ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

دل پہ گزری ہے جو قیامت – بتول دسمبر ۲۰۲۱

آج پھر جمعرات، جمعہ کی درمیانی شب ہے۔ اماں جانی سے بچھڑے ساڑھے تین مہینے ہو گئے۔ اور مجھے تو ان سے بچھڑے شاید صدیاں ہی بیت گئیں۔ 2015 میں تعلیم کے حصول کے لیے یہاں آئی تھی۔ ’’مجھے تو لگتا تھا حفے‘‘ ( Hefei) راس آ گیا۔ MS مکمل ہؤا تو جہاں اس بات کی خوشی تھی کہ وقت پر ڈگری پوری ہو گئی وہاں یہ خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی کہ پاکستان جانا ہے۔
چار سال کے انتظار کے بعد وہ دن کیسے تھے، الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ سارا دن شاپنگ کرتے اور بیگوں کے وزن کا حساب کرتے گزر جاتا۔ پھر اللّٰہ تعالیٰ کی لکھی تقدیر نے ایسا بےبس کیا کہ پاکستان جانے کا پروگرام التوا کا شکار ہونے لگا۔ جون میں جانے کا ارادہ تھا مگر جولائی شروع ہونے تک کوئی پلان فائنل نہیں ہو رہا تھا۔ ایک وقت ایسا آیاکہ لگتا تھا جنوری سے پہلے جانا ممکن نہیں۔ یہاں پھر میری تقدیر نے ایسا بےبس کیا کہ 30 جولائی کو پاکستان گئی، خاندان کے تقریباً تمام افراد سے ملی مگر دل خون کے آنسو روتا رہا۔
وہ 11, 12 جولائی کی رات تھی۔ کچھ دن سے جو بےچینی تھی وہ اس دن عروج پر تھی۔ میں ساری رات جاگتی رہتی، سوتی تو ڈر کر اٹھ جاتی۔ جیسے میری چھٹی حس کہہ رہی ہو،کچھ برا ہونے والا ہے دیکھو سوتی نہ رہ جانا!
چین میں واٹس ایپ نہیں چلتامگر اس رات اللّٰہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے چلتا رہا۔ سوا تین بجے ایک میسج نظر سے گزرا:
’’معاذ صفدر کی والدہ، مسز صفدر قضائے الٰہی سے وفات پا گئیں‘‘۔
دل پتے کی طرح لرزنے لگا۔ کانپتے ہاتھوں سے پاکستان باجی کو فون کیا۔ کاش یہ خبر جھوٹی ہو ۔۔۔ کاش میری اماں کو کچھ نہ ہوا ہو…..مگر اللہ تعالیٰ کی لکھی تقدیر یہی تھی۔ ہم تو صرف انا للہ و انا الیہ راجعون ہی پڑھ سکتے تھے۔ وہ رات کیسے گزری…..پاکستان آنے کا پلان کیسے بنا….. مجھے کسی بات سے غرض نہیں رہی تھی۔ ایسے لگتا تھا کہ پاکستان جانا اب کوئی بے معنی کام ہے۔
خیر پاکستان گئے ، ایک مہینہ گزار کے واپس آ گئے۔ میرے اندر زندہ رہنے کی خواہش ختم ہو گئی۔ بڑی سے بڑی خوشی جیسے پی ایچ ڈی میں داخلہ ملنے پر بھی میرا دل اداس اور روتا ہی رہا۔ جب بھی کوئی دکھ کی بات سنتی تو لگتا یہ بھی کوئی دکھ ہے؟ سب سے بڑا دکھ تو مجھے ملا ہے۔ میں کبھی کوئی کام کر کے نہیں پچھتائی۔ استخارہ کی دعا پڑھتی ہوں پھر جو بھی ہو میرا دل اس پر مطمئن ہوتا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہونے کے باوجود پچھتا رہی تھی، کاش پچھلے سال چلی جاتی….. میرا یقین ہے کہ ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے مگر مجھے نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔ کچھ غم اللّٰہ سے تعلق مضبوط کرتے ہیں مگر کچھ غم ایسے ہوتے ہیں جن کے بعد مانگنے کو کچھ بچتا ہی نہیں۔ خیر وقت کی خوبی یہ ہے کہ گزرتا جاتا ہے۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ اماں کو کھونے کا غم تو کم نہیں ہو سکتا، ہاں مگر اماں سے ملاقات نہ ہونے میں کیا مصلحت تھی، یہ سمجھ میں آنے لگا ہے۔ اماں کی صحت کے ساتھ تو اتنی ہی زندگی تھی۔ آگے کی زندگی کتنی تکلیف دہ ہوتی، وہ مجھے دیکھ کے پہچان بھی نہ پاتیں، تو بھی تو مجھے ان کو اسی حالت میں چھوڑ کر آنا پڑتا۔ وہ الحمدللہ بقائمی ہوش و حواس اپنی نماز پڑھ کر ذکر اذکار کرتی ، کسی پر بوجھ بنے بغیر اس دنیا سے چلی گئیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی بہترین میزبانی کرے ،ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وہ میری تو اماں تھیں مگر ایک زمانے کی وہ آپا جی ام سلمیٰ تھیں۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا اپنے گھر میں ہفتہ وار درس ہوتے دیکھا۔

کوئی آتا یا نہ آتا ، اماں کیک ، نمک پارے بنا کے رکھتیں اور تیار ہو کر ڈرائنگ روم میں بیٹھ جاتیں۔ اکثر دوپہر میں سکول سے آتی تو اماں درس پر گئی ہوتیں۔ شام کو ملازمین کے بچے قرآن مجید پڑھنے آتے۔ مجھے لگتا اماں کے پاس میرے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ اس وقت تو وہ بچے برے لگ رہے ہوتے تھے۔مگر ان کی ٹیچر بننا بھی بہت مزے کا کام تھا۔ آہستہ آہستہ مجھے بھی بچوں کو قرآن مجید پڑھانے میں مزہ آنے لگا۔
اماں کی اچھی عادت تھی کہ وہ بہت بڑے دل کی تھیں۔ میں کوئی اچھا کام کرتی، کوئی اچھی ڈش بناتی تو دل کھول کر تعریف کرتیں۔ پڑھائی کے معاملے میں انہوں نے مجھے کبھی نہیں ڈانٹا تھا بلکہ کہتیں’’کیا کرنا ہے اتنا پڑھ کے۔ بس پاس ہو گئ نا، پڑھ پڑھ کے نظر کمزور کر لی ہے‘‘ ۔ہاں نماز کے معاملے میں سختی کرتیں۔ اماں اتنی مخلص تھیں کہ لوگ ان سے اپنی لڑائیاں بھی لڑوا لیتے۔ اماں خوشی خوشی ہر کسی کے حق کے لیے لڑتی رہتیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ جس کے لیے اماں لڑ رہی ہوتیں ، وقت آ نے پر وہی پیٹھ پھیر جاتا۔ ہم غصّہ کرتیں کہ اماں آپ اس کے لیے لڑتی رہیں،اس نے آ پ کو پوچھا بھی نہیں، تو فوراً کہتیں’’ چل ہو‘‘۔
کبھی کسی کے لیے بغض دل میں نہیں رکھتی تھیں۔ بار بار وہ حدیث دہراتیں کہ دل میں بغض رکھنے والے کی لیلتہ القدر میں بھی بخشش نہیں۔ کبھی حق بات کہنے سے نہیں گھبراتی تھیں۔ بہت سالوں سے جماعت اسلامی سے وابستہ تھیں۔ کسی بات سے اختلاف ہوتا تو فون کرکے اپنی سہیلیوں سے معاملہ ڈسکس کرتیں۔ بہت سی ریلیوں میں ان کے ساتھ شرکت کی۔ قاضی صاحب کے دور میں تو جماعت بہت فعال تھی۔ ان کے بعد جماعت کی پالیسیوں پر مجھے اعتراض ہوتا۔ میں آ کر اماں سے کہتی۔ کبھی جماعت کی بلاوجہ سائڈ نہیں لیتی تھیں۔کہتیں’’ اس بات پر تو میرا بھی دل تنگ ہے مگر تم نے ووٹ ،جماعت کو ہی دینا ہے‘‘ ایک دفعہ الیکشن ہوئے تو رزلٹ آنے سے پہلے کہا ’’ تم دعا کرو جماعت کو زیادہ سیٹیں ملیں‘‘ میں نے کہا ’’اچھا پھر میں ہر سیٹ کے بدلے ایک چرغہ کھاؤں گی‘‘ ڈیل ڈن ہو گئی۔ ساری رات رزلٹ دیکھتے رہے۔ جماعت کی سیٹیں 50 سے اوپر پہنچ گئی تھیں۔ کہنے لگیں اتنے چرغے کھا کے تو بیمار پڑ جاؤ گی۔ بس ایک چرغہ کھا لینا، ساتھ کوئی گفٹ لے لینا۔
اماں کو سالگرہ منانا پسند نہیں تھا۔ مگر میں چھوٹی تھی تو باجیاں میری سالگرہ کبھی کبھی مناتیں۔ اماں انہیں بھی منع کرتیں اور کیک کٹتے ہوئے باہر آ کر نہ بیٹھتیں۔ میں نے چھوٹے ہونے کے بہت فائدے اٹھائے۔ بہت سے کام جو بڑی بہنوں کو کرنے کی اجازت نہیں تھی، میں کر بھی لیتی اور کوئی کچھ نہ کہتا۔ بھائی کی شادی سے پہلے شاپنگ کرنی ہوتی، مگر بھائی کی مصروفیات کے باعث کام پڑے رہتے۔ اماں نے بابا سے مجھے گاڑی چلانے کی اجازت دلوائی۔ پھر میں اماں کو لے کر ہر بازار، ہر سڑک گھومی۔ فیصل آباد کی ٹریفک اور اماں کی لائیو کمنٹری۔ خوب شغل لگتے۔ اکثر میری جنگیں بھی اماں اور باجیاں ہی لڑتیں۔
MCS میں داخلہ بھی ایک ایڈونچرتھا۔ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی۔ اس دن بابا کسی بات پر غصے میں تھے۔ اماں اور باجی نے مورچے سنبھالے اور آخر بابا نے اجازت دے ہی دی۔ MCS ختم ہوتے ہوتے مجھے الھدیٰ میں دلچسپی ہو گئی۔ میں نے ایڈمشن لے لیا۔ اماں اتنی خوش تھیں کہ جسے میں نے کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔ مجھے اور بھی پیار کرتیں۔ میری پسند کے کھانے بناتیں۔ ایسی اماں تو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ اماں کو بہت شوق تھا کہ ان کی بیٹیاں دین کی تعلیم حاصل کریں۔ میں نے میڈم نائیلہ محمود کو اپنے گھر مدعو کیا۔ اپنے گھر میں الہدیٰ کی برانچ کا افتتاح کروایا۔ اس دن اماں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ کچھ سالوں سے گھر پر ہفتہ وار درس کا سلسلہ رکا ہؤا تھا۔ الہدیٰ کی برانچ کی شکل میں وہ دوبارہ شروع ہو گیا تھا۔ جو بعد میں میری اور دوسری ٹیچرز کی شادیوں کے باعث رک گیا۔ رمضان میں دورہ قرآن اماں کی زندگی میں مستقل ہر سال ہوتا رہا۔ اگر کوئی خاتون نہ آتی تو بھی اماں رمضان میں ختم قرآن مجید کرتیں۔ جب تندرست تھیں تو قرآن مجید ہاتھ میں پکڑ کر 20 تراویح پڑھتیں۔ زندگی کے آخری رمضان میں بھی دورہ قرآن مجید کیا۔ میں فون کرتی تو’’ بیٹا کلاس ہو رہی ہے‘‘ کہہ کے فون کاٹ دیتیں۔
وقت گزرتا رہا سب بہنوں اور بھائی کی شادیاں ہو گئیں۔ میں اور اماں اکیلے رہ گئے۔ اس دور میں نئی نئی جوانی کا خمار تھا۔ میں کچھ ویسے بھی

ضدی اور حساس تھی۔ اکثر اماں کے ساتھ بدتمیزی بھی کر دیتی بعد میں احساس ہوتا تو ساری رات روتی رہتی مگر اماں سے سوری شاید ہی کبھی کہا ہو۔ ایسے ہی ایک دن میں نے اماں کو بہت تنگ کیا۔ اماں غصے سے بولیں ’’ تمہاری شادی تو میں نے کسی دوسرے ملک کر دینی ہے‘‘ وہ تو کہہ کے بھول بھال گئیں مگر میں دن رات ڈرتی رہتی کہ کہیں سچ مچ کسی دوسرے ملک ہی نہ بھیج دیں مجھے۔
الہدیٰ ابھی مکمل بھی نہ ہؤا تھا کہ شادی ہو گئی۔ جب میرے ہاں پہلا بیٹا ہوا تو اماں میرے پاس ہی تھیں۔ روتی جاتیں اور کہتیں’’ اب پتا چلا ماں بننا کیا ہوتا ہے‘‘ ۔میری بڑی بہنوں کے بچے ہوئے تو میں ان کی خدمت کرتی تھی ۔ میں چونکہ چھوٹی تھی تو میرے سارے کام اماں کو کرنے پڑتے۔ مجھے اچھا نہیں لگتا تھا مگر اماں مجھے بستر سے اٹھنے نہیں دیتی تھیں۔ اماں کے پاس ہمیشہ کوکومو اور بسکٹ پڑے رہتے۔ بچے سلام کرتے تو نکال نکال کر دیتی رہتیں۔ بچے اماں سے پیسے لے کر کالونی کی دوکان کے چکر ہی لگاتے رہتے۔ ہم کچھ کہتیں تو ’’ یہ میرا اور بچوں کا معاملہ ہے‘‘ کہہ کے چپ کرا دیتیں۔کبھی میں بچوں کو ڈانٹتی تو بچے اماں کو بتا دیتے۔ فون کرکے مجھے کہتیں ’’ سارہ میرے بچیاں نوں ماریں نا‘‘۔
سارے نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کو ترجمے والے قرآن ہدیہ کیے۔ مجھے فون پر کہنے لگیں’’ بیٹا آپ کے تینوں بچوں کے قرآن پر بچوں کے نام اور نانو کی طرف سے ہدیہ لکھ دیا ہے۔ پتا نہیں اگلا رمضان المبارک دیکھ سکوں یا نہیں آپ کی امانت پڑی رہے گی‘‘۔
میری ڈگری پوری ہوئی تو اتنی خوش تھیں کہ پاکستان واپس آ جائے گی۔ خاندان ، دوست احباب کو فون کر کےبتاتیں۔ میرے کئی سارے جوڑے سلوا کے رکھے۔ بچوں کے لیے کپڑے ، چیز یں پتا نہیں کیا کیا تیاریاں کی تھیں ۔ میں نے فون پر بتایا ’’ اماں پی ایچ ڈی میں اپلائی کیا ہے دعا کریں‘‘ کہتیں’’ کیا کرنا ہے اور پڑھ کے۔ پہلے ہی کمزور سی ہو‘‘ میں نے کہا ’’ اماں آ پ کا دل نہیں کرتا آ پ کی بیٹی پی ایچ ڈی ڈاکٹر بنے‘‘کہتیں’’ تمہارا دل کرتا ہے؟ اچھا پھر میں دعا کروں گی اللّٰہ تعالیٰ تمہیں کامیاب کرے ‘‘ جب میرے بیٹے کو اماں کی وفات کی خبر ملی تو پھوٹ پھوٹ کے روتا جاتا اور کہتا جاتا ’’ اب ہمیں کوکو مو کون دے گا؟ میرا قرآن مجید مجھے کون پکڑائے گا ؟ میں ماما کی شکایت کس سے کروں گا؟ ‘‘
اماں میرے اور پاکستان میں رابطے کا ذریعہ تھیں۔ خاندان بلکہ کالونی کے ہر فرد کی بیماری، خوشی غمی کی ساری باتیں اماں سے ہی پتا چلتیں۔ میری سہیلیوں سے بھی رابطہ رکھتیں ۔ وہ چلی گئی ہیں تو پتا چلا ہے کہ وہ کون تھیں۔ ایک زمانہ ان کو جانتا تھا۔ ایک نسل ہے جس نے اماں کی دی ہوئی تعلیم سے استفادہ حاصل کیا اور اب اماں کے لیے صدقہ جاریہ بنی ہوئی ہے۔ کوئی بتاتا ہے کہ میرا گھر بننے میں مددکی۔ کوئی کہتی ہے مجھے قرآن مجید تحفہ میں دیا۔ غرض اماں کے لیے دعا کرنے والوں کی کمی نہیں۔ ان کے لیے صدقہِ جاریہ بھی بہت سے ہوں گے۔ مگر میں ان کے نقشِ قدم پر چلوں گی تو یقیناً ان کی روح کو بہت سکون ملے گا۔ اور جنت میں ہی سہی، ان سے ملاقات کا سبب تو بنے گاان شاء اللّٰہ۔
بے بسی بے بسی
میری ماں چل بسی
کیسی تقدیر ہے دل سمجھتا نہیں
جانے والی تھی میں اور وہ چل بسی
اب میں کس سے کہوں گی دعا کے لیے
میری ہر آس کی انتہا ہو چلی
کس سے شکوہ کروں کس سے مانگوں مدد
دل پہ گزری ہے جو وہ قیامت ہی تھی
میں نے توڑا ہے دل، دل سنبھلتا نہیں
ہوگئی ہے خطا ملنے نہ جا سکی
سب یہ کہتے ہیں کہ تم سے راضی تھیں وہ
دل کا اصرار ہے آخرت لٹ گئی
رب سے امید ہے معاف کر دے مجھے
ماں میری راہ تکتی جہاں سے گئی
کوئی دشمن بھی وقت ایسا دیکھے نہیں
میں یہاں وہ وہاں بن ملے چل بسی
بے بسی بے بسی! ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x