ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

سفر ہے شرط(۲) – بتول جون ۲۰۲۱

سعودی عرب میں رہنے کا تجربہ

بارہ فروری کو صبح اٹھے، نماز ادا کی اور دھند کو ہر طرف چھائے ہوئے دیکھ کر پھر سونے کی کوشش کرنے لگے۔دوبارہ سو کر اٹھنےکے بعد ناشتہ وغیرہ کر کے ہم ساڑھے دس بجے تک فارغ ہو چکے تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ موٹر وے کھلنے کی اطلاع آئے تو ہم روانہ ہوں۔ اگر ہم گھر سے جلدی نکل آتے توموٹر وے پر چڑھنے کے لیے بہت دیر قطار میں کھڑے رہنا پڑتا۔ رات کے پر مشقت تجربے کے بعد ہم دوبارہ اس کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس لیے ساڑھے گیارہ گھر سے نکلے اور جب تک انٹر چینج پر پہنچے، ٹریفک کا ہجوم ختم ہو چکا تھا۔
سرگودھا پہنچتے پہنچتے ہمیں اڑھائی بج گئے۔ ہم نے ایک گھنٹے میں سامان سمیٹا۔ آتے ہوئے تو سامان رکھنے کے لیے جگہ نہیں تھی اور جاتے ہوئے سوٹ کیس بھرنے کے لیے سامان نہیں تھا۔ یوں بھی پرواز پر دس سے زیادہ مسافر لے جانے کی اجازت نہیں تھی اس لیے بھی ہمیں وزن کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ خیر ہم نے حسب معمول اپنے سوٹ کیسوں کو کھانے پینے کی چیزوں سے بھرنا شروع کیا۔ گھر کا بنا ہؤا اچار، ایک اور قسم کا اچار، آلو بخارے کی میٹھی چٹنی، السی کی پنیاں، دیسی دیہاتی گول مٹھائی، گھر کا بنا ہؤا ساگ، ماش کی دال، اور ایسی ہی چیزیں۔ ایک پورا سوٹ کیس ہم نے بھر لیا۔ جب وزن کیا تو اسی سوٹ کیس کا وزن سب سے زیادہ نکلا۔ کیا کریں دیہاتی پن ہمارے اندر سے جا نہیں رہا۔ فالتو سوٹ کیس وہیں چھوڑ دیے۔ گھر کو سمیٹا، اور گھر کے رکھوالے کے سپرد کیا، اس سے پہلے اللہ کے سپرد کیا۔ رات کا کھانا میری ہمسائی اور چھوٹی نند کے گھر تھا۔ چھ بجے ہم کھانے کے لیے چلے گئے، وہاں ہماری بڑی نند بھی آ گئیں۔ سات بجے تک کھانے سے فارغ ہو کر ہم گھر آ گئے تاکہ رخصت ہوں۔ ہم تین لوگ تھے اور دو ڈرائیور جو ہمیں چھوڑنے جا رہے تھے۔
نکلتے نکلتے ہمیں تقریباً آ ٹھ بج گئے۔ الحمد للّٰہ سفر شروع ہؤا۔ ہماری پرواز صبح سات بجے تھی۔ اتنی جلدی نکلنے کی وجہ دھند تھی۔ اسلام آباد ہم اس لیے رات کو نہیں ٹھہرے کہ اتنا وقت ہی نہیں ملا۔ یوں بھی اسلام آباد کا ہوائی اڈا شہر سے کافی فاصلے پر ہے۔ بہرحال جب موٹر وے کی طرف پہنچے تو دھند نے اپنا جو بن دکھانا شروع کر دیا۔ ہم بےحد خوف زدہ ہوئے اور حسب عادت انسانی اپنے آپ کو ملزم ٹھہرانے لگے کہ کیوں نہ آٹھ بجے کی بجائے سات بجے ہی سفر شروع کر دیا۔ اللہ اللہ کر کے اور دل میں سینکڑوں وسوسوں کے ساتھ جن میں سے ہر وسوسہ انتہائی صورت رکھتا تھا، انٹر چینج تک پہنچے۔ اف کچھ نہ پوچھیے، الحمد للّٰہ، انہوں نے ہمیں داخلے کا کارڈ دے دیا ورنہ ہم ہر انتہا سوچ چکے تھے۔ موٹر وے پر دھند کے شدید ہلّےآ رہے تھے لیکن مسلسل دھند نہیں تھی۔ سڑک کے ایک ٹکڑے کو ڈھانپ لیتی تھی اور کچھ دور جا کر صاف ہو جاتی تھی۔ یہ آنکھ مچولی بھیرہ تک چلتی رہی۔ اس کے بعد سڑک اور موسم بالکل صاف تھے۔ چکری انٹر چینج سے پہلے والی آرام گاہ پر ہم نے گاڑیاں روک لیں اور چائے کافی پی کر گاڑی ہی میں سو گئے۔ تقریباً دو گھنٹے آرام کرنے کے بعد ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر پہنچ کر بورڈنگ کروا کر لاؤنج میں چلے جائیں گے اور کچھ نیند پوری کر لیں گے۔ لیکن ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
اسلام آباد ٹرمینل پہنچ کر ہم اندر چلے گئے۔ وہاں جا کر پی آئی اے کا کاؤنٹر تلاش کرنا شروع کیا۔ جس سے پوچھیں، وہ یہی جواب دے کہ پی آئی اے تو مسافر لے کر سعودی عرب جا ہی نہیں رہی، آپ کیوں ان کا کاؤنٹر تلاش کر رہے ہیں۔ کافی دیر کی تگ و دو کے بعد وہ جگہ تو پتہ چل گئی جہاں پی آئی اے کی بورڈنگ ہونا چاہیے تھی، لیکن وہاں کوئی بندہ بشر نظر نہیں آ رہا تھا۔ ہم نے بھی سوچا کہ ابھی تو چار گھنٹے باقی ہیں پرواز میں، بورڈنگ عموماً تین گھنٹے پہلے شروع ہوتی ہے اس لیے کچھ انتظار کر لیتے

ہیں۔ ہمیں پی آئی اے کے لاہور صدر دفتر سے بھی ہدایت کی گئی تھی کہ پرواز سے چار گھنٹے پہلے ہوائی اڈے پر پہنچ جائیں۔ ہم بیٹھ کر بورڈنگ پاس حاصل کرنے والے مسافروں کو حسرت بھری نظروں اور دل کے ساتھ دیکھتے رہے۔ مختلف ائیر لائنز کے مسافر آتے،بورڈنگ پاس حاصل کرتے اور اگلی منزل کی طرف چل پڑتے۔ اسی اثنا میں ہم اپنی بساط کے مطابق پوچھنے والوں کو غلط اور درست رہنمائی بھی دیتے رہے۔ ساتھ ساتھ ہم ہوائی اڈوں پر طویل انتظار کرنے والے مسافروں کی نفسیات پر بھی غور کرتے رہے۔ بیچ میں ہر گھنٹے کے بعد پی آئی اے کے مفروضہ کاؤنٹر کا بھی چکر لگاتے رہے۔ ہمارے شوہر پوچھ پاچھ کر پی آئی اے کے دفتر کا چکر بھی لگا آئے جو بند پڑا تھا۔ چھ بجے کے قریب وہ نماز ادا کرنے چلے گئے اور ہمیں بھی کہہ گئے کہ نماز ادا کر کے یہیں واپس آ جانا۔
ہم نماز ادا کر کے واپس آئے تو ہمیں شدید بے چینی شروع ہو گئی کیونکہ اب چھ بجے سے اوپر وقت ہو چلا تھا اور ہنوز ہمارا متعلقہ کاؤنٹر خالی پڑا تھا۔ پرواز کا وقت سات بج کر بیس منٹ تھا۔ قانون کے مطابق پرواز کے وقت سے ایک گھنٹہ پہلے بورڈنگ بند کر دی جاتی ہے، اور یہاں تو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی۔ ہم لب بام سے دو چار منٹ کے فاصلے پر کمند کے ٹوٹنے پر راضی نہیں تھے، اس لیے لب پر دعاؤں اور دل میں دعاؤں کے ساتھ کچھ بھاگ دوڑ کی ٹھانی۔ دوبارہ پی آئی اے کے کاؤنٹر پر پہنچے۔ وہاں پر ایک صاحب موجود تھے جو بورڈنگ سے متعلقہ تو ہر گز نہیں لگ رہے تھے، لیکن ہوائی اڈے کی وردی میں ملبوس تھے۔ ہم نے انہیں اپنی رام کہانی سنائی۔ انہوں نے جوابا یہی ارشاد فرمایا کہ یہاں سے تو مسافر لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ہماری درخواست گزاری پر بہرحال انہوں نے کسی کو فون کیا۔ فون رکھنے کے بعد انہوں نے ہمیں مطلع کیا کہ آپ کی بورڈنگ کے لیے عملہ آ رہا ہے۔ ہم نے انہیں بتایا کہ پی آئی اے کا دفتر تو بند ہے، اور پوچھا کہ آپ نے کہاں رابطہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ تہہ خانے میں بھی پی آئی اے کا ایک دفتر ہے جو کھلا ہے۔ وہ صاحب تھے تو انسان ہی، اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سعودی عرب پہنچانا تھا، اس لیے ہو سکتا ہے انہیں ہی کچھ دیر کے لیے فرشتوں کی کوئی خوبی دے دی گئی ہو۔ اللہ ان پر اپنا رحم اور فضل کرے۔ ہمارے لیے وہ ایک فرشتہ رحمت ثابت ہوئے۔
چند ہی منٹوں میں دو صاحبان پی آئی اے کی وردی میں ہماری بورڈنگ کے لیے تشریف لےآئے۔ ہم تو بہت غصے میں تھے لیکن ہمارے شوہر نے ہمیں کسی بھی طرح کے اظہار سے منع کیا اور بورڈنگ کروانے میں مصروف ہو گئے۔ آنے والے صاحبان نے بھی خوب معذرت کی اور یہ بھی کہا کہ ہم نے آپ کو لیے بغیر جہاز نہیں اڑانا تھا، ہم بس آ ہی رہے تھے۔ لیکن ہمیں ان کی اس بات پر آج بھی یقین نہیں ہے۔ بہر خدا، بورڈنگ ہوئی اور ہم امیگریشن کی طرف چل پڑے۔ وہاں پہنچ کر جب ہماری باری آئی تو ہماری صاحبزادی کیمرے کے سامنے آتے ہی زمین پر گر گئیں۔ اب تو ہمیں سب کچھ بھول گیا۔ اور ہم بے اختیار رونا شروع ہو گئے۔ اردگرد کے مسافروں نے ہمیں تسلی دی، بیٹی کے جوتے اتارنے کا کہا جو ہم نے فورا ًاتارے۔ کوئی کہیں سے پانی لے آیا، اتنی دیر میں وہ کچھ سنبھلیں۔ ہم نے امیگریشن مکمل کی اور لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئے۔ بیٹی کو جوتوں کے بغیر ہی چلنے دیا۔ جوتے کافی بھاری اور گرم تھے۔ہمارے شوہر کچھ مشروبات لے آئے۔ پچھلے دنوں کی مسلسل بھاگ دوڑ، تناؤ اور نیند کی کمی کا نتیجہ صاحبزادی کے “Syncope Attack” کی صورت میں نکلا۔
ابھی ہم کچھ ہی دیر بیٹھے تھے کہ ہمارے لیے بس آ گئی جو ہمیں جہاز تک لے کر جانے والی تھی۔ لاؤنج میں اور بس میں ہمارے سوا اور کوئی مسافر نہیں تھا۔ جب ہم جہاز پر سوار ہوئے تو وہاں پر بھی ہم تین کے علاوہ کوئی اور مسافر نہیں تھا۔ پورے جہاز پر ہمارا ہی راج تھا۔ عملے نے ہمیں خوب خوب خوش آمدید کہا۔ ہم کئی دنوں کے تھکے ما ندے چاہ رہے تھے کہ سیٹیں لمبی کر کے نیند کی آغوش میں پہنچ جائیں۔ ہمارے سوار ہونے کے ساتھ ہی جہاز پرواز کے لیے تیار ہو گیا۔ اڑان کا عمل مکمل ہونے کے کچھ ہی دیر بعد عملے کے ارکان ہمارے لیے ناشتے کا مینیو لے آئے۔ ہم نے انکار کی کوشش کی، لیکن خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والی فضائی میزبان نے بہت ہی اپنائیت بھرے لہجے میں جو ہر گز صرف پیشہ ورانہ نہیں تھی، ہم سے کہا کہ کچھ تھوڑا بہت لے لیجیے۔ ہم ان کے اس قدر اخلاص کو ٹھکرا نہیں سکے اور ناشتہ منگوا لیا۔ ناشتہ ختم ہونے کے ساتھ ہی جہاز

کی اندرونی روشنیاں بجھا دی گئیں تاکہ ہم آرام کر سکیں۔ اس سے پہلے ہمیں ہینڈ سینیٹائزر دیے گئے۔ ہمیں خدشہ تھا کہ ہماری صاحبزادی کو بخار ہو گیا ہے۔ انہیں آرام کا کہا اور خود بھی خیر ہم لمبی تان کر سو گئے۔
جب سو کر اٹھے تو ریاض آنے والا تھا۔ ہم نے اپنی چیزیں سمیٹنا شروع کیں۔ جہاز ریاض کے ہوائی اڈے پر اترا تو عملے نے ہمیں ایسے الوداع کہا جیسے ہم مسافر نہ ہوں، ان کے مہمان ہوں۔ یہاں تک کہ جب ہم نے ہینڈ سینیٹائزر انہیں واپس کیا تو وہ بھی انہوں نے ہمیں ہی عنایت کر دیا۔ جوں ہی جہاز کا دروازہ کھلا تو ہمیں ایک وردی پوش صاحب کی جھلک نظر آئی۔ انہوں نے عملے کے افراد سے پوچھا، یہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، جی ہاں یہی ہیں۔ انہوں نے ہم تین’’ اکلوتے‘‘ مسافروں کو اپنی زیر نگرانی لے لیا اور ہمیں اپنے ہمراہ لے چلے۔ یقین مانیے ہمیں یوں لگا جیسے روتا ہؤا بچہ ماں کی گود میں آ کر پر سکون ہو جاتا ہے۔ وہ ہمیں اپنے ساتھ لے کر سیدھے کووڈ بوتھ پر پہنچے جہاں دو نرسیں موجود تھیں۔ انہوں نے ہمارے کووڈ ٹسٹ چیک کیے، ہمارا ’’توکلنا‘‘ دیکھا اور ہمیں کلئیر کر دیا۔ توکلنا موبائل ایپ ہے جس کے بارے میں ہدایت تھی کہ مملکت میں پہنچنے کے فوراً بعد ڈاؤن لوڈ کرلیا جائے، اس کے لیے کچھ وقت دیا گیا تھا۔ ہم نے توکلنا پہلے سے ہی ڈاؤن لوڈ کر رکھا تھا۔
وہ صاحب ہمیں پھر آگے لے چلے اور امیگریشن تک پہنچا دیا۔ امیگریشن تو فورا ہو گئی کیونکہ ہمارے علاوہ اور کوئی مسافر ہی نہیں تھا۔ وہاں سے ہم سامان لینے کے لیے روانہ ہوئے۔ تھوڑی دیر میں سامان کی بیلٹ جو صرف ہمارے لیے چلائی گئی تھی، اس پر ہمارا سامان آنا شروع ہو گیا۔ ہم نے سامان لیا اور باہر کا رخ کیا۔
ہم نے ڈرائیور کو آنے سے منع کر دیا تھا۔ اس لیے اب کچھ فکر شروع ہوئی کہ ہوائی اڈے پر تو کوئی مسافر نہیں ہے، باہر کوئی ٹیکسی بھی ہو گی یا نہیں۔ باہر پہنچے اور اوبر کو فون کرنے لگے تو ایک صاحب جو وردی میں تھےکہنے لگے کہ آپ ائیرپورٹ ٹیکسی لے لیں، بڑی ٹیکسی لیں گے تو سارا سامان بھی اس میں آ جائے گا۔ ہم کچھ فکرمند تھے کہ ٹیکسی آنے میں نہ جانے کتنا وقت لگے۔ لیکن چند ہی لمحوں میں لش پش کرتی سیاہ رنگ کی جی ایم سی آ گئی باوردی اور پاکستانی ڈرائیور کے ساتھ۔ ہم نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سامان رکھوایا اور گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ سارا راستہ ڈرائیور کی دلچسپ اور معلوماتی گفتگو میں کٹا۔ ڈرائیور کا تعلق بھی خیبر پختون خوا سے تھا، اس کی پشتو ملی اردو سنتے ہوئے اور بھی مزا آ رہا تھا۔ شاہراہ شاہ فہد جو ٹریفک سے بھری ہوتی ہے، خالی تھی۔ ہمیں کووڈ کی نئی صورتحال کے بارے میں بھی معلومات مل رہی تھیں۔ اس کو کووڈ ٹسٹ کے مرکزمیں چوبیس گھنٹے لگے تھے۔ ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے ضروری تھا کہ وہ ہر ہفتے ٹسٹ کروائیں۔
بہت آرام اور سکون کے ساتھ ہم گھر پہنچ گئے۔ ناشتہ کیا، نماز ادا کی، نہائے دھوئے اور سو گئے۔ ہسپتال کو اپنے پہنچنے کی اطلاع کی۔ اگلے دن اپنا کووڈ ٹسٹ کرایا۔ تین فروری کو سعودیہ کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ جن بیس ملکوں میں برطانیہ والا نیا وائرس پھیل رہا ہے، ان ملکوں پر سفر کی پابندی ہے۔ ہاں البتہ طب سے وابستہ عملہ کو، سفارت کاروں کو اور سعودی شہریوں کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ لیکن ان سب کے لیے سات دن کا قرنطینہ تھا، جب کہ دوسرے ملکوں سے آنے والوں کا قرنطینہ تین دن کا تھا۔ ہم نے اس بابت اپنے ہسپتال کے شعبہ انفیکشن کنٹرول سے رابطے کیا۔ ان کے پاس یہ نئی اطلاع ابھی نہیں پہنچی تھی، اس لیے انہوں نے ہمیں تین دن کا قرنطینہ کرنے کا کہا۔ ہماری دو ساتھی ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا کہ اب سات دن کا قرنطینہ ہے۔ ہم نے کووڈ ٹسٹ کی آن لائن اپائنٹمنٹ لی اور اگلے دن ٹسٹ کے لیے روانہ ہو گئے۔
ہم نے صبح پانچ بجے فجر سے پہلے کا وقت لیاتھا کیونکہ اس وقت رش نہیں ہوتا۔ گاڑی میں دو مسافر بیٹھ سکتے تھے۔ دو سے زیادہ افراد ایک ہی گاڑی میں ٹسٹ کے لیے نہیں جا سکتے تھے کیونکہ اس سے کووڈ پھیلنے کا خطرہ تھا۔ ڈرائیور کے ساتھ دوسرے مسافر کو ڈرائیور کے پیچھے والی نشست پر بیٹھنے کی ہدایت تھی۔ جب ہم بوتھ پر پہنچے تو ہمارا اقامہ نمبر کمپیوٹر میں ڈالا گیا اور اس کے بعد گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی ہمارا ٹسٹ لیا گیا جو حلق سے تھا۔ اس سے پہلے ہم نے ناک سے ٹسٹ دیا تھا، اس کی نسبت حلق والا ٹسٹ کافی بہتر تھا۔ شام تک نتیجہ ہمارے فون میں موجود تھا۔ ہم تین دن کے بعد کام پر واپس آ گئے، لیکن ہمیں دوبارہ ہدایت کی گئی کہ چار دن مزید قرنطینہ کریں۔ اس کے بعد ہم

نے دوبارہ کووڈ ٹسٹ کرایا جو الحمدللّٰہ منفی آیا اور پھر ہم کام پر واپس آئے۔ ہماری صاحبزادی کا ٹسٹ بھی منفی آیا ورنہ ہم ان کے بخار کی وجہ سے متفکر رہے کہ کہیں کووڈ نہ ہواگرچہ کووڈ کی کوئی علامات نہیں تھیں۔ انہیں جو ہلکا بخار ہوا تھا، اور ہوائی اڈے پر جو چکر آیا تھا اس کی وجہ تھکاوٹ، پے در پے سفر ، تناؤ اور نیند کی کمی تھی۔ ایک دن مکمل آرام کرنے کے بعد بخار بھی اتر گیا۔
سعودی عرب آ کر اللہ کا شکر ہے کہ ہم پرسکون ہو گئے۔ پاکستان میں قیام کے دوران پریشانی تو رہی، لیکن ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے ہماری اور ہم جیسے واپس آنے والے اور لوگوں کی بہت مدد کی۔ ہم نے واٹس ایپ پر دو گروپ جوائن کیے تھے۔ ان کے ذریعے ہمیں بہت مفید معلومات ملتی رہیں۔ ان میں سے ڈاکٹر نور احمد اور سہیل بھائی کاجو سعودیہ ایئر لائن سے ہیں، تذکرہ نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ انہوں نے اس گروپ کے ذریعے بہت لوگوں کی مدد کی۔ مارچ ۲۰۲۰ میں لگنے والے لاک ڈاؤن اور کرفیو میں ہمارے میاں انہیں لوگوں کی مدد سےواپس سعودی عرب پہنچے تھے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کی حکومت اپنے انتظامات اور مدد کے لیے قابل تعریف ہے۔ پچھلے سال اقاموں اور ویز وں کی تجدید اور اس جیسے بہت سے اور مسائل انہوں نے بہت اچھے طریقے سے حل کیے۔
واپس آ کر زندگی کی رو کو اصلی رفتار سے بہنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے۔ ہم سب بھی اپنی زندگی میں مگن ہو گئے۔ توکلنا کے آنے سے جہاں کاروبار زندگی کھلا رہا، وہیں کئی دلچسپ مسائل بھی پیش آئے۔ پاکستان میں ہمارے قیام کے دوران ہمارے ڈرائیور کا فون آیا کہ وہ مال کے اندر داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے موبائل میں توکلنا نہیں ہے۔ ہم نے اسے صبر کی تلقین کی اور کہا کہ وہ گھریلو سودا سلف کسی بقالے (پرچون اور سبزی کی دکان) سے خرید لیا کرے۔ اس کا مسئلہ تو حل ہو گیا لیکن کئی لوگوں کے ساتھ خاصی دلچسپ صورتحال پیش آئی۔ ہماری ایک دوست جو جدہ میں رہتی ہیں، ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ ایک دن وہ لوگ بچوں کو گھمانے باہر لے گئے۔ وہ مال کے باہر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے کہ ایک بچے کو غسل خانے لے جانا پڑ گیا۔ والدہ صاحبہ جب مال کے دروازے پر پہنچیں تو یاد آیا کہ موبائل فون تو بھول آئی ہیں اب اندر کیسے جائیں گی ،توکلنا کے بغیر تو وہ اندر نہیں جانے دیں گے۔ یہ مسئلہ انہوں نے جیسے حل کیا اور جب تک حل ہؤا اس کیفیت کا اندازہ کوئی بھی چھوٹے بچوں کی ماں لگا سکتی ہے۔ ماسک لگائے بغیر باہر گھومنے پر بھی جرمانہ ہے۔ اسی وجہ سے سب لوگ بہت محتاط ہیں۔ ہم نے بھی گاڑی میں اضافی ماسک رکھے ہوتے ہیں۔ ہمارے گھر کے سامنے والے مال میں بھی داخلے کے دروازے کے ساتھ ہی ماسک رکھے ہوتے ہیں تاکہ اگر کوئی بھول گیا ہے تو وہاں سے لے لے۔ اکثر مالوں میں اور بڑی دکانوں پر خودکار بخار چیک کرنے کی مشینیں لگی ہوتی ہیں۔ ایک بار ہم بخار چیک کرنا بھول گئے۔ ہماری صاحبزادی نے ہمیں واپس بھیجا کہ چیک کر کے آئیں اور توجہ دلائی کہ یہ بہت غیر اخلاقی ہے۔ ہم نے توجیہہ پیش کی کہ ہمیں تو بخار نہیں ہے ورنہ گھر سے ہی نہ آتے اور نہ ہی دربان نے ہمیں روکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ بھی روکےلیکن آپ کے بارے میں کیا سوچے گا۔ بعض اوقات ہم بچوں کو سکھا کر بھول جاتے ہیں۔ وہی توجیہہ جو ہم ان کو دیا کرتے تھے، اب وہ ہمیں دیتے ہیں الحمد للّٰہ۔
ہم چھٹیوں پر جانے سے پہلے ویکسین کے لیے درخواست ڈال گئے تھے لیکن ہماری باری نہیں آئی۔ ہمارا خیال تھا کہ اس موقعے پر ہمارا موٹاپا کام آ جائے گا اور ہماری باری جلدی آ جائے گی، لیکن توکلنا کی ہمارے ساتھ نبھی نہیں کہ ہم موٹاپے کے معیار سے بھی کچھ کم ہی تھے۔واپس آ کر ہمارے میاں نے اپنی درخواست ڈالی تو انہیں کچھ دن بعد کی ہی اپائنٹمنٹ مل گئی۔ ہم ابھی ان پر رشک ہی کر رہے تھے کہ ہماری اپائنٹمنٹ بھی آ گئی۔ ڈرتے ڈراتے اور لرزاں و ترساں ہم ویکسین لگوانے پہنچے۔ پہلے میاں صاحب نے لگوائی پھر ہماری باری آئی۔ ہم بھی سوشل میڈیا پر آنے والی ویکسین لگنے کی تصاویر دیکھ کر چاہ رہے تھے کہ کوئی اچھی سی با پردہ تصویر ہم بھی شئیر کر دیں۔ ہم نے ویکسین لگانے والی نرس سے درخواست کی کہ ہماری ایک فوٹو تو کھینچ دو۔ اس نے زیر ماسک مسکراتے ہوئے ’’تجاہل ماہرانہ‘‘ یعنی پیشہ ور مہارت سے جواب دیا کہ میں ویکسین لگاؤں یا فوٹو کھینچوں۔ ہم نے خود ہی بری بھلی ایک تصویر کھینچی اور ویکسین کی تصویر کے ساتھ فیس بک پر لگا دی۔ دس منٹ سے بھی کم میں ہم فارغ ہو کر گھر کی طرف چل پڑے۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x