ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

بتول میگزین – بتول فروری ۲۰۲۲

باتوں سے خوشبو آئے
حناسہیل۔جدہ
کل جب صبح چہل قدمی کے لیے نکلی تو مختلف انواع و اقسام کے پھولوں کو دیکھ کر ایسے ہی دل میں ایک خیال آیا ۔ ہماری زندگی میں کچھ لوگ بالکل کیکٹس کی طرح ہوتے ہیں، ان کے رویہ میں ، عادتوں میں، باتوں میں کانٹے کانٹے ہوتے ہیں ، ہم ان کی طرف دیکھتے ہیں حیران کن شخصیت لیکن پاس جانے کی ہمت نہیں کرتے ، کیونکہ چاروں اطراف غرور اور انا کے کانٹے نکلے ہوئے ہوتے ہیں جو چبھنے کا خدشہ رہتا ہے ، ریگستانوں میں لگنے والا پودا کیکٹس اگر آپ نے دیکھا ہو تو آپ کو حیران کر دینے والا پودا ہے کہ کم پانی کے ساتھ یا بغیر پانی کے ریگستان میں اگتا ہے اور خشک کانٹوں سے بھرا ہؤا ہوتا ہے ۔
ہماری زندگی میں کچھ لوگ گلاب کے پھولوں کی طرح بھی آتے ہیں جن کی خوشبو اور خوبصورتی ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ ہم ان کے ساتھ میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اکثر ان میں آپ کے استاد ہوتے ہیں یا جو آپ کو زندگی کے بارے میں سکھا رہے ہوتے ہیں۔ مگر یہ گلاب جن ڈالیوں پہ مہکتے ہیں وہ کانٹوں بھری ہیں۔ ان کی زندگی میں یہ کانٹے وہ ہیں جو انھیں علم حاصل کرنے میں اور زندگی کی جدوجہد میں ملے ہیں، ان کے اندر یہ خوشبو اور خوبصورتی جو علم کی ہے وہ کتنے زخموں کے بعد حاصل ہوئی ہے ، کتنے کانٹے چبھے ہیں زندگی میں تو وہ علم کی خوشبو بانٹتے والے بنے ہیں ۔
زندگی میں کچھ لوگ بوگن ولا اور سدا بہار کے پھولوں کی طرح ہوتے ہیں ، دور سے اچھے لگتے ہیں اور پاس بھی جاؤ تو کوئی نقصان نہیں ہوتا ، لیکن اگر آپ کبھی کنیر کے پنک پھولوں کے پاس کھڑے ہوجائیں تو ان کی کڑواہٹ کی بو آپ کو محسوس ہوگی ۔اسی طرح جب کچھ لوگ بولیں گے تو کڑوا ہی بولیں گے چاہے آپ ان سے کتنی ہی میٹھی باتیں کرلیں اور مٹھائیاں کھلا دیں ان کی زبان کی کڑواہٹ کبھی ختم نہیں ہوتی ۔
زندگی میں کچھ لوگ تو بالکل موتیا، چنبیلی کی طرح خوشبو پھیلانے والے آتے ہیں۔ ان کے آنے سے زندگی میں سکون ،اطمینان آجاتاہے اور پاکیزگی کا احساس ہوتا ہے ، سفید پھولوں کی طرح سفید بے داغ محبت کرنے والے ، آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ زندگی میں کچھ لوگ بالکل رات کی رانی کی طرح ہوتے ہیں جیسے رات کی رانی پورے محلے میں ایک جگہ لگی ہوتی ہے مگر اس کی خوشبو سے پورا محلہ مہک رہا ہوتا ہے ۔
کبھی آنکھیں بند کرکے سوچیں کہ اتنی پیاری خوشبو جو پورے خاندان کو مہکا دے کونسی ہوگی!
جی ہاں ہمارے والدین کی خوشبو!
آنکھیں بند کرکے تصور کریں کہ آپ کی امی یا نانی،دادی سامنے ہیں ، اور بالکل اسی طرح ان کی مہک چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے ، پورا خاندان ان کے قیمتی مشوروں سے فائدہ اٹھارہا ہے۔ بس زندگی کو ایک خوبصورت گلدستہ کی طرح سجاتے چلے جائیں ، اور اپنی زندگی کو مہکتے پھولوں کی طرح بناتے رہیں –
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x