بتول مئی ۲۰۲۱تزکیہ قلب کیسے ہو؟ بتول مئی ۲۰۲۱

تزکیہ قلب کیسے ہو؟ بتول مئی ۲۰۲۱

انسان کا قلب ایک آئینے کی مانند ہے جو اگر صاف شفاف ہو تو اس میں تجلیات کا عکس نظر آنے لگتا ہے۔ چار امور ایسے ہیں جنہیں زندگی میں قوت ایمانی سے شامل کیا جائے تو یہ عکس حاصل ہونا ممکن ہے:
۱: گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے سب کو خالص نیت اور ثابت قدمی کے ساتھ مکمل طور پہ ترک کرنے کی ایسی ہی کوشش کی جائے جیسے جہاد اور ہجرت کے لیے کی جاتی ہے بالخصوص وہ گناہ جو جنسی شہوات یا منفی اخلاق، جذبات و خیالات سے متعلق ہوں۔
۲: استغفار کی کثرت ہو، یہ دل پر موجود گناہوں کی تاریکی اور سیاہی کو مٹاتا ہے۔ توبہ و انابت سے دل صیقل ہو جاتا ہے۔
۳: خاموشی اور تنہائی میں علمِ حقیقی کے لیے مطالعہ کرنا، غور وفکر کے ساتھ ذکر الٰہی میں مشغول رہنا، اپنا محاسبہ کرنا، اور صلہ رحمی کے ساتھ دیگر حقوق العباد ادا کرنا، اُن کی ضروریات کو احسان جتائے بغیر احسن طریقے سے پورا کرنا یہ اس آئینے کومزید چمک فراہم کرتا ہے۔
۴: آخری اور سب سے زیادہ ضروری امر ہے آیات قرآنی، صحیفہ کائنات و موجودات، نفسِ انسانی اور واقعات و حالات پر قرآن حکیم کی روشنی میں مسلسل تدبر و تفکر کرنا۔ اس سے اس آئینے کو صحیح زاویہ اور رخ عطا ہوتا ہے۔
یہ دھیان رہے کہ مومن کی تمام کوشش و عبادات اور حقوق اللہ کی ادائیگی کا مقصد الله پاک کی قربت، خوشنودی اور عرفان حاصل کرنا ہوتا ہے۔ کسی کمتر درجے میں بھی آپ کا مقصد کشف و الہام نہیں ہونا چاہیے۔ یہ اور بات ہے کہ ان چاروں امور کی بجا آوری سے اکثر روحانی وارداتوں کی کھڑکی کھل جاتی ہے۔ سچےخواب، کشف، الہام، سکون و سرشاری، دل کی نرمی، آنسوؤں کا جاری ہونا، سینہ کشادہ محسوس ہونا، چیزیں زیادہ روشن نظر آنا، دعاؤں کی حیرت انگیز قبولیت وغیرہ اس مرحلے پر حاصل ہونے لگتے ہیں۔ یہی وہ موقع ہے جب شیطان دو دھاری تلوار سے حملہ آور ہوتا ہے۔
پہلا وار یہ کہ اس کی جانب سے گناہ اور شہوات نفسانی کی ترغیب و دعوت کئی گنا زیادہ کر دی جاتی ہے تاکہ کسی طرح سے قرب الٰہی کے امیدوار کو واپس دھکیلا جاسکے۔
دوسرا کاری وار یہ کہ وہ قلب کے تزکیہ کرنے والے کو خود پسندی میں مبتلا کردے یعنی یہ کہ ’’تم کتنے نیک ہو، کتنے الله والے ہو گئے ہو، تم تو روحانیت رکھتے ہو‘‘۔
عام آدمی نیکی کی طرف راغب ہونے لگے تو شیطانی وسوسوں کے زیر اثر اسے اپنی معمولی نیکیاں بھی پہاڑ جیسی نظر آتی ہیں اور گناہ بہت ہلکے نظر آتے ہیں۔’’انسان خطا کا پتلا ہے‘‘ اور’’اللہ رحیم ہے‘‘ اس طرح کے خیالات کی تسلی سے ضمیر اور دل مطمئن رہتا ہے۔
اگر دین دار اس کاری وار میں آجائے تو وہ ان افکار کا حامل ہونے لگتا ہے کہ وہ کوئی ’’اعلیٰ حضرت‘‘ قسم کی شخصیت بن گیا ہے۔ تو آہستہ آہستہ اس کا اعتبار اپنے ان نفسی تجربات پر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ قرآن و شریعت کو ان تجربات و مشاہدات کی عینک سے دیکھنے لگتا ہے۔ یہ بیماری بڑھتی چلی جائے تو انسان نبوت یا مہدیت کا دعویٰ کرنے سے بھی نہیں چوکتا۔ شیطان غیرمحسوس انداز میں اپنے شیطانی اعمال کو روحانیت کے دھوکے میں اس شخص پر مسلط کرتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ نہ صرف وہ شخص خود برباد ہوتا ہے بلکہ اپنے اردگرد معتقدین کا جمگھٹا لگا کر انہیں بھی تباہ کردیتا ہے۔
اس سے بچنے کا واحد علاج یہ ہے کہ ہر فرد چاہے وہ کسی بھی درجے کا مومن ہو سختی سے قرآن حکیم کو حق و باطل میں فرق کرنے والی کسوٹی بنائے رکھے۔ جو خواب، کشف، الہام وغیرہ قرآن و سنت سے

متصادم نہ ہو اسے صرف اپنی ذات کے اعتبار سے قبول یا رد کرے، اس کا اطلاق کسی دوسرے پر نہ کرے اور اگر یہ تجربہ قرآن و سنت سے کسی بھی درجے میں ٹکراتا نظر آئے تو اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دے اور استغفار کرے۔ الله رب العزت سے مستقل راہ مستقیم کی توفیق مانگتا رہے۔ اور ہر مومن خواہ وہ عالم ہو یا طالب علم یہ جانے کہ شیطان کا سب سے مہلک وار احساس پارسائی دلانا اور بڑے گناہوں کو بھی ہلکے باور کرانا اور مسلسل نافرمانی کے باوجود نیک فطرت ہونے کی خود فریبی میں مبتلا رکھنا ہے۔ اور وہ یہ زعم حاوی رکھتا ہے کہ’’اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھو وہ سب معاف کردے گا‘‘ حالانکہ توبہ و استغفار اور اصلاحِ عمل کی شرط پہ رحم کی امید رکھنا قرینِ عقل ہے۔
ہر دور کے علماء و دانشور خیال کرتے تھے کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ لوگوں کے دل قرآن سے ویران ہوجائیں گے…. اپنے چھوٹے گناہوں پہ ساری عمر ہٹ دھرمی پہ جمے رہیں گے کہ ہم کوئی کبیرہ گناہ تو نہیں کر رہے اور پھر نتیجتاً کبیرہ گناہ بھی ان کے لیے آسان ہو جائیں گے۔ یہ یاد رہے کہ جانتے بوجھتے ہٹ دھرمی سے مستقل کیا جانے والا گناہ صغیرہ بھی گناہ کبیرہ ہی لکھا جائے گا۔ اور اگر ماضی کے گناہوں کی یاد سرور دیتی رہے گی اور اُن افراد، مقامات یا ماحول سے رابطے اور وابستگی قائم رہے گی تو بھی اصلاح ممکن نہیں۔
ایسے لوگوں کو نہ قرآن مجید پڑھنے سے کچھ چاشنی محسوس ہؤا کرے گی نہ لذت۔
جب اللہ تعالیٰ کے احکامات پہ عمل نہیں کریں گے تو یوں کہا کریں گے’’اللہ بڑا بخشنے والا، معاف کرنے والا ہے‘‘۔
اور جن کاموں سے منع کیا گیا ہے، جب وہ کریں گے توخود کو یہ تسلی دے لیا کریں گے کہ’’اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے فلاں تو ایسے ایسے گناہوں میں ملوث ہے‘‘ گویا وہ تقویٰ کے لیے کمتر پیمانہ سامنے رکھیں گے اوراس پہ راضی رہیں گے۔
سارے کام لالچ اور نفس پرستی پہ مبنی ہوں گے سچائی نام کی نہ ہوگی، نیکی بھی اس وقت کریں گے جب نفس اجازت دے گا۔ جب کوئی نیکی کر لیں گے تو دل چاہے گا اب نفس کی کوئی خواہش بھی پوری کرلیں۔ قرآن کی من مانی تاویلیں کریں گے۔ یہ تو یاد رہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زینتیں انسانوں کے لیے بنائی ہیں اور ان میں کشش رکھ دی ہے یہ بھول جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی کہا ہے کہ دنیا امتحان اور دھوکے کا سامان ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ دنیا کی زینتوں سے بہتر بھی ہے اور باقی رہنے والا بھی، ایسے لوگوں کو شیطان فریب میں مبتلا رکھتا ہے کہ تم جو کر رہے ہو بس وہ خوب اچھا ہے، دنیا میں تم سے بھی زیادہ گناہگار لوگ موجود ہیں۔ شیطان ان کے نفس پہ حاوی رہتا ہے اور تسلی دیتا ہے کہ اگر تم کج فہمی میں یا نفس پرستی میں مبتلا ہو تو اللہ نے ہی تجھے ایسا بنایا ہے۔
ایسے خود فریبی میں مبتلا لوگوں کا ساتھی شیطان ہے….. ان کے دل بھیڑیوں جیسے اور ان پہ کھال بھیڑ کی ہوتی ہے۔ دہری شخصیت کے حامل ایسے افراد پہ اللہ تعالیٰ شیطان مسلط کر دیتے ہیں پھر وہی اس کا سنگی ساتھی ہو جاتا ہے۔
اپنے کردار کی شخصی خوبیوں کا جائزہ لینے کے لیےعقل و دانش رکھنے والوں کے علم وعمل سے سیکھنا چاہیے۔
’’ اگر تمہیں علم نہ ہو تو اہل ذکر سے دریافت کر لو‘‘۔ (سورہ النحل اور سوہ الانبیا)
ان اہل ذکر کا کہنا ہے کہ جو شخص ان آٹھ صفات کے حامل لوگوں کی صحبت میں وقت گزارتا ہے اس میں صحبت کے اثر سے آٹھ طرح کی خصلتیں اجاگر ہو جاتی ہیں۔
۱: جو شخص مال دار لوگوں کو دوست بناتا ہے اس میں دنیا کی رغبت اور حرص پیدا ہو جاتی ہے
۲: جو شخص غریبوں میں رہنا پسند کرتا ہے اس میں شکر اور رضا کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔
۳: جو فرد صاحبِ اقتدار لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے اس میں غرور، سخت دلی اور حسد پیدا ہوجاتا ہے۔
۴: جس مرد کو عورتوں سے تعلقات کی ہوس ہوتی ہے اس سے جہالت دور نہیں ہوتی اور اسےشہوانی خیالات گھیرے رکھتے ہیں۔

جو عمر رسیدہ ہونے کے باوجود ناسمجھ لا ابالی عمر کے دور سے نہیں نکلتا اور اسی طرح کے غیر سنجیدہ افراد میں رہتا ہے اس سے لہو ولعب اور آوارہ مزاجی کی خصلت جدا نہیں ہوتی۔
۶: جو اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے وہ گناہوں پہ دلیر اور توبہ سے غافل رہتا ہے۔
۷: جو صالحین کی مجالس میں رہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا شوق بڑھ جاتا ہے۔
۸: جو دینی مجالس میں حاضر رہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے علم وعرفان کی دولت سے مالا مال کرتے ہیں۔
اب اللہ رب العزت نے ہر کسی کو اختیار کی آزادی دی ہے کہ وہ جو بھی بننا چاہے۔
نفس مطمئنہ کے لیے بھی انسان کی مجالس ہی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ نفس مطمئنہ کسے کہتے ہیں اور اس کی نشانیاں کیا ہیں؟
ایسا نفس جو نیکیاں کر کے مطمئن ہوتا ہے۔
جو گناہوں کو ترک کر کے مطمئن ہوتا ہے۔
جو اللہ کی نافرمانی، وقت کے ضیاع پر بےچین ہوتا ہے۔
جس کا دل رب کے ذکر سے شاد آباد ہوتا ہے۔
جو رب کی خاطر خود کو تھکا کر تسکین پاتا ہے۔
جو نیکی کے مواقع چھوٹ جانے پر، رب سے دور ہو جانے پر تڑپتا ہے۔
جو اپنی ہر کوشش اپنے رب کے نام، اپنی ہر خواہش اس کی رضا پر قربان کر کے جیتا ہے۔
جو ہر آزمائش، ہر دکھ، ہر پریشانی میں بھی مطمئن ہوتا ہے، ہر طرح کے حالات میں اپنے رب سے راضی ہوتا ہے، رب پر توکل کرتا ہے۔
اس یقین میں جیتا ہے کہ اس کی زندگی کا ہر فیصلہ اس کے رب کی طرف سے ہے، جس کے ہر فیصلے میں خیر و حکمت ہے، جس رب نے اسے محبت سے بنایا ہے، جو کبھی بندے پر ظلم نہیں کرتا۔ وہ ہر طرح کے حالات میں اس کے ساتھ ہے، وہی حالات کے بدلنے پر بھی قادر تو بندہ اس کی بھیجی گئی ہر آزمائش میں بھی راضی، ہر تکلیف، ہر دکھ میں راضی مطمئن۔
یہ راضی و مطمئن رہنے کی ادا، اس کے دل کو خوبصورت بنا دیتی ہے، یہ اطمینان اس کے دل میں دنیا کی جنت ہوتی ہے، جس کو باہر کی قید و بند، مشقتیں، تپتے صحرا، بھڑکتی آگ کے الاؤ بھی نہیں چھین پاتے۔ جس کے بارے میں ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا تھا ’’میں جہاں جاتا ہوں اپنی جنت ساتھ لے کر جاتا ہوں‘‘۔
پھر ایسے ہی پاکیزہ نفس کو موت کے وقت فرشتے مسکراتے ہوئے پکارتے ہیں’’اے پاک روح! اے مطمئن نفس! لوٹ چل اپنے رب کی طرف، اس حال میں کہ وہ تجھ سے راضی تو اس سے راضی‘‘
اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ ہمیں نفس مطمئنہ بنا دیں اور ایسے لوگوں میں شامل کریں جن کی زندگی پاکیزہ اور موت راضیہ مرضیہ کا حسن صوت لیے ہوئے ہو، آمین۔
٭ ٭ ٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here