محبت دیکھ کر وہ ہمارے خاندان میں ہر دلعزیز ہو گئی ۔ میری بیٹی بہو اور نندیں آتیں تو اس کے لیے تحائف لاتیں۔
پھر وہ صبح کی بجائے دوپہر کوکام پر آنے لگی کیونکہ صبح کی شفٹ میں اسے ایک اسکول میںنوکری مل گئی تھی ، مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ میں نے بھی انہی دنوںتجوید سیکھنے کے لیے صبح کی کلاس میں داخلہ لیا تھا ۔ ان ہی دنوں خانساماں چھٹی پر گیا تو دوپہر کوجب سویرا آئی تو میںنے کہا مجھے دو چپاتیاں تو بنا دو اور اپنے لیے بھی روٹی پکا لو ۔ایک دودن ذرا موٹی اور بڑی روٹی بنی ۔ میں نے اسے باریک اور چھوٹی روٹی بنانا سکھایا تو اگلے دن اتنے عمدہ پھلکے بنا کر لائی کہ میں بے اختیار کہہ اٹھی ، بچی ! تو تو ہر فن مولا ہے اتنی جلدی بات سمجھتی ہے ۔ فاطمہ نے بھی بتایا تھا کہ سویرا بہت مزیدار کھانا پکاتی ہے اور روٹی تو اس جیسی کوئی گھر میںنہیں پکا سکتا ۔ اس کا تکلف بھی ختم ہو گیا تھا ۔ دوپہر کومیرے پاس ہی کھانا کھاتی اور اپنی فرمائش بھی بتاتی کہ آج میںسبزی کھائوں گی ، آج میںفلاںسالن لوں گی، آج میںانڈہ کھائوں گی کسی دن آتے ہی چائے کی فرمائش کر تی ۔ مجھے اس کی بے تکلفی اچھی لگتی۔
پھر اس نے دھیرے دھیرے مجھے اپنی پسند کے بارے میںبھی بتایا کہ اس کے ماموں کا بیٹا ہے جس سے اس کا رشتہ طے ہؤ ا ہے دونوںکی پسند سے ۔ پتہ چلا کہ اس کے ماموں کی فیملی بھی ان کے ساتھ ہی رہتی ہے ، مہنگائی کی وجہ سے دونوںخاندانوں نے مل کر مکان کرائے پر لیا تھا ۔ماموں کا بڑا بیٹا نعمان اس کی پسند تھا ۔ وہ لڑکا کچھ جماعتیں پڑھا ہؤا تھا اور کہیں سپر وائزر کی نوکری کرتا تھا ۔ سویرا کی باتوں سے لگتا تھا کہ سمجھدار لڑکا ہے ، اس کے کہنے پر سویرا نے عبایا بھی پہننا شروع کر دیا تھا ۔
پھر روز نومی کے قصے ہوتے اس نے یہ کہا ، اس نے یہ کیا ۔ ایک دن کہنے لگی باجی وہ گھر میںسب کے ساتھ غصہ کرتا ہے لیکن میرے ساتھ نہیں کرتا ۔ میںنے کہا ، کہیں شادی کے بعد تمہارے ساتھ بھی غصہ نہ کرنے لگے ، اس کو بتا دوکہ میری باجی نے کہا ہے اگر تم نے سویرا کے ساتھ کوئی بد سلوکی کی شادی کے بعد توباجی تمہیں چھوڑیں گی نہیں ۔ میں نے سوچا ابھی تو رومانس کا زمانہ ہے بعد میں یہ گائوں والے بیویوںکے ساتھ جنگلی پن اور مار کٹائی کرتے ہیں،یہ اتنی پیاری لڑکی کو نہ ستائے کہیں ، اس وقت کون جانتا تھا کہ اس کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔
سویرا میری اتنی لاڈلی ہوگئی تھی کہ اس کی ماںفاطمہ مجھ سے اس کی شکایتیںلگاتی کہ باجی آپ اسے سمجھائیں یہ گھر کا کام نہیں کرتی ہے ، بہنوںسے لڑتی ہے وغیرہ ۔
سویرا سے شادی کا کہا جاتا تو وہ ٹال جاتی کہ ابھی نہیں کروں گی ۔ سترہ سال کی ہو گئی تھی ۔ اس کے سسرال والے جلد شادی کرنا چاہتے تھے۔ اس کامنگیترنعمان بھی چاہتا تھا کہ شادی ہو جائے لیکن سویرا نہیں مانتی تھی ۔ میںاس سے پوچھتی تو وہ کہتی مجھے شادی سے ڈر لگتا ہے ۔ اس طرح چھ مہینے اور گزر گئے ۔ آخر خاندان کے اصرار پر شادی کی تاریخ طے کر دی گئی ۔گھر میں پہلی شادی تھی ، فاطمہ اپنی حیثیت کے مطابق تیاری کرنے لگی ۔ جن گھروں میںکام کرتی تھی انہوں نے بھی مدد کی ۔ میں نے بھی بڑے چائو سے خوبصورت کام والے چند جوڑے بنائے جو سویرا کوبہت پسند آئے ۔اس کا ذوق اچھا تھا ۔ جو چیزیں خود خرید کرلاتی وہ بھی عمدہ ہوتیں ۔ اس کے ماموںیعنی ہونے والے سسر نے اس کو شادی کاجوڑا بنانے کے لیے پیسے دیے تو دو دن کے لیے غائب ہو گئی ، فون کیا تو پتہ چلا شادی کا جوڑا خریدنے کے لیے بازاروں میں گھوم رہی ہے ۔ آخر بڑا خوبصورت فراک خرید کر لائی ۔
میرے ساتھ دومہینے کی چھٹی طے ہوئی اور میرا کام اس نے اپنی بہنوں کو اس شرط پر دیا کہ واپس آکروہ اپنا کام خود کرے گی ۔ مجھے بھی سمجھاتی رہی کہ میری بہنوں کو زیادہ سر پر نہ چڑھائیے گا کہیں یہ چمٹ نہ جائیں اور میرا کام چھین لیں ۔ میںنے اسے چھیڑا کہ کیا پتہ تمہارا دل ہی نہ کرے بعد میںکام کرنے کو ، لیکن اس کا اصرار تھا کہ وہ کام ضرور کرے گی او رمیرا ہی کرے گی ۔ میں نے اسے تسلی دی کہ تم جائو اپنی شادی انجوائے کرو،فکر نہ کرو یہ گھر تمہار اہی رہے گا ۔
شادی گائوںمیں ہوئی ۔اس کی بہنیں چار دن کی چھٹی کے بعد کام پر آگئیں ۔ سویرا چھٹی پوری کر کے آئی تو بہت قصے سنائے اور شادی کی تصویریں بھی اپنے فون پر دکھائیں۔دلہن بنی ہوئی پیاری لگ رہی تھی اوردولہا بھی معقول شکل و صورت کا نوجوان تھا ۔ روزانہ خوبصورت ریشمی کپڑے پہن کر کام پرآتی ، میں نے کہا تم اتنے اچھے کپڑے کیوں خراب کر رہی ہو کاٹن کے کپڑے پہن کر کام پر آیا کرو تو کہنے لگی باجی ابھی میں کاٹن کے کپڑے سلائی نہیں کر سکی وقت نہیں ملا۔
ایک مہینہ گرزا تو تین چار دن سویرانہیںآئی ۔ میں نے فون کیا تو فون بند تھا ۔ بہت فکر ہوئی کیونکہ وہ بغیر اطلاع دیے چھٹی نہیں کرتی تھی ۔ میں نے اس کی خریت کی دعا کی ۔ فاطمہ کو فون کیا تو اس نے فون اٹھا لیا اور رونے لگی ، کہنے لگی باجی میں آپ کو فون کرنے والی تھی ، سویرا جل گئی ہے ، اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی ، اس وقت وہ ہسپتال میں ہے۔
میںپریشان ہو گئی ۔ عموماً تو ایسے واقعات میںسسرال والوں کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن یہ تو اپنے گھر میں ہی تھی ۔ شادی کے بعد وہ اور اس کا شوہر اسی گھر میں رہ رہے تھے جہاں پہلے رہتے تھے صرف کمرہ الگ ہو گیا تھا۔
فاطمہ نے بتایا کہ سویرا ہمارے لیے کھانا پکا رہی تھی ۔ ریشمی کپڑے پہنے ہوئے تھی ۔ میں اور نعمان سامنے ہی بیٹھے تھے کہ ایک دم اس کے دوپٹے نے آگ پکڑ لی اور جب تک اس نے دوپٹہ نوچ کرپھینکا کپڑوںنے آگ پکڑ لی ۔ ظاہر ہے نائیلون مکس ریشمی کپڑا تو فوراً آگ پکڑتا ہے ۔ وہ کہہ رہی تھی ہم سب دوڑے اس پر پانی پھینکا لیکن اس کا جسم بہت زیادہ جل گیا ۔ فوراً ہسپتال لے گئے ، انہوںنے فوراً داخل کرلیا اور علاج شروع کردیا ۔
میرے دکھ کی کوئی انتہا نہیں تھی ۔ فون کرتی تو وہ ماں سے فون لے کر بات کرنے کی کوشش کرتی لیکن آواز نہیںنکلتی تھی ۔ میںاسے دیکھنے ہسپتال گئی تو وہ بہت خوش ہوئی ، پوری پٹیوںمیں جکڑی ہوئی تھی بمشکل کچھ کھاتی پیتی تھی ۔ اس کا شوہر اس کی خدمت میں لگا ہؤا تھا ۔ ان لوگوںنے ہسپتال والوںکی شکایت کی کہ ڈاکٹر دیکھنے نہیںآتا روزانہ ، لا پروائی برت رہے ہیں۔وارڈ کی صفائی بھی تسلی بخش نہیںتھی۔ میں نے کوشش کی کہ کوئی سینئر ڈاکٹر یا وارڈانچارج مل جائے تو بات کروں لیکن کوئی نہ ملا ۔ گھر آکر میںنے اپنے بھائی سے رابطہ کیا جوایک دوسرے ہسپتال میںسینئر ڈاکٹر ہیں ، کہ اس ہسپتال میںجس میںسویرا ایڈمٹ تھی کوئی جان پہچان ڈھونڈوتاکہ سویرا کی بہتر نگہداشت ہو سکے ۔
رمضان کا مہینہ تھا دعائوں کی قبولیت والی راتیں تھیں ۔ میںنے خوب دعائیں کیں سویرا کی زندگی اور صحت کے لیے لیکن اللہ کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا ۔
سویرا کوہسپتال میںچھٹا دن تھا تومیرے بھائی کا فون آیا کہ اس کے جاننے والا کوئی ڈاکٹر مل گیا ہے کل وہ سویرا کو کمرے میں شفٹ کرادے گا اور خود ہی اس کو دیکھ کر علاج کرے گا ۔ میں بہت مطمئن ہوگئی لیکن اسی رات میںمسجد تراویح پڑھ رہی تھی تو مستقل فون پر بیل آ رہی تھی۔ میرے دل میںہول اٹھنے لگے ۔ جلدی سے نماز ختم کر کے باہر نکل کر دیکھا تو فاطمہ کی کئی کالیںتھیں ۔ میں نے دھڑکتے دل سے فون کیا تو وہ دھاڑیںمار مار کر رونے لگی کہ باجی آپ کی سویرا چلی گئی ، ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ فوت ہو ئی ہے ۔
اللہ کے فیصلے کے آگے سر جھکانے کے علاوہ انسان کیا کر سکتا ہے۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی صرف تین مہینے شادی کو ہوئے تھے ۔ خوشیاں اسے راس نہ آئیں ۔ میںاس سے کہتی ہی رہی کہ ریشمی دوپٹہ اوڑھ کر آگ کے پاس نہ جایا کرو آگ جلدی پکڑتا ہے لیکن جو ہونا تھا وہ ہو گیا ۔ وہی خوبصورت کپڑے جو اتنے شوق سے لیے تھے اس کی موت کا سبب بن گئے ۔ سویرا کے ساتھ وہ ننھی کونپل جس نے اس کی کوکھ میں جنم ہی لیا تھا بن کھلے ختم ہو گئی ۔ دو زندگیاں اللہ کو پیار ی ہوگئیں۔رمضان میںہر سال وہ مجھے بہت یاد آتی ہے اورمیںاس کے لیے دعا کرتی ہوں کہ اللہ اس کو جنت کی حور بنائے ، آمین ۔
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x