آسیہ عمراناب دو ہی راستے ہیں! حالیہ سیلابوں کی تباہی ہمیں کیا بتا...

اب دو ہی راستے ہیں! حالیہ سیلابوں کی تباہی ہمیں کیا بتا رہی ہے، حقائق تلخ ہیں اور سبق بالکل واضح – بتول اکتوبر۲۰۲۲

جاگ اے میرے ہمسائے خوابوں کے تسلسل سے
دیوار سے آنگن میں اب دھوپ اتر آئی
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
ٹیلے کے نیچے دبی زچہ، کیچڑ آلود زندگی کی اولین سانسیں لیتا نوزائیدہ وجود ، ہر سورقص کرتی موت اور پانی کا وسیع قبرستان ،ہر سوبکھرے درد ، اشکبار ویران آنکھیں، بے بسی،ویرانگی اورحسرتیں، دردناک ہر سو بدلتےمناظر ،زندہ لاشیں ، ایک ملبہ بنے گھر میں دبی لاش کے دو اٹھے ہاتھ، متاثرین سیلاب کی نمائندگی کرتے سراپا سوال ہیں کہ کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں ؟
اس وقت موجود دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں اس وقت کا المیہ صرف ہمارا ہی نہیں دنیا کووحشت ناک مستقبل کی بھی پیشگی جھلک دکھا رہا ہے۔ جنگلات جنھیں دنیا کے پھیپھڑے کہا جاتا تھا کٹتے جا رہے ہیں ۔ دنیا کا سب سے بڑا جنگل جنوبی امریکا میں ایمیزون طاس پر محیط برساتی جنگل ہے۔رقبہ 2510000 مربع میل، یعنی تقریباً پورے آسٹریلیا کے برابر، ہے نہ صرف اس کی بلکہ دنیا بھر کے جنگلات کی بے روک ٹوک مستقل کٹائی جاری ہے ۔
سرمایہ دارانہ نفسیات جنگلات کی کٹائی کر تے ،ذاتی مفادات کی خاطر پوری دنیا کو جس ناقابل تلافی نقصان کی طرف دھکیل رہی ہے اس کا ازالہ شاید ہی ممکن ہو ۔دنیا کے پھیپھڑے دن بدن مزید مفلوج ہو رہے ہیں ۔نتائج ڈھکے چھپے نہیں۔ماہرین جو گزشتہ کئی عشروں سے ماحولیاتی تبدیلی کا شور مچا تےخطرات سے آگاہ کر رہے تھے ان کی باتیں تلخ حقیقت کی صورت سب کے سامنے ہیں۔
قرآن کریم نے اس صورتحال کی وجہ کچھ اس طرح بیان فرمائی ہے:
’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے تاکہ مزا چکھائے اُن کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں‘‘۔
گویا یہ حالات تنبیہہ ہیں کہ ہم اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں ۔
حالات یہی رہے تو خبر یہ بھی ہے کہ آئندہ سالوں میں لاکھوں ، کروڑوں لوگ اس تبدیلی کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔وہ علاقے جہاں کبھی بارش نہیں ہوتی تھی آج لگاتار بارشوں نے ریکارڈ توڑ ڈالا ہے۔ جہاں دھوپ تھی وہاں برف باری کے مناظر ہیں۔سمندر کی سطح خطرناک حد تک بڑھتی چلی جا رہی ہے جس سے کئی ملک ،شہر ، بڑے بڑے جزیرے مکمل طور پر ختم ہو جانے کے خطرے سے دوچار ہیں ۔
دنیا نے گزشتہ سالوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے نشے میں ماحول کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اورموسموں سے سے چھیڑ چھاڑ کی ہے ۔پانی کے بہاؤ کے راستے میں جو رکاوٹیں کھڑی ہیں اس کے نقصانات اندازے سے کہیں زیادہ ہیں ۔موسموں کے ساتھ کھیل کا سلسلہ تاحال جاری ہے ۔یاد رہےبارشوں کا قدرتی سائیکل دراصل اس جگہ کی ضرورت کو پورا کرتا ہے ۔ اس پانی کا سب سے پہلا استعمال یہ ہے کہ وہ جس سرزمین پر برسے اس میں جذب ہو ۔تاکہ زمین میں پانی کی مناسب سطح برقرار رہے ۔ شہری آبادیوں میں یہ استعمال مفقود ہو گیا ہے پانی آبادی اور پکی سڑکوں اور کئی طرح کی رکاوٹوں کی بنا پر زمین کے اندر جذب نہیں ہوپاتا۔ بلکہ اسے نکال کر سمندر کی نظر کر دیا جاتا ہے ۔گویا اللہ نے پانی کی صورت جو نعمت بھیجی ہم نے خود اپنے اعمال کے سبب اسے ضائع کرنے میں لگے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے پانی کی عدم دستیابی کو روتے ہیں ۔
پانی کا دوسرا استعمال یہ ہے کہ اس کے بہاؤ کے راستوں کو کھلا رکھا جائے جن جن جگہوں پر جائے وہاں محفوظ کرنے اور اس پانی سے فائدہ اٹھانے کا بندوبست ہو ۔بہاؤ کا یہ قدرتی نظام صرف جنگلات کو تناور ہی نہیں کرتا بلکہ آکسیجن کا ذریعہ بنتا ہے ۔ اسی بہاؤ سے بجلی کشید کرنا ،ڈیم کے ذریعے محفوظ کر نا بھی کئی طریقوں میں سے ہے۔
دریاؤں کی قریبی زمین چونکہ زرخیز ہوتی ہے اس لیے لوگ آبادیاں بسا لیتے ہیں جس سےنہ صرف دریا کے بہاؤ میں رکاوٹ آکر تباہی پھیلتی ہے بلکہ وسائل بھی برباد ہوتے ہیں ۔سیلاب کا مسئلہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے جسے خاص منصوبہ بندی سے تباہی کے بجائے فائدے مند بنایا جا سکتا ہے ۔
دنیا میں جنگلات درجہ حرارت کو مناسب رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔اس وقت کی ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی سائیکل کو تبدیل کرنے ،نقصان پہنچانے میں جتنا حصہ ترقی یافتہ ممالک کا ہے ترقی پذیر ممالک کا حصہ تو اس کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔جنگ اور قتل عام کے طریقوں میں بھی اسی موسمی تبدیلی کا استعمال جدید جنگی ہتھیار ہے۔ اب دیگر ذرائع کی طرح عالمی سطح پر بادل تک چرائے جاتے ہیں اور معمولی بارشوں کو غیر معمولی بارشوں میں بدلا جاتا ہے۔
دنیا سے قطع نظر اس وقت صرف پاکستان کی بات کریں تو بغیر تاخیر کرنے کے کئی کام ہیں ۔
ث •سب سے پہلے تو اجتماعی سطح پہ یہ احساس ضروری ہے کہ تباہی ہمارے اعمال ہماری کوتاہیوں کے سبب سے ہے۔ استغفار اور رجوع الی اللہ لازم ہے ۔ سالہا سال زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے ، سود ی لین دین ، حرام خوری ، دھوکہ دہی،ہر ہر جگہ پر قومی خزانے کو لوٹنے والے ،نقب لگانے والے ہم یا ہمارے لائے لوگ ہی ہیں۔ایسے میں سچے دل سے قولی اور عملی توبہ لازم ہے ۔
ث حالیہ سیلابی الارم پیغام دیتا ہے نہ جاگے تو شاید ہی تلافی ممکن ہو ،زندہ قومیں کرائسز سے ہمیشہ opportunity نکال لیا کرتی ہیں ۔اس وقت پاکستان میں موجود ڈیڑھ سو کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم ضرور ت سے انتہائی کم ہیں ۔ جبکہ ایک اندازے کے مطابق 7253 کے قریب چھوٹے بڑے گلیشیر ہیں ۔ انھیں خاص وقت میں تو پگھلنا ہی پگھلنا ہے لیکن بین الاقوامی طور پر درجہ حرارت بڑھنے سے ان کے پگھلنے کی شرع بھی بڑھ رہی ہے۔حکومتی سطح پر فوری طور پر ڈیموں کا جال بچھانا ،ماہرین کی معاونت کے ساتھ یہ کام فوج کے سپرد کر دینا چاہیے کہ یہ بھی اب ملک کے دفاع کا معاملہ ہے۔ سرحدوں کی حدود میں رہنے والی جانیں سلامت ہوں گی تو دفاع بھی ہوگا۔
ث •شہروں میں جگہ جگہ بارشوں کے پانی کو زیر زمین ٹینکوں اور کنوئوں میں جمع کر کے زمین میں پانی کی سطح کو بر قرار رکھنے اور استعمال کے لیے محفوظ کرنے کا کام چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس کی صورت پرائیویٹ کمپنیوں کے سپرد کیے جا سکتے ہیں۔نچلے علاقوں میں مچھلی فارمنگ کو منظم صورت دی جا سکتی ہے ۔
میری یہ فیلڈ نہیں یقیناً ماہرین کے پاس دماغ بھی ہے اور کئی طرح کے منصوبے بھی جن کو بہتر حکمت عملی ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔کم وقت کم سرمائے میں بغیر مانگ تانگ اپنے بل بوتے پر خودداری کے ساتھ کیا کیا جاسکتا ہے ارباب حل و عقد کے سوچنےکا کام ہے ۔
ارباب حکومت کرنے کو تیار نہیں تو انھیں نکال باہر کر کے ایسے لوگوں کو لانا جو ایمانداری سے کام کے اہل ہوں ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے ۔دنیا میں ہر جگہ لوگوں کو ،کسی جماعت کو ووٹ ان کے مفید ہونے ،اہل ہونےکی بنیاد پر ملتا ہے۔جو معاشرے میں جتنی بہتری لاتا ہے لوگ اختیارات اس کے سپرد کرتے ہیں۔ پاکستان میں ووٹ شخصیت پرستی کو جاتا ہے ۔اس مزاج کے بدلنے کی شاید ہی کوئی ضرورت سمجھی جاتی ہو مگر اب سمجھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
چھوٹے بڑے کئی طرح کے کم خرچ منصوبوں پر کام علاقوں کی سطح پر ایماندار لوگوں ،مخیر حضرات کے ساتھ مل کر بھی ہو سکتا ہے۔عام آدمی کی پہنچ سے دور بجلی اسی پانی کے استعمال سے مفت مہیا کی جا سکتی ہے۔یاد رہے قدرتی نعمتوں کا مناسب استعمال نہ ہو تو قانون قدرت میں وبال بنتا ہے۔شاندار پلاننگ ،ایماندار قیادت ،پر عزم یوتھ ، اللہ کی معاونت سے سب بدلنے کا سامان کر سکتی ہے۔مزید وسائل کے انتظار سےزیادہ ہمت ،قدم بڑھانے ،موجودہ وسائل سے مناسب کام لینے ، مزیدوسائل کی طرف پیش رفت سے ہے ۔ہم صرف ایک سال کے لیے اپنے پیٹ سے اوپر دیکھ لیں تو معاشرے میں زندگی امنڈ نے کا سامان کیا جا سکتا ہے۔اس قوم میں جذبوں کی کمی بالکل نہیں۔ صلاحیت کی کمی عزم مصمم اورمحنت سے دور ہو سکتی ہے۔
ث ایک اور اہم کام جنگلات کی حفاظت اور درخت لگانا ہے مناسب پلاننگ سے یہ کام انتہائی آسان ہے ۔
ث •ایک انتہائی اہم کام ماہرین کے ساتھ مل کر رہائشی بستیوں کی موثر پلاننگ ہے۔کوئی مکان یا بستی رہائشی علاقے دریا کے بہاؤ کے راستے میں یا آس پاس نہیں بننے چاہیں ۔ اگر مخصوص لوگوں کو بسانے کی ضرورت ہو تو اس کا حل بھی نکالا جا سکتا ہے۔
ث پانی کے بہاؤ کے راستوں ،ندی نالوں کی صفائی کا مستقل انتظام باقاعدہ کرنے کا کام ہے۔ شہروں میں ہر جگہ کچروں کے ڈھیر، بند نالیاں ایک مستقل نظام کی محتاج ہیں ۔ کسی کو نہیں معلوم کچرا کہاں جمع کرنا اور اس کے مناسب استعمال کسے کرنا اور اس کے بعد کیسے ختم کرنا ہے ۔ہر جگہ نہروں ،ندی نالوں میں کچروں کے جو ٹرک الٹے نظر آتے ہیں۔ بہت بڑی تباہی کی وجہ ہیں۔ جس کی بنا پرمعمولی سی بارش بھی سب کچھ درہم برہم کرکے رکھ دیتی ہیں ۔
کرنے کے مزید کام،کام کا آغاز کرنے سے نظر آنے لگیں گے۔آئندہ نسلیں آپ کے ہاتھوں پر لہو کے بجائے زندگی تلاش کریں گی۔قوم کو ان مربین کی تلاش ہے جو ان کی تربیت کریں، انھیں سنواریں ، منظم کریں اور ترقی کے راستے پر لگا دیں ۔
اب دو ہی راستے ہیں:قومی شعوریا غفلت کی موت…انتخاب صرف اور صرف ہمارا اپنا ہے۔
٭ ٭ ٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here