ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

الیکٹرونک شرار – بتول اکتوبر ۲۰۲۱

آج سکول سے واپسی پر گاڑی میں دوستوں کے ساتھ ’’ شرار ‘‘ کے موضوع پر بحث ہوگئی ۔
میرا خیال تھا کہ شرار دور سے نظر آنے والی، آسمان سے اترتی ہوئی سرخ روشنیوں کا نام ہے ، جنہیں ہم بچپن میں دیکھ کر ڈرتے تھے اور شام ہوتے ہی گھروں کو واپس لوٹ آتے تھے۔جب کہ ایک دوست کا خیال تھا کہ شرار لفظ شرارت سے نکلا ہے یعنی اشرار کا ہم معنی،یہ ایسی تمام غیر مرئی مخلوقات ہیں جو انسان کو اس کے اصل کام سے ہٹا کر کسی دوسرے کام میں لگا دیتی ہیں مگر اس کو نقصان نہیں پہنچاتیں۔ وہ کہنے لگی مثلاً آپ کسی ویرانے میں کوئی کام کر رہے ہیں جیسے کھیتی باڑی، ہل چلانا دوستوں کے ساتھ کھیلنے جانا،اس ویرانے سے گزر کے سبزی لینے جانا،کسی رشتہ دار سے ملنا، حتیٰ کہ رفع حاجت کے لیے جانا،یا دوستوں کے ساتھ سیر سپاٹے کے لیے اس علاقے میں آنا یا اپنے ہی گاؤں کی طرف پلٹ کر آنا،یہ شرار آپ کو راہ سے بھٹکا دیں گے۔
میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا، کیسے کریں گے وہ؟
کہنے لگی ابھی جیسے آپ ایک مرغی کو دیکھتے ہیں اور اس کے پیچھے بھاگتے ہیں لیکن وہ آپ کے ہاتھ نہیں آتی اور بھگا کر آپ کو دور کہیں لے جاتی ہے، اس کے بعد آپ ایک بکری کو دیکھتے ہیں آپ اس کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ بھی آپ کو بھٹکا کر کہیں دور لے جائے گی اور آپ کے ہاتھ نہیں آئے گی۔ آپ جس کام کے لیے آئے تھے وہ آپ کر نہیں سکیں گے اور ایسی چیزوں کے پیچھے پڑ کر اپنا وقت ضائع کرتے ہوئے واپس ہو لیں گے۔ یا آپ کو بھٹکا کر راستہ گم کر دیں گے۔ بونوں کی شکل میں نظر آئیں گے اور باتوں میں لگا لیں گے۔
میں نے ازراہِ مذاق ہنستے ہوئے کہا کہ کتنے اچھے ہیں وہ شرار ۔ اتنی اچھی شرارتیں کرتے ہیں کہیں مجھے نظر آئیں تو میں کچے دھاگے سے بندھی ان کے پیچھے بھاگتی دوڑتی پھروں۔ واہ کتنی خوبصورت زندگی ہوگی وہ…..ذرا یہ تو بتا دیجیے کہ وہ کہاں ملتے ہیں !!
مگر وہ میری شرارتی گفتگو کو نظر انداز کر کے بڑی سنجیدگی سے بتانے لگیں کہ ان کو ذاتی طور پر یہ تجربہ کئی بار ہوچکا ہے اور انھوں نے اپنے بزرگوں سے بھی شراروں کے قصے سنے ہیں۔ مثلاً ان کی دادی جان نے انہیں بتایا کہ وہ جب اپنے زمانے میں شام کے بعد رفع حاجت کے لیے باہر جایا کرتی تھیں تو بعض اوقات شرار ان کو بھٹکا دیتے تھے۔جیسے ایک بار شام کے وقت گھنٹیوں کی آوازیں آئیں، وہ اور ان کی ساتھی خواتین بکری کے بچے کا سوچ کر جب گھنٹیوں کی آوازوں کے پیچھے گئیں تو کافی دور نکل گئیں مگر کوئی چیز دکھائی نہیں دی پھر گہری شام کے سائے پھیلتے دیکھے تو واپس بھاگ کر گھروں کو آگئیں۔
ان کی یہ بات سن کرذہن میں ایک جھماکہ سا ہؤـااور مجھے بھی اپنے بزرگوں کی باتیں یاد آنے لگیں۔
دادی بتایا کرتی تھیں کہ ایک شام کو وہ دادا جی کے ساتھ پاس والے گاؤں سے واپس لوٹ رہی تھیں۔ کچی پگڈنڈیوں اور کھیتوں کا راستہ تھا،اندھیرا جب گہرا ہؤا تو کتوں کے بھونکنے اور ان کے پیچھے بھاگنے کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ وہ سخت خوفزدہ ہوگئیں ، دادا جان نے انگلی کے اشارے سے خاموش رہنے اور آیۃ الکرسی کا ورد کرنے کو کہا۔ وہ دونوں آیت الکرسی کا ورد کرتے کرتے آگے پیچھے دیکھے بغیر تیز چلنے لگے، بھونکنے اور پیچھے بھاگ کر آنے کی آوازیں مدھم ہوتی گئیں اور وہ اپنے گاؤں خیریت سے پہنچ گئے۔
ہمشیرہ نے بتایا تھا کہ ایک بار وہ گھر کی نوکرانی کے ساتھ شام کے

بعد سیر کرنے کے لیے کھیتوں کی طرف گئیں ، دور ایک کھیت میں کھڑے تناور درخت کی اوٹ سے انہیں سات آٹھ بچے سفید کپڑوں میں ملبوس باہر آتےدکھائی دیے۔ وہ دونوں سخت خوفزدہ ہوگئیں اور سوچا کہ شام کے بعد دور کھیتوں میں بچوں کا اس وقت کیا کام ہو سکتا ہے۔انہیں بونے سمجھ کر وہ خوفزدہ ہوئیں اور آیت الکرسی کا ورد کرتے ہوئے گاؤں کی طرف بھاگ کر واپس لوٹ آئیں۔ہمارے گاؤں کے ایک بزرگ کے رشتہ دار ہزاری میں رہتے تھے، اکثر پہاڑی علاقوں سے شام کو جب لوٹ کے آتے تھے یہ شرار ان کو باتوں میں لگا کر بھٹکا کر گم کردیا کرتے تھے۔
بہت سے قصے ذہن کے نہاں خانوں سے نکل نکل کر ذہن میں لہرانے لگے ۔ طوالت کے اندیشے سے بیان نہیں کر پاؤں گی۔ آپ مجھ سے عدم اتفاق یا ان قصوں کو بزرگوں کا وہم بھی خیال کر سکتے ہیں ۔ لیکن میں نے اپنی دوست کی شراروں کی دلیل سے متفق ہوتے ہوئے اس کو کہا کہ پرانے وقتوں کے یہ شرار مجھے آج کے شراروں سے کہیں زیادہ معصوم دکھائی دیتے ہیں جو لوگوں کو بھٹکانے کے لیے ویرانوں اور اندھیروں کا انتظار کیا کرتے تھے، آیت الکرسی اور دیگر اذکار سن کر راہ سے ہٹ بھی جایا کرتے تھے لیکن آبادی،روشنی اور گھروں میں گھس بیٹھنے کی جسارت انہوں نے کبھی نہیں کی ۔
مگر آج کے شرار ہمارے گھروں میں گھس کر بیٹھ گئے ہیں ……جی ہاں، الیکٹرونک شرار!
یہ شرار وہ سب ٹیکنالوجی ہے جس نے موبائل اور انٹرنیٹ کی صورت میں ہمیں اپنے پیچھے لگا رکھا ہے،ہمیں اس طرح ہمہ وقت مشغول کررکھا ہے کہ یہ ہماری تمام سماجی زندگی کو مفلوج کر چکے ہیں،بہت سی صورتوں میں ہمیں حقیقی راستے سے بھٹکا چکے ہیں،کچھ بھی کرنے کا ارادہ کریں مگر رستے میں یہ آجاتے ہیں،نشہ بن کر ہماری رگوں میں دوڑ رہے ہیں،دیمک بن کر سوشل زندگی کو چاٹ چکے ہیں، اور ایسا کرنے کے لیے وہ دن دیہاڑے ،سرعام دندناتے پھرتے ہیں اور انہیں بھگانے کے لیے ہمیں کوئی تعویذ بھی نہیں مل رہا۔شاید اس کا تعویذ مضبوط قوت ارادی ہے جو ہر ایک کے لیے حاصل کرنا محال ہے۔
سب دوستیں الیکٹرونک شرار کے اس تبصرے پر مسکرانے لگیں ۔ میرا سٹاپ آچکا تھا ،میں ان سے رخصت لے کر گاڑی سے اتری اور اپنے گھر میں داخل ہوگئی۔
کمرے میں داخل ہوئی۔ بیٹے کو آج سکول سے چھٹی تھی وہ بستر پر اوندھے منہ لیٹا موبائل پر گیم کھیل رہا تھا، آہٹ سن کر اس نے نگاہیں اٹھا کر میری طرف دیکھا اور پھر موبائل میں مصروف ہو گیا۔
’’الیکٹرونک شرار‘‘ میرے منہ سے سر گوشی نکلی۔
٭ ٭ ٭

 

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x