ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ذرا مسکرا لیجیے – نوردسمبر ۲۰۲۰

٭ دو گپی ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لیے لمبی لمبی چھوڑ رہے تھے۔ایک نے کہا :’
’ میرے دادا بازار آلو لینے گئے ۔ انھوں نے دکان دار سے پانچ کلو آلو کہے تو اس نے ایک ہی بڑا سا آلوپکڑا دیا ۔‘‘
دوسرا بولا:’’ یہ کیا ہے ۔ میرے دادا آلو لینے گئے اور دس کلو آلو مانگے تو دکان دار نے کہا:
’’چلو یہاں سے۔ ہم آلو کاٹ کر نہیں بیچتے۔‘‘

( حفصہ سلمان ۔ بہاولپور)

٭…٭…٭

٭ مسافر ( ملاح سے ):’’ لانچ ڈگمگا رہی ہے ۔ میرا دل ، ڈوبا جا رہا ہے ۔ کوئی خطرہ تو نہیں؟ ‘‘
ملاح(سنجیدگی سے): ’’ خطرے کی کوئی بات نہیں ۔ میری لانچ بیمہ شدہ ہے اور مجھے تیرنا آتا ہے ۔‘‘

(حبیب احمد۔ ساہی وال)

٭…٭…٭

٭ ایک آدمی پلیٹ فارم پر کبھی ادھر کبھی ادھر بھاگ رہا تھا ۔ گارڈ نے اسے روکااور پوچھا:’’کہاں جانا ہے ؟‘‘
آدمی:’’ جناب ، جانا تو چار دن بعد ہے لیکن پریکٹس ابھی سے کر رہا ہوں ۔‘‘

(عظمیٰ فاروق۔ کراچی)

٭…٭…٭

٭کمپنی کے ڈائریکٹر نے نئے کلرک کو بلایا اور غصے سے کہا :’’ تم نے ملازمت کے پہلے دن ہی سے جھگڑے شروع کر دئیے ہیں ۔ مجھے پتاچلا ہے کہ تم نے منیجر صاحب کو کاہل ، نکما ، جاہل اور نالائق کہا ۔‘‘
’’ جی ہاں سر ۔‘‘ کلرک نے جواب دیا ۔
’’ تم نے انھیں سفارشی اور کام چور بھی کہا ؟‘‘
’’ یس سر ۔‘‘
’’ تم نے اس پر بس نہیں کی ، انھیں بد شکل خچر، ڈھینچو ڈھینچو کرنے والا اورکاٹھ کا الو بھی کہا؟‘‘
’’ نو سر ‘‘ کلرک نے کہا ،’’ میں یہ کہنا بھول گیا تھا ۔‘‘

(نوشیرواں ملک۔ لاہور)

٭…٭…٭

٭ شوہر نے چائے کے لیے چینی مانگی تو بیوی نے کہا :’’ آئوٹ آف اسٹاک ہے ۔‘‘
بچے نے اس کا مطلب پوچھا تو باپ نے کہا :’’ گھر یا دکان میں کوئی چیزنہ ہو تو اسے آئوٹ آف اسٹاک کہتے ہیں ۔‘‘
دوسرے دن باپ سے ملنے اس کے دوست آئے تو بچے نے کہا :’’ ڈیڈی آئوٹ آف اسٹاک ہیں۔‘‘

(سفینہ عبد الرحمن ۔واہ کینٹ)

٭…٭…٭

٭ دوا فیمی فٹ پاتھ پر سو رہے تھے ۔ ایک چور آیا اور ان کا تکیہ اٹھا کر لے گیا ۔
ایک افیمی نے کہا :’’ چور ہماراتکیہ لے گیا ہے ۔‘‘
دوسرا جمائی لے کر بولا :’’ جب رضائی لینے آئے گا تو پکڑ لیں گے ۔‘‘

(معین عالم ۔ راولپنڈی)

٭…٭…٭

ابو بکر:’’ کل میں نے تمھیں خواب میں دیکھا تھا ۔‘‘
بلال:’’ تم جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘
ابوبکر :’’ نہیں میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں ۔‘‘
بلال:’’ اچھا ، تو بتائو میںنے کس رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔‘‘
ابو بکر ( سوچتے ہوئے ):’’ معلوم نہیں ، کیوں کہ خواب بلیک اینڈ وائٹ تھا ۔‘‘

(علی حسن ۔ کھاریاں)

٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x