ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

خواب سراب – بتول جون ۲۰۲۲

میں میٹرک میں تھی جب مجھ سے بڑی بہن کی منگنی ہو گئی۔اس کے منگیتر کی آمد پہ وہ گھر میں چھپتی پھرتی لیکن ہونے والے جیجا جی کی نظریں اسے ڈھونڈ ہی لیتیں۔بہت مرتبہ میری منت سماجت بھی کرتے کہ بس پانچ منٹ کے لیے بات کروا دو۔ میں نے بہت مرتبہ ان سے آئس کریم کھائی، گفٹس لیے بلکہ یہ کہیں کہ انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔لیکن کمال بھائی بھی کمال کے انسان تھے۔ آپو کی بس ایک جھلک کےلیے ہر ہفتے گھنٹوں کا سفر کر کے آجاتے۔
خیر آپو جیسی خوبصورت اور خوب سیرت لڑکی کے لیے کم از کم اتنا پیار کرنے والا ساتھی تو بنتا تھا!
کمال بھائی اپنے گھر میں سب سے بڑے تھے۔انکے والد صاحب جب وہ میٹرک میں تھے تب وفات پاچکے تھے۔باپ کی وفات کے بعد انہوں نے دن رات ایک کرکے اپنے والد صاحب کے کاروبار کو سنبھالا اور اب وہ اپنے چھوٹے سے شہر کے ایک جانے پہچانے انسان تھے جن کی وجہ شہرت ان کی بہترین کاروباری ساکھ اور ایمانداری تھی۔
آپو کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔ میرے بابا نے اس کی شادی پہ کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
آپو شروع سے ہی بہت سگھڑ، کم گواور خوبصورت تھیں۔ میں خوبصورتی میں تو خیر آپو سے بھی دو ہاتھ آگے ہی تھی اور اس کی وجہ میری امی اور ننھیال کا حسن تھا لیکن گھرداری میں بالکل صفر۔ مجھے بننا سنورنا، گھومنا پھرنا، ہنسنا بولنا پسند تھا۔ میرے چنچل مزاج سے امی اکثر پریشان ہو جاتیں لیکن بابا ہمیشہ میرا ساتھ دیتے کہ خود ہی وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گی۔
آپو کی شادی کے بعد تو جیسے مجھے شوخی و شرارت کا اجازت نامہ مل گیا۔ایک بھائی تھا جو مجھ سے کافی چھوٹا تھا۔ان ہی دنوں میں میرا داخلہ کالج میں ہو گیا۔ اب تو مجھے اور بھی زیادہ پر لگ چکے تھے۔سہیلیاں ساری بڑے گھروں کی اور بگڑی ہوئیں۔۔۔ ان کے پسندیدہ کاموں میں فلمیں، لڑکے، ڈرامے، فیشن اور ہوٹلنگ تھی۔
ایسے ہی ایک مرتبہ ہم لوگوں نے آؤٹنگ کا پروگرام بنایا۔ ہمارے گروپ میں ایک لڑکی گاڑی میں آتی تھی جس کی گاڑی اس کے انتظار میں کالج سے باہر رکی رہتی کیونکہ اس کا گھر بہت دور تھا۔ ہم لوگ جب بھی آؤٹنگ کا پروگرام بناتے فضیلہ کی گاڑی پہ ہی نکلتے۔
اس دن ڈرائیور کو کالج میں ہی رکنے کا کہہ کے فضیلہ نے اپنے کزن قاسم کو بلوا لیا۔قاسم اپنی گاڑی کا دروازہ ہم پانچ لڑکیوں کے لیے کھول کے کھڑا ہو گیا۔
آپی کی شادی کے بعد جیسے میرے خیالات ایک دم سے بدل گئے تھے۔ مجھے بھی اب کوئی ایسا انسان چاہیے تھا کہ جو میرے انتظار میں گھنٹوں بیٹھا رہے۔۔۔ میری ایک جھلک دیکھنے کےلیے آنکھیں بچھائے۔۔۔ میری ایک ایک ادا پہ سو جان سے قربان ہو۔
قاسم کو دیکھتے ہی میرے دل نے اس کے حق میں فیصلہ دیدیا۔حالانکہ اس سے پہلے بھی آپو کی شادی پہ کتنے ہی کزنز نے مجھے متوجہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کوئی بھی دل کے دروازے پہ دستک دینے. میں کامیاب نہ ہوسکا تھا۔قاسم کی ڈریسنگ، اسکا ہیئر سٹائل، اس کا لگایا ہوا پرفیوم، اس کی کلائی کی ڈائمنڈ والی گھڑی۔
قاسم ہر لحاظ سے ایسا تھا کہ کسی بھی لڑکی کا خواب ہو سکتا تھا!
جب ہم لوگ گاڑی میں بیٹھنے لگے اور اس نے مجھے آتے دیکھا تو فرنٹ سیٹ کا دروازہ میرے لیے کھول دیا۔میں ایک بہت روایتی

گھرانے کی لڑکی تھی لیکن اپنی ہمت پہ آج تک حیران ہوتی ہوں کہ میں کیسے اس کے ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھ گئی تھی۔
اس دن ہم لوگوں نے بہت مزے کیے۔ پہلے لانگ ڈرائیو پہ گئے، پھر جوس وغیرہ پیا اور چھٹی کے وقت تک کالج واپس پہنچ گئے۔
اس شام کے بعد قاسم نے فضیلہ سے میرے گھر کا نمبر لے کے میرے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی۔میں نے آپو کو سب کچھ بتایا اور اپنی پسندیدگی بھی قاسم کے لیے بتائی۔آپو نے کہا کہ اگر وہ واقعی تمہارے ساتھ مخلص ہے تو اپنے گھر والوں کو بھیجے۔لیکن میری امی ابو نے ان کے گھر والوں سے ملنے کے بعد نہ صرف انکار کر دیا بلکہ میری شادی جلد از جلد کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔میں نے بہت کوشش کی کہ گھر والوں کو سمجھا سکوں کہ میں قاسم کو دل و جان سے پسند کرتی ہوں، اس کے علاوہ کسی اور کے ساتھ خوش نہیں رہ سکوں گی۔
پھر ایک دن بابا نے مجھے بہت پیار کیا اور سمجھایا کہ ہم تمہاری خوشی کے دشمن نہیں ہیں۔ ہم نے ان لوگوں کے بارے میں پتہ کروایا ہے۔چند سال پہلے تک وہ متوسط سے بھی کم تر طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ہمیں ان کے غریب ہونے پہ قطعاً اعتراض نہیں لیکن قاسم کا باپ ایک ایسے محکمے میں ہے جہاں رشوت کی ریل پیل ہے۔چند ہی سالوں میں ان لوگوں نے یہ سب کچھ حاصلِ کر لیا ہے۔جہاں تک بات قاسم کی ہے اس نے میٹرک بھی بڑی مشکل سے پاس کیا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ اور کوئی خوبی نہیں کہ وہ ایک رشوت خور باپ کا امیر بیٹا ہے۔
پھر سب گھر والوں نے مل کے بلکہ باندھ کے میرا رشتہ آپی کے دیور سے طے کر دیا۔وہ شریف سا لڑکا جو سارا دن کتابوں میں سر گھسائے بیٹھا رہتا تھا ۔نہ اس نے کبھی اچھی ڈریسنگ کی، نہ اچھا ہیئر سٹائل بنایا، نہ قیمتی پرفیوم لگائے، نہ اسے اچھی گفتگو کا کوئی سلیقہ تھا۔
مجھے اس کی دلہن بنا کے اس کے سنگ روانہ کر دیا گیا۔
میں آج اعتراف کرنا چاہتی ہوں کہ شادی کے ابتدائی سالوں میں، میں نے جمال کو بہت ٹف ٹائم دیا۔جو دن ہنسنے، کھیلنے، گنگنانے اور پیار محبت کے تھے وہ میں نے روتے دھوتے جھگڑتے گزار دیے۔آفرین ہے میرے شوہر پہ کہ اس نے کبھی مجھ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا۔آپو نے میری ہر کمی، کوتاہی پہ پردہ ڈالا ،بلکہ اپنے پاس سے ہمارے سسرالیوں کو تحفے تحائف دے کے کہتیں کہ یہ ہم دونوں کی طرف سے ہیں۔
میں میکے آئی ہوئی تھی۔ میری واپسی میں دودن رہ گئے تھے۔ اب میں نے کچھ کچھ اپنے دل کو اللہ کی رضا کے ساتھ باندھ لیا تھا،جمال کےلیے اپنے حسن وجمال کا بھی خیال رکھنا شروع کیا تھا جس کےلیے اب پارلر بھی جاتی رہتی تھی۔اس دن بھی گھر جانے سے پہلے ایک بار پارلر جانے کا ارادہ باندھا۔
جب میں پارلر پہنچی تو وہاں میری کالج کی دوست عالیہ پارلر پہ باقی ورکر لڑکیوں کے ساتھ کام کررہی تھی۔گو کہ ہم دونوں کے حالات اور شکلیں پہلے سے بہت مختلف تھیں لیکن ہم نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔عالیہ بہت کمزور اور خستہ حال لگ رہی تھی جبکہ میں پہلے سے زیادہ صحت مند اور خوبصورت نظر آرہی تھی۔
بہرحال مجھے اس ملاقات کی بہت خوشی ہوئی اور میں نےاسے دعوت دی کہ وہ آجائے میں اپنی امی کی طرف آئی ہوئی ہوں۔
اگلے دن وہ آئی تو میں اسی کے انتظار میں تھی۔ہم لوگ گلے ملے اور اسے لے کے میں اپنے کمرے میں چلی آئی۔عالیہ نے بتایا کہ جب تمہاری طرف رشتہ ہونے سے قاسم کو انکار ہو گیا تو اس نے فضیلہ سے میرا نمبر لیا اور رابطہ کرنے کے بعد کچھ دن ادھر ادھر کی باتیں کی پھر مجھے پروپوز کر دیا۔
میں تو پہلے ہی دن سے اسے دل وجان سے پسند کرنے لگی تھی۔ میرے گھر والوں نے میری شدید مخالفت کی لیکن میں شروع سے ہی اپنی من مانیاں کرنے والی لڑکی تھی۔آخر کار گھر والوں نے آئندہ ساری زندگی کےلیے قطع تعلقی کی شرط کے ساتھ میری شادی قاسم سے کر دی۔
بغیر کسی جہیز کے میرے سسرال والوں نے مجھے دل سے ایک دن بھی قبول نہیں کیا۔ شادی کے بعد صرف چند مہینے اچھے گزرے۔سسر کو غبن کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، پھر بعد میں جبری ریٹائرمنٹ دے کے گھر بھیج دیا گیا۔قاسم نہ صرف یہ کہ کوئی کام نہیں کرتا بلکہ نشہ بھی کرتا

ہے۔ آئے دن مار پیٹ اس کا معمول ہے۔میں آجکل یہاں پارلر پہ کام کرتی ہوں۔بس شاید کبھی دن بدل جائیں اس آس پہ زندہ ہوں۔
مجھے بہت دکھ ہؤا اس کی کہانی سن کے…..کاش کہ وہ اپنے ماں باپ کا کہا مان لیتی!اور اس سے زیادہ یہ احساس تھا کہ اللہ کا شکر کیسے ادا کروں کہ میں نے گھر والوں کی بات مان کے جمال سے شادی کے لیے سر جھکا دیا تھا۔
اب میں زیادہ لگن اور محبت سے اپنے گھر جانے کی تیاریاں کررہی تھی۔
ہمارے ماں باپ ہمارے لیے کبھی برا نہیں سوچتے۔جو کام بظاہر مناسب نہیں لگ رہے ہوتے ان میں بھی والدین کی موجودگی اور دعاؤں کی وجہ سے اللہ برکت ڈال دیتے ہیں۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x