ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

پُرسکون نیندایک عظیم نعمت ہے – بتول جون ۲۰۲۱

چند رہنما اصولوں کو اپنا کر آپ اپنی نیند کا معیار بہتر کر سکتے ہیں

نیند کیا ہے
رات کو جب انسان آنکھوں کو بند کرکے جسم اور ذہن کو آرام پہنچانے کی غرض سے لیٹتا ہے ایسے میں اس کا شعور عملی طور پر معطل ہو جاتا ہےاور اعصابی نظام نسبتاً غیرفعال ہو جاتا ہے تو اس فطری عمل کو نیند کہتے ہیں۔ نیند کے دوران انسان اپنے ماحول سے بے خبر رہتا ہے۔اگرچہ بیہوشی میں بھی انسان اپنے آپ سے اور اپنے ماحول سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ لیکن نیند ایک قدرتی عمل ہے اور اس سے بیدار ی لیےانسان کو کسی طبی امداد کی ضرورت نہیں ہو تی۔ جبکہ بیہوشی ایک مرض ہے اور انسان کو ہوش میں لانے لیےطبی امداد کی ضرورت پڑتی ہے۔
نیند اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت اور نعمت ہے جوانسان کے تھکے ماندھے جسم اور ذہن کو راحت ، اطمینان اور سکون مہیا کرتی ہے۔رات کو چند گھنٹوں کی نیند انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسا فطری عمل ہے جس میں انسان کی تقریبا ایک تہائی زندگی گزرجاتی ہے۔کوئی انسان اس ضرورت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نےرات کو نیند حاصل کرنے کا زریعہ بنایا ہے اور اس کے مطابق ماحول کو سازگار بنایا۔ لہٰذا فرمایا’’ اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام پاؤ اور اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو (سورۃ القصص :73)۔
ایک اور جگہ فرمایا :
وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا‘‘۔
’’اور وہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پردہ پوش اور نیند کو راحت اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت بنایا ‘‘ (سورۃ الفرقان 47)
اسی طرح سورۃ غافرمیں ارشاد ہوتا ہے، ’’ الله ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور دن کو ہر چیز دکھانے والا بنایا بے شک الله لوگوں پر بڑے فضل والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے ‘‘(سورۃ غافر:61) ۔ ان تمام آیات میں ایک بات قابلِ غور ہے کہ نیند کا بہترین وقت رات کا ہی ہے اور یہ ایک ایسی نعمت الٰہی ہے کہ جس پر شکر ادا کرنے کی رغبت اللہ تعالیٰ خود دلا رہے ہیں۔
پرسکون نیندکیوں ضروری ہے
انسان کو اپنی زندگی کی بقا لیےپرسکون نیند کی ایسی ہی ضرورت ہے جس طرح کھانے پینے اور سانس لینے کی۔ رات کو چند گھنٹوں کی نیند انسان کی فطری و بنیادی ضرورت ہے۔ کوئی انسان اس ضرورت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ لیکن اس کے باوجود ہم میں سے اکثر لوگ اس سلسلے میں غفلت یا لاپرواہی برتتے ہیں اور پھر مختلف ذہنی اور جسمانی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
جدید تحقیق کے مطابق دن بھر کے کام کاج کے دوران انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والے زہریلے موادجسم میں اور خاص طور پردماغ میں جمع ہوتے رہتے ہیں ۔گہری نیند سونے سے انسان کا جسم ان فالتو مواد کو نکال باہر کرتا ہے اور اُسے نئی توانائی فراہم کرتا ہے جس سے دماغ اور جسم ازسرنو مضبوط و کارآمد بن جاتے ہیں۔یہ عمل انسانی صحت بڑھانے، جسمانی و ذہنی قوت میں اضافہ کرنے، قوتِ حافظہ اور تخیل کو بہتر بنانےاور خوش مزاجی اور حسن کارگردگی بڑھانے لیےاہم ہے ۔ اس کے علاوہ اچھی نیند انسان کو چاق و چوبند اور ہشاش بشاش رکھتی ہے۔
اس کے برعکس بے سکون نیند یا نیند کی کمی انسانی دماغ پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور بے شمار جسمانی و دماغی بیماریوں مثلاً دل‘ دماغ‘ معدہ و جگر کی بیماریاں‘ ڈپریشن‘ ذہنی تناؤ‘ چڑچراپن‘ ہائی بلڈپریشر‘ فالج‘ موٹاپا‘ ذیابیطس وغیرہ کا سبب بنتی ہے۔ نیند کی کمی سے انسان ہر وقت اونگھ

یا غنودگی کی حالت میں رہتا ہے ، تھکاوٹ محسوس کرتا ہے، اس کا جسم و ذہن صحیح طرح کام نہیں کرپاتا یہاں تک کہ روز مرہ کےمعمولی کام پر بھی صحیح طرح توجہ نہیں دے پاتا۔ ایسی صورت میں اس سے کسی تخلیقی عمل کی توقع تو بالکل بےکار ہے۔
نیند کی کمی قوت برداشت کی کمی کا باعث ہوتی ہے جو طبیعت میں جھنجلاہٹ و چڑچڑاپن پیداکرتی ہے جو اکثراوقات مختلف اقسام کے جھگڑوں کا سبب بنتا ہے اورانسان کی ازواجی و سماجی زندگی کو متاثرکرتا ہے۔
قرآن کریم میں نیند کی چار عمومی اور دو خصوصی اقسام بیان کی گئی ہیں
1۔ اَلْسِّنَةٌ یا اونگھ
اَلْسِّنَةٌ کے معنی غفلت یا اونگھ کے ہیں لیکن قرآن میں ’نیند‘ کی مناسبت سے لیا گیا ہے۔ یہ نیند کی پہلی قسم ہے اس میں پلکیں بوجھل ہو جاتی ہیں لیکن انسان اپنے ماحول سے باخبر رہتا ہے۔ آیت الکرسی سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر کسی کو اونگھ یا نیند کا آنا لازم ہے صرف اللہ کی ذات ہی اس عیب سے پاک ہے کیونکہ ’’ نہ اس (اللہ)کو اُونگھ آتی ہے اور نہ نیند‘‘ ۔
2۔ النُّعَاس یا غنودگی
النُّعَاسَ‘ نیند کی دوسری قسم ہے ۔ اس کا اثر ’ سِنَةٌ ‘ سے زیادہ ہے۔ اسے غنودگی کہہ سکتے ہیں یعنی یہ سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت ہوتی ہے۔ اس دوران انسان آسانی سے بیدار ہو سکتا ہے۔قرآن میں دو مقامات پر’ النُّعَاسَ‘ کا ذکر ملتا ہے۔ ایک جنگ بدر کے موقعے پر جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً لِّيُطَهِّرَكُم بِهِ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ۔
’’جب اس نے اپنی طرف سے (تمہیں) راحت و سکون (فراہم کرنے) کے لیے تم پر غنودگی طاری فرما دی اور تم پر آسمان سے پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے تمہیں (ظاہری و باطنی) طہارت عطا فرما دے اور تم سے شیطان کی نجاست کو دور کردے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے قدم جما دے‘‘( سورة الأنفال11)
اس غنودگی کے بعد جب صحابہ کرام بیدار ہوئے تو تازہ دم، پرسکون اور بے خوف تھے۔
اسی طرح جنگ احد کے موقع پر جب صحابہ کرام جیتی ہوئی جنگ ہار کر حزن و ملال سے دوچار ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے دوبارہ ’ نُّعَاسَ ‘ یعنی غنودگی کے ذریعے انہیں غم سے نجات اور امان دے کر ان کے قلوب کو مضبوط کیا۔
ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّن بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُّعَاسًا يَغْشَىٰ طَائِفَةً مِّنكُمْ
’’ پھر اس(اللہ) نے رنج و غم کے بعد تم پر غنودگی کی صورت میں امان ( اطمینان و سکون ) اتاری جو تم میں سے ایک جماعت پر چھا گئی‘‘(آل عمران154)۔
حدیث میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے جیسا کہ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جن کو احد کے دن النُّعَاسُ نے دبا لیا تھا مجھ پر ایسی غنودگی طاری ہوئی کہ کئی مرتبہ میرے ہاتھ سے میری تلوار گر پڑی وہ گرتی تھی اور میں اٹھاتا تھا (صحیح بخاری)۔ جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ النُّعَاسَ‘ یا غنودگی کا ایک جھونکا ذہنی دباؤکو کم کرنے میں اکسیر ہے۔
3۔ اَلْنَّوْمُ یعنی گہری اور بے خبری کی نیند
نیند کی یہ تیسری قسم ہے۔الْنَّوْمُ سے مراد دنیا و ما فیھا سے بے خبر ہو کر گہری نیند سونا ہے۔ اَلْنَّوْمُ یا گہری نیند انسان لیےآرام کا زریعہ ہے جیسا کہ سورہ النبإ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا
’’ اور ہم نے تمہاری نیند کو باعثِ سکون بنایا‘‘ (سورۃ النبیا:9)۔
سورۃ الفرقان میں فرمایا:

وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا
اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پوشاک بنایا اور نیند کو آرام (کا باعث) اور دن کو جی اٹھنےکے لیے بنایا(سورۃ الفرقان 47)۔
آیت الکرسی میں اس کا ذکراس طرح آیا ہے۔
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ اﷲ
’’اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، (سارے عالم کو اپنی تدبیر سے) قائم رکھنے والا ہے، نہ اس کو اُونگھ آتی ہے اور نہ نیند‘‘ اس آیت میں نیند کے پہلے مرحلے سے آخری مرحلے کی بات ہوگئی کہ اللہ کو کسی بھی قسم کی نیند نہیں آتی اور ایسا بھی صرف اسی کی ذات کے لائق ہے جبکہ باقی تمام مخلوق نیند کی محتاج ہے۔
4۔ خواب والی نیند
نیند کی چوتھی قسم میں انسان خواب دیکھتا ہے۔ یعنی نیند میں وہ بہت سی ایسی چیزیں دیکھتا ہے جو بیداری اورجاگنے کی حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔ یہ خواب کبھی پُر مسرت اور کبھی پریشان کن حالات و کیفیات پر مبنی ہوتےہیں اور یہ کیفیت بیدار ہوتے ہی یک دم ختم ہوجاتی ہیں لیکن بعض اوقات ان کی یاد باقی رہتی ہیں۔ ان خوابوں میں سے کچھ خواب سچے بھی ثابت ہوتے ہیں۔ خاص طور پر انبیاء اکرام مثلاً حضرت ابراہیمؑ، حضرت یوسفؑ اور نبیﷺ کےسچے خوابوں کا ذکر قرآن میں ملتا ہے۔
حدیث کے مطابق،خواب تین طرح کے ہوتے ہیں، سچا و نیک خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہوتا ہے، دوسری قسم ، کہ آدمی اپنے نفس سے ہی گفتگو کرے، تیسری قسم شیطان کی طرف سے ڈرانا ہے‘‘ (حاکم) اور فرمایا کہ’’وہ خواب جو سحری کے وقت رات کے پچھلے پہر آتے ہیں وہ دیگر خوابوں کے مقابلے میں زیادہ سچے ہوتے ہیں‘‘( ترمذي)۔
نیند کی ان چار اقسام کے علاوہ قرآن مجید میں دو اور اقسام کا ذکر بھی ملتا ہے۔
1۔اَلْھُجُوْعُ یعنی عبادت کی غرض سے رات کو کم سونا
نیند کی یہ کیفیت اللہ کے محبوب ، متقی اور عبادت گزار بندوں کی ہے جو اپنے رب کی خشیت اورمحبت میں بے خبری کی نیند سونے کے بجائےرات کو اُٹھ اٹھ کر سجود و قیام کرتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں استغفارکرتے ہیں، نمازِ تہجد ادا کرتے ہیں اور فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی تعریف اللہ تعا لیٰ سورۃ الذاريات میں ان الفاظ میں کرتے ہیں:
كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
’’ وہ رات کو بہت کم سوتے تھے‘ اور سحر کے وقت استغفار کیا کرتے تھے(سورۃ الذاريات 18۔ 17)۔
یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک علم و عقل والے ہیں ، فرمایا:
أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ
’’ بھلا جو شخص رات کی گھڑیوں میں کبھی سجدہ کرکے اور کبھی قیام کرکے اللہ کی عبادت کرتا ہے اور (اس کے باوجود) آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے؟ تو کیا وہ شخص جو ایسا نہیں ہے یکساں ہو سکتے ہیں۔کہیے کیا علم والے اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟ بے شک نصیحت تو صرف صاحبانِ عقل ہی حاصل کرتے ہیں‘‘( سورۃ الزمر :9)۔
ایسے ہی لوگوں کواللہ تعالیٰ نے اپنے بندےکہا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَعِبَادُ الرَّحْمَ۔ٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا ۔ وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا

’’ رحمان کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال (عاجزی سے)چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام ۔ اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں‘‘ ( سورۃ الفرقان :64 ۔ 63) ۔
یہی نہیں بلکہ اللہ نے اپنے محبوب نبیؐ کو رات کا کچھ حصہ جاگنے اور عبادت کرنے کا حکم بھی دیا، فرمایا
وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا
’’ اور رات کے کچھ حصےمیں قرآن کے ساتھ بیدار رہیں (نمازِ تہجد پڑھیں) یہ آپ کے لیے اضافہ ہے۔ عنقریب آپ کا پروردگار آپ کو مقامِ محمود پر فائز کرے گا‘‘ ( سورۃ الإسراء 79)۔
2۔اَلرُّقَاد یعنی طویل مدت کی خوشگوار نیند
اَلرُّقَاد کی جمع رُقُودٌ ہے اور قرآن مجید میں اصحابِ کہف کی نیند کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے۔
وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ ۚ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ
’’ آپ خیال کرتے کہ وہ بیدار ہیں، حالانکہ وہ سوئے ہوئے تھے، خود ہم ہی انہیں دائیں بائیں کروٹیں دلایا کرتے تھے (سورۃ الکھہف 18)۔
یہ اصحاب 309 سال تک گہری نیند سوئے رہے لیکن اس کے باوجود ان کی یہ نیند خوشگوار تھی اور کیوں نہ ہوتی آخر اسے خوشگوار بنانے کے تمام انتظامات اللہ تعالیٰ نے خودکیے ہوئے تھے۔ مثلاً غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر پردہ پڑا رہا(الکھف:11) تاکہ شور شرابے سے ان کی نیند میں خلل نہ پڑے۔ سورج ان سے رخ موڑ کر چلتا تاکہ اس کی روشنی اور تمازت انہیں میٹھی نیند سے جگا نہ دے، انہیں دائیں اور بائیں کروٹیں دلائی گئیں تاکہ ان کے جسم پر زخم نہ ہوں اور پھر ان کی حفاظت لیےان کے کتے کو غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلا کر بٹھایا گیاتاکہ لوگ کتےکے ڈر سے اس غار کے قریب نہ پھٹکیں (الکھف:17۔ 18)۔ آج بھی اگر دیکھا جائے تو ایک پرسکون میٹھی نیند لیےان تمام اسباب کا ہونا ضروری ہے ۔
دن کی نیند یا قیلولہ
دوپہر کےوقت تھوڑی دیر آرام کرنایاسونا قیلولہ کہلاتا ہے۔ قیلولہ نبی اکرم ؐکی سنت ہےقرآن میں اسے دن کی نیند سے تشبیہ دی گئی ہے (سورۃ الروم: 23)۔
نبی ؐ کی کئی احادیث میں قیلولہ کا ذکر ہے آپؐ نےفرمایا،’’قیلولہ کیا کرو کیونکہ شیاطین قیلولہ نہیں کرتے (السلسلۃ الصحيحۃ)۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ‘‘کہ ہم جمعہ کی نماز کے بعد کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے‘‘(صحیح بخاری)۔ دن میں کچھ دیر آرام کرنے یا سستالینے سے انسان کافی ہشاش بشاش ہو جاتا ہے اور دن کے پچھلے حصے میں بہتر کارکردگی دکھاسکتا ہے۔ قیلولہ رات کی نیند کو بہتر کرنے میں بھی اہم ہے ۔ اس پریکٹس سےتہجد اور نمازِ فجر لیےصبح سویرے جاگنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں حدیث میں ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا، ’’ دن کے سونے(قیلولہ) کے ساتھ رات کے قیام میں مدد پکڑو اور سحری کے کھانے سے دن کے روزے پر مدد پکڑو ‘‘ (شعب الایمان)۔
آج قیلولہ کی سائنسی اہمیت کو دنیا مان گئی ہے اور جدید تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی جسم میں دوپہر کے وقت کئی اقسام کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور اسی لیےاس وقت نیند کا غلبہ رہتا ہے لہٰذا اگر دوپہر میں کچھ دیر لیےآرام کر لیا جائے تو جسم ہشاش بشاش ہوجاتا ہے اور کام کرنے کی قوت و صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلی چند دہائیوں میں مسلمان گھروں میں اس قسم کی روایت اب تقریباً ختم ہوتی جارہی ہے جبکہ ترقی یافتہ اقوام خاص طور پر چین اور جاپان میں دن کو 20 منٹ تک آرام کی ترغیب دی جارہی ہے۔ یہی وجہ

ہے کہ ان ممالک میں ملازمین کو آرام کی غرض سے 30 منٹس کا وقفہ دیا جاتا ہے۔ ہمارے لیےیہ ضروری ہے کہ اس سنت پر عمل کرنے کا خود بھی اہتمام کریں اور اپنے خاندان والوں کو بھی اس کی ترغیب دیں ۔ اس طرح ہم انشااللہ دنیا اور آخرت کی کامیابیاں سمیٹیں گے۔
نیند عارضی موت ہے
انسان روزانہ دومختلف مراحل سے گزرتا ہے ایک مرحلہ بیداری اور دوسرا نیند کا ہے۔ بیداری کی حالت میں انسان شعوری طورپر اپنی زندگی کے سارے تقاضے اور ساری حرکات و سکنات، خیالات و تصورات اور احساسات کو کنڑول کرتا ہے جبکہ نیند میں یہ شعوری حالت عارضی طور پر منقطع ہو جاتی ہے اور یہی انسان کی عارضی موت ہےاورجب یہ شعوری حالت ہمیشہ لیےمنقطع ہوجاتی ہے تو انسان کی وفات یا حقیقی موت واقع ہوتی ہے۔ یعنی نیند کے بعد انسان بیدار بھی ہوسکتا ہے اور موت سے ہمکنار بھی ہو سکتا ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن مجید میں اس طرح بیان کیا گیا ہے، ’’اللہ ہی ان جانوں کو موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان جانوں کو بھی جن کی موت ان کے سونے کے وقت نہیں آئی ، پھر ان جانوں کو روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم فرما چکا ہے اور باقی جانوں کو ایک میعاد معین تک بھیج دیتا ہے، بے شک اس میں ان لوگوں لیےنشانیاں ہیں جو غور کرتے ہیں‘‘ (الزمر42)۔ سورہ الانعام میں فرمایا:
وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ
’’ اور وہی (اللہ) ہے جو تمہیں رات میں گویا کہ ایک طرح کی موت دے دیتا ہے‘‘(60:6)۔
ان آیات میں ایک بڑی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے یعنی ہرشخص اس بات سے قطعاً بے خبرہوتا ہے کہ وہ جس نیند کے مزے لے رہا ہے وہ اس سے بیدار ہوگا یا ہمیشہ کی نیند سو جائے گا۔ہمارے ادر گرد کتنے لوگ ہیں جو سوتے میں مر جاتے ہیں اور ان کو اس کا اندازہ تک نہیں ہوتا کہ ان کی زندگی کی یہ آخری نیند ہے۔ یعنی ہر انسان روزانہ نیند کی حالت میں موت کا مشاہدہ کرتا ہے اور روزانہ ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ بیدار ہوتا ہے۔ لیکن پھر ایک ایسا دن آئے گا جب وہ اس دنیا کی زندگی میں کبھی بھی بیدار نہ ہوسکےگا ۔ ہاں البتہ اس کی یہ موت ایک نئی زندگی کا آغاز ضرور ہوگی اور وہ ہمیشگی کی زندگی ہو گی۔
نینداللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے
قرآن مجید میں اللہ تعالی ٰنے نیند اور دن اور رات کو اکثر جگہوں پر اپنی ایک ایسی نشانی بتایاہے جس کے مختلف مقاصد ہیں۔ مثلاًسورۃ الروم میں فرمایا:
وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِوَابْتِغَاؤُكُم مِّن فَضْلِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ
’’اور اُس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جوسُنتے ہیں‘‘( سورہ الروم 23)۔
ایک اور جگہ فرمایا:
الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ
’’وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا (تاکہ کام کاج کر سکو)۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں‘‘ (سورہ يونس 67)۔
اسی طرح نیند ان تمام لوگوں کے لیے بھی نشانی ہے جو اللہ کی ذات پر ایمان اور یقین رکھتے ہیں۔ فرمایا:
أَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا اللَّيْلَ لِيَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
’’ کیا وہ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہم نے رات کو اس لیے بنایا ہے کہ وہ اس میں آرام حاصل کرلیں اور دن کو ہم نے دکھلانے والا بنایا ہے، یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان ویقین رکھتے ہیں‘‘

(سورہ النمل 86) ۔
ایک اور مقصد وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ ۖ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيلًا،
’’ہم نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی نشانیاں بنائی ہیں، رات کی نشانی کو تو ہم نے بےنور کردیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن بنایا ہے تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور اس لیے بھی کہ برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرسکو اور ہر چیز کو ہم نے خوب تفصیل سے بیان فرما یا‘‘ (الإسراء12)۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نیند پر غور و فکر کرکے انسان کائنات کے بہت سارے راز وں کو جان سکتا ہے‘ کائنات کے خالق کی پہچان کرسکتا ہے۔ موت و حیات اور موت کے بعد کی زندگی یعنی آخرت کے بارے میں ایمان و یقین کا مل حاصل کرسکتا ہے۔ اور جیسا کہ پہلے بات ہوئی کہ نیند موت کی ہی ایک شکل ہے لہٰذا عقلمند اپنی زندگی کو بےخبری اور بے فکری کے بجائے ہوش مند ی سے گزارے گا۔ اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان روزانہ سونے سے پہلے اپنا محاسبہ اور توبہ کرکے نفس و قلب کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس نیند کے بعد وہ بیدار ہو گا یا ہمیشہ کی نیند اسکا مقدر بنے گی۔
پرسکون نیندکے سنہرے اصول
بہترین نیند لیےاپنی روزمرہ زندگی میں کچھ اصول اپنانا ضروری ہیں بلکہ یہ کہنا چاہیےکہ اپنا پوراطرزِ زندگی بدلنا ضروری ہے۔اس سلسلے میں چند اہم اصولوں کا ذکر درج ذیل ہے۔
1۔ ماحول کو پُرسکون بنانا
اچھی نیند لیےماحول کا پرسکون ہونا بےحد ضروری ہے۔ کوشش کریں کہ:
٭گھر میں شور شرابہ نہ ہو خاص طور پر اس وقت جب گھر کے افراد سونے کی تیاری کر رہے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بہترین انتظام کیا ہے اور رات کو ایک ہی وقت میں دنیا میں بسنے والی تقریباً تمام مخلوقات پر نیند طاری کرکے شورشرابہ ختم کردیا۔ اسی طرح کمرے کا ٹمپریچر درمیانہ ہو۔ کیونکہ بہت ٹھنڈے یا گرم ماحول میں اچھی نیند نہیں آتی۔
٭ تیز روشنی اچھی نیند کی راہ میں حائل ہوتی ہے اس لیے سونے کے کمرے میں روشنی مدھم رکھیں ۔ اللہ تعا لیٰ نے بھی رات میں اندھیرے کابہترین انتظام کیا ہے۔
2۔آرام دہ لباس زیب تن کرنا
اگر ممکن ہو تورات کو سونے سے پہلے صاف ستھرے اور آرام دہ ڈھیلے ڈھالے کپڑے زیب تن کرنے کی کوشش کریں۔ صاف ستھرا ماحول ، بستر اور کپڑے اچھی نیند لانے کا زریعہ ہوتے ہیں۔
3۔جلدی سونا اور صبح سویرے جاگنا
عشاء کے بعد کوشش کریں کہ سو جائیں اور صبح سویرے جاگنے کی عادت ڈالیں۔ کیونکہ آپ ؐ کا فرمان ہے’’جس آدمی نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی، گویا اس نے آدھی رات تک قیام کیا۔ اور جس نے عشاء اور فجر دونوں جماعت سے پڑھیں، اس نے گو یا پوری رات قیام کیا‘‘(مسلم) ۔ اس حدیثِ مبارکہ کی رو سے انسان کا سونا بھی عبادت بن جاتا ہے۔ ہم اپنے ارد گرد اگر جانوروں یا پرندوں پر نگاہ دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سوائے چند جانوروں مثلاً کتا، بلی یا الّو وغیرہ کے تمام جانور جلد ہی سو جاتے ہیں اور پھر صبح سویرے ہی جاگ جاتے ہیں۔ جو جانور رات کو جاگتے ہیں وہ اس لیے کہ ان کے مالک نے ان کی فطرت میں رات کو جاگنا اوردن میں سونا لکھ دیا ہے۔ جبکہ انسان کی فطرت میں رات کو سونا اور دن میں کام کاج کرنا ہے جیسا کہ قرآن کی کئی آیات سے معلوم ہوتا ہے اور ان کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے۔ لیکن آج اگر انسان خود فطرت کے کاموں میں دخل انداز ہو تو کیا جاسکتا ہے۔ انگریزی کا مشہور مقولہ ہے جس کا مطلب کہ رات جلد سونا، صبح جلد اٹھنا انسان کو صحت مند، امیر اور دانشمند بناتا ہے۔
4۔ سونے سے پہلے کے اذکار اور دعاؤں کا اہتمام کرنا
نبی ؐ کی سنت سے ہمیں سونے سے پہلے کئی ایک اذکار اور دعاؤں کا معلوم ہوتا ہے اور بحیثیتِ مسلمان ہمیں آپ کی سنت پر عمل کرتے

ہوئے ان اذکار کو یاد کرنے اور سونے سے پہلے دہرانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ مثلاً آیت الکرسی پڑھنا، سورہ البقرہ کی آخری دوآیات پڑھنا، سورہ السجدہ اور الملک پڑھنے کا اہتمام کرنا ،معوذتین اور دعائیں مثلاً اَللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا۔ اللہ! میں تیرے نام سے مرتا اور زندہ ہوتا ہوں (بخاری: 6324) پڑھنا ۔ اگر غور کریں تو ان میں سے اکثر اذکار کا تعلق انسان کی ہر قسم کے شر سے بچاؤ، حفاظت اور عافیت لیےہیں ۔ ان اذکار کو دہرانے سے ایک طرف تو انسان کو سنت پر عمل کرنے سے اجر کی امید ہوتی ہے اور دوسری طرف ایک بےفکری، اطمینان اور سکون محسوس ہوتا ہے کیونکہ انسان اپنے رب کی حفاظت میں جو آجاتا ہے۔ ایک بہترین نیند لانے لیےانسان کا پرسکون ہونا لازم ہے۔
5۔نیند سے بیدار ی پر مختلف سنتوں پر عمل کرنا
نبیؐ کا ہر عمل ہمارے لیے قابلِ نمونہ ہے اس لیے نیند سے بیداری پر بھی ہمیں آپ ؐ کے معمولات کو ہی اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ آپؐ صبح جاگتے تو اپنے رب کی تعریف اور شکر ان الفاظ میں ادا فرماتے:
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
’’ تمام تعریفیں اللہ لیےہیں اسی نے ہمیں موت دے کر زندہ کیا، اور اسی کی طرف سب کو جمع ہونا ہے‘‘(متفق علیہ)۔
6۔ نیند کے لیے رات کا ہی انتخاب کرنا
اللہ تعالیٰ نے رات سونے اور آرام کرنے لیےبنائی ہے ۔ سورۃ الأنعام میں ارشادِ ربانی ہے:
فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ۔
’’(وہی) صبح (کی روشنی) کو رات کا اندھیرا چاک کر کے نکالنے والاہے، اور اسی نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور سورج اور چاند کوحساب و شمار کے لیے، یہ بہت غالب بڑے علم والے (ربّ) کا مقررہ اندازہ ہے ‘‘ (سورة الأنعام: 96)۔
اگرچہ کسی مجبوری کے تحت کبھی کبھار جب رات کو کم سونا پڑے تو دن میں سو کر نیند کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے لیکن رات کی نیند اہم ہے اور لمبے عرصے کے لیے اس کی کمی نہ صرف انسان کی جسمانی صحت برباد کرنے کا سبب بنتی ہے بلکہ انسان کی ذہنی، جذباتی اور روحانی صحت کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے ۔احادیث ِمبارکہ سے بھی یہی ثابت ہے۔ جیسا کہ حدیث کی کتابوں میں ایک واقعہ ملتا ہے جسے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے روایت کیاہے انہوں نے کہا، نبیؐ نے مجھ سے فرمایا’’ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہواور پھر دن میں بھی روزے رکھتے ہو‘‘۔میں نے کہا، جی ہاں، میں ایسا ہی کرتا ہوں۔آپؐ نے فرمایا، اگر تم ایسا کروگے تو تمہاری آنکھیں بیٹھ جائیں گی اور تمہاری صحت کمزور پڑے گی۔جان لو کہ تم پر تمہارے نفس کا بھی حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔کبھی روزہ بھی رکھو، افطار بھی کرو۔ قیام بھی کرو اور سوؤ بھی۔(بخاری) اس حدیث میں رات کی نیند کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے اس لیےرات کو سونا ضرور ی ہے۔
اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ؐ کے صحابہ کی ایک جماعت میں سے بعض نے کہا’’ میں نکاح (شادی بیاہ) نہیں کروں گا، بعض نے کہاکہ میں گوشت نہ کھاؤں گا، بعض نے کہاکہ میں رات میں نہ سوؤں گا، بعض نے کہاکہ میں مسلسل روزے رکھوں گا، کھاؤں پیوں گا نہیں، یہ خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے (لوگوں کے سامنے) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا’’لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ (مجھے دیکھو) میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، اور عورتوں سے شادیاں بھی کرتا ہوں۔ (سن لو) جو شخص میری سنت سے اعراض کرے (میرے طریقے پر نہ چلے) سمجھ لو وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔(نسائی)اس روایت سے معلوم ہؤا کہ رات کا ایک حصہ آرام و سکون حاصل کرنے کے لیے ہے،اس میں آرام کرنا ہی شریعت کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہم سب پر یہ خاص کرم ہے کہ رسولؐ کی اتباع میں کیا گیا ہر کام ہمارے لیےعبادت بن جاتا ہے چاہے وہ رات کو سونا یا آرام کرنا ہی کیوں نہ ہو۔ الحمد للہ۔

7۔نیند کی کمی / بے خوابی پر قابو پانا
آج کے جدید دور میں لوگ رات کی نیند پر توجہ نہیں دیتے اور دن کے وقت کام کاج کی وجہ سے سو بھی نہیں سکتے۔ نیند کی کمی ذہنی دباؤ بڑھانے کی ایک بڑی وجہ ہے جس سے انسان ہائی بلڈ پریشر، امراضِ قلب، ذیابیطس اور مختلف ذہنی امراض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا بے خوابی کےشکار افراد چند درج ذیل اصولوں پر عمل کرکے اسپر قابوپا سکتےہیں۔
٭ سونے اور جاگنے کے اوقات مقرر کرنا اہم ہے۔کچھ عرصے تک یہ مشق کرنے سے جسم مقررہ اوقات کے مطابق سونے اور جاگنے کا عادی ہوجاتا ہے اور بے خوابی سے نجات مل سکتی ہے۔سونے سے تقریباً دو یا ڈھائی گھنٹے پہلےچائے( کیفین) کے استعمال کو ترک کردیں۔ اس کے بجائے دہی، لسی یا گرم دودھ لینے سے نیند بہتر ہوتی ہے۔
8۔ اعصاب کو پرسکون رکھیں
سونے سے پہلے اعصاب کو پُرسکون کرنے کے لیے کسی سرگرمی میں کچھ دیر مشغول ہوجائیں، مثلاً کتب بینی کریں یا ایسی کوئی بھی سرگرمی اختیار کرلیں جس سے ذہن تفکرات اور پریشان کُن خیالات سے عارضی طور پر ہی سہی لیکن آزاد ہوجائے۔ اس ضمن میں سونے سے پہلےتسبیحات اور ذکر و اذکار کا اہتمام بہترین ہے جن میں سے چند ایک کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ موبائل فون (الیکٹرانک آلات) کے استعمال سےرکیں یا کم سے کم استعمال کریں۔
٭ اپنے معمول کے صحت مندانہ کاموں مثلاً چہل قدمی یا باغبانی وغیرہ، متوازن غذا، اور سونے جاگنے کے اوقات پر مستقل مزاجی سے کاربند رہیں۔
9۔ پرسکون نیند لیےاپنا منفرد منصوبہ (پلان )بنائیں
ہر انسان کے حالات ،معمولاتِ زندگی اور ذمہ داریاں مختلف ہوتی ہیں اس لیے یہ ممکن نہیں کہ ایک گہری اور خوشگوار نیند کا ایک ہی فارمولا بنا کر سب کو پیش کیا جائے بلکہ انسان کو خود اپنی روٹین کے مطابق اپنا منفرد منصوبہ بنانا چاہیےجس پر وہ باآسانی عمل کرسکے اور اس کے دوررس نتائج حاصل کر سکے۔ اس قسم کے منصوبے کو بنانے کے لیےآپ کو جہاں اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو احسن انداز میں ادا کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے وہیں اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی صحت کا خیال بھی رکھنا ہے اور ان میں صحتمندانہ عادات کو پروان چڑھانےکی طرف بھی توجہ مبذول کرانی ہے۔ لہٰذا کوشش کریں کہ اپنا پلان بنانے کے لیے اوپر دیے گئے ’’پرسکون نیندکے سنہرے اصولوں‘‘کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی ضرورت کے مطابق ان اصولوں کا انتخاب کریں اور چاہیں تو اپنے تجربے کی بنیاد پر ان میں جدت لا تے ہوئے اپنامنفرد منصوبہ بنائیں۔ ہاں البتہ اپنا پلان بنانے کے بعد اس پر وقتاً فوقتاً نظر ثانی کرتے رہیں تاکہ ان تمام طریقوں پر بہترین انداز اور مستقل مزاجی سے عمل کرتے ہوئے ایک صحتمند اور خوشحال زندگی کی طرف اپنا سفر جاری رکھ سکیں ،انشا اللہ۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x