ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ابتدا تیرے نام سے – بتول مئی ۲۰۲۳

قارئین کرام سلام مسنون!
عیدالفطر ملک کے لیے امید افزا خبروں کے انتظار اور بری خبروں کے دھڑکے میں گزری۔ سیاسی منظرنامے پر ہنوز زبردست ڈیڈ لاک چھایا ہؤا ہے۔ انتخابات کروانے کے فیصلے پر عمل درآمد کی کوئی صورت فی الحال نظر نہیں آرہی۔بلکہ اعلیٰ عدلیہ بھی اپنے اس فیصلے کی پیروی کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔حالانکہ جس جرأتِ رندانہ سے کام لے کر یہ فیصلہ کیا گیا تھا، اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایک بار پھر اسی نعرہِ مستانہ کی ضرورت تھی۔اختیارات کے مناصب پر مامور افراد کے فیصلے قوموں کی تقدیر بنا یا بگاڑ جاتے ہیں۔ ایک بزدل فیصلہ قوم پرلامتناہی بدقسمتی مسلط کردیتا ہے تووہیں بے خوفی کے ساتھ کیا گیاایک جرأت مندانہ اقدام یکایک روشن مستقبل کی نوید بن جایا کرتا ہے۔سقوطِ مشرقی پاکستان کی تاریخ ان مثالوں سے بھری پڑی ہےجب سیاسی وعسکری قیادت اور عدلیہ کی سطح پرایک بھی مخلصانہ ، باضمیر، بے خوف قدم لے لیا جاتا توتاریخ کا دھارا پلٹ سکتا تھا۔ قومی مفاد کے لیے صحیح بات پرڈٹ جانا، کسی دھمکی، دباؤ یا لالچ کو خاطر میں نہ لانایقیناً بڑے دل گردے کاکام ہے مگر جو یہ کام کرجائے اس کے لیے آخرت میں تو سرخروئی اور کامیابی ہے ہی، دنیا میں بھی اس کی عزت خلق خدا کے دلوں میں جگہ بنا لیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے ہر کردار نے اگرچہ اپنے اپنے خودغرضانہ مفادات میں کامیابی حاصل کی مگرآج ان میں سے ایک بھی قوم کی نظر میں عزت کا حقدار نہیں ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ چیف جسٹس دنیا اور آخرت میں سرخروئی کا راستہ اپنائیں، ایک بار پھر جرأت سے کام لے کر چوروں کے ٹولے سے قوم کو نجات دلائیں اور ملک میں جمہوری جدوجہد کے ذریعے انقلاب اور تطہیر کا عمل آگے بڑھے۔غیر قانونی طور پہ آڈیو اور ویڈیوریکارڈ کرنا اور پھر انہیں پبلک کرنے کی دھمکی دے کر من مانے فیصلے کروانا، حق بات کہنے سے روکناایک نیا شیطانی ہتھکنڈا ہے جوآج کے دور میں فاشسٹ قوتوں نے اختیار کررکھا ہے۔دراصل یہ بھی ایمان کا امتحان ہے کہ عزت اور ذلت کا مالک رب العزت ہے کوئی زمینی طاقت نہیں۔
طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے
عکس پر نہ اتراؤ، آئنہ ہمارا ہے
زرداری صاحب کی خواہش ہے کہ اپنی زندگی میں بلاول کو وزیراعظم بنتے دیکھیں اور شریف فیملی نے اپنی حکمرانی کے تسلسل کے لیےاپنے بچے تیار کررکھے ہیں۔پاکستانیوں کی اکثریت اب اس بات پر سوال اٹھاتی ہے کہ یہ دونوں خاندان ہمارا نصیب کیوں بن گئے ہیں جبکہ دنیا میں ہمارے بعد قائم ہونے والی ریاستیں ترقی اور جمہوری روایات میں ہم سے آگے ہیں۔پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ غالب عوامی رائے سے روگردانی کا نتیجہ ہمیشہ اندرونی فساد کی شکل میں نکلتا ہے جس سے فوجی حکومتوں کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ اور فوجی اقتدار کا ہر دور پاکستان میں جمہوری عمل، اس کے ذریعے جمہوری اقدار کے فروغ، معیشت کی بحالی اور عوامی شعور کے سفر کو سالوں پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ بھٹو نے پی این اے تحریک کے مقابل شکست سے بچنے کے لیےانتخابات میں دھاندلی کروائی اور پھر جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا لگا۔نوزشریف حکومت کی کرپشن اور بری کارکردگی جب عوام کے سامنے کھل گئی تو اگلے انتخابات سے پہلے جنرل مشرف نے اقتدار سنبھال لیا تاکہ کوئی متبادل قوت جمہوری عمل کے ذریعےنہ پنپ سکے۔پھر پُتلی تماشا کا دور شروع ہؤا کہ مارشل لا تو نہ تھا مگرانتخابات کا عمل کنٹرول کرکے مرضی کے نتائج لیے جانے لگے،یہاں تک کہ کٹھ پتلیاں تماشا گر کے اشاروں سے باہر نکل گئیں،عوام کی مرضی ایک خودکار قوت بن گئی اور طاقت کے مراکز کو چیلنج کرنے لگی۔اس صورتحال میں اگر الیکشن کا راستہ روکا گیا تو نتائج پہلے سے مختلف نہ ہوں گےاور یہ پاکستان کی ایک مرتبہ پھر بے حد بدقسمتی ہوگی۔تئیس کروڑ عوام کا ایک بڑااور آزاد ملک ، نیوکلیئر طاقت ،مگر اپنی قسمت کے فیصلوں کے لیے آج بھی مجبور، بے بس اور پابہ زنجیر!

یہی صورتحال کراچی میں ہے جہاں خدا خدا کرکے بلدیاتی الیکشن ہو تو گئے مگر عوامی مینڈیٹ کے مطابق میئر کا اعلان اب تک نہیں کیا گیا۔اوپر سےکراچی کی مردم شماری میں شہر کی آبادی ہی ادھوری دکھائی جا رہی ہے۔ ستر برس سے جو استحصالی عناصر کراچی میں مفاد پرستانہ سیاست کررہے ہیں ان کے مفادات کو شدید ضرب پڑے گی اگر کراچی کی آبادی کے درست اعدادوشمار مان لیے جائیں۔اس سے صوبہ سندھ کی کل آبادی میں کراچی شہر کی آبادی کا تناسب بدل جائے گا، کراچی سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی تعداد میں اضافہ ہو گااور سندھ میں وڈیرہ شاہی کلچرکے بل پہ جو غیر نمائندہ حکومتیں بنا لی جاتی ہیں، اس عمل کو شدید ضرب پہنچ سکتی ہے۔ہر سال ہزاروں لوگ گاؤں دیہات اور چھوٹے شہروں سے کراچی منتقل ہوتے ہیں، ان کو کراچی ہی کے شہری گنا جائے گاکیونکہ ان کا روزگار اور ٹیکس ادائیگی کراچی کی معیشت کا حصہ ہے۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے کراچی کے ساتھ جعلی مردم شماری کےاس ظلم پر ملی بھگت کررکھی ہے اور تحریک انصاف اس ظلم پر چپ سادھے ہوئے ہے۔ایسے میں ایک بار پھر حافظ نعیم الرحمان نے اہل کراچی کے اس حق کے لیے توانا آواز اٹھائی ہے اور ان کی قیادت میں اس فراڈمردم شماری کو اہل کراچی نے ببانگِ دہل مسترد کردیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس سودے بازی کو برداشت نہیں کریں گے۔ اللہ کرے ان کی جدوجہد ثمرآور ہو۔یہ جدوجہد بظاہر ایک شہر کا حق دلوانے کی ہے مگر اس کی وسعت صوبائی سطح پر استحصالی قوتوں کا نیٹ ورک توڑنے اورووٹ کے ذریعے بڑاانقلاب لانے تک محیط ہے۔ اس اعتبار سے حافظ نعیم کو اس جدوجہد نے کراچی سے بہت بڑھ کر قائدانہ کردار ادا کرنے کا موقع دیا ہے۔
اگلا شمارہ ان شاءاللہ خاص نمبر ہوگا۔ اس کی تفصیل پچھلے ماہ بھی دی گئی تھی، اس ماہ بھی حاضر ہے۔ اس کی ضخامت زیادہ ہوگی اسی لحاظ سے قیمت بھی ، ایجنسی ہولڈرز اور دیگر خریداروں سے التماس ہے کہ اگر زیادہ کاپیاں خریدنا چاہیں تو دفتر کے پتے پراطلاع دے دیں۔یہ خاص شمارہ ’’مددگار نمبر‘‘ ہوگا۔ہمیں گھروں میں سکون دینے والے خدمت گار، مختلف کاموں کی ادائیگی میں ہاتھ بٹانے والے مددگار، یہ ملازمین، یہ ماسیاں، آیائیں،دھوبی، چوکیدار،مالی، ڈرائیور، دفتروں میں چپراسی اور دیگرکم تنخواہ والا طبقہ، ہم میں سے ہر ایک کا سینہ ان کے بارے میں رنگارنگ کھٹے میٹھے تجربات سے بھرا ہوگا۔خود ہم نے بھی کبھی مددگار کے طور پہ کسی کے ماتحت کام کیا ہوگا۔ہم نے لکھنے والوں سے درخواست کی ہے کہ اپنی یادوں کی پٹاری کھولیے اور ان تجربات کو ہمارے ساتھ بانٹیے۔ادب ،انسانی نفسیات کے گہرے مطالعہ سے جنم لیتا ہے،یہ انسانی تعلقات، المیوں اور خوشیوں کے حساس مشاہدے اورشعور کی سطح سے انہیں سپرد قلم کرنے کا نام ہے۔افسانہ، مضمون، کالم، شاعری تمام اصنافِ ادب میں لکھا جاسکتا ہے۔ معیاری تحریریں اس میں شامل کرکے ہمیں خوشی ہوگی۔جن کو ان سطور کے ذریعے اس نمبر کی اطلاع مل رہی ہے وہ دس تاریخ تک اپنی تحریر بھیج سکتے ہیں مگر تحریر نئی اور غیر شائع شدہ ہونی چاہیے۔ترجمہ یا انتخاب ہو تو مکمل حوالہ درج ہو۔کمپوز کرکے غلطیاں چیک کرلیں اور ای میل سے بھیج دیں۔
id*********@ya***.comسبجیکٹ میں ’برائے مددگار نمبر‘ ضرور درج کریں۔ واٹس ایپ کرنے سے پرہیز کیجیے۔ رجسٹرڈ پوسٹ یا کورئیر کے ذریعے بھی مدیرہ کے پتے پر بھجوا سکتے ہیں۔
اگلے ماہ تک اجازت دیجیے بشرطِ زندگی

دعا گو، طالبہ دعا،صائمہ اسما

 

سلمیٰ یاسمین نجمی صاحبہ کو صدمہ
بتول کی سابق مدیرہ، مقبول ناول نگار افسانہ نگار محترمہ سلمیٰ یاسمین نجمی کے شریک حیات خواجہ محبوب الٰہی انتقال کر گئے ۔ مرحوم معروف صنعت کار اور کاروباری شخصیت تھے ، اسلامی جمعیت طلبہ مشرقی پاکستان کے ناظم اعلیٰ رہے ، نعیم صدیقی مرحوم کی تحریک اسلامی کے قائد اور مالی معاون تھے ۔ ادارہ بتول ان کے غم میں برابر کا شریک ہے ، اللہ تعالیٰ ان کی مساعی جمیلہ کو قبول و منظور فرمائے ، جنت الفردوس میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے آمین۔

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x