بتول دسمبر ۲۰۲۰سعودی عرب میں رہنے کا تجربہ ...

سعودی عرب میں رہنے کا تجربہ – بتول دسمبر ۲۰۲۰

یہاں ناشتے کے لیے فُول، تمیس، فلافل، بینگن سے بنے کھانے اور سینڈوچ، حمص کے ساتھ ساتھ مغربی ناشتے بھی کافی مقبول ہیں۔ اسی طرح انڈے اور چیز سے بنے ہوئے کئی طرح کے سینڈوچ بھی شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ چائے عموماً بغیر دودھ کے پی جاتی ہے۔ اسی طرح سیاہ کافی، عربی قہوہ بھی ناشتے کا جزو ہے۔ چائے کی کئی اقسام ہیں جیسے، سادہ چائے بغیر دودھ کے، صرف ادرک کی چائے، پودینہ کی چائے، سبز چائے، عربی قہوہ، دودھ والی چائے۔ دودھ والی چائے کی بھی اقسام ہیں، جیسے عام ٹی بیگ والی چائے، کرک چائے، یمنی چائے،دودھ پتی بھی مل جاتی ہے۔ سعودی ہر قسم کی چائے کے لیے ایک ہی جیسی پیالی استعمال نہیں کرتے۔ سادہ دودھ کے بغیر چائے کے لیے ذرا لمبے اور بڑے کپ استعمال کیے جاتے ہیں لیکن ہماری پیالی سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ عربی اور ترکی قہوہ کے لیے چھوٹی پیالی یا فنجان استعمال ہوتے ہیں۔دودھ والی چائے کے لیے عام پیالی استعمال ہوتی ہے، جو ہمارے ہاں بھی چائے کے لیے مروج ہے۔
چائے کی دیگر اقسام جو سپر مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہیں، ان میں چائےکرکدی (Hibiscus Tea)سبز چائے مختلف ذائقوں میں جیسے پودینہ، دار چینی، شھد، وغیرہ، Chamomile Tea, اور دیگر اقسام شامل ہیں۔ ایک بار ہمیں اپنی ایک نرس کے گھر جانے کا موقع ملا عیادت کے لیے۔ وہاں پر بغیر دودھ کے کئی اقسام کی چائے موجود تھی، جس سے عیادت کے لیے آنے والوں مہمانوں کی تواضع کی جا رہی تھی۔ چائے پینے کا اصول یہ ہے کہ طاق عدد میں پی جائے، جیسے ایک یا تین یا پانچ۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ آپ مزید چائے نوش نہیں کرنا چاہ رہے تو کپ کے اوپر ہاتھ رکھ دیں ورنہ آپ کا فنجان بار بار بھرا جاتا رہے گا۔ چائے کے بارے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ چائے کو عربی میں بھی چائے ہی کہا جاتا ہے۔ چ کا حرف نہ ہونے کی بنا پر ’’شائے‘‘کہہ دیتے ہیں، اگرچہ عرب اب’’چ‘‘بخوبی بول لیتے ہیں۔ اسی طرح ’’تگالو‘‘ یا فلپینی زبان میں بھی چائے کو’’چاء‘‘ کہتے ہیں۔ فلیپینی الفاظ آخری لفظ جو ذرا کھینچ کر لمبا کر دیتے ہیں۔سواحلی میں بھی’’چائے‘‘ ہی کہا جاتا ہے۔
کافی کا نام عربی قہوہ سے لیا گیا ہے۔ اصل میں کافی قہوہ ہی ہے۔اگرچہ سادہ کافی کے لیے کافی بھی مستعمل ہے۔ اس کی بے شمار قسمیں ہیں اور کافی مع قہوہ بےحد و حساب پی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کافی عربوں کی ایجاد ہے اور پہلی بار یمن میں دریافت ہوئی تھی۔ کافی کی سب سے کڑوی قسم’’ترکی کافی‘‘ ہے۔ ترک عثمانی خلافت کے دور میں سارے عرب پر حکمران تھے، اس لیے ترکی قہوہ یا کافی بلاد عرب میں مشہور ہے۔ کافی کی تقریباً تمام مشہور مغربی دوکانیں سعودی عرب میں موجود ہیں، جیسے سٹار بکس، سییٹل، سینا بن، کوسٹا کافی، کیفے بن، ڈنکن ڈونٹ، کرپسی کریم، ڈاکٹر کیفے ، جیفری وغیرہ۔ کینیڈا کی مشہور کافی کی دوکان’’ٹم ہارٹن‘‘ ہمارے یہاں آنے کے بعد سعودی عرب میں آئی اور اب ہر طرف اس کے کیفے ہیں۔ صبح کے وقت ہر سعودی آپ کو کافی کے ڈسپوزایبل کپ کے ساتھ ملے گا۔کئی لوگ کافی نہ بھی لیں تو سٹار بکس سے خالی دودھ لے لیتے ہیں۔ میری بیٹی کے اسکول کے ساتھ سٹار بکس کی دوکان تھی۔ سکول کے فورا ًبعد طالبات کی بڑی تعداد وہاں سے کافی لے کر گھر جاتی تھی۔ ہمارے بچے بھی جب اسکول جاتے تھے تو انہیں معلوم تھا کہ راستے میں کس کافی کی دوکان کی کون سی کافی عمدہ ہے، اور کس کے سینڈوچ سب سے اچھے ہیں۔
کافی کی دوکان کے تذکرہ کے ساتھ ہی ڈونٹ کا کچھ ذکر یاد آ گیا ہے۔ کرپسی کریم کے ڈونٹ یہاں پر بہت پسند کیے جاتے ہیں اور بلا شک و شبہ بہترین ہیں۔ ایک بار جب ہم پاکستان آئے تو ہمارے ہم سفروں میں ایک پاکستانی خاندان دبئی سے آ رہا تھا۔ انہوں نے کرپسی کریم کے ڈونٹ کا بڑا ڈبہ اٹھایا ہؤا تھا۔ باتوں باتوں میں معلوم ہؤا کہ خاتون یہ ڈونٹ اپنے بھائی کے لیے لا رہی ہیں، جنہیں یہ ڈونٹ بے حد پسند ہیں۔ کرپسی کریم کھانے کی عیاشی ہمیں جنوبی امریکہ میں میسر نہیں آ سکی کیونکہ وہاں یہ ڈونٹ حلال نہیں تھے۔
سعودی قہوہ ایک منفرد چیز ہے، جو کافی اور چائے سے بالکل الگ ہے۔ اس کی خاص دوکانیں ہیں جہاں پر یہ تیار کیا جاتا ہے۔ ان دوکانوں پر قہوے میں شامل ہونے والے تمام مصالحے ایک خاص ترتیب سے ملائے جاتے ہیں، جس کے تنیجے میں اس کی خوشبو اور اس کا گاڑھا پن توازن کے ساتھ قائم رہتے ہیں اور ذائقے میں بھی فرق نہیں آتا۔ اس قہوے کی خوشبو اس قدر عمدہ اور دلنشیں ہوتی ہے کہ آپ اسے چکھے بغیر نہیں رہ سکتے، یہ بعد کی بات ہے کہ اس کا ذائقہ آپ کو پسند آئےیانہائے۔ہاںکچھ عرصہ پیتےرہنےکےبعد یہ آپ کے پسندیدہ مشروبات میں شامل ہو جاتا ہے۔۔ میرے پچھلے ہسپتال میں جب ہسپتال کے مدیر کے دفتر والے ہال وے میں داخل ہوتے تھے تو دور ہی سے سعودی قہوے کی خوشبو آنا شروع ہو جاتی تھی۔ اس میں زعفران بھی شامل کیا جاتا ہے۔ یہ قہوہ اور ترکی قہوہ کھجور کی ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ ہسپتال میں سعودی عملہ اکثر اوقات یہ قہوہ بنا کر لاتا تھا اور پینٹری میں میز پر رکھ دیتا تھا تاکہ جب جس کا جی چاہے، نوش کرے۔ وبا سے پہلے کے دنوں میں راؤنڈ کے دوران مریض کے لواحقین اکثر ہمیں یہ قہوہ پیش کرتے تھے۔ تیاری کے دوران خوشبو اور مہک کے لیے اس میں زعفران بھی شامل کیا جاتا ہے۔ جن دوستوں کو حج یا عمرہ کے لیے آنے کا موقع ملا ہے، انہیں صحن حرمین میں قیمہ سے لطف اندوز کا موقع ضرور ملا ہو گا۔
سعودی عرب کی بیکریاں دنیا کی بہترین بیکریوں میں شامل ہیں۔ جس طرح لاہور میں کہیں سے بھی کھانے کی چیز لے لیں تو وہ بے حد لذیذ ہو گی اسی طرح سعودی عرب میں کسی بھی بیکری سے فطائر (pies) یا کیک لے لیں، وہ بہترین ہوں گے۔ ان فطائر میں زعتر (Thyme)’چیز‘ بینگن، مرغی، پالک، اور لبنہ کی بھرائی ہوتی ہے۔ایسے فطائر بھی ناشتے میں بہت مقبول ہیں۔ سعودی مٹھائیاں بھی بےحد لذیذ ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ مقبول سعودی میٹھوں میں کنافہ اور بسبوسہ شامل ہیں۔ مطعم بخاری جس کا نام بخارا سے لیا گیا ہے، ایسے ریستوران کو کہتے ہیں جہاں ایک خاص قسم کے چاول ملتے ہیں۔ ان دکانوں پر میٹھے میں کنافہ ملتا ہے، جو اسی وقت تازہ تیار کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ اس مشہور میٹھے میں نیچے کریم کی تہہ ہوتی ہے اور اوپر سویّاں ہوتی ہیں جن پر چینی کی چاشنی بنا کر ڈالی جاتی ہے۔ کنافہ کی الگ دکانیں بھی ہیں جہاں مختلف ذائقوں اور انواع کا کنافہ ملتا ہے جس کی قیمت پچاس ریال سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ مطعم بخاری سے ملنے والا کنافہ پہلے پانچ ریال کا تھا، اب سات ریال کا ہو گیا ہے۔ کنافہ کے بنیادی اجزا کے علاوہ اس میں چاکلیٹ اور دیگر اشیا بھی شامل کی جاتی ہیں۔ بسبوسہ سوجی سے تیار کیا جاتا ہے، اور اس میں بھی چینی کی چاشنی حسب ذائقہ شامل کی جاتی ہے۔ بسبوسہ کے مختلف ذائقے ملتے ہیں جن میں خشک میوہ جات، چیز ، کیرامل ، چاکلیٹ اور دیگر ذائقے شامل ہیں۔دیگر میٹھوں میں محلبیہ جو چینی اور کارن فلور سے تیار کیا جاتا ہے، ام علی جو مصری میٹھا ہے اور کروساں میں دودھ اور چینی ڈال کر بیک کرتے ہیں، شامل ہیں۔
مطعم بخاری کے علاوہ مندی کی دکانیں بھی بہت ہیں جن پر کئی اقسام کی مندی دستیاب ہے۔ جن دکانوں پر افغانی طرز کے چاول تیار ہوتے ہیں، وہ مطعم بخاری کہلاتی ہیں۔ جو چاول یمنی طرز پر تیار کیے جاتے ہیں، انہیں مندی کہتے ہیں۔ مظہبی مندی کی ایک قسم ہے جو پتھر کو گرم کر کے اس پر پکائے گئے گوشت سے تیار ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر مندی اونٹ اور بکرے کے گوشت سے بنتی ہے۔ ان سب اقسام میں باسمتی سیلا چاول استعمال ہوتا ہے۔
سعودی کھانے اور چائے پینے کا طریقہ ہمارے خیبر پختونخواہ میں مستعمل کھانوں اور چائے سے بے حد ملتا ہے۔ عموماً ان سب اقسام کے چاول پھیکے ہوتے ہیں۔ اب کچھ دکانوں پر ہمارے ذائقے کے مطابق بھی یہ چاول مل جاتے ہیں۔ کالی اور سرخ مرچ کا استعمال کسی کھانے میں بھی نہیں کیا جاتا۔ البتہ کھانوں کے ساتھ کئی قسم کی چٹنیاں دی جاتی ہیں جن میں کچھ میں سرخ مرچ بھی ہوتی ہے۔ یہاں کی ایک بہت مشہور چٹنی لہسن پر مشتمل ہے۔ لہسن کو عربی میں ثوم لکھتے اور روزمرہ میں تھوم بولتے ہیں، جی ہاں پنجابی والا تھوم۔ اس کی وجہ ث کا تلفظ اور مخرج مشکل ہونا ہے، اس چٹنی کو عرف عام میں بس تھوم ہی کہا جاتا ہے۔ عربی طرز کے بروسٹڈ چکن کے ساتھ یہ چٹنی لازم وملزوم ہے، اور ذائقے میں لا جواب۔ اسی طرح ٹماٹر کو پیس کر بھی ایک چٹنی بنائی جاتی ہے، اور چاولوں کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ چاول کی اقسام میں مضغوط اور لحم مدفون بھی شامل ہیں۔ چاول کے ساتھ دینے کے لیے مرغ دو طرح سے تیار کی جاتی ہے، بھون کر اور اوون میں بیک کر کے۔ آپ اپنی مرضی سے دونوں میں سے ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
عربی سلاد بھی کئی اقسام کے ہیں۔ حمص سے تو ہم سب واقف ہیں، اور اب یہ بین الاقوامی کھانے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ میرے دیور کا خاندان ایڈمنٹن کینیڈا میں رہائش پذیر تھا۔ میری دیورانی بتانے لگیں کہ ان کے بچوں کے اسکول سے لنچ کے لیے جو فہرست جاری کی گئی ہے، اس میں حمص بھی شامل ہے۔ اس لیے کہ یہ بہت صحت مند اور غذائیت سے بھر پور ہے۔ یوں بھی ایڈمنٹن میں بہت عرب آ باد ہیں، جیسے لبنانی جو تقریباً سو سال سے وہاں رہ رہے ہیں۔ ہم جب پہلی بار دبئی گئے تو ہم سے حمص کی بے حد تعریف کی گئی۔ رات کو کھانے پر باہر گئے تو ہمارے میزبان حمص پر زیتون کا تیل ڈال کر ہمارے سامنے بار بار پیش کریں، لیکن ہمیں حمص کافی کڑوا اور غیر مصالحہ دار لگا۔ اب یہ حال ہے کہ حمص کے ساتھ خبز کھائیں تو کھانا مکمل ہو جاتا ہےاور دل سے بے ساختگی سبحان اللہ نکلتا ہے۔ دیگر مقبول سلاد میں فتوش جو کہ تلی ہوئی پیٹا بریڈ کے ٹکڑوں اور ہری سبزیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ تبولہ میں پارسلے، ہری پیاز، پودینہ، ایک طرح کا باریک دلیہ، ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کو لیموں کے رس
اور زیتون کے تیل میں ملا کر تیار کیا جاتا ہے۔ ایک مزیدار سلاد یا رائتہ دہی میں کھیرا ملا کر بنتا ہے۔ بابا غنوش میں بینگن کو بھرتے کی طرح ابال کر شامل کیا جاتا ہے۔پھر اس میں زیتون کا تیل اور تہینہ ملایا جاتا ہے جو تلوں کو پیس کر تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی علاوہ بھی بہت سے سلاد ہیں جن میں سے ایک ہری سبزیوں اور ٹماٹر پر مشتمل سلاد ہے جو بہت سے کھانوں کے ساتھ بغیر اضافی رقم لیے شامل کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب میں کھانے کے ساتھ دی جانے والی روٹی کی قیمت وصول نہیں کی جاتی۔
مشہور عربی ریستورانوں کے ساتھ ساتھ مشہور مغربی ریستوران بھی یہاں موجود ہیں جن میں ایپل بیز، سٹیک ہاؤس، پیاٹو، چلیز، فڈ رکر، چیز کیک فیکٹری، پی۔ ایف چینگ، فائیو گائز ، پال وغیرہ شامل ہیں۔
سعودی کھانوں کا ایک انتہائی اہم جزو شوربہ یا سوپ ہے۔ رمضان میں افطاری کے وقت شوربہ اور لسی یا پانی سے روزہ افطار کر کے پہلے نماز پڑھی جاتی ہے اور پھر کھانا کھایا جاتا ہے۔ عدس کا شوربہ بے حد لذیذ ہوتا ہے، جسے مسور کی دال اور مرغی کی یخنی سے تیار کیا جاتا ہے۔ مسور کی دال کو عربی میں عدس کہتے ہیں۔ایک اور شوربہ جو کے دلیے اور مرغی کے ریشوں سے بنتا ہے۔ اس کا ذائقہ بھی بہت نفیس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مغربی شوربہ بھی ریستوراں پر عام دستیاب ہے اور شوق سے استعمال ہوتا ہے۔ رمضان میں مصریوں کا ایک پسندیدہ مشروب خوبانی کا شربت ہے، جسے قمرالدین کا نام دیا گیا ہے۔ ایک اور مشروب جو رمضان میں بے حد شوق سے پیا جاتا ہے، وہ روح افزا نہیں ہے، بلکہ ومٹو ہے۔ یہ مشروب رمضان ہی میں گروسری سٹور یا سپر مارکیٹ میں نظر آتا ہے۔
رمضان کے ذکر سے یاد آیا کہ سحری میں چاول کھاتے ہوئے ہم نے لوگوں کو پہلی بار سعودی عرب میں ہی دیکھا۔ ہم جب مملکت میں آئے تو اس دن گیارہواں روزہ تھا اور ہوائی اڈے پر ہی سحری کا وقت ہو گیا۔ سحری کے لیے جب کچھ لینے گئے تو سوائے چاولوں کے اور کچھ نہ ملا۔ ہم نے زندگی میں کوئی روزہ روٹی یا ڈبل روٹی کھانے کے علاوہ نہیں رکھا تھا۔ یوں بھی یہاں افطاری کو ناشتہ یا ’’breakfast‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہوٹل میں قیام ہو تو اس سے غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ مکہ شریف اور مدینہ شریف میں قیام کے دوران اکثر ہوٹل ناشتہ بھی دیتے ہیں۔افطار کو انگریزی میں breakfast لکھا ہوتا ہے۔ ایک بار رمضان میں غلطی سے ہم اسے سحری سمجھ کر کھانے کے کمرے میں چلے گئے۔ آپ کو بھوک لگ جائے اور کھانے کا وقت نہ ہو تو آپ کسی بھی بوفیہ سے کلیجی، مرغی، گوشت، انڈے یا چیز کا سینڈوچ لے کر اپنی بھوک مٹا سکتے ہیں۔ بقالہ سعودی عرب میں جنرل سٹور کو اور بوفیہ کھانے پینے کی دکان کو کہتے ہیں۔
جس طرح سعودی گفتگو، لباس اور سفر کے آداب سے واقف ہیں، اسی طرح ان کے کھانے کے آداب بھی دلنشیں ہیں۔ سعودی راستے میں چلتے پھرتے کھانے پینے کو پسند نہیں کرتے۔ شاپنگ مال یا مارکیٹ میں آپ کو کبھی کوئی سعودی راہ چلتے چائے یا مشروب پیتا نظر نہیں آئے گا۔ اسی طرح سگریٹ نوشی یہاں عام ہے، لیکن عوامی جگہوں اور ہسپتالوں میں چونکہ اس پر پابندی ہے، اس لیے یہاں آپ کو کبھی کوئی سگریٹ پیتا نظر نہیں آئے گا۔ سعودی جب کسی کو کھانے پر بلاتے ہیں تو میز کو خالی نہیں رہنے دیتے۔ کھانے کی میز کا بھرا ہونا تواضع سمجھا جاتا ہے۔
جبیل میں قیام کے دوران ایک اور سرگرمی جو کھانے سے متعلق ہے، وہ ہسپتال کا سالانہ عشائیہ تھا۔ اس کا اہتمام ہاؤسنگ کے میدان میں کیا جاتا تھا۔ شرکا میں خواتین کی تعداد کم ہونے کے باوجود ان کے لیے علیحدہ انتظام کیا جاتا تھا۔ سٹارٹرز اور میٹھے کے علاوہ ہر میز پر بڑے بڑے تھا لوں میں چاولوں کے اوپر پوری سجی رکھی ہوتی تھی۔ اسی طرح دونوں عیدوں کے بعد کام کے پہلے دن ہسپتال کے کیفے ٹیریا میں صبح ساڑھے آٹھ بجے عید کی دعوت ہوتی تھی۔ اس میں ہسپتال کے مدیر اور انتظامیہ سمیت سب شرکت کرتے تھے۔ ایک بار ہمارے مشرقی صوبے کے تمام ہسپتالوں کی میٹنگ ہوئی اور اس کے بعد جو ظہرانہ دیا گیا وہ کسی بھی پانچ ستارہ ہوٹل کے بوفے سے کئی گنا زیادہ شاندار تھا۔ ہم تین خواتین جن میں ہماری آئرش نرسنگ ڈائریکٹر اور ریڈیا لوجی کی مصری ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بھی شامل تھیں، کے لیے انتہائی با پردہ اور شاندار انتظام اہتمام کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ہسپتال کی دعوتوں میں بھی ہم خواتین کے لیے کیفے ٹیریا میں الگ کمرہ تھا۔
(جاری ہے)

٭ ٭ ٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here