ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

بتول میگزین

روداد ایک اجتماع کی
عالیہ حمید
ہم تحریکی سوچ والے کوئی لمحہ بھی ضائع نہیں ہونے دیتے، اسی لیے اجتماع ارکان کی منزل کے سفر میں ہماری امیر سفر نے ہمیں راستے میں لہسن جلدی چھیلنے، چھیل کر فریج میں محفوظ کرنے ،کڑوے کریلے لذیذ کیسے پکائیں، لہسن موٹا اگانے اور شرارتی بچوں کو قابو کرنے کے نسخے بتانے کے ساتھ چند قرآنی دعائیں بھی یاد کروائیں۔ ہم ہنستے مسکراتے اجتماع گاہ میں پہنچے تو تقریب حلف برداری جاری تھی جس نے سنجیدہ کر دیا پھر ڈرتے ڈرتے حمیرا بہن کا خطاب سنا کہ نہ جانے کون دھر لیا جائے….اور اس بار سب ہی دھر لیے گئے کہ تیس تیس سال حلف کو اٹھائے پھرتے ہیں اور نہ مطالعہ ہے نہ ڈسپلن۔
ڈاکٹر رخسانہ جبین کی’’ کتاب الایمان‘‘ کی رونمائی کے لیے رکھے ہوئے موتیا اور گلاب کے گجروں پر ہماری نظر بھی تھی کہ کیا پتہ کوئی ایک آدھ بچ جائے مگر نہیں….یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ گجرا ہوتا!
’’ایمان‘‘ پر پروگرام کرتے ہوئے طیبہ صاحبہ کو اگر ایک چھڑی بھی پکڑا دی جاتی تو یونہی لگتا کہ ہم سب ڈگری کالج میں ان سے تاریخ کا لیکچر پڑھ رہے ہیں اور سر ہلانے کی بھی گنجائش نہیں۔ ویسے پروگرام پر مغز تھا ۔’’مد و جزر اور اماوس کی رات‘‘ والی بات دل کو چھو گئی۔ ہمیں اپنا پرس ’جیب کتروں‘ سے بچانے کا کہہ رہی تھیں مگر اپنا پرس اسٹیج پر ہی بھول آئیں۔ اس کی وجہ ان کایہ اچھا گمان تھا کہ یہاں اماوس کی رات والا کوئی بھی نہیں یہاں تو چودھویں کے چاند سا ایمان رکھنے والے بیٹھے ہیں۔
آئی ٹی والوں کو شاید گرمی کچھ زیادہ ہی لگی ہوئی تھی ان کا پروجیکٹر مسلسل الٹی سلائیڈ پیش کر رہا تھا اور وہ اسے سیدھا کرنے کی کوشش میں لگی رہیں اور کامیابی نہیں ہو رہی تھی ۔لیکن ہمارے آئی ٹی والے بھی ہار ماننے کو نہیں دے رہے تھے ،بالآخر انہوں نے ثابت کر دیا کہہ ’’حل صرف جماعت اسلامی‘‘!
’’دستک مہم‘‘ کے بارے میں پوچھ گچھ ہو رہی تھی اور ہم اپنی ساتھی کو کان میں دھیرے دھیرے بتا رہے تھے کہ ہم نے دستک ایپ ابھی ڈاؤن لوڈ نہیں کی ہوئی، زاہدہ بہن کو کیا عذر پیش کریں گے ۔ تو کہیں قریب ہی تھا یہ بات آئی ٹی والوں کے قمر نے سنی ، اس نے سن کر ایک پرچی زاہدہ بہن کو تھما دی جس پر ایپ ڈاؤن لوڈ نہ کرنے والوں سے پوچھ گچھ کا کہا گیا تھا، اور اپنی سیٹ پر واپس آکر بس مسکراتی رہیں لیکن نگاہیں ہم سے نہ ملائیں۔ وہ تو بھلا ہو اناؤنسر کا جس نے وقت کی کمی کی پرچی بھی اسٹیج پر پہنچا دی اور یہ بات فلک پر عام ہونے سے بچ گئی۔
کھانا آنے سے پہلے گلابی گاجروں والا سلاد آیا ،ہم نے تو چن چن کر کھیرے ،ٹماٹراور بند گوبھی کی قاشیں ہی کھائیں اور نقلی گاجروں کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ وہ گاجر ہی کیا جو سرخ نہ ہو ۔ کھانا کھاتے ہوئے ہماری ساتھی نے ازراہِ مذاق ہم سے بنا ہڈی کے بوٹی(آلو ) مانگا اور جب ہم نے ڈونگے میں جھانکا تو وہاں بنا ہڈی کے بوٹی تو نہیں تھی مگر بنا بوٹی کےہڈی موجود تھی۔ لیکن پھر کچھ ہی دیر میں نیا سالن آگیا جس میں آلو گوشت سب تھا۔ ہم نے کھانے کی ڈیوٹی پر موجود ایک ساتھی سے گڑ والے چاول کیا مانگ لیے وہاں طعام کی ذمہ داری پر موجود ساتھیوں کی دوڑیں کچن کی طرف لگ گئیں کہ لکھاریوں سے بچو اور چاول مہیا کرو کہ ہمارے بارے میں کہیں کچھ الٹا سیدھا نہ لکھ دیں۔ ہم ناراض نگاہوں سے انہیں دیکھتے رہ گئے بس۔ اور پھر چاول آ بھی گئے۔ اندر ہی اندر ہم اپنے قلم کی طاقت کو محسوس کرتے ہوئے محظوظ ہو رہے تھے۔ ویسے پیارے ساتھیو ہم اتنے بھی خطرناک نہیں۔ ہمارا قلم خون نہیں پیتا بس روشنائی سے ہی پیاس بجھا لیتا ہے۔ اور اگر گڑ کے چاول وقت پر ملتے رہیں تو ….
خیر اب ذکر ہو جائے عید ملن پارٹی کی تیاریوں کا!
سب ساتھی سنہری تاروں والے دوپٹوں اور خوشنما کڑھائی کے لباس میں بہت پیارے لگ رہے تھے ۔عید ملن پارٹی کا سماں تھا ۔ لپ اسٹک، انگوٹھیاں، چوڑیاں اور نئے بیگز۔اس تبدیلی سے روح تروتازہ ہو گئی۔ ہم نے دو چار ساتھوں سے لپ اسٹک مانگی بھی مگر کسی کے بیگ سے برآمد نہ ہو سکی۔ کچھ ساتھیوں کو ہم نے پیشکش کی کہ ہم آئینہ بنتے ہیں آپ لپ اسٹک لگا لیں مگر سب کا ایک ہی جواب تھا کہ اس بار گھر سے لگا کر آئے ہیں۔ لگتا تھا کہ اس بار سب نے ہماری رپورٹنگ کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے پوری تیاری کی ہوئی تھی۔ لیکن قلم کی مار سے آج تک بچا ہے کوئی جو یہ بچ جاتے!
٭٭٭
ایک ہاتھ جو رہتا تھا دعا کی طرح …
شمیم لودھی ۔ فیصل آباد
عوام الناس کا آناجانا لگا رہتا تھا اُس ادارے میں ۔ مروجہ اور سرسری طریقے پر آمد ورفت جاری ہی تھی کہ یکا یک کچھ تبدیلیاں سب کی نظروں میں آگئیں، مثلاً طالبات کا مرد کلرک کے کمرے تک جانا ہوتا تو اُس کے دفتری میز تک پہنچ ہوتی مگر اب بیرونی کھڑکی کا صرف اتنا حصہ کٹوا کر راستہ رکھ دیا گیا جہاں طالبات کمرہ کلرک سے باہر رہ کر اپنے واجبات اور فنڈ جمع کراتیں ۔ ہوسٹل کی لڑکیاں براہ راست گیٹ پر آکر مطلوبہ اشیا چوکیدار سے کہہ کر بازار سےمنگوایا کرتیں ۔ انہیں روک دیا گیا اور حد بندی کی پابندی لگا دی گئی ۔مجھے یعنی شمیم لودھی کو پرنسپل صاحبہ کے کمرے میں طلب کیا جہاں سارا سٹاف نصف دائرے میں موجود تھا ۔ مجھے متعارف کروانا مقصود تھا ۔ انگلش کی لیکچرر گورڈن کالج پنڈی سے تعلیم یافتہ ، فزکس کی گولڈ میڈلسٹ، بیالوجی کی پنجاب یونیورسٹی لاہور کی سندیافتہ …..یوں سب شخصیات سے آگاہی کروائی اور ساتھ تاکید کی کہ اپنے والد صاحب کو مطمئن کردیں۔
مندرجہ بالا کالج میں سب تبدیلیاں جس بڑی شخصیت کی مرہون منت تھیں وہ تھے میرے پیارے ابا جان۔ یہ اُن کا بڑا پن تھا کہ اپنی مصروفیت اور پیشہ ورانہ ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کے تعلیمی اداروں کامشاہدہ کرنا اور اپنی تجاویز دینا۔یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری و ساری رہا ۔ ہوسٹل کی ہیڈ گرل نے کہا کہ شمیم لودھی تمہارے ابا جان اگر آرمی میں ہوتے تو آج ہم اُنہیںمیجر جنرل کے عہدے پر دیکھتے ۔ جس نے بھی ریلوے میں بھرتی کروایا صحیح نہ کیا ۔ ایسی ہی عظمتوں کے امین ٹھہرے ابو جی میرے۔
اک ہاتھ جو رہتا تھا دعا کی طرح سر پر
اک سایہ گھنیرا تھا جو اب اُٹھ گیا سر سے
تذکرہ ہے محمد شفیع خاں لودھی صاحب کا۔ اس تحریر کا محرک میرے شوہر کیپٹن فاروق لودھی بھی ٹھہرے ۔ میری امی کے بارے میں میری تحریر ’’ مطمئن چہرے کی خوشبوئیں ‘‘ پڑھ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ ابو کے بارے لکھا جائے ۔
پونے پانچ سال قبل 24رمضان المبارک کو عالم فنا سے عالم بقا کو سدھار ےجہاں سب نے جانا ہے باری باری۔ 98 سال کی طویل عمر پائی۔ اپنی دعائوں سے فیض یاب کرتے رہے ۔ ہمیشہ کہتے ہر خاندان میں ملٹری افسر ، ڈاکٹر ضرور ہوناچاہیے اپنی تینوں بیٹیوں کوبیٹوں کی مانند چائو لاڈ سے پالا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بنایا ۔ بیٹا ڈاکٹر بنا ۔ اپنی اولادوں سے پہلے اپنے چھوٹے بھائی کو بی اے آنرز کروایا اور اُسے یتیمی کا احساس تک نہ ہونے دیا ۔ اپنے والد یعنی ہمارے دادا کی شکل بھی یاد نہ تھی کم سنی میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا ۔ عقل مند والدہ نے لدھیانہ کے گائوں میں اپنی حویلی میں پرائمری سکول کے استاد کو ٹھہرالیا اور چچا کی یوں تعلیم کا بندو بست ہو گیا ۔ اپنے گائوں کے پہلے میٹریکولیٹ تھے اور چچا جان پہلے فرد جو بی اے آنرز کر سکے ۔ اسی طرح میں پہلی لڑکی اپنے پاکستانی گائوں کی جس نے بی ایس سی بی ایڈ کیا ۔
اپنی زندگی سادگی مگر پروقار طریقے سے گزاری ۔ بیڈ منٹن کے نامور کھلاڑی تھے اسّی سال تک کھیلتے رہے ۔ بعدازاں ہمیں کہتے آپ کھیلیں میں بیٹھ کر دیکھوں گا ۔ ان کی دعائوں کا ثمرہے کہ نواسہ ( میرا بیٹا ) کرنل کے عہدے تک پہنچا سفر نہ کر سکےتو نواسہ اپنے تمغے (Rank) لے کر ان کے کمرے میں ٹوبہ ٹیک سنگھ پہنچا اور ان کے ہاتھوں سے رینک لگوایا ۔ان کا بیٹا ڈاکٹر زاہد لودھی ، نواسہ ڈاکٹر یاسر ، نواسی ڈاکٹر ناعمہ اور پوتی ڈاکٹر کرن ہیں ۔ داماد ریٹائرڈ فلائٹ لیفٹیننٹ ائیر فورس ہیں ۔ انہیں مل کر اور دیکھ کر مسرت سے لبریز ہوتے ۔ کمال مہر بانی سے تینوں بیٹیوںکو عمرہ کروایا اور انکساری کا یہ عالم کہ ایک بار ملنے گئی تو کہنے لگے ،یہ بیٹی شمیم نے مجھے عمرہ کروایا ۔گمنام نیکیاںکرنے کے شائق ۔ خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار۔ بھائی کے کلینک پر جا کر خوش ہوتے ۔ فری شفیع ڈسپنسری چلاتے رہے ۔ہر کام کو اور اپنے قریبی ہر خاندانی فرد کو نکتہ کمال تک پہنچنے کی تلقین کرنا ان کا شیوہ زندگی تھا ۔ یہ اُن کا قول رہا کہ دنیا میں نا ممکن کا وجود نہیں ہر کام اور ہر منزل آسان اور ممکن ہوسکتی ہے جب عزم صمیم ہو ۔ جسمانی ورزش اور صحت کے اصولوںکی پاسداری کی ۔سستی اور کاہلی کو سخت نا پسند کرتے ۔
اپنی والدہ یعنی میری دادی جان کی خوب خدمت کی ۔ اُس دور میںزیتون کا تیل کمیاب تھا ۔ بمشکل چھوٹے چھوٹے ٹین نما ڈبوں میں دستیاب ہوتا ۔ وہ اہتمام سے لا کر اپنے ہاتھوں سے دادی کی مالش کرتے ۔ آخری عمر میںدادی جان کے ہاتھ پائوں اور بازو ٹانگیں نرم و ملائم تھیں ۔ باقاعدہ ڈاکٹر سے چیک اپ کرواتے ۔ سیب کے جوس کا اتنا اہتمام کہ ان کی وفات کے بعد کثیر مقدار میں سیب موجود تھے ۔ روح افزا اُن کے لیے گائوں میں لاتے ۔ ایک بار پتہ چلا کہ گائوںمیں دودھ کاڑھتی ( مٹی کی ہنڈیا جس میں اُپلوں کی دھیمی آنچ پر دودھ رکھا جاتا ہے ) کا کنارہ دادی کے ہاتھوں میںرہ گیا اور دودھ نیچے گر کر بہہ گیا ۔ ہمیں یعنی امی جان کو تاکید کی کہ اپنے گائوں میں جا کر اُن کی دل جوئی کریں۔ دودھ ، مکھن کی اہمیت اور خالص غذائوںکی قدر دانی اس قدر تھی ۔
دادی جان ہمارے پاس ملنے آئیں تو ایک عورت سے حج کی باتیں بغور سنا کرتیں۔ابو کو پتہ چلا تو فوراًاپنی والدہ کوحج پر بھیجنے کا پروگرام بنا ڈالا ۔ یوں تقریباً پہلی بیوہ حاجن حمیدہ بی بی بنی۔ خال خال کسی دیہات میں کوئی حج پر جاتا تو سب نواحی گائوں میںدھوم مچ جاتی ۔ بزرگوں کا احترام کرنا نمایاں وصف تھا ۔اپنے اُستاد جن کے لیے بھارت میں یعنی قیام پاکستان سے قبل اُن کی والدہ نے اپنا احاطہ پیش کیا تھا ہمیشہ انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا یوںوہ ہمارے بھی ابتدائی استاد رہے ۔ اردو قاعدہ اور تختی گاچنی کا بھرپور استعمال تھا یوں کہ لکڑی کی تختی پر گیلی ملتانی مٹی ( گاچن) لگا کر سر کنڈے کی قلم سے گیلی پر ہی خوش خطی کروائی جاتی ۔ ہمارے لیے تو خیر شفقت ہی تھی ورنہ ابا اور چچا جان کے یہ مشہور استاد نور محمد اپنی سختی اور جسمانی سزائوں کے لیے اس قدر شہرت کے حامل تھے کہ شاگرد بھاگ کھڑے ہوتے ،یوں اکثریت گائوں کی میٹرک نہ کر سکی۔ ابو، چچا کی استقامت کی داد دینا بنتی ہے جو ڈٹے رہے اور کامیابی سمیٹتے رہے یہ ابا جان کی تعلیم دوستی ہی تھی کہ ان کے پوتیاں ، نواسے اور نواسیاں آگے ان کی اولادیں یعنی اگلی نسلیں تعلیم کے میدان میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں ۔ صدقہ جاریہ ہیں ۔
داستاں گوئی میری نہ کام آسکی
اس قدر منفرد تھی کہانی تیری
ابا محترم کی قد آور شخصیت پہاڑی کے چراغ کی مانند تھی ۔ ایسے ہی انسان زمین کا نمک ہوتے ہیں ۔عمرہ میں مدینہ سےواپسی پر مسجد نبوی کے صحن میں ہاتھ پھیلائے بہت دیر تک کھڑے رہے۔ مجھے گماں گزرا کہیں گر ہی نہ جائیں کیونکہ دوران سعی صفا پر ویل چیئر ز ور سے پائوں پر لگ چکی تھی ۔ یہ آخری نذرانہ ِ عقیدت تک اپنے پیارے نبیؐ کے لیے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ایسے جذبات ہر امتی کے ہوتے ہیں دوبارہ حرمین شریفین میںآنا نصیب میں ہے یا نہیں ۔ ہم فیصل آباد سے ٹوبہ ملنے جاتے تواکثر مغرب کی اذان کے وقت خدا حافظ کہہ کر باہر دروازے سے نکلتے تو برہمی کا اظہار ہوتا کہ اس وقت نمازی مساجد کا رُخ کرتے ہیں اس لیے نمازیوں سے پہلے یا بعد میں گھروں سے آمد و رفت رکھیں ۔ بچپن سے نو نہال ، تعلیم و تربیت ، بچوں کی دنیا اور عمر کے ساتھ ساتھ ادبی رسائل زیر مطالعہ رکھے۔ آج یہ میرے قلم کی روانی اس کی عکاس ہے ۔ دعا ہے کہ علم کا ذوق و شوق انہیں جنت کا حق دار بنا گیا ہو، آمین۔
٭٭٭
آلو راجا
انعم عبدالکریم
آج تو بتول کے بابا نے حد کردی۔
کام سے واپس آئے تومجھے بڑی محبت بھرے لہجے میں کہنے لگے ۔
’’ارے بتول کی اماں ذرا سنو تو!‘‘
میرے کان ان کی میٹھی آواز پر یوں کھڑے ہوئے جیسے پہلی مرتبہ بلا رہے ہوں۔ میں نے بھی جلدی سے جواب دیا۔
’’ جی بتول کے بابا جان کہیے اس ناچیز کو کیوں یاد کر رہے تھے‘‘۔
انھوں نے پاس بیٹھنے کو کہا اور کہنے لگے’’ ایک بہت ہی بری خبر پتہ چلی ہے‘‘۔
میرا تجسس بڑھا، میں نے پوچھا’’ اللہ خیر کرے کیا ہؤا ؟‘‘
انھوں نے بڑے دکھ بھرے لہجے میں کہا ’’سنا ہے کہ اب پاکستان میں کوئی سبزی نہیں اگا کرے گی ‘‘۔
مجھے بہت حیرت ہوئی میں نے کہا ’’ایسے کیسے ہو سکتا ہے! پاکستان کی زمین تو بہت زرخیز ہے یہاں تو ہر قسم کی سبزی اگائی جاسکتی ہے‘‘۔
بتول کے بابا نے میری طرف بہت غور سے دیکھا اور کہا ’’ذرا بتائیے کون کون سی سبزی ؟‘‘
میں نے بھی بڑے جوش سے سب سبزیوں کے نام گنوادیے، بھنڈی بینگن کدو ساگ گاجر مولی توری پالک کریلے پھلیاں….میاں جی نے جب یہ سب سنا تو بولے۔
’’ ارے واہ !آپ کو تو سب سبزیوں کے نام پتہ ہیں…. صرف نام ہی پتہ ہیں کہ انھیں پکانا بھی آتا ہے؟‘‘
میں نے بڑے اتراتےہوے ہنس کر کہا’’ نہیں نہیں مجھے تو ان سب سبزیوں کو پکانا بھی آتا ہے، کریلے قیمہ پالک گوشت کدو دال بھنڈی گوشت تو میں بہت شاندار بناتی ہوں‘‘۔
میاں جی تو دوسرے ہی پل چارپائی سے اٹھے اور چیخ کر بولے’’تو ہم سب سے کس بات کا بدلہ لے رہی ہیں آپ؟‘‘
میں نے گھبرا کر کہا’’ کیا ہؤا…. میری کون سی بات آپ کو بری لگی؟‘‘
انھوں نے کہا’’ آپ کی بات نہیں….آپ کا روز کا کھانا پیٹ کو برا لگا۔ جب آپ کو سب سبزیوں کا پتہ ہے تو پھر آپ آلو صاحب کو اتنی اہمیت کیوں دیتی ہیں؟ کبھی آلو قیمہ کبھی آلو گوشت کبھی آلو انڈے کبھی آلو کی ٹکیاں کبھی دم آلو کبھی آلو والے چاول کبھی کھٹے آلو…. ہر چیز میں آلو…. باقی سبزیاں پاکستان میں پیدا نہیں ہورہی ہیں اسی لیے تو ہمارے گھر میں آلو مہاراج موجود رہتے ہیں‘‘۔
میں نے جب یہ سب سنا تو میں زور زور سے ہنسنے لگی اور بولی’’اب میں دوسری سبزیاں بھی ضرور بناؤں گی‘‘۔
میاں جی سکون سے بیٹھے اور کہنے لگے’’ چلو شکر ہے آپ کو عقل آگئی دیر سے سہی‘‘انھوں نے بھی قہقہہ لگایا اور کہنے لگے’’اچھا چلو جاؤ اب کھانا لے آؤ…. کیا پکایا ہے کھانے میں‘‘۔
میں نے شرما کر کہا’’ آپ آلو سے ایک سالن کا نام لینا بھول گئے…. آلو کی کچوریاں….وہی پکائی ہیں!‘‘ ٭
٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x