ظہیر ملکحسین پری - نور اپریل ۲۰۲۱

حسین پری – نور اپریل ۲۰۲۱

سردیوں کی یخ بستہ رات میںزیبانہ جانے کن سوچوں میں گم تھی۔ سب سورہے تھے اور وہ اکیلی جاگ رہی تھی۔بسترپہ لیٹےلیٹے وہ سوچ رہی تھی کہ کاش میں کوئی حسین پری ہوتی۔ جودل چاہتاکرتی۔ کھاتی، پیتی، مزے اڑاتی اور سکول سے بھی جان چھوٹ جاتی ۔یہی کچھ سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادی میں کھو گئی۔
٭٭٭
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کوایک شان دار جگہ پر پایا۔ایک بہت حسین جنگل تھا جہاں طرح طرح کے پھول اور درخت تھے۔ ہرطرف ہریالی ہی ہریالی تھی۔رنگ برنگی تتلیاں اس کے ارد گرد منڈلانے لگیں۔ وہ اتنا خوش تھی جیسے وہ کوئی حسین پری ہو ۔
اچانک اسے خیال آیا کہ ہائے اگردیر ہو گئی تو امی ڈانٹیں گی سکول بھی جانا ہے اور ناشتہ بھی ابھی نہیںکیا۔ اس نےراستہ تلاش کرنے کے لیے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو سوائے خوب صورت جنگل اور وادیوں کے کچھ دکھائی نہ دیا۔اس نے سوچا کہ کیوں نا آج سکول سے چھٹی کر کے جنگل گھوما جائے۔پھر اسے خیال آیا کہ وہ تو سونے کے کپڑے پہنے ہوئے ہے ۔ یہ خیال آنا تھا کہ جھٹ اس کا لباس تبدیل ہو گیا ۔ اب وہ ایک خوب صورت فراک پہنے ہوئے تھی ۔ وہ خوشی خوشی جنگل میں ادھر اُدھر دوڑنے بھاگنے لگی ۔
تھوڑی دیر بعد وہ تھک گئی اور بھوک بھی لگ رہی تھی۔ اس نے سوچا کچھ پھل کھا لوں۔ اس کے سوچنے کی ہی دیر تھی طرح طرح کی کھانوں سے لدی ہوئی میز اس کے سامنے پڑی تھی ۔ اس نے خوب مزے سے کھانا کھایا اور پھر گھومنے نکلی لیکن اب اس سے مزید چلا نہیں جارہا تھا اس نے سوچا کاش میں اڑ سکتی۔ فوراً ہی اس کے پاوں زمین سے اوپر اٹھنے لگ گئے اور وہ فضا میں اڑنے لگی زیبا نے خوب مزے سے اڑ کر پورا جنگل گھوما طرح طرح کے جانور اور پرندے دیکھےخوب مزے کیے ۔
’’سات بج رہے ہیں زیبا کب اٹھو گی سکول بھی جانا ہے۔‘‘ اچانک اس کے کان میں امی کی آوازآئی ۔ اس آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ وہ اپنے بسترپر لیٹی ہے۔ خواب ٹوٹ گیا وہ حسین وادیوں سے نکل کرپھر اپنے کمرے میں آگئی تھی ۔
امی نے پھر آواز دی ’’زیبا بیٹا ،اٹھو ناشتہ کرو سکول سے دیر ہورہی ہے ٹیچر ڈانٹے گی اگر آج بھی دیر سے سکول گئی۔‘‘
ٹیچر کا نام سنتے ہی زیبا فوراً سے پہلے اٹھی۔ منہ ہاتھ دھو کر سکول یونیفارم پہناجلدی جلدی ناشتہ کیا اور اسکول کے لیے نکل گئی۔وہ آج پھر دیر سےاسکول پہنچی تھی پہلے توٹیچر نے کمرے کے سامنے کھڑا کیے رکھا پھر خوب ڈانٹنے کے بعد اندر بلا لیا۔ زیبا کا وہ دن بھی اُداس گزرا ۔
٭٭٭
پیر کادن تھا ۔زیبا صبح جلدی اُٹھ گئی تو باغ کی سیر کرنےچلی گئی ۔
’’ حیرت ہے ۔ پہلے تو یہ کبھی اتنی صبح نہیں جاگی اور نہ کبھی سیر کو گئی ہے۔‘‘زیبا کی امی سوچ رہی تھیں ۔
سیر کرتے کرتے وہ باغ کےاس حصے میںچلی گئی جہاں کبھی کبھار ہی کوئی آتا تھا۔ وہاں دور دور تک کوئی بندہ بشر نظر نہیں آرہا تھا ۔زیبا کو کچھ خوف سا محسوس ہوا ۔ وہ واپسی کا سوچ ہی رہی تھی کہ اس کےسامنے رنگ برنگی چمک دار روشنی نمودار ہوئی اورپھر اس روشنی میں سے ایک بے حد خوب صورت پری اس کی طرف بڑھنے لگی جیسے اُس رات والے خواب میں وہ خود بن گئی تھی۔ اس کے آنے سے فضا معطر ہو گئی تتلیاں منڈلانے لگ گئیں ۔
’’ آپ کون ہیں ؟ ‘‘زیبا نے جھٹ سے سوال کیا۔
’’ میں حسین پری ہوں‘‘ اس نے مسکرا کر کہا ۔
’’ہائے کاش کہ میں بھی ایک پری ہوتی ۔‘‘ زیبا نے حسرت سے کہا۔
’’ بیٹا آپ بھی پری ہو۔ اپنے ماں باپ کی پری ہو۔ اپنی بہن بھائیوں کی ہو۔وہ سب آپ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ یاد رکھو ، جب آپ سب سے ہنس کر ملو ، ان کو تنگ نہیں کرو ، ہنسی خوشی رہو ،پیار محبت بانٹو تو ہر کوئی تمہیں پری ہی سمجھے گا۔
اب دیکھو تم روزانہ دیر سے اٹھتی ہو تمھاری فجر کی نماز ضائع ہوجاتی ہے امی سے ڈانٹ پڑتی ہے ۔ اسکول سے دیر ہوتی ہےتو ٹیچر کی بھی ڈانٹ برداشت کرنی پڑتی ہے۔ آج تم جلدی اٹھ گئی ہو نا تو دیکھنا تمھاری امی تم سے بہت خوش ہوں گی اسی طرح جب تم روزانہ جلدی جاگو گی نماز پڑھو گی ماں باپ کی فرمانبرداری کرو گی توان کی نگاہ میںتم پری ہو گی ۔ اسی طرح اپنے بہن ، بھائیوں ، ہم جولیوں کے ساتھ مل جل کر رہو گی ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہو گی تووہ بھی تمھیں پری ہی سمجھیں گے ۔‘‘
زیبا بہت غور سے حسین پری کی باتیں سن رہی تھی۔
’’ آپ کا اخلاق اورلہجہ اچھا ہوگا تو آپ سب کی پسندیدہ بن جاؤ گی جس طرح ایک پری سب کو پیاری لگتی ہے ،اسی طرح آپ بھی سب کی لاڈلی اور پیاری بن جاو گی ۔’’چلو اب تمھارے ناشتے کا وقت ہوگیا ہے امی انتظار کررہی ہوں گی۔ ناشتہ کرو اور وقت سے پہلے سکول پہنچ جاو تاکہ تمھیںڈانٹ نہ پڑے ۔خدا حافظ‘‘
زیبا ایک دم اپنے خیالوں سے چونکی ۔ ’’ اوہ ! دیر ہو رہی ہے ۔‘‘ وہ جلدی جلدی گھرکی سمت قدم اٹھانے لگی ۔
زیبا اس دن باغ سے اپنے آپ کو پری کی طرح بنانے کا عزم لے کر نکلی اور کچھ ہی مہینوں میںاپنی اچھی عادتوں ، عمدہ اخلاق اور ہنس مکھ طبیعت کی وجہ سے نا صرف گھر والوں کے لیے بلکہ اسکول کی ساتھیوں کے لیے بھی پری بن گئی۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here