زبیر کی کہانی ۔ نادیہ سیف
ہر سبق ایک نئی منزل، ہر آیت ایک روشنی، ہر دن ایک قربت کی کہانی سناتا رہا۔
وقت اور عمر نے اسے وہ سمجھایا ،وہ دکھایا جو وہ گزرے وقت میں کہنا چاہتا تھا۔
کندھے سے کندھا چھل رہا تھا۔ موٹر سائیکل اسٹینڈ پر کھڑی کی ، تو دس روپے دینے پر چاچا دیر تک کلستا رہا۔ جس انداز میں چاچا زبیر کو یہاں لایا تھا تو اس کا سارا تجسس ہوا ہو گیا۔اسے یہاں آنے پر کوفت ہو رہی تھی۔ ہنستے ہوئے بولا ،ابھی تو چپل رکھنے کے بھی دس روپے دینے ہیں۔
میں تجھے کیا مزار کی حاضری کے لیے لایا ہوں جو چپل اتارنی پڑے گی ؟چاچا قدرے غصے سے بولا۔
پھر تیز تیز چلتے ہوئے وہ لوگ رش کی جگہ سے اچھا خاصا دور ہٹ گئے تو چاچا اسے دربار کے تقریباً سنسان اور ایسے حصے میں لے آیا جہاں وہ نہ صرف پہلے کبھی نہ آیا تھا بلکہ اس کی چھٹی حس الارم بجانے لگی ،کہ یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے قدم فوراً سست پڑ گئے۔
چاچا نے چاروں طرف متلاشی نظروں سے دیکھا ، اور ایک جگہ درخت کے نیچے اس کی نگاہ ٹھہر گئی۔گویا وہ جس کو ڈھونڈ رہا تھا ، وہ شاید وہی تھا۔چاچا فوراً…

