بتول مئی ۲۰۲۱سعودی عرب میں رہنے کا تجربہ- بتول مئی ۲۰۲۱

سعودی عرب میں رہنے کا تجربہ- بتول مئی ۲۰۲۱

پی آئی اے کے جہاز جیسے بھی ہوں، لیکن اندر داخل ہو کر ایسا لگا جیسے ہم پاکستان پہنچ گئے ہوں۔ فضائی میزبان کے منہ سے اردو سن کر بہت اپنائیت کا احساس ہؤا۔ اپنے پاکستانی بھائیوں کو دیکھ کر ہم نے بڑے آرام سے بغیر کوئی تکلف کیے اپنے چھوٹے سوٹ کیس ان سے اوپر والے کیبن میں رکھو ائے۔ یہ سہولت کسی اور ائیر لائن کے جہاز میں اس آسانی سے نہیں ملتی، کیونکہ ان جہازوں میں پاکستانی اتنے نہیں ہوتے۔اس جہاز میں کوئی بھی غیر ملکی نہیں تھا۔
جہاز نے ٹیکسی کرنا شروع کیا تو ایک بار پھر شکر کیا۔ پرواز کے بلند ہونے کے بعد نماز فجر ادا کی۔
ہم اپنی زبان کا مزہ لیتے ہوئے اور میٹھی اردو کی لوری سنتے سنتے نیند کی آغوش میں پہنچ گئے۔ تھوڑی دیر بعد ہی آنکھ کھل گئی۔ روشن دن طلوع ہو چکا تھا۔ باقی کا سفر بادلوں کے نظارے دیکھتے ہوئے گزر گیا۔ جہاز کے کپتان نے اسلام آباد آمد اور لینڈنگ کا اعلان کیا اور جہاز اپنی بلندی کم کرنے لگا۔ چند ہی لمحوں میں زمینی مناظر واضح ہونے شروع ہو گئے۔ اسلام آباد کا پوٹھو ہاری لینڈ سکیپ سبزے سے بھرے ہوئے قطعوں کے ساتھ نظروں کے سامنے تھا۔ موٹر وے بھی کسی لمبے سانپ کی طرح لہراتی دکھائی دی۔ کچھ ہی دیر میں ہم اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتر چکے تھے۔ فورا ًگھر والوں کو فون کیا کہ ہم لینڈ کر چکے ہیں۔ انہوں نے جو خبر دی وہ یہ تھی کہ دھند کی وجہ سے موٹر وے ابھی بند ہے، اور ہمیں بھیرہ انٹر چینج سے نیچے اتار دیا گیا ہے۔ گیارہ بجے جب موٹر وے کھلے گی تو ہم فورا ًچل پڑیں گے۔ تب تک آپ کو انتظار کرنا ہو گا۔
ہم نے ایک لمبا سانس لیا، اور حوصلہ جمع کرنے لگے۔جہاز سے اترنے کے بعد ہمارے پاس ٹریک چیک ہوئے اور پھر آگے جانے دیا۔ امیگریشن سے فارغ ہو کر سامان لیااور اب آنے والوں کا انتظار شروع ہو گیا۔ روشن آسمان تھا، چمکتی دھوپ تھی، اور ٹھنڈی ہوا۔ اس قدر لطف آیا کہ بیان مشکل ہے۔ اور کوئی کام نہیں تھا سوائے انتظار کے، ذہن اتنا ریلیکس تھا کہ کیا بتائیں۔ یہ وقت ایسے گزرا جیسے لمحے گزرتے ہیں۔ اس پرسکون اور بغیر کسی ذہنی تناؤ کے گزرنے والے وقت نے ہمارے لیے اکسیر کا کام انجام دیا۔ ہمیں لینے کے لیے آنے والوں میں ہمارے شوہر ، دیور ، اور بیٹی کی سہیلیاں اور اس کی پھوپھو اور چچا کی بیٹیاں تھیں۔ الحمد للّٰہ سفر بخیر تمام ہؤا، سب سے ملاقات ہوئی، سب نے مل کر دوپہر کا کھانا کھایا جو عصر انے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ بھیرہ سے آگے آتے ہی سورج میاں غائب ہو گئے اور دھند کا راج شروع ہو گیا۔ دھند کی یہ بادشاہی ہمارے سعودی عرب واپس آنے تک یعنی بارہ فروری اور اس کے بعد تک بھی جاری رہی۔
پاکستان میں قیام کے دن کیسے گزرے، یہ طویل داستان ہے اور ہر دن کی اپنی کہانی ہے۔ سفر در سفر ، وبا کی احتیاط اور اپنے کاموں کے درمیان ہم خوب چکراتے رہے۔ اسی دوران میں بھانجی اور بھانجے کی شادی بھی ہوئی اور ما شا اللہ بہت خوب ہوئی۔
تین فروری کو ہم سفر میں تھے کہ ایک واٹس ایپ گروپ میں خبر آئی کہ سعودی عرب نے وبا کی صورتحال کے پیش نظر بیس ممالک سے پروازوں پر پابندی لگا دی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پہلے پہل تو یہ خبر پڑھ کر یقین نہ کرنے کو دل چاہا۔ کچھ فکر تو پہلے سے ہی تھی اور ہم اپنے ٹریول ایجنٹ کے ساتھ بھی رابطے میں تھے، لیکن اس اللہ کے بندے کو اکثر خبریں ہم سے ملتی تھیں۔ ہم نے فوراً عرب نیوز انٹرنیٹ پر کھولا۔لیکن اس پر خبر ابھی پروسیس ہو رہی تھی۔ سعودی گزٹ کھولا تو اس پر یہ خبر موجود تھی، لیکن ترجمہ کرنے والے فرد نے ایسا ظلم ڈھایا کہ خبر کا مفہوم بدل دیا۔ اس نے لکھا ، طبی عملے کو سعودی عرب میں داخلے کی

اجازت نہیں ہے۔ ہمارے تو ہاتھ پیر اور دماغ پریشانی کے باعث کافی پھول چکے تھے، اس لیے گہرائی میں نہیں جا سکے۔ لیکن کچھ عجیب سا لگا کہ طبی عملے کو خاص طور پر کیوں سعودی عرب واپس آنے سے منع کیا گیا ہے۔ بس اس سوچ میں پڑ گئے کہ یہ اصول لاگو ہونے سے پہلے جلد از جلد کیسے ریاض پہنچ سکتے ہیں۔
پروازوں کی تلاش شروع ہوئی۔ ایک پرواز رات بارہ بجے سے پہلے اسلام آباد سے جا رہی تھی، اور ہم تھے لاہور میں۔ فوراً منصوبہ بنایا کہ سامان وغیرہ چھوڑتے ہیں اور روانہ ہو جاتے ہیں اسلام آباد۔ اسی اثنا میں عرب نیوز کی خبر بھی آ گئی جس میں تفصیل موجود تھی ۔ اس خبر کے مطابق ان بیس ممالک میں کچھ لوگ اس پابندی سے مستثنا تھے، جن میں طبی عملہ اور ان کے گھر والے بھی شامل تھے۔ سعودی گزٹ کی جلد خبر دینے کی کوشش نے اس خبر کے ترجمے کو کچھ کا کچھ بنا دیا۔ یہ پڑھ کر کچھ تسلی تو ہوئی، لیکن دل کو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا۔
سب اکٹھے ہوئے، اور غور و فکر شروع ہؤا۔ اگلے دن صبح اٹھ کر ہم گھر کے قریب پی آئی اے کی دفتر گئے۔ وہ ہماری کوئی مدد نہ کر سکے۔ ہم ایجرٹن روڈ پر ان کے صدر دفتر گئے۔ انہیں بتایا کہ ہماری تیرہ فروری کو واپسی کی پرواز تھی۔ ہے کو “تھی” کہتے ہوئے دل کو بڑی تکلیف ہوئی لیکن کیا کرتے۔ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ جی آپ پرواز کو بھول جائیں۔ اس وقت سب آپریشن معطل ہو چکا ہے۔ اب پی آئی اے کی کوئی پرواز یہاں سے مسافروں کو نہیں لے جا رہی۔ آپ صرف انتظار کریں۔ ہم افسردہ دل اور لٹکے ہوئے منہ کے ساتھ وہاں سے نکل آئے۔
اسی مایوسی کے عالم میں سعودی ائیر لائن کے دفتر کا رخ کیا جو ڈیوس روڈ پر ہے۔ ہمارے شوہر کا ٹکٹ سعودی ائیر لائن کا تھا۔ وہاں جا کر بھی یہی معلومات ملیں کہ فی الحال تو سب پروازیں معطل ہیں۔ اعلان بھی رات کو ہؤا ہے، اس لیے صورتحال کو واضح ہونے میں اور نئی حکمت عملی آنے میں وقت لگے گا۔ ایک صاحب نے تسلی آمیز الفاظ کہے کہ امید ہے، یہ معطلی لمبی نہیں ہو گی۔ آپ کی پرواز میں تو ابھی دس دن باقی ہیں، تب تک ہو سکتا ہے ویسے ہی سب پروازیں کھل جائیں۔ یوں سارا دن ہم دفاتر کے چکر لگا کر گھر واپس آ گئے۔ آخر کار سوچ سوچ کر اللہ تعالیٰ کے سپرد معاملے کو کر کے پر سکون ہو گئے۔ ایک تسلی تو تھی کہ طبیب ہونے کا فائدہ ہمیں حاصل ہو جائے گا۔ کب ہو گا؟ اس کا علم اللہ کے پاس تھا۔
آنے والے دس دن ہم نے زیادہ تر انٹرنیٹ پر پرواز کے بارے میں آگاہی، معلومات اور روابط میں گزارے۔ اپنے ہسپتال کو فورا ً مطلع کیا کہ ہمارے ساتھ یہ معاملہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے یہ تسلی ضرور دی کہ آپ فکر نہ کریں، ہم حالات سے واقف ہیں، لیکن اس کے علاوہ آپ کے لیے کچھ اور نہیں کر سکتے۔ اپنے بکنگ ایجنٹ کو بھی وقتاً فوقتاً نیند سے جگاتے رہے۔ یہ امید بھی تھی کہ شاید تیرہ فروری سے پہلے پروازیں دوبارہ شروع ہو جائیں۔ پاکستان کی مصروفیت بھی شدید تھی۔ لیکن ذہنی تناؤ نے بہت سارے دیگر معاملات کو پس پشت ڈال دیا اور بہت سے منصوبے ملتوی کرنا پڑے۔ شادی کی مصروفیت اور گھر کی ترتیب کے ساتھ ساتھ پرواز کے بارے میں مشق جاری رکھی۔
اس دوران سعودی عرب میں پاکستانی ہیلتھ ورکر کے ایک گروپ کے ذریعے فلائی ناس کی پروازوں کی خبر ملی اور ساتھ ہی ایک موبائل نمبر بھی ملا۔ یہ افتخار بھائی تھے، جن کا اللہ بھلا کرے، ہمارے ہر سوال کا جواب بڑے تحمل اور خوش اخلاقی سے دیتے تھے اور ہمارے بار بار کے رابطے کے باوجود صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلائی ناس کی خصوصی پروازیں جا رہی ہیں لیکن ان کے ٹکٹ بہت مہنگے ہیں۔ آپ کے پاس ابھی کچھ دن ہیں، آپ انتظار کر لیں۔ ان کا مشورہ بہت صائب تھا۔ اس لیے ہم لوگ انتظار کرتے رہے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم دس فروری تک دیکھیں گے اگر کوئی صورت بن گئی ورنہ فلائی ناس کا ٹکٹ خرید لیں گے۔ دس فروری کو ہم نے دوبارہ اپنے بکنگ ایجنٹ سے رابطہ کیا تو اس نے مشورہ دیا کہ آپ پی آئی اے سے دوبارہ رابطہ کریں، اور پوچھیں کہ کیا صورتحال ہے۔ ہمارے میاں نے بھی کہا کہ پی آئی اے کی روزانہ پرواز جا رہی ہے تاکہ سعودی عرب سے پاکستانیوں کو واپس لا سکے۔ ہو سکتا ہے طبیب ہونے کی بنا پر وہ ہمیں یہاں سے ریاض واپس لے جائیں۔گیارہ فروری کو ہم پھر پی آئی اے کے صدر دفتر گئے۔ انہوں

نے ہمیں کہا کہ اپنے ٹکٹ دکھائیے۔ انہوں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ آپ صحت کے شعبے میں ہیں تو پرواز کر سکتے ہیں۔ ہم نے اپنے متعلقہ کاغذات ان کے حوالے کیے جن میں پاسپورٹ، سعودی عرب کا ویزہ، اقامہ شامل تھا۔ انہوں نے تقریباً دو گھنٹے میں ہماری پرواز کنفرم کر کے ہمارے کاغذات ہمیں واپس کر دیے۔ ہمارے شوہر نے اپنا نیا ٹکٹ خریدا جو بہت مہنگا پڑا لیکن ہم خوش تھے کہ مسئلہ حل ہو گیا۔
سعودی ائیر لائن نے ابھی تک اپنی پروازوں کا اعلان نہیں کیا تھا۔ ہماری پرواز اسلام آباد سے تھی، تیرہ فروری کو۔ ہم نے فوراً اپنی تیاری کو آخری شکل دی جو تقریباً مکمل تھی۔ پرواز سے پہلے ہم تینوں نے اپنے کووڈ ٹسٹ کرانا تھے جو سعودی عرب پہنچنے تک قابل قبول ہوں۔ یعنی بہتّر گھنٹے کے اندر ٹسٹ ہونے چاہییں تھے۔ پی آئی اے والوں نے لیبارٹری کے بارے میں ہماری رہنمائی کی جہاں سے ہمیں کووڈ ٹسٹ کرانا تھا۔دفتر سے نکل کر ہم سیدھا لیبارٹری جناح ہسپتال کے سامنےپہنچے جہاں پہنچنے میں ہی ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا پھر پہنچ کر بھی کچھ دیر انتظار کرنا پڑا۔ کچھ سفر کی فکر، کچھ انتظامات کی اور سب سے زیادہ ٹسٹ کے نتیجے کی فکر نے ہمیں خوب ہلکا ن کیا۔ ریاض میں ہم ہسپتال اور گھر میں ہی رہے تھے لیکن پاکستان آ کر نسبتاً زیادہ لوگوں سے رابطے رہے اس لیے کافی خوفزدہ تھے۔ کام اتنے تھے اور سفر بھی کافی تھا، اس لیے سب کچھ اللہ کے سپرد کر دیا اور مطمئن ہوگئے۔ ٹسٹ کے نتیجے کی بھی فکر تھی کیونکہ اسلام آباد سے پرواز لینے کے لیے ہمیں روانہ ہونا تھا اور اس سے بھی پہلے ہمیں سرگودھا سے اپنا سامان اٹھانا تھا۔ رات کو نو بجے کے بعد دھند ہونا شروع ہو جاتی تھی اس لیے سفر کے اوقات بھی دن گیارہ بجے سے لے کر رات آٹھ بجے تک محدود ہو گئے تھے۔ لیب والوں نے ہماری پریشانی یہ بتا کر دور کر دی کہ نتیجہ آپ کو آن لائن مل جائے گا اس کے لیے لاہور میں رکنے کی ضرورت نہیں۔ ٹسٹ کے لیے علیحدہ بوتھ تھا۔ جس میں ناک سے ٹسٹ لے رہےتھے۔ ہمارے لیے یہ کافی ناخوشگوار تجربہ رہا، خصوصاً ہماری صاحبزادی بہت تنگ ہوئیں۔ اس کے مقابلے میں حلق سے لیا جانے والا ٹسٹ نسبتاً آرام دہ ہے، جو ہم نے ریاض پہنچ کر دو بار کروایا۔ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہوئے کہ سب کام مکمل ہو گئے۔
رات کو ہمارے دیور کے ہاں خاندان کے سب لوگوں کا کھانا تھا۔ اس سے پہلے ہمارے میاں کے بہت عزیز دوست کے ایک مریض کو دیکھنا تھا۔ ہم نے مریض کو جلدی سے دیکھا اور دعوت کے لیے روانہ ہو گئے۔ ہمارے پہنچنے تک سب لوگ کھانا کھا چکے تھے۔ ہم نے جلدی جلدی کھانا کھایا۔ہمارے ساتھ ہماری دونوں نندیں بھی سرگودھا جا رہی تھیں۔ کوشش کے باوجود ہمیں نکلتے ہوئے رات کے دس بج گئے۔ نکلنے سے پہلے ہم نے موٹر وے ایمرجنسی لائن سے صورتحال دریافت کی۔ اس اطلاع کی مطابق لاہور سرگودھا موٹر وے کھلی تھی۔ ہم نے سفر شروع کر لیا۔
بائی پاس تک پہنچے تو ہماری چھوٹی نند کا فون آیا۔ وہ ہم سے دس منٹ پہلے نکلے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بائی پاس سے ہمیں واپس کر دیا گیا ہے اس لیے ہم اب لاہور ہی رکیں گے اور صبح سرگودھا جائیں گے۔ ہم نے اس اطلاع کو قابل اعتنا نہ جانا اور اپنا سفر جاری رکھا۔ بائی پاس سے ہم رنگ روڈ پر آ گئے۔ اس دوران دھند کے ہلّے راستے میں آتے رہے۔ کالا شاہ کاکو انٹر چینج سے انہوں نے ہمیں موٹر وے پر جانے دیا۔ ہم محتاط تھے کہ دھند میں گاڑی کم رفتار سے چلائیں اور مطمئن بھی تھے کہ ہم اب موٹر وے پر آ گئے ہیں تو خیر خیریت سے سرگودھا پہنچ جائیں گے۔
ہماری بڑی نند اپنے بچوں کے ساتھ ہم سے کچھ آگے تھیں۔ راستے میں دھند کافی گہری تھی اور مزید گہری ہوتی جا رہی تھی۔ جب ہم شیخو پورہ پہنچے تو موٹر وے پولیس نے ٹریفک کو موٹر وے سے نیچے اتارنا شروع کر دیا۔ ہم تو ابھی انٹر چینج سے کافی پیچھے تھے اور ہم سے آگے گاڑیوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے میں ہم موٹر وے سے اتر کر لاہور کی طرف جانے والی سڑک پر پہنچ گئے۔ ہمارے ساتھ بہت سی گاڑیاں تھیں۔ لیکن اب دھند کا یہ عالم تھا کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ آبادی میں حالات کچھ بہتر ہوتے تھے لیکن آ بادی سے باہر نکل کر دھند بہت گہری اور کثیف ہو جاتی تھی جس میں راستہ دیکھنا محال تھا۔
اس طرح کی صورتحال سے ہمیں امریکہ میں سردیوں میں سفر

کرتے ہوئے واسطہ پڑا تھا۔دھند کی وجہ سے ہمارے نیوی گیٹر نے ہمیں ہائی وی کی بجائے ایک چھوٹی سڑک پر ڈال دیا۔ یہ پچیس دسمبر کا دن تھا۔ ہم جھیل کے ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے۔ برف باری اور جھیل کا کنارہ، دونوں کے اکٹھا ہو جانے سے دکھائی دینے کی صلاحیت صفر کے آس پاس تھی۔ ہم نے تقریباً دو سو کلو میٹر کا سفر اسی طرح کیا۔ اس کے بعد ہائی وے مل گئی اور راستہ بھی صاف ہو گیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر اس سفر کی کیفیت یاد آ گئی۔
بہر حال کسی نہ کسی طرح ہم بخیر و عافیت لاہور کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور رات کے تقریباً دو بجے واپس وہیں پہنچ گئے جہاں سے ہم نے سفر شروع کیا تھا۔ فرق یہ تھا کہ سفر شروع کرتے ہوئے گھر کے آس پاس دھند کا نام و نشان بھی نہیں تھا لیکن اب دھند کی دبیز تہہ نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھایہاں تک کہ گھر بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر دروازے کھلے ہوتے تو کمرے بھی دھند سےبھر جاتے۔ ہم کچھ دیر بیٹھے، سب کو سفر کی تفصیل بتائی اور پھر سو گئے۔ اندازہ تھا کہ اب سفر دن کے گیارہ بجے سے پہلے شروع نہیں ہو سکے گا۔ بارہ فروری ہو گئی تھی اور تیرہ فروری کو صبح سات بجے اسلام آباد سے ہماری پرواز کو روانہ ہونا تھا۔
(جاری ہے)
٭ ٭ ٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here