دریائے راوی تقریباً آدھا خشک تھا ۔سوکھے حصےکےختم ہوتے ہی درمیان سے بارہ دری تک لوگ چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر فاصلہ پاٹ رہے تھے ۔
پل کے کنارے بنی ریلنگ پر دونوں ہا تھ ٹکائے ، نیچے دیکھتا، وہ اپنی غیر معمولی کامیابی پر خود بخود مسکرائے جا رہا تھا۔ پیٹھ کے پیچھے چلتے ہوئے ٹریفک کے شور نے وقتی طور پر اس کے اندر کی بے چینیوں کو دبا دیا تھا ۔ اُس کا حوصلہ بڑھتے بڑھتے آج اتنا بلند ہو چکا تھا کہ تن تنہا اپنے گھر سے راوی تک کا فاصلہ اس نے اطمینان سے طے کر لیا تھا۔
جہاں جہاں میرے ملنے کا گمان ہو گا ، اب تلک مجھے ڈھونڈنے والے ہر اُس جگہ تلا ش چکے ہوں گے !یہ سوچ کر اُن کی ناکامی کا مزا محسوس کر کے اُس کا دل چاہا زور سے قہقہہ لگائے ۔
جب وہ چھوٹا تھاتو پردے کے پیچھے چھپ جاتا،اور دیر تک جب اس کے بہن بھائی اسے ڈھونڈ نہ پاتے ،تو وہ اپنی اس ادا پر اتنا خوش ہوتا کہ ہنسی چھوٹ جاتی ۔ اور پھروہ اپنی آواز پر دھر لیا جاتا ۔پکڑے جانے کے بعد وہ سب اسے ہنسانے کے لیے مزید گدگداتے اور دیر تک ہنستے رہتے۔جب کہ یہ اسے بہت بعد میں معلوم ہوا کہ بہن بھائی جان کر اسے ڈھونڈنے سے انجان بنتے تھے۔لیکن آج….آج اس کے ملنے پر معاملہ بالکل الٹ ہونا تھا۔
ماضی کے دریچے بند کرتے ہوئے اچانک محرومیوں کا احساس اس پر سایہ فگن ہو گیا۔مختلف خیالات اس کے دل میں آتے اور جاتے رہے۔ یکدم پیچھے سے کسی نے اس کے کالر کو ایسے پکڑ کر کھینچا کہ اس کی گردن پہ آئے بوجھ نے اسے پیچھے مڑنے پر مجبور کر دیا ۔
٭
لہک لہک کر سپارہ پڑھتے ہوئے بچے آگے پیچھے ہلنے کے ساتھ ساتھ بار بار گھڑی کی طرف بھی ایک نظر ڈالتے رہتے۔ویسے بھی چھٹی کے نزدیک ترین وقت میں ان کے اندر ایک دفعہ پھر منہ اندھیرے ہونے والی، پہلی نشست جیسا جوش بھر جاتا تھا۔حالانکہ عصر اور مغرب کے درمیان کا یہ وقفہ کوئی اتنا بڑا نہ تھا۔مغرب کی نماز کے ساتھ ہی عشاء تک کے لیے ان سب کو ایک دفعہ پھر یہاں جمع ہونا تھا۔لیکن بہر حال بچوں کی عمروں کا تقاضا تھاکہ چوبیس گھنٹوں میں سے یہی وقت جیسے ان کے لیے صرف ان کا اپنا ہوتا تھا۔اچھلتے کودتے ہوئے بچے ایک دوسرے سے نوک جھونک کرتے، مدرسے کے پھاٹک سے باہر نکلتے ہی ایسےہر طرف بھاگتے، گویا قید ہونے والے پرندے آزادیوں کا پروانہ ملتے ہی منزل کو جانے بغیر، صرف آزادی کا مزا لینے کے لیے ایک اونچی اڑان بھرتے ہیں۔
ان میں سے ہر ایک کا دل چاہتا کہ یہ وقت تھم جائے ۔ورنہ کم از کم فجر سے ظہر کے درمیان وقفے جتنا ہی ہو جائے۔اور کچھ من چلے تو یہاں تک سوچتے کہ عام بچوں کی طرح وہ بھی صرف عصر سے مغرب تک ہی سپارہ پڑھیں۔ اور پھر کوئی وقت کا حساب رکھنے والا نہ ہو۔دنیا کو فٹ بال کی طرح لات مار کے جو دل میں آئے وہ کریں۔ساری گھڑیاں رک جائیں اور پھر دوبارہ جب ہی چالو ہوں جب وہ خود ایسا چاہیں۔
سلام کے بعد جیسے ہی آنے والے نے مولوی صاحب کو اپنے گھر میں ہونے والی قرآن خوانی کے لیے مدرسے کے بچوں کو بھیجنے کا مطالبہ کیا ، تو جزدانوں کی گرہ باندھنے والے معصوم ہاتھ بے ساختہ سست پڑ گئے۔
٭
پہلے پہل تو انھوں نے اس طرح کسی انجان گھر میں جاکر قرآن خوانی میں بھی اپنے لیے بہت سا تفریح کا سامان پیدا کر لیا تھا ۔لیکن گزرتے وقت نے یہ باور کروا دیا کہ ہر چوتھے پانچویں دن اپنے عزیزوں کو قرآن بخشوانے کے لیے یہ گنجان آباد علاقہ کوئی چھوٹا نہ تھا۔ویسے بھی نام نہاد مسلمان عموما رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے یا حجت بنانے کے لیے قرآن خوانی کروا ہی لیتے ہیں۔اس پر مزید آسانی یہ کہ خود پڑھنا بھی نہ پڑے ۔ہاں،پھر جو دل میں آئے کرتے پھرو کوئی پوچھنے والا نہیں ، آخر دین دار ہونے کا ٹھپہ جو ہر تیسرے چوتھے ماہ لگوا لیا جاتا ہے۔
٭
پر سکون ٹھنڈے کمرے میں اگر بتی کی مہک نے ان کا استقبال کیا۔بٹھانے والے نے پنکھا اور لائٹ کا بٹن دبایا ، تو منظر واضح ہو گیا۔سفید چاندنی بچھا کر بچوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔صاف نظر آ رہا تھا کہ وقتی طور پہ چیزوں کی ترتیب بدلی گئی ہے۔دونوں اطراف کشن اور درمیان میں علیحدہ سے چھوٹی میز پر سپاروں والا قرآن رکھا گیا تھا۔اس طرح کی محفل میں زبیر کی شرکت پہلی مرتبہ تھی۔سب بچوں نے ایک ایک سپارہ اٹھایا اور گروپ کے لیڈر کی طرف دیکھا،اس نے ایک نظر گھڑی پر ڈال کر دونوں ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کو دو دفعہ کھول بند کر تے ہوئے اشارہ کیا ،جسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے سب بچوں نے سپارہ پڑھنا شروع کر دیا۔زبیر سمیت کچھ نئے آنے والے بچوں کو بات تو سمجھ نہ آئی لیکن دوسروں کی تقلید میں وہ بھی سپارہ پڑھنے لگے۔اور جب بیس منٹ میں ہی سب نے قرآن ختم ہونے کا عندیہ دیا تو پہلی دفعہ شریک ہونے والے بچے حیرانی کے ساتھ ساتھ شرمندہ بھی ہوئے کہ سب نے دو ،دو سپارے پڑھ ڈالے جب کہ ابھی ان کا ایک ہی بہ مشکل پورا ہؤا تھا۔گروپ کے لیڈر نے صاحب خانہ کو بلایا اور پانچ منٹ کی مخصوص دعا کروائی۔ لیکن دعا سے پہلے کچھ نام ضرور پوچھے جن کو قرآن خوانی کے ذریعے بخشوایا جانا تھا۔
فوراًہی لمبا سا دستر خوان بچھا دیا گیا۔ بچوں نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔واپسی میں انعام کے طور پہ صاحب خانہ کی طرف سے ہر بچے کو پچاس روپے بھی دیےگئے۔چھٹی کا وقت گزر جانے کا غم اپنی جگہ لیکن شاید کھانے کے بعد میٹھے میں’’نوٹ‘‘ کا ملنا بہت سوں کے لیے ازالہ ثابت ہؤا تھا۔
٭
اس تقریب میں فرحان بھی تھا۔فرحان سے اس کی دوستی فٹ بال گراؤنڈ میں ہوئی تھی۔وہ بھی مدرسے میں حفظ کرنے والے طالب علموں میں شامل تھا۔
وہ دونوں ساتھ ساتھ جیسے ہی باہر نکلے،تو زبیر سے رہا نہ گیا ۔اس کے پوچھنے پر فرحان نے اسے بتایا کہ وہ قرآن پڑھنے کے بجائےصرف مخصوص طرز میں ہلکی پھلکی آوازیں نکالتے ہیں۔اور جہاں گلی میں پڑی ہوئی لکڑیوں کی راکھ دیگ کا پتہ دیتی ہے وہاں پچیس سے تیس منٹ کا وقت گزارناطے کیا جاتا ہے۔جب کہ اگر کسی گھر میں گھستے ہی چھولے والے چاولوں کی خوشبو آئے تو پندرہ منٹ ہی کا اشارہ کا فی ہوتا ہے۔
فرحان نے یہ کہتے ہوئے قہقہہ لگایا ۔جب کہ زبیر تو یہ سب سنتے ہی سناٹے میں آ گیا۔ایسی باتوں سے اس کا کبھی واسطہ نہ پڑا تھا۔ اسے پہلے ہی سپارہ مکمل نہ کرنے پر اخلاقی شرمندگی محسوس ہورہی تھی،اب تو باقاعدہ دل پر بوجھ سا محسوس ہونے لگا۔وہ دونوں چلتے چلتے پارک میں بنے ہوئے بنچ تک آ چکے تھے ۔زبیر دامن کا پچھلاحصہ ایک جھٹکے سے اٹھا کر بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’لیکن یار….یہ تو گناہ ہے۔کسی کو پتہ چلے نہ چلے پر اللہ تو دیکھ رہا ہے‘‘ ۔
فرحان نے اسے گھور کر دیکھا اور قدرے چیختے ہوئے بولا۔
’’اللہ تو یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ منہ اندھیرے ہی سے شام تک اس کی کتاب کے رٹّے لگا تے لگاتے ہمارے حلق خشک ہو جاتے ہیں۔پائپ سے مار کھا کھا کر ہمارے جسموں پر نشان پڑ چکے ہیں۔اور اللہ اللہ کر کے جب چھٹی کا وقت آتا ہے تو مختلف محلوں سے ہر پانچویں چھٹے روز کوئی نہ کوئی ہمیں بلانے آجاتا ہے‘‘۔
فرحان غصے میں مزید کہنے لگا۔
’’ رہی بات گناہ کی ،تو ہمیں نہیں ، بلکہ ان سب کو ملنا چاہیے جو ہمیں بلانے آتے ہیں…. ظالم….اور ملے گا بھی‘‘ وہ زور دیتے ہوئے یقین سے بولا،’’ ابے اپنے باپوں کو خود بخشواؤ….ہم نے ٹھیکہ لے رکھا ہے کیا سب کا…. جو پچھلے مولوی صاحب تھے وہ تو ہر آنے والے کو صاف کہہ دیتے تھے کہ بھئ دیکھا جائے تو آپ کو خود ہی اپنے والدین کے لیے صدقہ جاریہ بننا چاہیے۔لیکن اگر آپ اصرار کرتے ہیں تو بچوں سے ان کی مرضی پوچھ لیں ۔میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں۔ہم مولوی صاحب کی شہ ملتے ہی سٹک جاتے تھے۔کچھ بچے بیچارے کھانے کی لالچ میں چلے بھی جاتے تھے۔لیکن اب ایسا نہیں ہے۔مولوی شفیق تو ہم سب کو لازمی بھیجتے ہیں۔ واپسی میں مرحوم کے نام کا سوٹ اور مٹھائی کا ڈبہ،کئی دفعہ میں نے اپنے ہاتھ سے خود ان کو لا کر دیا ہے‘‘۔
وہ زبیر کے حیرت سے کھلے منہ کو دیکھ کر مسکراتے ،اور مزا لیتے ہوئے ہنسنے لگا۔
’’اور ہاں تو کیا سمجھتا ہے ،کہ مولوی صاحب کو نہیں پتہ کہ بچے کیا گل کھلاتے ہیں؟شروع میں میں بھی تیری ہی طرح سوچتا تھا ۔میں نے چوڑے میں آ کر مولوی صاحب کو شکایت لگائی تو بدلے میں مجھے انہوں نے ایسی نظروں سے گھورا کہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ گدھے ! ایسی باتیں دوستوں کے درمیان ہی رہنی چاہئیں….ہاہاہاہاہا….!!‘‘
اس کے انداز پر زبیر بھی ہنسی میں ساتھ شامل ہو گیا ۔ لیکن حیرانی میں مزید اضافہ ہؤا تو اس کے منہ سے پھسلا ،’’آخر انہوں نے کہا کیا؟‘‘
’’ہنہ….کچھ بھی نہیں ،کیا کہتے….بس میں ڈر کر خود ہی اپنی نشست پر واپس بھاگ آیا….تو بہت ہی سیدھا ہے۔تجھے ایک اور راز کی بات بتاؤں !‘‘فرحان نے تجسس بھرے انداز میں سرگوشی کی۔
’’میرا تین سالہ تجربہ کہتا ہے کہ مولوی صاحب تو دوسری بات ، قرآن خوانی کروانے والا خود بھی کہیں نہ کہیں اس حقیقت سے واقف ہے کہ بچے قرآن کے الفاظ پڑھتے نہیں بلکہ رٹے لگا لگا کر ہونے والی پریکٹس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مخصوص ردھم کی سریلی آوازوں کی کوئی پکڑ کر بھی لے تو سچ مچ بھی ویسے ہی سنا سکتے ہیں….ہاہاہاہا…. میری بڑی بہن بہت سمجھ دار ہے،وہ کہتی ہےان رسموں کے پجاریوں کو سب معلوم ہوتا ہے۔لیکن یہ اپنے خاندان اور معاشرے میں روایت پسند’’ دین دار‘‘ ہونے کا ثبوت دینے کے لیے ایسی باتوں پر خاموش رہتے ہیں‘‘۔
مغرب کی اذان نے ان کی باتوں کے سلسلے کو روک دیا۔ ورنہ فرحان تو آج انکشافات کا پٹارا توڑ کر ہی دم لیتا۔وہ دونوں ہی چپ چاپ مسجد کی طرف چل دیے۔
٭
مدرسہ دار السلام میں نماز جمعہ سے پہلے ،کئی دفعہ کی طرح آج پھر نئے آنے والے امام مولوی شفیق الدین کا تعارف نہایت پر جوش انداز میں کروایا گیا ۔خطبے اور نماز میں ہونے والی قرأت کی دل سوز آواز نے اہل محلہ اور مسجد کمیٹی کو نا صرف متاثر کیا، بلکہ مولوی شفیق کا احترام بھی تمام شرکا کے دل میں گھر کر گیا۔ سب کو مصافحے کے بعد اُٹھتے دیکھ کر مولوی صاحب نے کہا،میں آپ لوگوں سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ جن کے بچےسات سے نو اور دس سال کی عمر کے ہیں۔وہ نماز عصر کے بعد میری عرض سن کر جائیے گا۔
٭
نماز عصر کے بعد مولوی صاحب نے مطلوبہ والدین کو مسجد کے پر سکون گوشے میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود ابھی حاضر ہؤا کہہ کر ،اپنے کمرے کی طرف کہیں غائب ہو گئے۔تجسس کے زیر اثر سب ان کا انتظار کر رہے تھے۔ان میں سےکچھ لوگ تو صرف جمعہ پڑھنے ہی آتے تھے لیکن آج اس طرح بلائے جانے پر وہ بھی موجود تھے۔ نو سالہ زبیر بھی ابو کے ساتھ بیٹھا ہؤا تھا۔
مولوی صاحب آئے تو ان کے ہاتھ میں قرآن پاک کا نسخہ تھا۔نہایت رقت طاری کر تے ہوئے انہوں نے چند آیات تلاوت کیں۔ پاکیزہ کلمات کا درس دیتے دیتے کبھی وہ مسکرانے لگتے۔ کبھی خدا کی قسم کھا کر یقین دہانی کرواتے اور کبھی اُن کی آواز رندھ جا تی۔شدت ضبط کے باوجود ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تو تمام شرکابھی اپنی آ نکھوں میں آئی نمی چھپا نہ سکے کچھ وقت گزرنے کے بعد اُن کے درس نے تقریری صورت اختیار کر لی۔جس کا لب لباب یہ تھا، کہ یہ دنیا تو عارضی ٹھکانہ ہے۔اس کلام الٰہی کو اگر اپنی اولاد کے دل میں ڈال دو گے تو نہ صرف دنیا میں حافظ قرآن کے والدین کہلاؤ گے بلکہ آخرت میں بھی تمھارے سروں پر تاج پہنایا جائے گا۔دنیا کی مشکلات سے بھی اللہ بچائے گا اور آخرت میں بھی یہی کلمات تمہارے لیے نجات کا باعث بنیں گے۔
الفاظ اور گریہ زاری میں اتنی شدت اور جنون تھا کہ تمام شرکا کا جسم صرف کان بن چکا تھااور ایک ہی نقطے پر سوچ رہا تھا۔آخر میں انہوں نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر والدین سے کہا، کون ہے جو اپنے بچے میرے سپرد کرتا ہے؟ سب خاموش رہے ۔دوسری اور پھر تیسری دفعہ اس انداز سے پوچھا کہ سب کو یہ محسوس ہؤا، کہ اگر آج اپنے بچے اللہ کی راہ میں نہیں پیش کیے تو شاید دنیا میں کفر کا فتویٰ لگنے کے ساتھ ساتھ آخرت میں جنت اور تاج سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ جذباتی انداز میں تمام والدین اٹھ کھڑے ہوئے اور لبیک کہتے ہوئے اگلے دن اپنے بچوں کو ساتھ لانے کے وعدے کے ساتھ بالآخر یہ مجلس اختتام کو پہنچی۔
٭
زبیر اپنے ابو کے ساتھ جب گھر میں داخل ہؤا، تو سب گھر والے چائے پی رہے تھے۔ چائے کے ساتھ ابو نے اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ وہ زبیر کو انشاءاللہ حافظ قرآن بنائیں گے۔سب اس اچانک بات پر حیران تھے۔کچھ دیر بہت جاندار قسم کی بحث ہوتی رہی۔ امی کو ان کی منطق پر اعتراض تھا کہ یا تو چھوٹی عمر سے ہی مدرسے میں ڈال دیتے۔اب بچے کے پانچویں کے امتحان ہونے والے ہیں۔ پڑھائی میں بے انتہا ذہین ہے اور ہر کلاس میں فرسٹ اتا ہے پھر اس اچانک فیصلے کا کیا تک بنتا ہے۔امی شاید یہ سمجھ رہی تھیں کہ ابو اپنی بہن سے مرعوب ہو کر یہ فیصلہ کر رہے ہیں جن کے دو بیٹے ماشاءاللہ حفظ کر رہے تھے۔ابو نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے تقریر کے کچھ حصے بھی سنائے جسے سن کر کسی بہن بھائی یا امی کی طرف سے مخالفت کا سوال ہی نہ اٹھا۔اپنے آپ کو نعوذ باللہ کافر یا اس کے مترادف کہلانا کون پسند کرتا!بہرحال امی ابھی تک شش و پنج میں مبتلا تھیں لیکن اللہ کی کتاب کو حفظ کے لیے نہ کہنے کے لیے زبان سے کوئی لفظ نہ نکلا لہٰذا ابو کی حتمی رائے پر ہی بات ختم ہو گئ ۔
زبیر بہت پر جوش تھا۔ وہ ذہین بھی تھا،لیکن اس کی ساری خوشی یہ جان کر کچھ بجھ سی گئی کہ حفظ کرنے کے لیے اسے اسکول کو خیرباد کہنا پڑے گا۔ بہرحال بچہ ہی تھا کچھ وقت بعد ہی پیپرز کی تیاری سے جان چھوٹنے پر خوش ہو گیا۔وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے۔
٭
اگلے دن تمام والدین اپنے بچوں کے ہمراہ قاری صاحب کے پاس گئے۔ قاری صاحب نے مبارک سلامت کے ساتھ ایسا ذہن بنایا کہ تمام افراد نے کہا’’ہڈیاں ہماری اور کھال آپ کی، ہمیں ہمارا بچہ حافظ چاہیے‘‘۔
یوں نہ صرف زبیر بلکہ جانے کتنے بچوں کی زندگی میں انقلاب آیا۔ سب کی زندگی میں عمل کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ بچوں کے دل صراط مستقیم پر بھاگنے کے لیے آمادہ ، اطاعت شعاری سے لبریز۔ والدین بھی محض رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی اولادوں کا جلد از جلد داخلہ کروا کر ، ایک دوسرے سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے تھے۔
زبیر فطری طور پر نرم طبیعت ، حساس ہونے کے ساتھ ساتھ غیر معمولی ذہین بھی تھا۔اپنے ہم عمروں کی بہ نسبت نڈر،دبنگ،قائدانہ کردار ادا کرنے والا ، یہی وجہ تھی کہ ابتدا میں ہی وہ قاری صاحب کی نظروں میں پسندیدہ شاگرد کی حیثیت پا گیا ۔ ایک دن قاری صاحب نے اپنے کچھ قابل بھروسہ اور سمجھدار شاگردوں کو ایک مہم پر روانہ کیا ۔ وہ صبح مدرسے پہنچ کر اپنا سبق دہراتے اور قاری صاحب کو سلام کر کے رخصت ہو جاتے۔
سب بچے اپنے آپ کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کر رہے تھے۔ اسکول کے جھنجٹ سے جان چھوٹ چکی تھی۔ صرف صبح شام مدرسے جا کر فی الحال تجوید اور قرأت کی کلاسز ہوتیں جن میں روانی کے ساتھ ناظرہ قرآن ہی پڑھایا جاتا اور اسی کو بچے تین مرتبہ دہراتے تو چھٹی ہو جاتی۔
٭
ایک شام زبیر اور اس کے ساتھیوں نے قاری صاحب کو مہم کے کامیاب ہونے کی خوشخبری سنائی۔ قاری صاحب کی باچھیں کھل گئیں۔ انہوں نے سنا کہ چٹھا پارک میں ایک مائی شیداں وصیت میں پانچ مرلے کا پلاٹ مدرسے کے نام کر گئی ہے۔ قاری صاحب اسی دن لڑکوں کو لے کر دی گئی اطلاع کے مطابق ، تصدیق کرنے کے لیےاس جگہ پر پہنچے ۔ اہل محلہ نے ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر نہایت احترام سے انہیں پلاٹ کی رجسٹری دکھائی اور مدرسے کی بنیاد رکھنے میں معاونت کی یقین دہانی بھی کروائی ۔قاری صاحب نے سب کے سامنے حامی بھر لی اور آئندہ ہفتے آنے کا کہہ کر ملاقات کا اختتام ہؤا ۔
ہفتے کے دن سب بچوں نے قاری صاحب کے ساتھ مل کر اس پلاٹ پر تمبو لگایا۔ یہاں مائک اور اسپیکرز کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ پھر سلام دعا کے بعد مبارکباد پیش کرنے کے ساتھ قاری صاحب نے فکر آخرت کے موضوع پر ایسی تقریر کی، کہ سننے والوں کی رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ غریب لوگوں کی بستی تھی۔ سیدھے سچے لوگ اپنے بچوں کے لیے مدرسہ کھل جانے کا نام سن کر بے انتہا خوش تھےاور جلد سے جلد عمارت کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے۔قاری صاحب کی تقریر میں انفاق فی سبیل اللہ سے متعلق صحابہؓ کرام کے واقعات کی بہت سی مثالیں تھیں۔ راہ خدا میں مال خرچ کرنے پر انعامات کی بارش کابیان تو اس قدر مؤثر تھا کہ سننے والوں کی آنکھیں بھر آئیں، انہیں لگ رہا تھا گویا جنت اور دوزخ قاری صاحب کے ہاتھ میں ہے۔ پھرلوگوں نے قاری صاحب کے بچھائے گئے چیک دار رومال کو نوٹوں سے بھر دیا ۔ عورتوں نے اپنا ہلکا پھلکا زیور اور جو ان کی دسترس میں تھا ، دے دیا۔
اگلے ہفتے کی نشست کا کہہ کر قاری صاحب واپس ہوئے تو ان کے شاگرد بھی شاداں و فرحاں تھے۔
اسی طرح تین ہفتے تک انہوں نے شعلۂ جوالہ تقاریر کے ذریعے مزید رومال سمیٹے۔ پھر انہوں نے خوشخبری سنائی کہ اب اتنی رقم جمع ہو چکی ہے کہ ہم مدرسے کی بنیاد رکھ سکیں۔ لہٰذا استعمال ہونے والی ریت اور مٹی کی ٹرالیوں کے حساب کے ساتھ مجلس برخاست ہوئی ۔
تمام ناقابل فراموش واقعات صبح کو ہی جنم لیتے ہیں۔ یہ اگلی صبح کی افسوس ناک خبر تھی کہ قاری صاحب تینوں رومالوں سمیت نو دو گیارہ ہو چکے ہیں۔ بہت عرصے تک یہ گمان غالب رہا کہ ان کی نیت میں فتور نہیں ہو سکتا ۔ لیکن جب تمام شواہد و ضوابط ان کے خلاف ثابت ہوئے تو امیر دل غریبوں کے اعتماد کا خون ہو چکا تھا ۔ دین کے نام پر سادہ لوح لوگوں کو فریب دے کر شیطان فطرت انسان نہ جانے کہاں غائب ہو گیا تھا!
٭
کچھ عرصہ اس واقعے کی گردش ہوتی رہی ۔کچھ دن مدرسے میں چھٹی ہوئی اور ایک دفعہ پھر نئے قاری صاحب آئے جنہوں نے بچوں کو الگ ہی ڈھب سے پڑھانا شروع کیا ۔جیسے جیلوں میں مجرموں کی اصلاح کی جاتی ہے ۔تختی میں غلطی پر گیس کے نکاسی پائپ سے بچوں کی کھال ادھیڑ دی جاتی ۔ سبق یاد نہ ہوتا ، تو چھٹی بند ہو جاتی۔ پورے دن کی روٹین ایسی تھی کہ منہ اندھیرے مسجد میں جا کر تقریباً تین مرتبہ وقفے کے ساتھ عشا تک پڑھایا جاتا۔
زبیر جو اب تک ذہنی طور پر پچھلے دھچکے سے سنبھل نہیں پایا تھا مزید جھنجھلا جاتا۔ ذہین ہونے کے باوجود اس کی کارکردگی دیگر بہت سی وجوہات کی بنا پر متاثر ہی رہی ۔ شروع میں تو سب بھول بھال وہ جاتا رہا لیکن آہستہ آہستہ وہ خود تو کیا ، سب گھر والے بھی اس کی روٹین سے نالاں نظر آتے ۔ زبیر یہ سوچتا کہ اس کے ساتھ ظلم ہے کہ وہ پورے دن ذہنی مشقتوں کے ساتھ جسمانی تشدد برداشت کرے اور باقی بہن بھائی اپنی اپنی دنیا میں مست رہیں۔وہ چونکہ سب سے چھوٹا تھا تو پیار تو سب کر تے تھے۔ لیکن اس کے لیے اپنی روٹین چھوڑنے کو تیار نہ تھے۔ وہ عشاء کے بعد آٹھ ساڑھے آٹھ بجے گھر آتا تو تھکن سے چور ہونے کے باوجود کچھ وقت گھر میں سب کے ساتھ گزارنا چاہتا جبکہ ابو اسے کھانے کے بعد ڈانٹ کر سونے کے لیے بھیج دیتے۔
پورا پورا گھر رات کو اکثر جاگتا ۔کرکٹ اور فٹ بال کے میچ،پاکستانی ڈرامے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی انڈین فلم بھی دیکھی جاتی ۔ فجر میں سب نماز کے لیے اٹھنے کے بجائے اسکول کالج کے وقت پر ہی اٹھتے جبکہ وہ منہ اندھیرے ہی گھر سے نکل جاتا۔ اس کی چھٹی جمعے کو اور باقی سب کی اتوار کو ہوتی ۔ تمام رشتہ داروں کے ہاں آنے جانے ، تفریح اور دعوتیں ہفتے یا اتوار کے دن ہوتیں ۔ وہ گھر والوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی تنہا ہوتا جا رہا تھا ۔ آج رات پھر سب فلم دیکھ رہے تھے جب کہ وہ حسب معمول نیچے اپنے کمرے میں سونے کے لیے آگیا تھا ۔ تیز آواز میں چلتا ہوا ٹی وی نئی فلم دل والے دلہنیا لے جائیں گے کے گانے بجا رہا تھا ۔ کیا ہؤا جو وہ دیکھ نہیں رہا۔ سن سن کر وہ ڈائیلاگ اور گانوں سے اپنے تصور کے پردے پر فلم چلاتا رہا ۔ فلم ختم ہوئی تو رات کے تین بج رہے تھے ۔ دھڑ دھڑ سیڑھیاں اترنے کی آواز پر اس نے جلدی سے آنکھیں بند کر لیں۔(باقی آئندہ)